EN اردو Roman AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِىْۤ اَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيْرًا‏(21)
(21) اور جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ آخر ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل ہوتے یا ہم خدا کو کیوں نہیں دیکھتے درحقیقت یہ لوگ اپنی جگہ پر بہت مغرور ہوگئے ہیں اور انتہائی درجہ کی سرکشی کررہے ہیں
يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَ يَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا‏(22)
(22) جس دن یہ ملائکہ کو دیکھیں گے اس دن مجرمین کے لئے کوئی بشارت نہ ہوگی اور فرشتے کہیں گے کہ تم لوگ دور ہوجاؤ
وَقَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا‏(23)
(23) پھر ہم ان کے اعمال کی طرف توجہ کریں گے اور سب کو اڑتے ہوئے خاک کے ذرّوں کے مانند بنا دیں گے
اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا‏(24)
(24) اس دن صرف جنت ّ والے ہوں گے جن کے لئے بہترین ٹھکانہ ہوگا اور بہترین آرام کرنے کی جگہ ہوگی
وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِيْلًا‏(25)
(25) اور جس دن آسمان بادلوں کی وجہ سے پھٹ جائے گا اور ملائکہ جوق درجوق نازل کئے جائیں گے
اَلْمُلْكُ يَوْمَئِذِ ۟الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ‌ؕ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا‏(26)
(26) اس دن درحقیقت حکومت پروردگار کے ہاتھ میں ہوگی اور وہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت دن ہوگا
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيْهِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِى اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا‏(27)
(27) اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے رسول کے ساتھ ہی راستہ اختیار کیا ہوتا
يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِىْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا‏(28)
(28) ہائے افسوس-کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا
لَقَدْ اَضَلَّنِىْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِىْ‌ ؕ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا‏(29)
(29) اس نے تو ذکر کے آنے کے بعد مجھے گمراہ کردیا اور شیطان تو انسان کا رسوا کرنے والا ہے ہی
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِى اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا‏(30)
(30) اور اس دن ر سول آواز دے گا کہ پروردگار اس میری قوم نے اس قرآن کو بھی نظر انداز کردیا ہے
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ‌ؕ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا‏(31)
(31) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرمین میں سے کچھ دشمن قرار دیدیئے ہیں اور ہدایت اور امداد کے لئے تمہارا پروردگار بہت کافی ہے
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً‌  ‌ۛۚ كَذٰلِكَ ‌ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ‌ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا‏(32)
(32) اور یہ کافر یہ بھی کہتے ہیں کہ آخر انِ پر یہ قرآن ایک دفعہ کل کا کل کیوں نہیں نازل ہوگیا-ہم اسی طرح تدریجاً نازل کرتے ہیں تاکہ تمہارے دل کو مطمئن کرسکیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر نازل کیا ہے
وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا ؕ‏(33)
(33) اوریہ لوگ کوئی بھی مثال نہ لائیں گے مگر یہ کہ ہم اس کے جواب میں حق اور بہترین بیان لے آئیں گے
اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا‏(34)
(34) وہ لوگ جو جہنم ّکی طرف منہ کے بل کھینچ کر لائے جائیں گے ان کا ٹھکانا بدترین ہے اور وہ بہت زیادہ بہکے ہوئے ہیں
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِيْرًا‌ ۖ‌ ۚ‏(35)
(35) اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنادیا
فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِيْرًاؕ‏(36)
(36) پھر ہم نے کہا کہ اب تم دونوں اس قوم کی طرف جاؤ جس نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ہے اور ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا ہے
وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَجَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰيَةً ‌ ؕ وَاَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ عَذَابًا اَ لِيْمًا ‌ۖ‌ ۚ‏(37)
(37) اور قوم نوح کو بھی جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں بھی غرق کردیا اور لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالمین کے لئے بڑا دردناک عذاب مّہیا کررکھا ہے
وَّعَادًا وَّثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًۢا بَيْنَ ذٰ لِكَ كَثِيْرًا‏(38)
(38) اور عاد و ثمود اور اصحاب رس اور ان کے درمیان بہت سی نسلوں اور قوموں کو بھی تباہ کردیا ہے
وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ‌ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا‏(39)
(39) اور ان سب کے لئے ہم نے مثالیں بیان کیں اور سب کو ہم نے نیست و نابود کردیا
وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِىْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ‌ ؕ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا ‌ۚ بَلْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ نُشُوْرًا‏(40)
(40) اور یہ لوگ اس بستی کی طرف آئے جس پر ہم نے پتھروں کی بوچھاڑ کی تھی تو کیا ان لوگوں نے اسے نہیں دیکھاحقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کی امید ہی نہیں رکھتے
وَاِذَا رَاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ؕ اَهٰذَا الَّذِىْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا‏(41)
(41) اور جب آپ کو دیکھتے ہیں تو صرف مذاق بنانا چاہتے ہیں کہ کیا یہی وہ ہے جسے خدا نے رسول بناکر بھیجا ہے
اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا‌ ؕ وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِيْلًا‏(42)
(42) قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے منحرف کردے اگر ہم لوگ ان خداؤں پر صبر نہ کرلیتے اور عنقریب ان لوگوں کو معلوم ہوجائے گا جب یہ عذاب کو دیکھیں گے کہ زیادہ بہکاہوا کون ہے
اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰٮهُ ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا ۙ‏(43)
(43) کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشات ہی کو اپنا خدا بنالیا ہے کیا آپ اس کی بھی ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہیں
اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ اَوْ يَعْقِلُوْنَ‌ ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ‌ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا‏(44)
(44) کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ان کی اکثریت کچھ سنتی اور سمجھتی ہے ہرگز نہیں یہ سب جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی گم کردہ راہ ہیں
اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ‌ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا‌ ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا ۙ‏(45)
(45) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پروردگار نے کس طرح سایہ کو پھیلا دیا ہے اور وہ چاہتا تو ایک ہی جگہ ساکن بنا دیتا پھر ہم نے آفتاب کو اس کی دلیل بنادیا ہے
ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَيْنَا قَبْضًا يَّسِيْرًا‏(46)
(46) پھر ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ہے
وَهُوَ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا‏(47)
(47) اور وہی وہ خدا ہے جس نے رات کو تمہارا پردہ اور نیند کو تمہاری راحت اور دن کو تمہارے اٹھ کھڑے ہونے کا وقت قرار دیا ہے
وَهُوَ الَّذِىْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهٖ‌ۚ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا ۙ‏(48)
(48) اور وہی وہ ہے جس نے ہواؤں کو رحمت کی بشارت کے لئے رواں کردیا ہے اور ہم نے آسمان سے پاک و پاکیزہ پانی برسایا ہے
لِّنُحْیِۦَ بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا وَّنُسْقِيَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّاَنَاسِىَّ كَثِيْرًا‏(49)
(49) تاکہ اس کے ذریعہ مردہ شہر کو زندہ بنائیں اور اپنی مخلوقات میں سے جانوروں اور انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو سیراب کریں
وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا ‌ ۖ ا فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا‏(50)
(50) اور ہم نے ان کے درمیان پانی کو طرح طرح سے تقسیم کیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں لیکن انسانوں کی اکثریت نے ناشکری کے علاوہ ہر بات سے انکار کردیا ہے
وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِىْ كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيْرًا ‌ۖ ‏(51)
(51) اور ہم چاہتے تو ہر قریہ میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے
فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا‏(52)
(52) لہذا آپ کافروں کے کہنے میں نہ آئیں اور ان سے آخر دم تک جہاد کرتے رہیں
وَهُوَ الَّذِىْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّهٰذَا مِلْحٌ‌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا‏(53)
(53) اور وہی خدا ہے جس نے دونوں دریاؤں کو جاری کیا ہے اس کا پانی مزیدار اور میٹھا ہے اور یہ نمکین اور کڑواہے اور دونوں کے درمیان حد فاصل اور مضبوط رکاوٹ بنا دی ہے
وَهُوَ الَّذِىْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا‌ ؕ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا‏(54)
(54) اور وہی وہ ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا ہے اور پھر اس کو خاندان اور سسرال والا بنا دیا ہے اور آپ کا پروردگار بہت زیادہ قدرت والا ہے
وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ‌ؕ وَكَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيْرًا‏(55)
(55) اور یہ لوگ پروردگار کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور کافر تو ہمیشہ پروردگار کے خلاف ہی پشت پناہی کرتا ہے
وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا‏(56)
(56) اور ہم نے آپ کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا‏(57)
(57) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر یہ کہ جو چاہے وہ اپنے پروردگار کا راستہ اختیار کرے
وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَىِّ الَّذِىْ لَا يَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهٖ‌ ؕ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرَ ا‌ ۛۚ ۙ‏(58)
(58) اور آپ اس خدائے حق و قیوم پر اعتماد کریں جسے موت آنے والی نہیں ہے اور اسی کی حمد کی تسبیح کرتے رہیں کہ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی اطلاع کے لئے خود ہی کافی ہے
۟الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِىْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ‌ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِيْرًا‏(59)
(59) اس نے آسمان و زمین اور اس کے درمیان کی مخلوقات کو چھ دنوں کے اندر پیدا کیا ہے اور اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیا ہے وہ رحمان ہے اس کی تخلیق کے بارے میں اسی باخبر سے دریافت کرو
وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا ۩‏(60)
(60) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ یہ رحمان کیا ہے کیا ہم اسے سجدہ کرلیں جس کے بارے میں تم حکم دے رہو اور اس طرح ان کی نفرت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے
تَبٰرَكَ الَّذِىْ جَعَلَ فِى السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا‏(61)
(61) بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اس میں چراغ اور چمکتا ہوا چاند قرار دیا ہے
وَهُوَ الَّذِىْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا‏(62)
(62) اور وہی وہ ہے جس نے رات اور دن میں ایک کو دوسرے کاجانشین بنایا ہے اس انسان کے لئے جو عبرت حاصل کرنا چاہے یا شکر پروردگار ادا کرنا چاہے
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا‏(63)
(63) اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں توسلامتی کا پیغام دے دیتے ہیں
وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا‏(64)
(64) یہ لوگ راتوں کو اس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے رب کی بارگاہ میں کبھی سربسجود رہتے ہیں اور کبھی حالت قیام میں رہتے ہیں
وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ‌ۖ  اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ‌ۖ ‏(65)
(65) اور یہ کہتے ہیں کہ پروردگار ہم سے عذاب جہنمّ کو پھیر دے کہ اس کا عذاب بہت سخت اور پائیدار ہے
اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا‏(66)
(66) وہ بدترین منزل اور محل اقامت ہے
وَالَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا‏(67)
(67) اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا راستہ اختیار کرتے ہیں
وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِىْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ‌ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰ لِكَ يَلْقَ اَثَامًا ۙ‏(68)
(68) اور وہ لوگ خدا کے ساتھ کسی اور خدا کو نہیں پکارتے ہیں اور کسی بھی نفس کو اگر خدا نے محترم قرار دیدیا ہے تو اسے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے اور زنا بھی نہیں کرتے ہیں کہ جو ایسا عمل کرے گا وہ اپنے عمل کی سزا بھی برداشت کرے گا
يُضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا ۖ ‏(69)
(69) جسے روز قیامت دگنا کردیا جائے گا اور وہ اسی میں ذلّت کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ پڑا رہے گا
اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًاصَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا‏(70)
(70) علاوہ اس شخص کے جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل بھی کرے کہ پروردگار اس کی برائیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کردے گا اور خدا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے
وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا‏(71)
(71) اور جو توبہ کرلے گا اور عمل صالح انجام دے گا وہ اللہ کی طرف واقعاً رجوع کرنے والا ہے
وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا‏(72)
(72) اور وہ لوگ جھوٹ اور فریب کے پاس حاضر بھی نہیں ہوتے ہیں اور جب لغو کاموں کے قریب سے گزرتے ہیں تو بزرگانہ انداز سے گزرجاتے ہیں
وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا‏(73)
(73) اور ان لوگوں کوجب آیات الہٰیہ کی یاد دلائی جاتی ہے توبہرے اوراندھے ہوکر گر نہیں پڑتے ہیں
وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا‏(74)
(74) اور وہ لوگ برابر دعا کرتے رہتے ہیں کہ خدایا ہمیں ہماری ازواج اور اولاد کی طرف سے خنکی چشم عطا فرما اور ہمیں صاحبان تقویٰ کا پیشوا بنا دے
اُولٰٓئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَيُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ۙ‏(75)
(75) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کی بناﺀ پر جنتّ کے بالا خانے عطا کئے جائیں گے اور وہاں انہیں تعظیم اور سلام کی پیشکش کی جائے گی
خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا‏(76)
(76) وہ انہی مقامات پرہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کہ وہ بہترین مستقر اور حسین ترین محلِ اقامت ہے
قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّىْ لَوْلَا دُعَآؤُكُمْ‌ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا‏(77)
(77) پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوتیں تو پروردگار تمہاری پروا بھی نہ کرتا تم نے اس کے رسول کی تکذیب کی ہے تو عنقریب اس کا عذاب بھی برداشت کرنا پڑے گا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طٰسٓمّٓ‏(1)
(1) طسم ۤ
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ‏(2)
(2) یہ ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ‏(3)
(3) کیا آپ اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈال دیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں
اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ‏(4)
(4) اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کردیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جاتیں
وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ‏(5)
(5) لیکن ان کی طرف جب بھی خدا کی طرف سے کوئی نیا ذکر آتاہے تو یہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں
فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ‏(6)
(6) یقینا انہوں نے تکذیب کی ہے تو عنقریب ان کے پاس اس بات کی خبریں آجائیں گی جس کا یہ لوگ مذاق اڑا رہے تھے
اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ‏(7)
(7) کیا ان لوگوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح عمدہ عمدہ چیزیں اُگائی ہیں
اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌  ؕ وَّمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(8)
(8) اس میں ہماری نشانی ہے لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(9)
(9) اور آپ کاپروردگار صاحبِ عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے
وَاِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَۙ‏(10)
(10) اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے پروردگار نے موسیٰ کو آواز دی کہ اس ظالم قوم کے پاس جاؤ
قَوْمَ فِرْعَوْنَ‌ؕ اَلَا يَتَّقُوْنَ‌‏(11)
(11) یہ فرعون کی قوم ہے کیا یہ متقی نہ بنیں گے
قَالَ رَبِّ اِنِّىْۤ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِؕ‏(12)
(12) موسیٰ نے کہا کہ پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ میری تکذیب نہ کریں
وَيَضِيْقُ صَدْرِىْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِىْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ‏(13)
(13) میرا دل تنگ ہورہا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے یہ پیغام ہارون کے پاس بھیج دے
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ‌ۚ‏(14)
(14) اور میرے اوپر ان کاایک جرم بھی ہے تو مجھے خوف ہے کہ یہ مجھے قتل نہ کردیں
قَالَ كَلَّا‌ ۚ فَاذْهَبَا بِاٰيٰتِنَآ‌ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ‏(15)
(15) ارشاد ہوا کہ ہرگز نہیں تم دونوں ہی ہماری نشانیوں کو لے کر جاؤ اور ہم بھی تمہارے ساتھ سب سن رہے ہیں
فَاْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(16)
(16) فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں
اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ ؕ‏(17)
(17) کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے
قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِيْنَۙ‏(18)
(18) اس نے کہا کیا ہم نے تمہیں بچپنے میں پالا نہیں ہے اور کیا تم نے ہمارے درمیان اپنی عمر کے کئی سال نہیں گزارے ہیں
وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِىْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ‏(19)
(19) اور تم نے وہ کام کیا ہے جو تم کرگئے ہو اور تم شکریہ ادا کرنے والوں میں سے نہیں ہو
قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيْنَؕ‏(20)
(20) موسیٰ نے کہا کہ وہ قتل میں نے اس وقت کیا تھا جب میں قتل سے غافل تھا
فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِىْ رَبِّىْ حُكْمًا وَّجَعَلَنِىْ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ‏(21)
(21) پھر میں نے تم لوگوں کے خوف سے گریز اختیار کیا تو میرے رب نے مجھے نبوت عطا فرمائی اور مجھے اپنے نمائندوں میں سے قرار دے دیا
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ ؕ‏(22)
(22) یہ احسان جو تربیت کے سلسلہ میں تو جتا رہا ہے تو تونے بڑا غضب کیا تھاکہ بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَؕ‏(23)
(23) فرعون نے کہا کہ یہ ربّ العالمین کیا چیز ہے
قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَاؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ‏(24)
(24) موسیٰ نے کہا کہ زمین و آسمان اور اس کے مابین جو کچھ ہے سب کا پروردگار اگر تم یقین کرسکو
قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ‏(25)
(25) فرعون نے اپنے اطرافیوں سے کہا کہ تم کچھ سن رہے ہو
قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِيْنَ‏(26)
(26) موسیٰ نے کہا کہ وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے باپ دادا کا بھی رب ہے
قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِىْۤ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ‏(27)
(27) فرعون نے کہا کہ یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ بالکل دیوانہ ہے
قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ‏(28)
(28) موسیٰ نے کہا وہ مشرق و مغرب اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا پرودگار ہے اگر تمہارے پاس عقل ہے
قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِىْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ‏(29)
(29) فرعون نے کہا کہ تم نے میرے علاوہ کسی خدا کو بھی اختیار کیا تو تمہیں قیدیوں میں شامل کردوں گا
قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىْءٍ مُّبِيْنٍ‌ۚ‏(30)
(30) موسیٰ نے جواب دیا کہ چاہے میں کھلی ہوئی دلیل ہی پیش کردوں
قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ‏(31)
(31) فرعون نے کہا وہ دلیل کیا ہے اگر تم سچےّ ہو تو پیش کرو
‌فَاَ لْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ‌ ۖ ‌‌ۚ‏(32)
(32) موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر رینگنے لگا
وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنّٰظِرِيْنَ‏(33)
(33) اور گریبان سے ہاتھ نکالا تو وہ سفید چمک دار نظر آنے لگا
قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌۙ‏(34)
(34) فرعون نے اپنے اطراف والوں سے کہا کہ یہ تو بڑا ہوشیار جادوگر معلوم ہوتا ہے
يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ ‌ۖ  فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ‌‏(35)
(35) اس کا مقصد یہ ہے کہ جادو کے زور پر تمہیں تمہاری زمین سے نکال باہر کردے تو اب تمہاری رائے کیا ہے
قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حٰشِرِيْنَۙ‏(36)
(36) لوگوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے بھائی کو روک لیجئے اور شہروں میں جادوگروں کو اکٹھاکرنے والوں کو روانہ کردیجئے
يَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيْمٍ‏(37)
(37) وہ لوگ ایک سے ایک ہوشیار جادوگرلے آئیں گے
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ‏(38)
(38) غرض وقت مقرر پر تمام جادوگر اکٹھا کئے گئے
وَّقِيْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ‏(39)
(39) اور ان لوگوں سے کہا گیا کہ تم سب اس بات پر اجتماع کرنے والے ہو
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ‏(40)
(40) شاید ہم لوگ ان ساحروں کا اتباع کرلیں اگر وہ غالب آگئے
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ‏(41)
(41) اس کے بعد جب جادوگر اکٹھا ہوئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہماری کوئی اجرت ہوگی
قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ‏(42)
(42) فرعون نے کہا کہ بے شک تم لوگ میرے مقربین میں شمار ہوگے
قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ‏(43)
(43) موسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ جو کچھ پھینکنا چاہتے ہو پھینکو
فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ‏(44)
(44) تو ان لوگوں نے اپنی رسیوں اور چھڑیوں کو پھینک دیا اور کہا کہ فرعون کی عزّت و جلال کی قسم ہم لوگ غالب آنے والے ہیں
فَاَ لْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ‌ ۖ ‌ۚ‏(45)
(45) پھر موسیٰ نے بھی اپنا عصا ڈال دیا تو لوگوں نے اچانک کیا دیکھا کہ وہ سب کے جادو کو نگلے جارہا ہے
فَاُلْقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَۙ‏(46)
(46) یہ دیکھ کر جادوگر سجدہ میں گر پڑے
قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(47)
(47) اور ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو رب العالمین پر ایمان لے آئے
رَبِّ مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ‏(48)
(48) جو موسیٰ اور ہارون دونوں کا رب ہے
قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ‌ۚ اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِىْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ‌ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّلَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ‌ۚ‏(49)
(49) فرعون نے کہا کہ تم لوگ میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے یہ تم سے بھی بڑا جادوگر ہے جس نے تم لوگوں کو جادو سکھایا ہے میں تم لوگوں کے ہاتھ پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا
قَالُوْا لَا ضَيْرَ‌ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ‌ۚ‏(50)
(50) ان لوگوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہم سب پلٹ کر اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے
اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَؕ‏(51)
(51) ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہماری خطاؤں کو معاف کردے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں
وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰٓى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِىْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ‏(52)
(52) اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ کہ تمہارا پیچھا کیا جانے والا ہے
فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِى الْمَدَآئِنِ حٰشِرِيْنَ‌ۚ‏(53)
(53) پھر فرعون نے مختلف شہروں میں لشکر جمع کرنے والے روانہ کردیئے
اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَۙ‏(54)
(54) کہ یہ تھوڑے سے افراد کی ایک جماعت ہے
وَاِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ‏(55)
(55) اور ان لوگوں نے ہمیں غصہ دلا دیا ہے
وَاِنَّا لَجَمِيْعٌ حٰذِرُوْنَؕ‏(56)
(56) اور ہم سب سارے سازوسامان کے ساتھ ہیں
فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍۙ‏(57)
(57) نتیجہ میں ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کردیا
وَّكُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍۙ‏(58)
(58) اور خزانوں اور باعزّت جگہوں سے بھی
كَذٰلِكَؕ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَؕ‏(59)
(59) اور ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں اور ہم نے زمین کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا
فَاَ تْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِيْنَ‏(60)
(60) پھر ان لوگوں نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کا صبح سویرے پیچھا کیا
فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ‌ۚ‏(61)
(61) پھر جب دونوں ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو اصحاب موسیٰ نے کہا کہ اب تو ہم گرفت میں آجائیں گے
قَالَ كَلَّا‌‌ ۚ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىْ سَيَهْدِيْنِ‏(62)
(62) موسیٰ نے کہا کہ ہرگز نہیں ہمارے ساتھ ہمارا پروردگار ہے وہ ہماری راہنمائی کرے گا
فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰٓى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ‌ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ‌ۚ‏(63)
(63) پھر ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا دریا میں مار دیں چنانچہ دریا شگافتہ ہوگیا اور ہر حصہّ ایک پہاڑ جیسا نظر آنے لگا
وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَ‌ۚ‏(64)
(64) اور دوسرے فریق کو بھی ہم نے قریب کردیا
وَاَنْجَيْنَا مُوْسٰى وَمَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِيْنَ‌ۚ‏(65)
(65) اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی
ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ‌ؕ‏(66)
(66) پھر باقی لوگوں کو غرق کردیا
اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاَيَةً ‌ ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(67)
(67) اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور بنی اسرائیل کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(68)
(68) اور تمہارا پروردگار صاحبِ عزّت بھی ہے اور مہربان بھی
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ‌ۘ‏(69)
(69) اور انہیں ابراہیم کی خبر پڑھ کر سناؤ
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ‏(70)
(70) جب انہوںنے اپنے مربی باپ اور قوم سے کہا کہ تم لوگ کس کی عبادت کررہے ہو
قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيْنَ‏(71)
(71) ان لوگوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور انہی کی مجاوری کرتے ہیں
قَالَ هَلْ يَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ‏(72)
(72) تو ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو یہ تمہاری آواز سنتے ہیں
اَوْ يَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ يَضُرُّوْنَ‏(73)
(73) یہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچاتے ہیں
قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ‏(74)
(74) ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ داداکو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے
قَالَ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ‏(75)
(75) ابراہیم نے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو
اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ ‌ۖ ‏(76)
(76) تم اور تمہارے تمام بزرگان خاندان
فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّىْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(77)
(77) یہ سب میرے دشمن ہیں. رب العالمین کے علاوہ
الَّذِىْ خَلَقَنِىْ فَهُوَ يَهْدِيْنِۙ‏(78)
(78) کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور پھر وہی ہدایت بھی دیتا ہے
وَ الَّذِىْ هُوَ يُطْعِمُنِىْ وَيَسْقِيْنِۙ‏(79)
(79) وہی کھانادیتا ہے اور وہی پانی پلاتا ہے
وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ ۙ‏(80)
(80) اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی شفا بھی دیتا ہے
وَالَّذِىْ يُمِيْتُنِىْ ثُمَّ يُحْيِيْنِۙ‏(81)
(81) وہی موت دیتا ہے اور پھر وہی زندہ کرتا ہے
وَالَّذِىْۤ اَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِىْ خَطِٓیْئَتِىْ يَوْمَ الدِّيْنِ ؕ‏(82)
(82) اور اسی سے یہ امید ہے کہ روزِ حساب میری خطاؤں کو معاف کردے
رَبِّ هَبْ لِىْ حُكْمًا وَّاَلْحِقْنِىْ بِالصّٰلِحِيْنَۙ‏(83)
(83) خدایا مجھے علم و حکمت عطا فرما اور مجھے صالحین کے ساتھ ملحق کردے
وَاجْعَلْ لِّىْ لِسَانَ صِدْقٍ فِى الْاٰخِرِيْنَۙ‏(84)
(84) اور میرے لئے آئندہ نسلوں میں سچی زبان اور ذکر خیر قرار دے
وَاجْعَلْنِىْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيْمِۙ‏(85)
(85) اور مجھے جنت کے وارثوں میں سے قرار دے
وَاغْفِرْ لِاَبِىْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَۙ‏(86)
(86) اور میرے مربی کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے
وَلَا تُخْزِنِىْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَۙ‏(87)
(87) اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جب سب قبروں سے اٹھائے جائیں گے
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَۙ‏(88)
(88) جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا
اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍؕ‏(89)
(89) مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو
وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَۙ‏(90)
(90) اور جس دن جنتّ پرہیزگاروں سے قریب تر کردی جائے گی
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغٰوِيْنَۙ‏(91)
(91) اور جہنمّ کو گمراہوں کے سامنے کردیا جائے گا
وَقِيْلَ لَهُمْ اَيْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ‏(92)
(92) اور جہنّمیوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے
مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ هَلْ يَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ يَنْتَصِرُوْنَؕ‏(93)
(93) خدا کو چھوڑ کر وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنی مدد کریں گے
فَكُبْكِبُوْا فِيْهَا هُمْ وَالْغَاوٗنَۙ‏(94)
(94) پھر وہ سب مع تمام گمراہوں کے جہنّم میں منہ کے بل دھکیل دیئے جائیں گے
وَجُنُوْدُ اِبْلِيْسَ اَجْمَعُوْنَؕ‏(95)
(95) اور ابلیس کے تمام لشکر والے بھی
قَالُوْا وَهُمْ فِيْهَا يَخْتَصِمُوْنَۙ‏(96)
(96) اور وہ سب جہنمّ میں آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے
تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍۙ‏(97)
(97) کہ خدا کی قسم ہم سب کھلی ہوئی گمراہی میں تھے
اِذْ نُسَوِّيْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(98)
(98) جب تم کو رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے
وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ‏(99)
(99) اور ہمیں مجرموں کے علاوہ کسی نے گمراہ نہیں کیا
فَمَا لَنَا مِنْ شٰفِعِيْنَۙ‏(100)
(100) اب ہمارے لئے کوئی شفاعت کرنے والا بھی نہیں ہے
وَلَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ‏(101)
(101) اور نہ کوئی دل پسند دوست ہے
فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(102)
(102) پس اے کاش ہمیں واپسی نصیب ہوجاتی تو ہم سب بھی صاحب ایمان ہوجاتے
اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌  ؕ وَّمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(103)
(103) اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت بہرحال مومن نہیں تھی
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(104)
(104) اور تمہارا پروردگار سب پر غالب بھی ہے اور مہربان بھی ہے
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ۟الْمُرْسَلِيْنَ‌ ۖ‌ۚ‏(105)
(105) اور نوح کی قوم نے بھی مرسلین کی تکذیب کی
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ‌ۚ‏(106)
(106) جب ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ تم پرہیزگاری کیوں نہیں اختیار کرتے ہو
اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ‏(107)
(107) میں تمہارے لئے امانت دار نمائندہ پروردگار ہوں
فَاتَّقُوْا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِ‌ۚ‏(108)
(108) پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ‌ۚ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‌ۚ‏(109)
(109) اور میں اس تبلیغ کی کوئی اجر بھی نہیں چاہتا ہوں میری اجر ت تو رب العالمین کے ذمہ ہے
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ ؕ‏(110)
(110) لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ‏(111)
(111) ان لوگوں نے کہا کہ ہم آپ پر کس طرح ایمان لے آئیں جبکہ آپ کے سارے پیروکار پست طبقہ کے لوگ ہیں
قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‌ۚ‏(112)
(112) نوح نے کہا کہ میں کیا جانوں کہ یہ کیا کرتے تھے
اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّىْ‌ لَوْ تَشْعُرُوْنَ‌ۚ‏(113)
(113) ان کا حساب تو میرے پروردگار کے ذمہ ہے اگر تم اس بات کا شعور رکھتے ہو
وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِيْنَ‌ۚ‏(114)
(114) اور میں مومنین کو ہٹانے والا نہیں ہوں
اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌؕ‏(115)
(115) میں تو صرف واضح طور پر عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہوں
قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَؕ‏(116)
(116) ان لوگوں نے کہا کہ نوح اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے
قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِىْ كَذَّبُوْنِ‌ ۖ‌ۚ‏(117)
(117) نوح نے یہ سن کر فریاد کی کہ پروردگار میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے
فَافْتَحْ بَيْنِىْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّنِىْ وَمَنْ مَّعِىَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(118)
(118) اب میرے اور ان کے درمیان کھلا ہوا فیصلہ فرما دے اور مجھے اور میرے ساتھی صاحبانِ ایمان کو نجات دے دے
فَاَنْجَيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ‌ۚ‏(119)
(119) پھر ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں نجات دے دی
ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِيْنَؕ‏(120)
(120) اس کے بعد باقی سب کو غرق کردیا
اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاَيَةً‌  ؕ وَّمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(121)
(121) یقینا اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(122)
(122) اور تمہارا پروردگار ہی سب پر غالب اور مہربان ہے
كَذَّبَتْ عَادُ ۟الْمُرْسَلِيْنَ ‌ۖ ‌ۚ‏(123)
(123) اورقوم عاد نے بھی مرسلین کی تکذیب کی ہے
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ‌ۚ‏(124)
(124) جب ان کے بھائی ہود نے کہا کہ تم خوفِ خدا کیوں نہیں پیدا کرتے ہو
اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ‌ۙ‏(125)
(125) میں تمہارے لئے ایک امانتدار پیغمبر ہوں
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ‌ ۚ‏(126)
(126) لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ‌ۚ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ؕ‏(127)
(127) اور میں تو تم سے تبلیغ کا کوئی اجر بھی نہیں چاہتا ہوں میرا اجر صرف رب العالمین کے ذمہ ہے
اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَۙ‏(128)
(128) کیا تم کھیل تماشے کے لئے ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو
وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ‌ۚ‏(129)
(129) اور بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو کہ شاید اسی طرح ہمیشہ دنیا میں رہ جاؤ
وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ‌ۚ‏(130)
(130) اور جب حملہ کرتے ہو تو نہایت جابرانہ حملہ کرتے ہو
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ‌ ۚ‏(131)
(131) اب اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَاتَّقُوْا الَّذِىْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ‌ۚ‏(132)
(132) اور اس کا خوف پیدا کرو جس نے تمہاری ان تمام چیزوں سے مدد کی ہے جنہیں تم خوب جانتے ہو
اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِيْنَ ‌ۚۙ‏(133)
(133) تمہاری امداد جانوروں اور اولاد سے کی ہے
وَجَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ‌ۚ‏(134)
(134) اور باغات اور چشموں سے کی ہے
اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍؕ‏(135)
(135) میں تمہارے بارے میں بڑے سخت دن کے عذاب سے خوفزدہ ہوں
قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَيْنَاۤ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِيْنَۙ‏(136)
(136) ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے سب برابر ہے چاہے تم ہمیں نصیحت کرو یا تمہارا شمارنصیحت کرنے والوں میں نہ ہو
اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَۙ‏(137)
(137) یہ ڈرانا دھمکانا تو پرانے لوگوں کی عادت ہے
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ‌ۚ‏(138)
(138) اور ہم پر عذاب ہونے والا نہیں ہے
فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاَيَةً‌ ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(139)
(139) پس قوم نے تکذیب کی اور ہم نے اسے ہلاک کردیا کہ اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے ا ور ان کی اکثریت بہرحا ل مومن نہیں تھی
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(140)
(140) اور تمہارا پروردگار غالب بھی ہے اور مہربان بھی ہے
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ‌ ۖ‌ۚ‏(141)
(141) او قوم ثمود نے بھی مرسلین کی تکذیب کی
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ‌ۚ‏(142)
(142) جب ان کے بھائی صالح نے کہا کہ تم لوگ خدا سے کیوں نہیں ڈرتے ہو
اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ‏(143)
(143) میں تمہارے لئے ایک امانتدار پیغمبر ہوں
فَاتَّقُوْا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ‌ۚ‏(144)
(144) لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ‌ۚ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ‏(145)
(145) اور میں تم سے اس کام کی اجرت بھی نہیں چاہتا ہوں میری اجرت تو خدائے رب العالمین کے ذمہ ہے
اَتُتْرَكُوْنَ فِىْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيْنَۙ‏(146)
(146) کیا تم یہاں کی نعمتوں میں اسی آرام سے چھوڑ دیئے جاؤ گے
فِىْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍۙ‏(147)
(147) انہی باغات اور چشموں میں
وَّزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيْمٌ‌ۚ‏(148)
(148) اور انہی کھیتوں اور خرمے کے درختوں کے درمیان جن کی کلیاں نرم و نازک ہیں
وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ‌ۚ‏(149)
(149) اور جو تم پہاڑوں کو کاٹ کر آسائشی مکانات تعمیر کررہے ہو
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ‌ ۚ‏(150)
(150) ایسا ہرگز نہیں ہوگا لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَلَا تُطِيْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَۙ‏(151)
(151) اور زیادتی کرنے والوں کی بات نہ مانو
الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ وَ لَا يُصْلِحُوْنَ‏(152)
(152) جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے ہیں
قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ‌ۚ‏(153)
(153) ان لوگوں نے کہا کہ تم پر تو صرف جادو کردیا گیا ہے اور بس
مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ‌ ۖۚ فَاْتِ بِاٰيَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ‏(154)
(154) تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو لہذا اگر سچےّ ہو تو کوئی نشانی اور معجزہ لے آؤ
قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ‌ۚ‏(155)
(155) صالح نے کہا کہ یہ ایک اونٹنی ہے ایک دن کا پانی اس کے لئے ہے اورایک مقرر دن کا پانی تمہارے لئے ہے
وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيْمٍ‏(156)
(156) اور خبردار اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تمہیں سخت دن کا عذاب گرفتار کرلے گا
فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَۙ‏(157)
(157) پھر ان لوگوں نے اس کے پیرکاٹ دیئے او بعد میں بہت شرمند ہوئے
فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌  ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(158)
(158) کہ عذاب نے انہیں گھیر لیا اور یقینا اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان والی نہیں تھی
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(159)
(159) اور تمہارا پروردگار سب پرغالب آنے والا اور صاحبِ رحمت بھی ہے
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ ۟الْمُرْسَلِيْنَ‌ ۖ ‌ۚ‏(160)
(160) اور قوم لوط نے بھی مرسلین کو جھٹلایا
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ‌ۚ‏(161)
(161) جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم خدا سے کیوں نہیں ڈرتے ہو
اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ‏(162)
(162) میں تمہارے حق میں ایک امانتدار پیغمبر ہوں
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ‌ۚ‏(163)
(163) ﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ‌ۚ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ؕ‏(164)
(164) اور میں تم سے اس امر کی کوئی اجرت بھی نہیں چاہتا ہوں میرا اجر تو صرف پروردگار کے ذمہ ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے
اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(165)
(165) کیا تم لوگ ساری دنیا میں صرف مردوں ہی سے جنسی تعلقات پیدا کرتے ہو
وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ‌ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ‏(166)
(166) اور ان ازواج کو چھوڑ دیتے ہو جنہیں پروردگار نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے حقیقتا تم بڑی زیادتی کرنے والے لوگ ہو
قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ‏(167)
(167) ان لوگوں نے کہا کہ لوط اگر تم اس تبلیغ سے باز نہ آئے تو اس بستی سے نکال باہر کردیئے جاؤ گے
قَالَ اِنِّىْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِيْنَؕ‏(168)
(168) انہوں نے کہا کہ بہرحال میں تمہارے عمل سے بیزار ہوں
رَبِّ نَجِّنِىْ وَاَهْلِىْ مِمَّا يَعْمَلُوْنَ‏(169)
(169) پروردگار ! مجھے اور میرے اہل کو ان کے اعمال کی سزا سے محفوظ رکھنا
فَنَجَّيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِيْنَۙ‏(170)
(170) تو ہم نے انہیں اور ان کے اہل سب کو نجات دے دی
اِلَّا عَجُوْزًا فِى الْغٰبِرِيْنَ‌ۚ‏(171)
(171) سوائے اس ضعیفہ کے کہ جو پیچھے رہ گئی
ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِيْنَ‌ۚ‏(172)
(172) پھر ہم نے ان لوگوں کو تباہ و برباد کردیا
وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا‌ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ‏(173)
(173) اور ان کے اوپر زبردست پتھروں کی بارش کردی جو ڈرائے جانے والوں کے حق میں بدترین بارش ہے
اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاَيَةً‌  ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(174)
(174) اور اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت بہرحال مومن نہیں تھی
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(175)
(175) اور تمہارا پروردگار عزیز بھی ہے اور رحیم بھی ہے
كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ ‌ۖ‌ۚ‏(176)
(176) اور جنگل کے رہنے والوں نے بھی مرسلین کو جھٹلایا
اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ‌ۚ‏(177)
(177) جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم خدا سے ڈرتے کیوں نہیں ہو
اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ‏(178)
(178) میں تمہارے لئے ایک امانتدار پیغمبر ہوں
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ‌ۚ‏(179)
(179) لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ‌ۚ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ؕ‏(180)
(180) اور میں تم سے اس کام کی کوئی اجرت بھی نہیں چاہتا ہوں کہ میرا اجر تو صرف رب العالمین کے ذمہ ہے
اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ‌ۚ‏(181)
(181) اور دیکھو ناپ تول کو ٹھیک رکھو اور لوگوں کو خسارہ دینے والے نہ بنو
وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ‌ۚ‏(182)
(182) اور وزن کرو تو صحیح اور سچیّ ترازو سے تولو
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ‌ۚ‏(183)
(183) اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کیا کرو اور روئے زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
وَاتَّقُوا الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَؕ‏(184)
(184) اور اس خدا سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والی نسلوں کو پیدا کیا ہے
قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَۙ‏(185)
(185) ان لوگوں نے کہا کہ تم تو صرف جادو زدہ معلوم ہوتے ہو
وَمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ‌ۚ‏(186)
(186) اور تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور ہمیں تو جھوٹے بھی معلوم ہوتے ہو
فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَؕ‏(187)
(187) اور اگر واقعا سچے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نازل کردو
قَالَ رَبِّىْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‏(188)
(188) انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ‏(189)
(189) پھر ان لوگوں نے تکذیب کی تو انہیں سایہ کے دن کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا
اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاَيَةً ‌ ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(190)
(190) بیشک اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ‏(191)
(191) اور تمہارا پروردگار بہت بڑا عزت والا اور مہربان ہے
وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ‏(192)
(192) اور یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل ہونے والا ہے
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُۙ‏(193)
(193) اسے جبریل امین لے کر نازل ہوئے ہیں
عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَۙ‏(194)
(194) یہ آپ کے قلب پر نازل ہوا ہے تاکہ آپ لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيْنٍؕ‏(195)
(195) یہ واضح عربی زبان میں ہے
وَاِنَّهٗ لَفِىْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ‏(196)
(196) اور اس کا ذکر سابقین کی کتابوں میں بھی موجود ہے
اَوَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَؕ‏(197)
(197) کیا یہ نشانی ان کے لئے کافی نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں
وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَۙ‏(198)
(198) اور اگر ہم اسے کسی عجمی آدمی پر نازل کردیتے
فَقَرَاَهٗ عَلَيْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِيْنَؕ‏(199)
(199) اور وہ انہیں پڑھ کر سناتا تو یہ کبھی ایمان لانے والے نہیں تھے
كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِىْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَؕ‏(200)
(200) اور اس طرح ہم نے اس انکار کو مجرمین کے دلوں تک جانے کا رستہ دے دیا ہے
لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَۙ‏(201)
(201) کہ یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں
فَيَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَۙ‏(202)
(202) کہ یہ عذاب ان پر اچانک نازل ہوجائے اور انہیں شعور تک نہ ہو
فَيَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ‏(203)
(203) اس وقت یہ کہیں گے کہ کیا ہمیں مہلت دی جاسکتی ہے
اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُوْنَ‏(204)
(204) تو کیا لوگ ہمارے عذاب کی جلدی کررہے ہیں
اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِيْنَۙ‏(205)
(205) کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم انہیں کئی سال کی مہلت دے دیں
ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا يُوْعَدُوْنَۙ‏(206)
(206) اور اس کے بعد وہ عذاب آئے جس کا وعدہ کیا گیا ہے
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يُمَتَّعُوْنَؕ‏(207)
(207) تو بھی جو ان کو آرام دیا گیا تھا وہ ان کے کام نہ آئے گا
وَمَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ‌‌‌‌‌ ۛ ‌ۖ ‏(208)
(208) اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لئے ڈرانے والے بھیج دیئے تھے
ذِكْرٰى‌ۛ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ‏(209)
(209) یہ ایک یاد دہانی تھی اور ہم ہرگز ظلم کرنے والے نہیں ہیں
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ‏(210)
(210) اور اس قرآن کو شیاطین لے کر حاضر نہیں ہوئے ہیں
وَمَا يَنْۢبَغِىْ لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيْعُوْنَؕ‏(211)
(211) یہ بات ان کے لئے مناسب بھی نہیں ہے اور ان کے بس کی بھی نہیں ہے
اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ‏(212)
(212) وہ تو وحی کے سننے سے بھی محروم ہیں
فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِيْنَ‌ۚ‏(213)
(213) لہذا تم اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو مت پکارو کہ مبتلائے عذاب کردیئے جاؤ
وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَۙ‏(214)
(214) اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے
وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ‌ۚ‏(215)
(215) اور جو صاحبانِ ایمان آپ کا اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکا دیجئے
فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّىْ بَرِىْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ‌ۚ‏(216)
(216) پھر یہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں کے اعمال سے بیزار ہوں
وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِۙ‏(217)
(217) اور خدائے عزیز و مہربان پر بھروسہ کیجئے
الَّذِىْ يَرٰٮكَ حِيْنَ تَقُوْمُۙ‏(218)
(218) جو آپ کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب آپ قیام کرتے ہیں
وَتَقَلُّبَكَ فِى السّٰجِدِيْنَ‏(219)
(219) اور پھر سجدہ گزاروں کے درمیان آپ کا اٹھنا بیٹھنا بھی دیکھتا ہے
اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‏(220)
(220) وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُؕ‏(221)
(221) کیا ہم آپ کو بتائیں کہ شیاطین کس پر نازل ہوتے ہیں
تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍۙ‏(222)
(222) وہ ہر جھوٹے اور بدکردار پر نازل ہوتے ہیں
يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ‏(223)
(223) جو فرشتوں کی باتوں پر کان لگائے رہتے ہیں اور ان میں کے اکثر لوگ جھوٹے ہیں
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ‏(224)
(224) اور شعراء کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جو گمراہ ہوتے ہیں
اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِىْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَۙ‏(225)
(225) کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ وہ ہر وادئی خیال میں چکر لگاتے رہتے ہیں
وَاَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَۙ‏(226)
(226) اور وہ کچھ کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں
اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا‌ ؕ وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَىَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ‏(227)
(227) علاوہ ان شعراء کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور بہت سارا ذکر خدا کیا اور ظلم سہنے کے بعد اس کا انتقام لیا اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائیں گے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طٰسٓ‌ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍۙ‏(1)
(1) طسۤ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں
هُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَۙ‏(2)
(2) یہ صاحبانِ ایمان کے لئے ہدایت اور بشارت ہیں
الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ‏(3)
(3) جو نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ا دا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَؕ‏(4)
(4) بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے اور وہ ان ہی اعمال میں بھٹک رہے ہیں
اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ‏(5)
(5) ا ن ہی لوگوں کے لئے بدترین عذاب ہے اور یہ آخرت میں خسارہ والے ہیں
وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ‏(6)
(6) اور آپ کو یہ قرآن خدائے علیم و حکیم کی طرف سے عطا کیا جارہا ہے
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّىْۤ اٰنَسْتُ نَارًاؕ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ‏(7)
(7) اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے اہل سے کہا تھا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے اور عنقریب میں اس سے راستہ کی خبر لاؤں گا یا آگ ہی کا کوئی انگارہ لے آؤں گا کہ تم تاپ سکو
فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِىَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِى النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا ؕ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(8)
(8) اس کے بعد جب آگ کے پاس آئے تو آواز آئی کہ بابرکت ہے وہ خدا جو آگ کے اندر اور اس کے اطراف میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو عالمین کا پالنے والا ہے
يٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُۙ‏(9)
(9) موسیٰ! میں وہ خدا ہوں جو سب پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے
وَاَ لْقِ عَصَاكَ‌ ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ‌ ؕ يٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ اِنِّىْ لَا يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُوْنَ ‌ۖ‏(10)
(10) اب تم اپنے عصا کو زمین پر ڈال دو اس کے بعد موسیٰ نے جب دیکھا تو کیا دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح لہرا رہا ہے موسیٰ الٹے پاؤں پلٹ پڑے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا آواز آئی کہ موسیٰ ڈرو نہیں میری بارگاہ میں مرسلین نہیں ڈرا کرتے ہیں
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(11)
(11) ہاں کوئی شخص گناہ کرکے پھر توبہ کرلے اور اس برائی کو نیکی سے بدل دے تو میں بہت بخشنے والا مہربان ہوں
وَاَدْخِلْ يَدَكَ فِىْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ‌ فِىْ تِسْعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهٖؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ‏(12)
(12) اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالو تو دیکھو گے کہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمکدار نکلتا ہے یہ ان نو معجزاءت میں سے ایک ہے جنہیں فرعون اور اس کی قوم کے لئے دیا گیا ہے کہ یہ بڑی بدکار قوم ہے
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰيٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ‌ۚ‏(13)
(13) مگر جب بھی ان کے پاس واضح نشانیاں آئیں تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے
وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا‌ ؕ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ‏(14)
(14) ان لوگوں نے ظلم اور غرور کے جذبہ کی بناﺀپر انکار کردیا تھا ورنہ ان کے دل کو بالکل یقین تھا پھر دیکھو کہ ایسے مفسدین کا انجام کیا ہوتا ہے
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا‌ ۚ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(15)
(15) اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے
وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ‌ وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍؕ‌ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ‏(16)
(16) اور پھر سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ لوگو مجھے پرندوں کی باتوں کا علم دیا گیا ہے اور ہر فضیلت کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے اور یہ خدا کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے
وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ‏(17)
(17) اور سلیمان کے لئے ان کا تمام لشکر جنات انسان اور پرندے سب اکٹھا کئے جاتے تھے تو بالکل مرتب منظم کھڑے کر دیئے جاتے تھے
حَتّٰٓى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ يّٰۤاَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ‌ۚ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمٰنُ وَجُنُوْدُهٗۙ وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ‏(18)
(18) یہاں تک کہ جب وہ لوگ وادئی نمل تک آئے تو ایک چیونٹی نے آواز دی کہ چیونٹیوں سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِىْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِىْۤ اَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰٮهُ وَاَدْخِلْنِىْ بِرَحْمَتِكَ فِىْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ‏(19)
(19) سلیمان اس کی بات پر مسکرادیئے اور کہا کہ پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے
وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِىَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ ‌ۖ  اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِيْنَ‏(20)
(20) اور سلیمان نے ہد ہد کو تلاش کیا اور وہ نظر نہ آیا تو کہا کہ آخر مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ غائب ہوگیا ہے
لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَيَاْتِيَنِّىْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ‏(21)
(21) میں اسے سخت ترین سزادوں گا یا پھر ذبح کر ڈالوں گا یا یہ کہ وہ میرے پاس کوئی واضح دلیل لے آئے گا
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۢ بِنَبَاٍ يَّقِيْنٍ‏(22)
(22) پھر تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ ہد ہد آگیا اور اس نے کہا کہ مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوئی ہے جو آپ کو بھی معلوم نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں
اِنِّىْ وَجَدتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ وَّلَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ‏(23)
(23) میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو سب پر حکومت کررہی ہے اور اسے دنیا کی ہر چیز حاصل ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت بھی ہے
وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُوْنَۙ‏(24)
(24) میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم سب سورج کی پوجا کررہے ہیں اور شیطان نے ان کی نظروں میں اس عمل کو حسن بنادیا ہے اور انہیں صحیح راستہ سے روک دیا ہے کہ اب وہ یہ بھی نہیں سمجھتے ہیں
اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِىْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ‏(25)
(25) کہ کیوں نہ اس خدا کا سجدہ کریں جو آسمان و زمین کے پوشیدہ اسرار کو ظاہر کرنے والا ہے اور لوگ جو کچھ چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں سب کا جاننے والا ہے
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ۩‏(26)
(26) وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے
قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ‏(27)
(27) سلیمان نے کہا کہ میں ابھی دیکھتا ہوں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تیرا شمار بھی جھوٹوں میں ہے
اِذْهَبْ بِّكِتٰبِىْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ‏(28)
(28) یہ میرا خط لے کر جا اور ان لوگوں کے سامنے ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جا اور یہ دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں
قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْۤ اُلْقِىَ اِلَىَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ‏(29)
(29) اس عورت نے کہا کہ میرے زعماء سلطنت میری طرف ایک بڑا محترم خط بھیجا گیا ہے
اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِۙ‏(30)
(30) جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا رحمٰن و رحیم ہے
اَلَّا تَعْلُوْا عَلَىَّ وَاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ‏(31)
(31) دیکھو میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور اطاعت گزار بن کر چلے آؤ
قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِىْ فِىْۤ اَمْرِىْ‌ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ‏(32)
(32) زعماء مملکت! میرے مسئلہ میں رائے دو کہ میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍ ۙ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِىْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ‏(33)
(33) ان لوگوں نے کہا کہ ہم صاحبانِ قوت اور ماہرین جنگ و جدال ہیں اور اختیار بہرحال آپ کے ہاتھ میں ہے آپ بتائیں کہ آپ کا حکم کیا ہے
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً  ‌ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ‏(34)
(34) اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو بستی کو ویران کردیتے ہیں اور صاحبانِ عزّت کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی طریقہ کار ہوتا ہے
وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ‏(35)
(35) اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج رہی ہوں اور پھر دیکھ رہی ہوں کہ میرے نمائندے کیا جواب لے کر آتے ہیں
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ فَمَاۤ اٰتٰٮنِۦَ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰٮكُمْ‌ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ‏(36)
(36) اس کے بعد جب قاصد سلیمان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ تم اپنے مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جب کہ جو کچھ خدا نے مجھے دیا ہے وہ تمہارے مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جاؤ تم خود ہی اپنے ہدیہ سے خوش رہو
اِرْجِعْ اِلَيْهِمْ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ‏(37)
(37) جاؤ تم واپس جاؤ اب میں ایک ایسا لشکر لے کر آؤں گا جس کا مقابلہ ممکن نہ ہوگا اور پھر سب کو ذلّت و رسوائی کے ساتھ ملک سے باہر نکالوں گا
قَالَ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِىْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ‏(38)
(38) پھر اعلان کیا کہ میرے اشراف سلطنت! تم میں کون ہے جو اس کے تخت کو لے کر آئے قبل اس کے کہ وہ لوگ اطاعت گزار بن کر حاضر ہوں
قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ‌ۚ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ اَمِيْنٌ‏(39)
(39) تو جّنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے میں بڑا صاحبِ قوت اور ذمہ دار ہوں
قَالَ الَّذِىْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ‌ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّىْ‌ۖ لِيَبْلُوَنِىْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ‌ؕ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ‌ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىْ غَنِىٌّ كَرِيْمٌ‏(40)
(40) اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرے گا اور جو کفران نعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے
قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِىْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُوْنَ‏(41)
(41) سلیمان نے کہا کہ اس کے تخت کو ناقابل شناخت بنادیا جائے تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ سمجھ پاتی ہے یا ناسمجھ لوگوں میں ہے
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ‌ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ‌ۚ وَاُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِيْنَ‏(42)
(42) جب وہ آئی تو سلیمان نے کہا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے اس نے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے بلکہ شاید یہی ہے اور مجھے تو پہلے ہی علم ہوگیا تھا اور میں اطاعت گزار ہوگئی تھی
وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ‏(43)
(43) اور اسے اس معبود نے روک رکھا تھا جسے خدا کو چھوڑ کر معبود بنائے ہوئے تھی کہ وہ ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی
قِيْلَ لَهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ‌ ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْرَ ۙ‌قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(44)
(44) پھر اس سے کہا گیا کہ قصر میں داخل ہوجائے اب جو اس نے دیکھا تو سمجھی کہ کوئی گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھول دیں سلیمان نے کہا کہ یہ ایک قلعہ ہے جسے شیشوں سے منڈھ دیا گیا ہے اور بلقیس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اس خدا پر ایمان لے آئی ہوں جو عالمین کا پالنے والا ہے
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِيْقٰنِ يَخْتَصِمُوْنَ‏(45)
(45) اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو تو دونوں فریق آپس میں جھگڑا کرنے لگے
قَالَ يٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ‌‌ۚ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‏(46)
(46) صالح نے کہا کہ قوم والو آخر بھلائی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کررہے ہو تم لوگ اللہ سے استغفار کیوں نہیں کرتے کہ شاید تم پر رحم کردیا جائے
قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ‌ ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ‌ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ‏(47)
(47) ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے براشگون ہی پایا ہے انہوں نے کہا کہ تمہاری بدقسمتی اللہ کے پاس مقدر ہے اور یہ درحقیقت تمہاری آزمائش کی جارہی ہے
وَكَانَ فِى الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ‏(48)
(48) اور اس شہر میں نو افراد تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے
قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَيِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ‏(49)
(49) ان لوگوں نے کہا کہ تم سب آپس میں خدا کی قسم کھاؤ کہ صالح اور ان کے گھر والوں پر راتوں رات حملہ کردو گے اور بعد میں ان کے وارثوں سے کہہ دو گے کہ ہم ان کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہیں تھے اور ہم اپنے بیان میں بالکل سچےّ ہیں
وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ‏(50)
(50) اور پھر انہوں نے اپنی چال چلی اور ہم نے بھی اپنا انتظام کیا کہ انہیں خبر بھی نہ ہوسکی
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِيْنَ‏(51)
(51) پھر اب دیکھو کہ ان کی مکاّری کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے ان رؤساء کو ان کی قوم سمیت بالکل تباہ وبرباد کردیا
فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةً ۢ بِمَا ظَلَمُوْا‌ ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ‏(52)
(52) اب یہ ان کے گھر ہیں جو ظلم کی بناﺀ پر خالی پڑے ہوئے ہیں اور یقینا اس میں صاحبانِ علم کے لئے ایک نشانی پائی جاتی ہے
وَاَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ‏(53)
(53) اور ہم نے ان لوگوں کو نجات د ے دی جو ایمان والے تھے اور تقویٰ الٰہی اختیار کئے ہوئے تھے
وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ‏(54)
(54) اور لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم آنکھیں رکھتے ہوئے بدکاری کا ارتکاب کر رہے ہو
اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ‌ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ‏(55)
(55) کیا تم لوگ ازراہ شہوت مردوں سے تعلقات پیدا کررہے ہو اور عورتوں کو چھوڑے دے رہے ہو اور درحقیقت تم لوگ بالکل جاہل قوم ہو
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ‌ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ‏(56)
(56) تو ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے اس کے کہ لوط والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کردو کہ یہ لوگ بہت پاکباز بن رہے ہیں
فَاَنْجَيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِيْنَ‏(57)
(57) تو ہم نے لوط اور ان کے خاندان والوں کو زوجہ کے علاوہ سب کو نجات دے دی کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی
وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا‌ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ‏(58)
(58) اور ہم نے ان پر عجیب و غریب قسم کی بارش کردی کہ جن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے ان پر بارشِ عذاب بھی بہت بری ہوتی ہے
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰىؕ ءٰۤللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَؕ‏(59)
(59) آپ کہئے ساری تعریف اللہ کے لئے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنہیں اس نے منتخب کرلیا ہے آیا خدا زیادہ بہتر ہے یا جنہیں یہ شریک بنارہے ہیں