حدیثِ کساء کی شہرت و مقبولیت کیا کہنا! اس کے مستند ہونے میں کسی کو کلام نہیں، آیۃ فی ہُدایۃ’’اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا ۚ(33)‘‘ اہلِبیتؑ کی عظمت و طہارت کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ جناب شیخ فخر الدین احمد بن علی بن احمد بن طریح نجفی عالہ المقام کتابُ المنتخب المیراثٰ و الخطب مشہور بہ بیاض فخری اور دیگر علماء و مفسرین نے احادیث وروایتِ کثیرہ ومتواترہ سے نقل فرمایا ہے کہ’’آیتِ تطہیر‘‘ خمسۂِ نجبا حضرت رسولؐ، حضرت علیؑ مرتضیٰؑ، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، جناب حسنؑ مجتبیٰ علیہ السلام اور جناب حسین شہیدِ کربلا صلوات اللہ علیہا و سلامہ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔
حدیثِ کساء میں اِسی آیت کے سببِ نزول کی تفصیل ہے۔مومنین کی خدمت میں گذارش ہے کہ اس حدیث شریف کو نہایت خلوص کے ساتھ تین مرتبہ حضراتِ محمدؐ و آل محمدؐ صلوات اللہ علیہا و سلامہ علیہم اجمعین دُرود بھیجنے کے بعد شروع کریں اور اختتا پر بھی تین مرتبہ صلوات پڑھیں اور اگر دورانِ تلاوت چند قطرۂِ اشک خضوع و خشوع کی وجہ سے نکل آئیں تو جو دعا کریں گے اسے خدائے مجیب الدعوات بہ طفیل اصحابِ کساء قبول فرمائے گا۔
کم سے کم روزانہ ایک مرتبہ یا ہفتہ مین ایک دفعہ علی الخصوص شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ اس کے پڑھنے کا سلسلہ قائم رکھیں۔انشاء اللہ تسکینِ قلب اور خیرو برکت سے بہرہ مند ہوں گے۔
بسند صحیح عن جابر ابن عبد اللہ الانصاری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
صاحب عوالم نے بسند صحیح جناب جابر بن عبداللہ انصاری سے اور انھوں نے دختر رسول خدا جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا سے نقل کیا ہے انھوں نے کہا کہ میں نے جناب فاطمہؐ سے سنا انھوں نے کہا کہ میرے والد بزرگوار رسولؐ خدا ایک روز تشریف لائے اور فرمایا کہ تم پر سلام ہو اے فاطمہؐ میں نے کہا میں نے کہاآپ پر بھی سلام پھر فرمایا میں میں اپنے جسم میں کمزوری پا رہا ہوں پس میں نے کہا میں آپ کے لئے خدا کی پناہ چاہتی ہوں اے والد ماجد کمزوری سے، انھوں نے کہا اے فاطمہؐ رداء یمانی لاؤ اور اسے مجھے اڑھا دو پس میں ردا یمانی لے کر آئی اور اے میں نے انھیں اڑھا دیا اور میں ان کی طرف دیکھنے لگی ان کا رخ زیبا اس طرح درخشندہ تھا جیسے چودھویں رات کا چاند۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْاَنْصَارِيْ اَنَّهُ قَالَ:عَنْ فَاطِمَۃَ الزَّهْرَاۤءِ عَلَیْهَا السَّلَامُ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَۃَ اَنَّهَا قَالَتْ
ابھی تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ میرا بیٹا حسنؑ آیا اور اس نے کہا کہ مادر گرامی آپ پر سلام ہو میں نے کہا تم پر بھی سلام اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے میوۂ دل، اسے نے کہا اے اماں میں آپ کے قریب ایسی خوشبو پا رہا ہوں جیسے میرے نانا رسولؐ خدا کی خوشبو۔ میں نے کہا ہاں تمہارے نانا کے چادر کے نیچے آرام فرما رہے ہیں۔حسنؑ چادر کے پاس گئے اور کہا اے نانا اے رسولؐ خدا آپ پر سلام ہو کیا مجھے بھی چادر میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ تم پر بھی سلام اے میرے لال اے میرے حوض کے مالک تمہیں اجازت ہے۔ پس وہ چادر میں داخل ہو گئے ابھی تھوڑی دیر نہیں گذری تھی کہ میرا بیٹاحسینؑ آیا اور کہا سلام آپ پر اے مادر گرامی۔
دَخَلَ عَلَیَّ اَبِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ فِیْ بَعْضِ الْأَیَّامِ فَقَالَ:
میں نے کہا تم پر بھی سلام ہو اے بیٹے، اے خنکیٔ چشم، اے میوۂ دل، اسے نے کہا اے اماں میں آپ کے نزدیک ویسی خوشبو پا رہاہوں جیسی میرے نانا رسولؐ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ کی خوشبو ہے۔ میں نے کہا بے شک تمہارے نانا اور بھائی چادر کے نیچے ہیں حسینؑ چادر کے قریب گئے اور کہا سلام آپ پر اے ناناسلام آپ پر اے منتخب پروردگار کیا مجھے بھی اجازت ہے کہ میں آپ دونوں کے ساتھ چادر میں آ جاؤں۔ انھوں نے فرمایا تم پر سلام اے میرے لال اے میری امت کے شفیع میں نے تم کو اجازت دے دی۔ تو وہ بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ چادر میں آگئے اتنے میں ابوالحسنؑ علیؑ بن ابی طالبؑ تشریف لائے اور کہا سلام تم پر اے دختر رسولؐ خدا میں نے کہا اور آپ پر بھی سلام اے ابوالحسنؑ اے امیرا لمومنینؑ۔ انھوں نے کہا میں آپ کے پاس ایسی خوشبو محسوس کر رہا ہوں جو میرے بھائی اور میرے چچا کے فرزند رسولؐ خدا کی خوشبو ہے۔ میں نے کہاہاں وہ آپ کے بچوں سمیت چادر کے نیچے آرام فرما رہے ہیں۔پس علیؑ بھی چادر کے پاس آئے اور کہا سلام آپ پر اے اللہ کے رسولؐ کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کے ساتھ زیر چادر آجاؤں فرمایا رسولؐ اکرم نے تم پر بھی سلام اے میرے بھائی، وصی، خلیفہ اور میرے پرچم دار تمہیں اجازت ہے۔ پھر حضرت علیؑ بھی زیر چادر داخل ہو گئے پھر میں چادرکے پاس آئی اور کہا سلام آپ پر اے والد بزرگوار اے رسولؐ خدا کیا مجھے بھی اجازت ہے کہ میں آپ کے ہمراہ زیرِ چادر آجاؤں۔
السَّلَامُ عَلَیْكِ یَا فَاطِمَۃُ
فرمایا تم پر بھی سلام اے پارۂ جگر، اے نور نظر تمہیں بھی اجازت ہے۔ پس میں داخل چادر ہو گئی۔ پھر جب ہم سب کے سب زیر کسا جمع ہو گئے تو رسولؐ خدا نے چادرکے دونوں گوشوں کو پکڑا اور اپنے داہنے ہا تھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ور کہا خدایا یہ میرے اہل بیتؑ ، میرے خاص، میرے عزیز ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت ہے، ان کا خون میرا خون ہے جس نے ان کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی اور جس نے ان کو محزون کیا اس نے مجھ کو محزون کیا۔ میری اس سے جنگ ہے جس نے ان سے جنگ کی اور اس سے صلح ہے جس نے ان سے صلح کی اور ان کا دشمن میرا دشمن ہے، ان کو دوست میرا دوست ہے وہ یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ خدایا تو قرار دے اپنی صلوات وبرکت اور رحمت و مغفرت اور رضامندی کو میرے اوپر اور ان پر اور ان سے گندگی کو دور رکھ اور ان کو ایسا پاکیزہ رکھ جوحق پاکیزگی ہے۔ پس خدا نے فرمایا اے میرے ملائکہ اے میرےآسمان کے رہنے والوں میں نے بلند شدہ آسمان کو نہیں پیدا کیا اور نہ پھیلی ہوئی زمین کو اور نہ روشن چاند کو اور نہ درخشاں سورج کو اور نہ چلنے والے آسمان کو اور نہ بہنے والے دریا کو اور نہ چلنے والی کشتی کو مگر یہ ان پانچ افراد کی محبت میں جو زیر کساء ہیں۔ جبرئیل امین نے کہا اے پروردگار یہ کون زیر کساء ہے فرمایا خداوند عزوجل نے یہ نبوت کے اہلِ بیتؑ اور معدن رسالتؐ ہیں یہ فاطمؑہ، ان کے پدربزرگوار، ان کے شوہر اور ان کے بچے ہیں۔
فَقُلْتُ: عَلَیْكَ السَّلَامُ
پس جبرئیل نے کہا اے میرے پروردگار کیا تو مجھے بھی اجازت دیتا ہے کہ میں زمین پر جاؤں اور ان پانچ افراد کے ساتھ چھٹا ہو جاؤں۔ خدا نے فرمایا ہاں تمہیں اجازت ہے۔ پس جبرئیل امین زمین پر آئے اور کہا سلام تم پر اے رسولؐ خدا بزرگ و برتر خدا تم کو سلام پہنچاتا ہے اور محبت و اکرام سے تمہیں مخصوص کرتا ہے اور فرماتا ہے قسم ہے میری عزت اور میرے جلال کی میں نے بلند آسمان کو نہیں پیدا کیا اور نہ پھیلی ہوئی زمین کو اور نہ روشن چاند کو اور نہ درخشاں سورج کو اور نہ چلنے والے آسمان اور نہ جاری دریا کو اور نہ رواں دواں کشتی کو مگر تمہاری وجہ سے اور تمہاری محبت کی وجہ سے اور اس نے مجھ کو اجازت دی ہے کہ میں آپ کے ساتھ زیر کساء آجاؤں تو اے رسولؐ خدا کیا مجھ کو اجازت ہے۔ فرمایا رسولؐ خدا نے تم پر بھی سلام اے وحی خدا کے امین ہاں تم کو بھی اجازت ہے پس جبرئیل بھی ہمارے ساتھ زیر کساء آگئےاور انھوں نے میرے والد ماجد سے کہا خدا نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے وہ فرماتا ہے بیشک خدا کا ارادہ ہو چکا ہے کہ اے اہلِ بیتؑ تم سے گندگی کو دور رکھے اور تم کو ویسا پاک و پاکیزہ رکھے جو پاکیزگی کو حق ہے۔ علیؑ نے میرے والد سے کہا اے رسولؐ خدا ہم کوبتائیں کہ زیر کساء ہمارے بیٹھنے کا فضل و شرف کیا ہے خدا کے نزدیک، رسولؐ نے فرمایاقسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا نبیؐ بنا کر اور مجھ کو رسالت کے لئے منتخب کیا۔ ہماری اس خبر کو زمین کی مجلسوں میں سے کسی مجلس میں ذکر نہیں کیا جائے گا۔
قَالَ: اِنِّیْۤ اَجِدُ فِیْ بَدَنِیْ ضُعْفًا
جہاں میرے شیعوں اور محبوں کی جماعت ہو مگر یہ کہ ان پر رحمت نازل ہو گی اور ملائکہ ان کے اطراف ہوں گے اور ان کے لئے استغفار کریں گے یہاں تک کہ متفرق ہوجائیں تب حضرت علیؑ نے کہا، بخدا ہم کامیاب ہو گئے اور رب کعبہ کی قسم ہمارے شیعہ کامیاب ہو گئے۔ دوبارہ رسولؐ نے فرمایا اے علیؑ قسم ہے اس کی جس نے نبی برحق بنا کر مبعوث کیا اور رسالت کے لئے منتخب کیا۔ زمین کی محفلوں میں سے کسی محفل میں ہماری اس بات کا تذکرہ نہیں کیا جائےگا درانحالیکہ اس میں ہمارے شیعہ اور محب بھی ہوں مگر یہ کہ اس میں کوئی صاحب غم ہو گا تو اس کا غم خدا دور کر دے گا اور کوئی محزون ہو گا تو خدا اس کے حزن کو دور کر دے گااور اگر کوئی طالب حاجت ہو گا تو خدا اس کی حاجت کو پورا کر دے گا تو علیؑ نے کہا کہ بخدا ہم کامیاب و سعید ہو گئے اور اسی طرح ہمارے شیعہ کامیاب اور سعادت مند ہو گئے دنیا اور آخرت میں پروردگار کعبہ کی قسم۔
فَقُلْتُ: لَهٗ اُعِیْذُكَ بِاللّٰهِ یٰاۤ اَبَتَاهُ مِنَ الضُّعْفِ
فَقَالَ: یَا فَاطِمَۃُ اِیْتِیْنِیْ بِالْكِسَاۤءِ الْیَمَانِیْ فَغَطِّیْنِیْ بِهٖ
فَاَتَیْتُهٗ بِالْكِسَاۤءِ الْیَمَانِیْ فَغَطَّیْتُهٗ بِهٖ
وَ صِرْتُ اَنْظُرُ اِلَیْهِ وَ اِذَا وَجْهُهٗ یَتَلَاْ لَؤُ
كَاَنَّهُ الْبَدْرُ فِیْ لَیْلَۃِ تَمَامِهٖ وَ كَمَالِهٖ (صلوات)
فَمَا كَانَتْ اِلَّا سَاعَۃً وَّ اِذَا بِوَلَدِیَ الْحَسَنِ قَدْ اَقْبَلَ
وَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَیْكِ یَاۤ اُمَّاهُ
فَقُلْتُ: وَ عَلَیْكَ السَّلَامُ یَا قُرَّۃَ عَیْنِیْ وَ ثَمَرَۃَ فُؤَادِیْ
فَقَالَ یَاۤ اُمَّاهُ اِنِّۤیْ اَشَمُّ عِنْدَكِ رَاۤئِحَۃً طَیِّبَۃً
كَاَنَّهَا رَاۤئِحَۃُ جَدِّیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ
فَقُلْتُ: نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
فَاَقْبَلَ الْحَسَنُ نَحْوَ الْكِسَاۤءِ وَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا جَدَّاهُ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
اَتَاْذَنُ لِیْ اَنْ اَدْخُلَ مَعَكَ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
فَقَالَ: وَ عَلَیْكَ السَّلَامُ یَا وَلَدِیْ وَ یَا صَاحِبَ حَوْضِیْ
فَدَخَلَ مَعَهٗ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ (صلوات)
فَمَا كَانَتْ اِلَّا سَاعَۃً وَّ اِذَا بِوَلِدِیَ الْحُسَیْنِ قَدْ اَقْبَلَ وَ قَالَ
السَّلَامُ عَلَیْكِ یَاۤ اُمَّاهُ
فَقُلْتُ: وَ عَلَیْكَ السَّلَامُ یَا وَلَدِیْ وَ یَا قُرَّۃَ عَیْنِیْ وَ ثَمَرَۃَ فُؤَادِیْ
فَقَالَ: لِیْ یَاۤ اُمَّاهُ اِنِّۤیْ اَشَمُّ عِنْدَكِ رَاۤئِحَۃً طَیِّبَۃً
كَاَنَّهَا رَاۤئِحَۃُ جَدِّیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ
فَقُلْتُ: نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ وَ اَخَاكَ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
فَدَنَی الْحُسَیْنُ نَحْوَالْكِسَاۤءِ
وَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا جَدَّاهُ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا مَنِ اخْتَارَهُ اللّٰهُ
اَتَاْذَنُ لِیْۤ اَنْ اَكُوْنَ مَعَكُمَا تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
فَقَالَ: وَ عَلَیْكَ السَّلَامُ یَا وَلَدِیْ
وَ یَا شَافِعَ اُمَّتِیْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ
فَدَخَلَ مَعَهُمَا تَحْتَ الْكِسَاۤءِ (صلوات)
فَاَقْبَلَ عِنْدَ ذَالِكَ اَبُوْالْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْطَالِبٍ
وَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَیْكِ یَا بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰهِ
فَقُلْتُ: وَ عَلَیْكَ السَّلَامُ یَاۤ اَبَا الْحَسَنِ وَ یَاۤ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ،
فَقَالَ: یَا فَاطِمَۃُ اِنِّیْ اَشَمُّ عِنْدَكِ رَاۤئِحَۃً طَیِّبَۃً
كَاَنَّهَا رَاۤئِحَۃُ اَخِیْ وَابْنِ عَمِّیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ
فَقُلْتُ: نَعَمْ هَا هُوَ مَعَ وَ لَدَیْكَ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
فَاَقْبَلَ عَلِیٌّ نَحْوَالْكِسَاۤءِ
وَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
اَتَاْذَنُ لِیْ اَنْ اَكُوْنَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
قَالَ: لَهٗ وَ عَلَیْكَ السَّلَامُ یَاۤ اَخِیْ وَ یَاۤ وَصِیِّیْ
وَ خَلِیْفَتِیْ وَ صَاحِبَ لِوَاۤئـِیْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ
فَدَخَلَ عَلِیٌّ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ (صلوات)
ثُمَّ اَتَیْتُ نَحْوَ الْكِسَاۤءِ
وَ قُلْتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَاۤ اَبَتَاهُ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
اَتَأذَنُ لِیْ اَنْ اَكُوْنَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
قَالَ: وَ عَلَیْكِ السَّلَامُ یَا بِنْتِیْ وَ یَا بِضْعَتِیْ قَدْ اَذِنْتُ لَكِ
فَدَخَلْتُ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
فَلَمَّا اكْتَمَلْنَا جَمِیْعًا تَحْتَ الْكِسَاۤءِ اَخَذَ اَبِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ بِطَرَفِیْ الْكِسَاۤءِ
وَ اَوْمَئَ بِیَدِهِ الْیُمْنٰی اِلَی السَّمَاۤءِ وَ قَالَ:
اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰؤُلَاۤءِ اَهْلُ بَیْتِیْ وَ خَاصَّتِیْ وَ حَامَّتِیْ
لَحْمُهُمْ لَحْمِیْ وَ دَمُهُمْ دَمِیْ
یُوْلِمُنِیْ مَا یُؤْلِمُهُمْ
وَ یَحْزُنُنِیْ مَا یَحْزُنُهُمْ
اَنَا حَرْبٌ لِّمَنْ حَارَبَهُمْ
وَ سِلْمٌ لِّمَنْ سَالَمَهُمْ
وَ عَدُوٌّ لِّمَنْ عَادَاهُمْ
وَ مُحِبٌّ لِّمَنْ اَحَبَّهُمْ
اِنَّهُمْ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْهُمْ
فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَ بَرَكَاتِكَ وَ رَحْمَتَكَ
وَ غُفْرَانَكَ وَ رِضْوَانَكَ عَلَیَّ
وَ عَلَیْهِمْ وَ اَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِیْرًا۔ (صلوات)
فَقَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ:
یَا مَلَاۤئِكَتِیْ وَ یَا سُكَّانَ سَمَوَاتِیْ
اِنِّیْ مَا خَلَقْتُ سَمَاۤءً مَّبْنِیَّۃً وَّلَا اَرْضًا مَّدْحِیَّۃً وَّلَا قَمَرًا مُّنِیْرً
وَّلَا شَمْسًا مُّضِیْۤئَۃً وَّلَا فَلَكًا یَّدُوْرُ وَلَا بَحْرًا یَّجْرِیْ وَلَا فُلْكًا یَّسِرِیْۤ
اِلَّا فِیْ مَحَبَّۃِ هٰؤُلَاۤءِ الْخَمْسَۃِ الَّذِیْنَ هُمْ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
فَقَالَ: الْاَمِیْنُ جَبْرَائِیْلُ: یَا رَبِّ وَ مَنْ تَحْتَ الْكِسَاۤءِ
هُمْ اَهْلُ بَیْتِ النُّبُوَّۃِ وَ مَعْدِنُ الرِّسَالَۃِ
هُمْ فَاطِمَۃُ وَ اَبُوْهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوْهَا (صلوات)
فَقَالَ جَبْرَائِیْلُ یَا رَبِّ اَتَاْذَنُ لِیْۤ اَنْ اَهْبِطَ اِلَی الْاَرْضِ
لِاَكُوْنَ مَعَهُمْ سَادِسًا
فَقَالَ اللّٰهُ: نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ
فَهَبَطَ الْاَمِیْنُ جَبْرَائِیْلُ وَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
الْعَلِیُّ الْاَعْلٰی یُقْرِئُكَ السَّلَامُ وَ یَخُصُّكَ بِالتَّحِیَّۃِ وَالْاِكْرَامِ
وَ یَقُوْلُ لَكَ: وَ عِزَّتِیْ وَ جَلَالِیْ
اِنِّیْ مَا خَلَقْتُ سَمَاۤءً مَّبْنِیَّۃً
وَّلَا اَرْضًا مَّدْحِیَّۃً وَّلَا قَمَرًا مُّنِیْرًا وَّلَا شَمْسًا مُّضِیْۤئَۃً
وَّلَا فَلَكًا یَّدُوْرُ وَلَا بَحْرًا یَّجْرِیْ وَلَا فُلْكًا یَّسْرِیْ
اِلَّا لِاَجْلِكُمْ وَ مَحَبَّتِكُمْ
وَ قَدْ اَذِنَ لِیْۤ اَنْ اَدْخُلَ مَعَكُمْ
فَهَلْ تَاْذَنُ لِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ عَلَیْكَ السَّلَامُ یَاۤ اَمِیْنَ وَحْیِ اللّٰهِ
اِنَّهٗ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ۔
فَدَخَلَ جَبْرَائِیْلُ مَعَنَا تَحْتَ الْكِسَاۤءِ (صلوات)
فَقَالَ: لِاَبِیْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ اَوْحیٰۤ اِلَیْكُمْ یَقُوْلُ
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ
اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا۔ (صلوات)
فَقَالَ: عَلِیٌّ لِاَبِیْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ اَخْبِرْنِیْ مَا لِجُلُوْ سِنَا
هٰذَا تَحْتَ الْكِسَاۤءِ مِنَ الْفَضْلِ عِنْدَاللّٰهِ
فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ
وَالَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ نَبِیًّا
وَّاصْطَفَانِیْ بِالرِّسَالَۃِ نَجِیًّا
مَّا ذُكِرَ خَبَرُنَا هٰذَا فِیْ مَحْفِلٍ مِّنْ مَحَافِلِ
اَهْلِ الْاَرْضِ وَ فِیْهِ جَمْعٌ مِّنْ شِیْعَتِنَا وَ مُحِبِّیْنَا
اِلَّا وَ نَزَلَتْ عَلَیْهِمُ الرَّحْمَۃُ
وَ حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَاۤئِكَۃُ وَاسْتَغْفَرَتْ لَهُمْ اِلیٰ اَنْ یَّتَفَرَّقُوْا
فَقَالَ عَلِیٌّ: اِذًا وَّ اللّٰهِ فُزْنَا وَ فَازَ شِیْعَتُنَا وَ رَبِّ الْكَعْبَۃِ
فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ
ثَانِیًا: یَا عَلِیُّ! وَالَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ نَبِیًّا
وَّاصْطَفَانِیْ بِالرِّسَالَۃِ نَجِیًّا
مَّا ذُكِرَ خَبَرُنَا هٰذَا فِیْ مَحْفِلٍ مِّنْ مَحَافِلِ اَھْلِ الْاَرْضِ
وَ فِیْهِ جَمْعٌ مِّنْ شِیْعَتِنَا وَ مُحِبِّیْنَا
وَ فِیْهِمْ مَهْمُوْمٌ اِلَّا وَ فَرَّجَ اللّٰهُ ھَمَّهٗ
وَلَا مَغْمُوْمٌ اِلَّا وَ كَشَفَ اللّٰهُ غَمَّهٗ
وَلَا طَالِبُ حَاجَۃٍ اِلَّا وَ قَضَی اللّٰهُ حَاجَتَهٗ
فَقَالَ عَلِیٌّ اِذًا وَّاللّٰهِ فُزْنَا وَ سُعِدْنَا وَ كَذَالِكَ شِیْعَتُنَا
فَازُوْا وَ سُعِدُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَ رَبِّ الْكَعْبَۃِ۔ (صلوات)