EN اردو Roman AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِىْ تُجَادِلُكَ فِىْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِىْۤ اِلَى اللّٰهِ ‌ۖ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ ۢ بَصِيْرٌ‏(1)
(1) بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کررہی تھی اور اللہ سے فریاد کررہی تھی اور اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا کہ وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے
اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ‌ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓىِئْ وَلَدْنَهُمْ‌ؕ وَاِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا‌ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ‏(2)
(2) جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی عورتیں ان کی مائیں نہیں ہیں - مائیں تو صرف وہ عورتیں ہیں جنہوں نے پیدا کیا ہے .اور یہ لوگ یقینا بہت بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور اللہ بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے
وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا‌ ؕ ذٰ لِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ‏(3)
(3) جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کریں اور پھر اپنی بات سے پلٹنا چاہیں انہیں چاہئے کہ عورت کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں کہ یہ خدا کی طرف سے تمہارے لئے نصیحت ہے اور خدا تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّاؕ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا‌ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ‌ؕ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ‌ؕ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ‏(4)
(4) پھر کسی شخص کے لئے غلام ممکن نہ ہو تو آپس میں ایک دوسرے کو مس کرنے سے پہلے دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے پھر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یہ اس لئے تاکہ تم خدا و رسول پر صحیح ایمان رکھو اور یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں اور کافروں کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ‌ وَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ‌ ؕ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ‌ ۚ‏(5)
(5) بیشک جو لوگ خدا و رسول سے دشمنی کرتے ہیں وہ ویسے ہی ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے والے ذلیل ہوئے ہیں اور ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں نازل کردی ہیں اور کافروں کے لئے رسوا کن عذاب ہے
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا‌ ؕ اَحْصٰٮهُ اللّٰهُ وَنَسُوْهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ‌‏(6)
(6) جس دن خدا سب کو زندہ کرے گا اور انہیں ان کے اعمال سے باخبر کرے گا جسے اس نے محفوظ کر رکھا ہے اور ان لوگوں نے خود بُھلادیا ہے اور اللہ ہر شے کی نگرانی کرنے والا ہے
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ‌ؕ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰ لِكَ وَلَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا‌ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏(7)
(7) کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ زمین و آسمان کی ہر شے سے باخبر ہے .کہیں بھی تین آدمیوں کے درمیان راز کی بات نہیں ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور پانچ کی راز داری ہوتی ہے تو وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور کم و بیش بھی کوئی رازداری ہوتی ہے تو وہ ان کے ساتھ ضرور رہتا ہے چاہے وہ کہیں بھی رہیں اس کے بعد روز قیامت انہیں باخبر کرے گا کہ انہوں نے کیا کیا ہے کہ بیشک وہ ہر شے کا جاننے والا ہے
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَيَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَاِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُۙ وَيَقُوْلُوْنَ فِىْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ‌ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ‌ۚ يَصْلَوْنَهَا‌ۚ فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ‏(8)
(8) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں راز کی باتوں سے منع کیا گیا لیکن وہ پھر بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور گناہ اور ظلم اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ راز کی باتیں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اس طرح مخاطب کرتے ہیں جس طرح خدا نے انہیں نہیں سکھایا ہے اور اپنے دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم غلطی پر ہیں تو خدا ہماری باتوں پر عذاب کیوں نہیں نازل کرتا - حالانکہ ان کے لئے جہنّم ہی کافی ہے جس میں انہیں جلنا ہے اور وہ بدترین انجام ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ‏(9)
(9) ایمان والو جب بھی راز کی باتیں کرو تو خبردار گناہ اور تعدی اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ نہ کرنا بلکہ نیکی اور تقویٰ کے ساتھ باتیں کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا کہ بالآخر اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ‏(10)
(10) یہ رازداری شیطان کی طرف سے صاحبانِ ایمان کو دکھ پہنچانے کے لئے ہوتی ہے حالانکہ وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے جب تک خدا اجازت نہ د ے دے اور صاحبانِ ایمان کا بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِى الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ‌ ۚ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ‏(11)
(11) ایمان والو جب تم سے مجلس میں وسعت پیدا کرنے کے لئے کہا جائے تو دوسروں کو جگہ دیدو تاکہ خدا تمہیں جنّت میں وسعت دے سکے اور جب تم سے کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جاؤ کہ خدا صاحبان ایمان اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوٰٮكُمْ صَدَقَةً  ‌ؕ ذٰ لِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاَطْهَرُ ‌ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(12)
(12) ایمان والو جب بھی رسول سے کوئی راز کی بات کرو تو پہلے صدقہ نکال دو کہ یہی تمہارے حق میں بہتری اور پاکیزگی کی بات ہے پھر اگر صدقہ ممکن نہ ہو تو خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوٰٮكُمْ صَدَقٰتٍ‌ ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ‌ ؕ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‏(13)
(13) کیا تم اس بات سے ڈر گئے ہو کہ اپنی رازدارانہ باتوں سے پہلے خیرات نکال دو اب جب کہ تم نے ایسا نہیں کیا ہے اور خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی ہے تو اب نماز قائم کرو اور زکوٰۃادا کرو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْؕ مَّا هُمْ مِّنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْۙ وَيَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ‏(14)
(14) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ہے جنہوں نے اس قوم سے دوستی کرلی ہے جس پر خدا نے عذاب نازل کیا ہے یہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے اور یہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور خود بھی اپنے جھوٹ سے باخبر ہیں
اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا‌ ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(15)
(15) ﷲ نے ان کے لئے سخت عذاب مہّیا کر رکھا ہے کہ یہ بہت برے اعمال کررہے تھے
اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ‏(16)
(16) انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنالیا ہے اور راہ خدا میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تو ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے
لَنْ تُغْنِىَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْئًا‌ ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ‌ ؕ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ‏(17)
(17) ﷲ کے مقابلہ میں ان کا مال اور ان کی اولاد کوئی کام آنے والا نہیں ہے یہ سب جہنّمی ہیں اور وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ‌ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَىْءٍ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ‏(18)
(18) جس دن خدا ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا اور یہ اس سے بھی ایسی ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تم سے کھاتے ہیں اور ان کا خیال ہوگا کہ ان کے پاس کوئی بات ہے حالانکہ یہ بالکل جھوٹے ہیں
اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰٮهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ‌ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(19)
(19) ان پر شیطان غالب آگیا ہے اور اس نے انہیں ذکر خدا سے غافل کردیا ہے آگاہ ہوجاؤ کہ یہ شیطان کا گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ بہرحال خسارہ میں رہنے والا ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ‏(20)
(20) بیشک جو لوگ خدا و رسول سے دشمنی کرتے ہیں ان کا شمار ذلیل ترین لوگوں میں ہے
كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىْ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيْزٌ‏(21)
(21) ﷲنے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آنے والے ہیں بیشک اللہ صاحبِ قوت اور صاحب عزت ہے
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ‌ ؕ وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‏(22)
(22) آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جو قوم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کررہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرنے والے ہیں چاہے وہ ان کے باپ دادا یا اولاد یا برادران یا عشیرہ اور قبیلہ والے ہی کیوں نہ ہوں - ﷲنے صاحبان ایمان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور ان کی اپنی خاص روح کے ذریعہ تائید کی ہے اور وہ انہیں ان جنّتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ا ن ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے - خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے راضی ہوں گے یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کا گروہ ہی نجات پانے والا ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(1)
(1) اللہ ہی کے لئے محو تسبیح ہے جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے اور وہی صاحب عزت اور صاحب حکمت ہے
هُوَ الَّذِىْۤ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ‌ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ يَّخْرُجُوْا‌ وَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا وَقَذَفَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِى الْمُؤْمِنِيْنَ فَاعْتَبِرُوْا يٰۤاُولِى الْاَبْصَارِ‌‏(2)
(2) وہی وہ ہے جس نے اہل کتاب کے کافروں کو پہلے ہی حشر میں ان کے وطن سے نکال باہر کیا تم تو اس کا تصور بھی نہیں کررہے تھے کہ یہ نکل سکیں گے اور ان کا بھی یہی خیال تھا کہ ان کے قلعے انہیں خدا سے بچالیں گے لیکن خدا ایسے رخ سے پیش آیا جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہیں تھا اور ان کے دلوں میں رعب پیدا کردیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور صاحبان ایمان کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے تو صاحبانِ نظر عبرت حاصل کرو
وَلَوْلَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاۤءَ لَعَذَّبَهُمْ فِى الدُّنْيَا‌ؕ وَلَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ‏(3)
(3) اور اگر خدا نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو ان پر دنیا ہی میں عذاب نازل کردیتا اور آخرت میں تو جہنّم کا عذاب طے ہی ہے
ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ‌ ۚ وَمَنْ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(4)
(4) یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول سے اختلاف کیا اور جو خدا سے اختلاف کرے اس کے حق میں خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰٓى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَلِيُخْزِىَ الْفٰسِقِيْنَ‏(5)
(5) مسلمانو تم نے جو بھی کھجور کی شاخ کاٹی ہے یا اسے اس کی جڑوں پر رہنے دیا ہے یہ سب خدا کی اجازت سے ہوا ہے اور اس لئے تاکہ خدا فاسقین کو رُسوا کرے
وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(6)
(6) اور خدا نے جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کے لئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعہ کوئی دوڑ دھوپ نہیں کی ہے.... لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِۙ كَىْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ‌ ؕ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا َنَهٰٮكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‌ۘ‏(7)
(7) تو کچھ بھی اللہ نے اہل قریہ کی طرف سے اپنے رسول کو دلوایا ہے وہ سب اللہ ,رسول اور رسول کے قرابتدار, ایتام, مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے تاکہ سارا مال صرف مالداروں کے درمیان گھوم پھر کر نہ رہ جائے اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ‌ۚ‏(8)
(8) یہ مال ان مہاجر فقراء کے لئے بھی ہے جنہیں ان کے گھروں اور اموال سے نکال باہر کردیا گیا ہے اور وہ صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلبگار ہیں اور خدا و رسول کی مدد کرنے والے ہیں کہ یہی لوگ دعوائے ایمان میں سچے ہیں
وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِىْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ؕ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‌ۚ‏(9)
(9) اور جن لوگوں نے دارالہجرت اور ایمان کو ان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں اور جو کچھ انہیں دیا گیا ہے اپنے دلوں میں اس کی طرف سے کوئی ضرورت نہیں محسوس کرتے ہیں اور اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں چاہے انہیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو.... اور جسے بھی اس کیے نفس کی حرص سے بچالیا جائے وہی لوگ نجات پانے والے ہیں
وَالَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِىْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ‏(10)
(10) اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور ان کا کہنا یہ ہے کہ خدایا ہمیں معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جنہوں نے ایمان میں ہم پر سبقت کی ہے اور ہمارے دلوں میں صاحبانِ ایمان کے لئے کسی طرح کا کینہ نہ قرار دینا کہ تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًاۙ وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ ؕ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ‏(11)
(11) کیا تم نے منافقین کا حال نہیں دیکھا ہے کہ یہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں نکال دیا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کسی کی اطاعت نہ کریں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو بھی ہم تمہاری مدد کریں گے اور خدا گواہ ہے کہ یہ سب بالکل جھوٹے ہیں
لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا يَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ‌ۚ وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ‌ۚ وَلَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ‏(12)
(12) وہ اگر نکال بھی دیئے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ہرگز ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر مدد بھی کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا
لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِىْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ‏(13)
(13) مسلمانو تم ان کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ خوف رکھتے ہو یہ اس لئے کہ یہ قوم سمجھدار نہیں ہے
لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا اِلَّا فِىْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍؕ بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيْدٌ‌ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ‌ۚ‏(14)
(14) یہ کبھی تم سے اجتماعی طور پر جنگ نہ کریں گے مگر یہ کہ محفوظ بستیوں میں ہوں یا دیواروں کے پیچھے ہوں ان کی دھاک آپس میں بہت ہے اور تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہ سب متحد ہیں ہرگز نہیں ان کے دلوں میں سخت تفرقہ ہے اور یہ اس لئے کہ اس قوم کے پاس عقل نہیں ہے
كَمَثَلِ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيْبًا‌ ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ‌ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ‌ۚ‏(15)
(15) جس طرح کہ ابھی حال میں ان سے پہلے والوں کا حشر ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے وبال کامزہ چکھ لیا ہے اور پھر ان کے لئے دردناک عذاب بھی ہے
كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ‌ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِىْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّىْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ‏(16)
(16) ان کی مثال شیطان جیسی ہے کہ اس نے انسان سے کہا کہ کفر اختیار کرلے اور جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں تو عالمین کے پروردگار سے ڈرتا ہوں
فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِى النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْهَا‌ ؕ وَذٰ لِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيْن‏(17)
(17) تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ دونوں جہنّم میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی ظالمین کی واقعی سزا ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‏(18)
(18) ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیج دیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ یقینا تمہارے اعمال سے باخبر ہے
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰٮهُمْ اَنْفُسَهُمْ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ‏(19)
(19) اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے خدا کو بُھلادیا تو خدا نے خود ان کے نفس کو بھی اِھلا دیا اور وہ سب واقعی فاسق اور بدکار ہیں
لَا يَسْتَوِىْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ‌ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ‏(20)
(20) اصحاب جنّت اور اصحاب جہنمّ ایک جیسے نہیں ہوسکتے, اصحاب جنّت وہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ‏(21)
(21) ہم اگر اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو تم دیکھتے کہ پہاڑ خوفِ خدا سے لرزاں اور ٹکڑے ٹکڑے ہوا جارہا ہے اور ہم ان مثالوں کو انسانوں کے لئے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ کچھ غور و فکر کرسکیں
هُوَ اللّٰهُ الَّذِىْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ۚ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ‌ ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ‏(22)
(22) وہ خدا وہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ حاضر و غائب سب کا جاننے والا عظیم اور دائمی رحمتوں کا مالک ہے
هُوَ اللّٰهُ الَّذِىْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ‌ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ‏(23)
(23) وہ اللہ وہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ بادشاہ, پاکیزہ صفات, بے عیب, امان دینے والا, نگرانی کرنے والا, صاحبِ عزت, زبردست اور کبریائی کا مالک ہے - وہ ان تمام باتوں سے پاک و پاکیزہ ہے جو مشرکین کیا کرتے ہیں
هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ‌ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى‌ؕ يُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(24)
(24) وہ ایسا خدا ہے جو پیدا کرنے والا, ایجاد کرنے والا اور صورتیں بنانے والا ہے اس کے لئے بہترین نام ہیں زمین و آسمان کا ہر ذرّہ اسی کے لئے محہُ تسبیح ہے اور وہ صاحبِ عزت و حکمت ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّىْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ‌ ۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ‌ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِىْ سَبِيْلِىْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِىْ ‌ۖ  تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ ‌ۖ  وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَيْتُمْ وَمَاۤ اَعْلَنْتُمْ‌ؕ وَمَنْ يَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ‏(1)
(1) ایمان والو خبردار میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو جب کہ انہوں نے اس حق کا انکار کردیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے اور وہ رسول کو اور تم کو صرف اس بات پر نکال رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار ) ﷲ( پر ایمان رکھتے ہو .... اگر تم واقعا ہماری راہ میں جہاد اور ہماری مرضی کی تلاش میں گھر سے نکلے ہو تو ان سے خفیہ دوستی کس طرح کررہے ہو جب کہ میں تمہارے ظاہر و باطن سب کو جانتا ہوں اور جو بھی تم میں سے ایسا اقدام کرے گا وہ یقینا سیدھے راستہ سے بہک گیا ہے
اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّيَبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ‏(2)
(2) یہ اگر تمہیں پاجائیں گے تو تمہارے دشمن ثابت ہوں گے اور تمہاری طرف برائی کے ارادے سے ہاتھ اور زبان سے اقدام کریں گے اور یہ چاہیں گے کہ تم بھی کافر ہوجاؤ
لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُكُمْ ۛۚ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۛۚ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ‏(3)
(3) یقینا تمہارے قرابتدار اور تمہاری اولاد روزِ قیامت کام آنے والی نہیں ہے اس دن خدا تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا اور وہ تمہارے اعمال سے خوب باخبرہے
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ‌ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَىْءٍ ‌ؕ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ‏(4)
(4) تمہارے لئے بہترین نمونہ عمل ابراہیم علیھ السّلام اور ان کے ساتھیوں میں ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں - ہم نے تمہارا انکار کردیا ہے اور ہمارے تمہارے درمیان بغض اور عداوت بالکل واضح ہے یہاں تک کہ تم خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لے آؤ علاوہ ابراہیم علیھ السّلام کے اس قول کے جو انہوں نے اپنے مربّی باپ سے کہہ دیا تھا کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا لیکن میں پروردگار کی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتا ہوں. خدایا میں نے تیرے اوپر بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور تیری ہی طرف بازگشت بھی ہے
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا‌ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(5)
(5) خدایا مجھے کفاّر کے لئے فتنہ و بلا نہ قرار دینا اور مجھے بخش دینا کہ تو ہی صاحب عزت اور صاحبِ حکمت ہے
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ‌ ؕ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيْدُ‏(6)
(6) بیشک تمہارے لئے ان لوگوں میں بہترین نمونہ عمل ہے اس شخص کے لئے جو اللہ اور روزِ آخرت کا امیدوار ہے اور جو انحراف کرے گا خدا اس سے بے نیاز اور قابل حمد و ثنا ہے
عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً ؕ وَاللّٰهُ قَدِيْرٌ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(7)
(7) قریب ہے کہ خدا تمہارے اور جن سے تم نے دشمنی کی ہے ان کے درمیان دوستی قرار دے دے کہ وہ صاحب قدرت ہے اور بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے
لَا يَنْهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَيْهِمْ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ‏(8)
(8) وہ تمہیں ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں وطن سے نہیں نکالا ہے اس بات سے نہیں روکتا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
اِنَّمَا يَنْهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوْا عَلٰٓى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ‌ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ‏(9)
(9) وہ تمہیں صرف ان لوگوں سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین میں جنگ کی ہے اور تمہیں وطن سے نکال باہر کیا ہے اور تمہارے نکالنے پر دشمنوں کی مدد کی ہے کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے گا وہ یقینا ظالم ہوگا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ‌ ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِهِنَّ‌ ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ‌ ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ‌ ۚ وَاٰ تُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰ تَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ‌ ؕ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا‌ ؕ ذٰ لِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ‌ ؕ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ‏(10)
(10) ~ ایمان والو جب تمہارے پاس ہجرت کرنے والی مومن عورتیں آئیں تو پہلے ان کا امتحان کرو کہ اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے پھر اگر تم بھی دیکھو کہ یہ مومنہ ہیں توخبردار انہیں کفاّر کی طرف واپس نہ کرنا - نہ وہ ان کے لئے حلال ہیں اور نہ یہ ان کے لئے حلال ہیں اور جو خرچہ کفاّر نے مہر کا دیا ہے وہ انہیں واپس کردو اور تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم ان کی اجرت (مہر) دینے کے بعد ان سے نکاح کرلو اور خبردار کافر عورتوں کی عصمت پکڑ کر نہ رکھو اور جو تم نے خرچ کیا ہے وہ کفار سے لے لو اور جو انہوں نے خرچ کیا ہے وہ تم سے لے لیں کہ یہی حکم خدا ہے جس کا فیصلہ خدا نے تمہارے درمیان کیا ہے اور وہ بڑا صاحب علم و حکمت ہے
وَاِنْ فَاتَكُمْ شَىْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰ تُوا الَّذِيْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا‌ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ‏(11)
(11) اور اگر تمہاری کوئی بیوی کفاّر کی طرف چلی جائے اور پھر تم ان کو سزا دو تو جن کی بیوی چلی گئی ہے ان کا خرچ مال غنیمت میں سے دے دو اور اس اللہ سے بہرحال ڈرتے رہو جس پر ایمان رکھنے والے ہو
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْئًا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِىْ مَعْرُوْفٍ‌ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(12)
(12) پیغمبر اگر ایمان لانے والی عورتیں آپ کے پاس اس امر پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ کسی کو خدا کا شریک نہیں بنائیں گی اور چوری نہیں کریں گی - زنا نہیں کریں گی - اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان ) لڑکا( لے کر نہیں آئیں گی اور کسی نیکی میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی تو آپ ان سے بیعت کا معاملہ کرلیں اور ان کے حق میں استغفار کریں کہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ‏(13)
(13) ایمان والو خبردار اس قوم سے ہرگز دوستی نہ کرنا جس پر خدا نے غضب نازل کیا ہے کہ وہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہوں گے جس طرح کفاّر قبر والوں سے مایوس ہوجاتے ہیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ‌ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(1)
(1) زمین و آسمان کا ہر ذرہ اللہ کی تسبیح میں مشغول ہے اور وہی صاحبِ عزت اور صاحب حکمت ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ‏(2)
(2) ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو
كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ‏(3)
(3) ﷲکے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو
اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ‏(4)
(4) بیشک اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں جس طرح سیسہ پلائی ہوئی دیواریں
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِىْ وَقَد تَّعْلَمُوْنَ اَنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ‏(5)
(5) اور اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی علیھ السّلام نے اپنی قوم سے کہا کہ قوم والو مجھے کیوں اذیت دے رہے ہو تمہیں تو معلوم ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول علیھ السّلام ہوں پھر جب وہ لوگ ٹیڑھے ہوگئے تو خدا نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا ہی کردیا کہ اللہ بدکار قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرٰٮةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِىْ مِنْۢ بَعْدِى اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ‌ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ‏(6)
(6) اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسٰی علیھ السّلام بن مریم علیھ السّلام نے کہا کہ اے بنیآآ اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا اور اپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہے لیکن پھر بھی جب وہ معجزاءت لے کر آئے تو لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کِھلا ہوا جادو ہے
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعٰٓى اِلَى الْاِسْلَامِ‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ‏(7)
(7) اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ الزام لگائے جب کہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہو اور اللہ کبھی ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَ فْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ‏(8)
(8) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے چاہے یہ بات کفار کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو
هُوَ الَّذِىْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ‏(9)
(9) وہی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے یہ بات مشرکین کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ‏(10)
(10) ایمان والو کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے
تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُجَاهِدُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ‌ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ‏(11)
(11) ﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور راہ خدا میں اپنے جان و مال سے جہاد کرو کہ یہی تمہارے حق میں سب سے بہتر ہے اگر تم جاننے والے ہو
يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِىْ جَنّٰتِ عَدْنٍ‌ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۙ‏(12)
(12) وہ تمہارے گناہوں کو بھی بخش دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس ہمیشہ رہنے والی جنّت میں پاکیزہ مکانات ہوں گے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے
وَاُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا‌ ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ‌ ؕ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(13)
(13) اور ایک چیز اور بھی جسے تم پسند کرتے ہو.... ﷲ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح اور آپ مومنین کو بشارت دے دیجئے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوٰارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِىْۤ اِلَى اللّٰهِ‌ؕ قَالَ الْحَوٰرِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ‌ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ‏(14)
(14) ایمان والو اللہ کے مددگار بن جاؤ جس طرح عیسٰی بن مریم علیھ السّلام نے اپنے حواریین سے کہا تھا کہ اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے تو حواریین نے کہا کہ ہم اللہ کے ناصر ہیں لیکن پھربنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر ہوگیا تو ہم نے صاحبان ایمان کی دشمن کے مقابلہ میں مدد کردی تو وہ غالب آکر رہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ‏(1)
(1) زمین و آسمان کا ہر ذرہ اس خدا کی تسبیح کررہا ہے جو بادشاہ پاکیزہ صفات, اور صاحب عزت اور صاحب حکمت ہے
هُوَ الَّذِىْ بَعَثَ فِى الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍۙ‏(2)
(2) اس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا ہے جو ان ہی میں سے تھا کہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے ,ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اگرچہ یہ لوگ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے
وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ‌ؕ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(3)
(3) اور ان میں سے ان لوگوں کی طرف بھی جو ابھی ان سے ملحق نہیں ہوئے ہیں اور وہ صاحبِ عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی
ذٰ لِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ‏(4)
(4) یہ ایک فضل خدا ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور وہ بڑے عظیم فضل کا مالک ہے
مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰٮةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا‌ ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ‏(5)
(5) ان لوگوں کی مثال جن پر توریت کا بار رکھا گیا اور وہ اسے اُٹھا نہ سکے اس گدھے کی مثال ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو یہ بدترین مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے آیات الۤہی کی تکذیب کی ہے اور خدا کسی ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
قُلْ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ‏(6)
(6) آپ کہہ دیجئے کہ یہودیو اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تمام انسانوں میں تم ہی اللہ کے دوست ہو تو اگر اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو موت کی تمناّکرو
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ‏(7)
(7) اور یہ ہر گز موت کی تمنا ّنہیں کریں گے کہ ان کے ہاتھوں نے پہلے بہت کچھ کر رکھا ہے اور اللہ ظالمین کے حالات کو خوب جانتا ہے
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِىْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِيْكُمْ‌ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(8)
(8) آپ کہہ دیجئے کہ تم جس موت سے فرار کررہے ہو وہ خود تم سے ملاقات کرنے والی ہے اس کے بعد تم اس کی بارگاہ میں پلٹائے جاؤ گے جو حاضر و غائب سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں باخبر کرے گا کہ تم دار دنیا میں کیا کررہے تھے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ‌ ؕ ذٰ لِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‏(9)
(9) ایمان والو جب تمہیں جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے تو ذکر خدا کی طرف دوڑ پڑو اور کاروبار بند کردو کہ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جاننے والے ہو
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِى الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ‏(10)
(10) پھر جب نماز تمام ہوجائے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور فضل خدا کو تلاش کرو اور خدا کو بہت یاد کرو کہ شاید اسی طرح تمہیں نجات حاصل ہوجائے
وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَاۡ ۟انْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا وَتَرَكُوْكَ قَآئِمًا‌ ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ‌ ؕ وَاللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ‏(11)
(11) اور اے پیغمبر یہ لوگ جب تجارت یا لہو و لعب کو دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو تنہا کھڑا چھوڑ دیتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ خدا کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کھیل اور تجارت سے بہرحال بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ‌ۘ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ ؕ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ‌ ۚ‏(1)
(1) پیغمبر یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں
اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(2)
(2) انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنالیا ہے اور لوگوں کو راہ خدا سے روک رہے ہیں یہ ان کے بدترین اعمال ہیں جو یہ انجام دے رہے ہیں
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ‏(3)
(3) یہ اس لئے ہے کہ یہ پہلے ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی تو اب کچھ نہیں سمجھ رہے ہیں
وَاِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ‌ ؕ وَاِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ‌ ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ   ‌ؕ يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ‌ ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ‌ ؕ قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ‌ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ‏(4)
(4) اور جب آپ انہیں دیکھیں گے تو ان کے جسم بہت اچھے لگیں گے اور بات کریں گے تو اس طرح کہ آپ سننے لگیں لیکن حقیقت میں یہ ایسے ہیں جیسے دیوار سے لگائی ہوئی سوکھی لکڑیاں کہ یہ ہر چیخ کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں اور یہ واقعا دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہئے خدا انہیں غارت کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں
وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَرَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ وَهُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ‏(5)
(5) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے حق میں استغفار کریں گے تو سر پھرا لیتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بنا پر منہ بھی موڑ لیتے ہیں
سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْؕ لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ‏(6)
(6) ان کے لئے سب برابر ہے چاہے آپ استغفار کریں یا نہ کریں خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے کہ یقینا اللہ بدکار قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا‌ؕ وَلِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ‏(7)
(7) یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ لوگ منتشر ہوجائیں حالانکہ آسمان و زمین کے سارے خزانے اللہ ہی کے لئے ہیں اور یہ منافقین اس بات کو نہیں سمجھ رہے ہیں
يَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ‌ؕ وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(8)
(8) یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم صاحبان عزت ان ذلیل افراد کو نکال باہر کریں گے حالانکہ ساری عزت اللہ , رسول اور صاحبان ایمان کے لئے ہے اور یہ منافقین یہ جانتے بھی نہیں ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ‌ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(9)
(9) ایمان والو خبردار تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد خدا سے غافل نہ کردے کہ جو ایسا کرے گا وہ یقینا خسارہ والوں میں شمار ہوگا
وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِىَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنِىْۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ‏(10)
(10) اور جو رزق ہم نے عطا کیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ یہ کہے کہ خدایا ہمیں تھوڑے دنوں کی مہلت کیوں نہیں دے دیتا ہے کہ ہم خیرات نکالیں اور نیک بندوں میں شامل ہوجائیں
وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا‌ؕ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‏(11)
(11) اور ہرگز خدا کسی کی اجل کے آجانے کے بعد اس میں تاخیر نہیں کرتا ہے اور وہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ‌ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ‌ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(1)
(1) زمین و آسمان کا ہر ذرہ خدا کی تسبیح کررہا ہے کہ اسی کے لئے ملک ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
هُوَ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ‏(2)
(2) اسی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم میں سے کچھ مومن ہیں اور کچھ کافر اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ‌ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْۚ‌ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ‏(3)
(3) اسی نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تمہاری صورت کو بھی انتہائی حسن بنایا ہے اور پھر اسی کی طرف سب کی بازگشت بھی ہے
يَعْلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‏(4)
(4) وہ زمین و آسمان کی ہر شے سے باخبر ہے اور ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جن کا تم اظہار کرتے ہو یا جنہیں تم چھپاتے ہو اور وہ سینوں کے رازوں سے بھی باخبر ہے
اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ‏(5)
(5) کیا تمہارے پاس پہلے کفر اختیار کرنے والوں کی خبر نہیں آئی ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے وبال کا مزہ چکھ لیا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
ذٰ لِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا‌ وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ‏(6)
(6) یہ اس لئے کہ ان کے پاس رسول کُھلی ہوئی نشانیاں لے کر آتے تھے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ کیا بشر ہماری ہدایت کرے گا اور یہ کہہ کر انکار کردیا اور منہ پھیر لیا تو خدا بھی ان سے بے نیاز ہے اور وہ قابلِ تعریف غنی ہے
زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا‌ ؕ قُلْ بَلٰى وَرَبِّىْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ‌ؕ وَذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ‏(7)
(7) ان کفاّر کا خیال یہ ہے کہ انہیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا تو کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار کی قسم تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور پھر بتایا جائے گا کہ تم نے کیا کیا, کیا ہے اور یہ کام خدا کے لئے بہت آسان ہے
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالنُّوْرِ الَّذِىْۤ اَنْزَلْنَا‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ‏(8)
(8) لہذا خدا اور رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ‌ ذٰ لِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ‌ ؕ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُّكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ ذٰ لِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‏(9)
(9) وہ قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اور وہی ہارجیت کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان رکھے گا اور نیک اعمال کرے گا خدا اس کی برائیوں کو دور کردے گا اور اسے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان ہی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے
وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ‏(10)
(10) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ اصحاب جہنّم ہیں اور وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہ ان کا بدترین انجام ہے
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ‌ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏(11)
(11) کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی ہے مگر خدا کی اجازت سے اور جو صاحبِ ایمان ہوتا ہے خدا اس کے دل کی ہدایت کردیتا ہے اور خدا ہر شے کا خوب جاننے والا ہے
وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ‌ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ‏(12)
(12) اور تم لوگ خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر انحراف کرو گے تو رسول کی ذمہ داری واضح طور پر پیغام پہچادینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ‏(13)
(13) ﷲ ہی وہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور تمام صاحبانِ ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے
‌يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ‌ۚ وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(14)
(14) ایمان والو - تمہا---ری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں لہذا ان سے ہوشیار رہو اور اگر انہیں معاف کردو اور ان سے درگزر کرو اور انہیں بخش دو تو اللہ بھی بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ‌ؕ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ‏(15)
(15) تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے صرف امتحان کا ذریعہ ہیں اور اجر عظیم صرف اللہ کے پاس ہے
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ‌ؕ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‏(16)
(16) لہذا جہاں تک ممکن ہو اللہ سے ڈرو اور اس کی بات سنو اور اطاعت کرو اور راہ خدا میں خرچ کرو کہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے اور جو اپنے ہی نفس کے بخل سے محفوظ ہوجائے وہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں
اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ‌ؕ وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌۙ‏(17)
(17) اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ اسے دوگنا بنادے گا اور تمہیں معاف بھی کردے گا کہ وہ بڑا قدر داں اور برداشت کرنے والا ہے
عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(18)
(18) وہ حاضر و غائب کا جاننے والا اور صاحب عزت و حکمت ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ ‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ‌ ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ‌ ؕ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ‌ ؕ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ‌ ؕ لَا تَدْرِىْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰ لِكَ اَمْرًا‏(1)
(1) اے پیغمبر ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں عدت کے حساب سے طلاق دو اور پھر عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ تمہارا پروردگار ہے اور خبردار انہیں ان کے گھروں سے مت نکالنا اور نہ وہ خود نکلیں جب تک کوئی کِھلا ہوا گناہ نہ کریں - یہ خدائی حدود ہیں اور جو خدائی حدود سے تجاوز کرے گا اس نے اپنے ہی نفس پر ظلم کیا ہے تمہیں نہیں معلوم کہ شاید خدا اس کے بعد کوئی نئی بات ایجاد کردے
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْهِدُوْا ذَوَىْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ‌ ۙ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ۙ‏(2)
(2) پھر جب وہ اپنی مدت کو پورا کرلیں تو انہیں نیکی کے ساتھ روک لو یا نیکی ہی کے ساتھ رخصت کردو اور طلاق کے لئے اپنے میں سے دو عادل افراد کو گواہ بناؤ اور گواہی کو صرف خدا کے لئے قائم کرو نصیحت ان لوگوں کو کی جارہی ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے
وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ‌ ؕ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ‌ ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْرًا‏(3)
(3) اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال بھی نہیں ہوتا ہے اور جو خدا پر بھروسہ کرے گا خدا اس کے لئے کافی ہے بیشک خدا اپنے حکم کا پہنچانے والا ہے اس نے ہر شے کے لئے ایک مقدار معین کردی ہے
وَالّٰٓىٴِْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ وَّالّٰٓىٴِْ لَمْ يَحِضْنَ‌ ؕ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ‌ؕ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا‏(4)
(4) اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر ان کے یائسہ ہونے میں شک ہو تو ان کا عدہ تین مہینے ہے اور اسی طرح وہ عورتیں جن کے یہاں حیض نہیں آتا ہے اور حاملہ عورتوں کا عدہ وضع حمل تک ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کے امر میں آسانی پیدا کردیتا ہے
ذٰ لِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَيْكُمْ‌ ؕ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا‏(5)
(5) یہ حکم خدا ہے جسے تمہاری طرف اس نے نازل کیا ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کی برائیوں کو دور کردیتا ہے اور اس کے اجر میں اضافہ کردیتا ہے
اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ‌ ؕ وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ‌‌ ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰ تُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ‌ ۚ وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ‌ۚ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰى ؕ‏(6)
(6) اور ان مطلقات کو سکونت دو جیسی طاقت تم رکھتے ہو اور انہیں اذیت مت دو کہ اس طرح ان پر تنگی کرو اور اگر حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک انفاق کرو جب تک وضع حمل نہ ہوجائے پھر اگر وہ تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو اور اسے آپس میں نیکی کے ساتھ طے کرو اور اگر آپس میں کشاکش ہوجائے تو دوسری عورت کو دودھ پلانے کا موقع دو
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ‌ؕ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰٮهُ اللّٰهُ‌ؕ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰٮهَا‌ؕ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا‏(7)
(7) صاحبِ وسعت کو چاہئے کہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کے رزق میں تنگی ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے جو خدا نے اسے دیا ہے کہ خدا کسی نفس کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے جتنا اسے عطا کیا گیا ہے عنقریب خدا تنگی کے بعد وسعت عطا کردے گا
وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِيْدًاۙ وَّعَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا‏(8)
(8) اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے حکم خدا و رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے ان کا شدید محاسبہ کرلیا اور انہیں بدترین عذاب میں متبلا کردیا
فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا‏(9)
(9) پھر انہوں نے اپنے کام کے وبال کا مزہ چکھ لیا اور آخری انجام خسارہ ہی قرار پایا
اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا‌ ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِى الْاَ لْبَابِ ۖۚ ۛ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۛؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا ۙ‏(10)
(10) ﷲ نے ان کے لئے شدید قسم کا عذاب مہیّا کر رکھا ہے لہذا ایمان والو اور عقل والو اللہ سے ڈرو کہ اس نے تمہاری طرف اپنے ذکر کو نازل کیا ہے
رَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ‌ؕ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا‌ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا‏(11)
(11) وہ رسول جو اللہ کی واضح آیات کی تلاوت کرتا ہے کہ ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے اور جو خدا پر ایمان رکھے گا اور نیک عمل کرے گا خدا اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور اللہ نے انہیں یہ بہترین رزق عطا کیا ہے
اَللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ؕ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا‏(12)
(12) ﷲہی وہ ہے جس نے ساتوں آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور زمینوں میں بھی ویسی ہی زمینیں بنائی ہیں اس کے احکام ان کے درمیان نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تمہیں یہ معلوم رہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اور اس کا علم تمام اشیائ کو محیط ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ‌ۚ تَبْتَغِىْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(1)
(1) پیغمبر آپ اس شے کو کیوں ترک کررہے ہیں جس کو خدا نے آپ کے لئے حلال کیا ہے کیا آپ ازواج کی مرضی کے خواہشمند ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ‌ؕ وَاللّٰهُ مَوْلٰٮكُمْ‌ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ‏(2)
(2) خدا نے فرض قرار دیا ہے کہ اپنی قسم کو کفارہ دے کر ختم کردیجئے اور اللہ آپ کا مولا ہے اور وہ ہر چیز کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے
وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا‌ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا‌ؕ قَالَ نَبَّاَنِىَ الْعَلِيْمُ الْخَبِیْرُ‏(3)
(3) اور جب نبی نے اپنی بعض ازواج سے راز کی بات بتائی اور اس نے دوسری کو باخبر کردیا اور خدا نے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے بعض باتوں کو اسے بتایا اور بعض سے اعراض کیا پھر جب اسے باخبر کیا تو اس نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا ہے تو آپ نے کہا کہ خدائے علیم و خبیرنے
اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا‌ۚ وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰٮهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ‌ۚ وَالْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ‏(4)
(4) اب تم دونوں توبہ کرو کہ تمہارے دلوں میں کجی پیدا ہوگئی ہے ورنہ اگر اس کے خلاف اتفاق کرو گی تو یاد رکھو کہ اللہ اس کا سرپرست ہے اور جبریل اور نیک مومنین اور ملائکہ سب اس کے مددگار ہیں
عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبْكَارًا‏(5)
(5) وہ اگر تمہیں طلاق بھی دے دے گا تو خدا تمہارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں عطا کردے گا مسلمہ, مومنہ, فرمانبردار, توبہ کرنے والی, عبادت گزار, روزہ رکھنے والی, کنواری اور غیر کنواری سب
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ‏(6)
(6) ایمان والو اپنے نفس اور اپنے اہل کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر وہ ملائکہ معین ہوں گے جو سخت مزاج اور تندوتیز ہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اسی پر عمل کرتے ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ‌ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(7)
(7) اور اے کفر اختیار کرنے والو آج کوئی عذر پیش نہ کرو کہ آج تمہیں تمہارے اعمال کی سزا دی جائے گی
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ يَوْمَ لَا يُخْزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ‌ ۚ نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَ تْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا‌ ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(8)
(8) ایمان والو خلوص دل کے ساتھ توبہ کرو عنقریب تمہارا پروردگار تمہاری برائیوں کو مٹا دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اس دن خدا اپنے نبی اور صاحبانِ ایمان کو رسوا نہیں ہونے دے گا ان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہوگا اور وہ کہیں گے کہ خدایا ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کردے اور ہمیں بخش دے کہ تو یقینا ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ‌ؕ وَمَاْوٰٮهُمْ جَهَنَّمُ‌ؕ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ‏(9)
(9) پیغمبر آپ کفر اور منافقین سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں اور ان کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہی بدترین انجام ہے
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ‌ ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ‏(10)
(10) خدا نے کفر اختیار کرنے والوں کے لئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال بیان کی ہے کہ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں لیکن ان سے خیانت کی تو اس زوجیت نے خدا کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی تمام جہنمّ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ
وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ‌ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِىْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِى الْجَنَّةِ وَنَجِّنِىْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِىْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَۙ‏(11)
(11) اور خدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے جنّت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے کاروبار سے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا کردے
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِىْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ‏(12)
(12) اور مریم بنت عمران علیھ السّلام کی مثال جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کی اور وہ ہمارے فرمانبردار بندوں میں سے تھی