اَيُّهَا الْاَسْوَدُ الْوَثَّابُ
اے جھپٹنے والے سیاہ کیڑے
اَلَّذِىْ لَايُبَالِىْ غَلَقًا وَلَابَابًا
کہ جو نہ تالے سے اور نہ دروازے سے ڈرتا ہے
عَزَمْتُ عَلَيْكَ بِاُمِّ الْكِتَابِ
میں تجھے ام الکتاب کی قسم دیتا ہوں کہ
اَنْ لَاتُؤْذِيَنِىْ وَ اَصْحَابِىْ
نہ مجھے اذیّت دے اور نہ میرے اصحاب کو
اِلٰى اَنْ يَذْهَبَ اللَّيْلُ
اس وقت تک کہ رات چلی جائے
وَ يَجْيِئَ الصُّبْحُ بِمَا جَاۤءَ
اور صبح آجائے کہ جس کے ساتھ صبح آتی ہے۔
اَعُوْذُ بِرَبِّ دَانِيَالَ وَ الْجُبِّ
پناہ لیتا ہوں دانیال کے رب اورکنویں کے رب کی
مِنْ كُلِّ اَسَدٍ مُسْتَاْصِدٍ
ہر چیرنے پھاڑنے والے شیر سے ۔
عَزَمْتُ عَلَيْكَ بِعَزِيْمَةِ اللّٰهِ
میں نے تجھے باندھ دیا خدا کے ارادے سے
وَعَزِيْمَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ
محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ارادے سے
وَ عَزِيْمَةِ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ
اور سلیمانؑ ابن داؤدؑ کے ارادے سے
وَ عَزِيْمَةِ اَمِيْرِالْمُؤْمِنِيْنَ عَلِىِّ بْنِ اَبِىْ طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ
مومنوں کے امیر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ارادے سے
وَالْاَئِمَّةِ الطَّاهِرِيْنَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ مِنْ بَعْدِهِ
اور ان کے بعد ہونے والے ائمہ طاہرینؑ کے ارادے کے ساتھ ۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ۔
اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر جو خدائے بلند و بزرگ کی ہے ۔