ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے مشلول
(اس دعا کو دعاء الشاب الماخوذ بذنبہ بھی کہا جاتا ہے یعنی اس نوجوان کی دعا جو اپنے گناہوں میں گرفتار ہو گیا تھا۔ یہ دعا کتب کفعمی اور نہج الدعوات سے نقل کی گئی ہے جس کو امیر المومنین ؑ نے اس جوان کو تعلیم دیا تھا جو اپنے گناہ اور باپ کےحق میں زیادتی کرنے کی بنا پر مشلول ہو گیا تھا۔ جب اس نے اس دعاکو پڑھا تو خواب میں رسول اکرم ؐ کو دیکھا کہ آپ نے اس کے بدن پر ہاتھ پھیر دیا اور فرمایا کہ اس دعا کو یاد رکھنا کہ اس میں اسمِ اعظم ہے۔ تیرا انجام بخیر ہو گا۔ اب جو بیدار ہو اتو اپنے کو بالکل صحیح و تندرست پایا یہ دعا یہ ہے۔ )
خدایا میں تجھ سے سوال کر رہا ہوں تیرے نام سے جو رحمان و رحیم ہے اے صاحب جلال و اکرامات حی و قیوم۔ اے وہ زندہ جس کے علاوہ کو ئی خدا نہیں ہے۔ اے وہ خدا جس کی حقیقت، کیفیت، منزل اور عظمت کو اس کے علاوہ کو ئی نہیں جانتا ہے۔ اے صاحب ملک و ملکوت۔ اے صاحب عزت و جبروت، اے بادشاہ، اے پاک و پاکیزہ، اے بے عیب، اے امان دینے والے، اے نگرانی کرنے والے، اے عزیز اے جبار، اے متکبر، اے خالق، اے موجد، اے مصور، اے مفید، اے مدبر، اے شدید، اے ایجاد کرنے والے، اے دوبارہ پلٹانے والے، اے ہلاک کرنے والے، اے محبت کرنے والے، اے محمود، اے معبود، اے بعید، اے قریب، اے مجیب، اے نگراں، اے حساب کرنے والے، اے موجد، اے بلند مرتبہ، اے محفوظ، اے سننے والے، اے جاننے والے، اے برداشت کرنے والے، اے کریم، اے حکیم، اے قدیم، اے علی، اے عظیم، اے مہربان، اے محسن، اے بدلہ لینے والے، اے مددگار، اے جلیل، اے جمیل، اے وکیل، اے کفیل، اے سہارا دینے والے، اے عطا کرنے والے، اے بزرگ، اے راہنما، اے ہادی، اے ابتدا کرنے والے، اے اول، اے آخر، اے ظاہر، اے باطن، اے قائم، اے دائم، اے عالم، اے حاکم، اے قاضی، اے عادل، اے جدا کرنے والے، اے ملانے والے، اے طاہر، اے پاک کرنے والے، اے قادر، اے صاحب اقتدار، اے کبیر، اے کبریائی والے، اے ایک، اے یکتا، اے بے نیاز، اے وہ جس کا کوئی باپ نہیں ہے اور جس کا کوئی بیٹا نہیں ہے اور جس کا کوئی کفو و ہمسفر نہیں ہے جس کی کوئی زوجہ نہیں ہے اور اس کا کوئی وزیر نہیں ہے۔ اس نے کوئی مشیر نہیں بنایا ہے۔ نہ کسی مددگار کا محتاج ہے نہ اس کے ساتھ کوئی خدا ہے۔ تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ تو ظالمین کے اقوال سے بلند و بالا ہے۔ اے علی، اے بلند، اے بزرگ، اے کشادگی دینے والے اے آرام دینے والے، اے راحت دینے والے، اے سکون دینے والے، اے مددگار، اے بدلہ لینے والے، اے گرفت میں رکھنے والے، اے ہلاک کرنے والے، اے انتقام لینے والے، اے قبروں سے اٹھانے والے، اے وارث، اے طالب، اے غالب، اے وہ جس سے کوئی بھاگ کےنہیں جا سکتا، اے توبہ قبول کرنے والے، اے مڑ مڑ کر دیکھنے والے، عطا کرنے والے، اسباب فراہم کرنے والے، رحمت کے دروازے کھولنے والے، جہاں بلایا جائے وہیں قبول کرنے والے، اے پاکیزہ، اے شکور، اے معاف کرنے والے، اے غفور، اے نوروں کے نور، اے امور کے مدبر، اے لطیف، اے خبیر، اے پناہ دینے والے، اے روشن کرنے والے، اے بصیر، اے ظہیر، اے کبیر، اے اکیلے، اے تنہا، اے ابدی، اے سند، اے بے نیاز، اے کافی، اے شافی، اے وافی، اے عافیت دینے والے، اے محسن، اے نیک عمل کرنے والے، اے نعمت دینے والے، اے فضل و کرم کرنے والے، اے تنہا اوراکیلے، اے وہ جو بلندیوں سے سب پر غالب ہے ملکیت سے سب پر قدرت حاصل کرتا ہے۔ ہر ایک کی گہرائی سے باخبر ہے۔ اس کی عبادت کی گئی تو شکریہ ادا کیا۔ معصیت کی گئی تو معاف کر دیا۔ فکریں اس پر حاوی نہیں ہو سکتیں۔ نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں۔ نشانات اس پر مخفی نہیں رہ سکتے۔ اے انسانوں کو روزی دینے والے۔ اے تقدیر معین کرنے والے۔ اے بلند مکان۔ اے شدید الارکان، اے زمانے کے بدلنے والے، قربانیوں کے قبول کرنے والے۔ صاحب من و احسان، صاحب عزت و سلطان، رحیم و رحمان، جس کی ہر روزایک نئی شان ہے۔جس کی ایک نئی شان دوسری شان سے مشغول نہیں بنا سکتی اے عظیم الشان۔ اے وہ جو ہر مکان میں ہے۔ اے آوازوں کو سننے والے۔ اے دعاؤں کو قبول کرنے والے، اے حاجتوں کے عطا کرنے والے، اے مطالبات کو پورا کرنے والے، برکتوں کے نازل کرنے والے، اے آنسوؤں پر رحم کھانے والے۔ اے لغزشوں سے بچانے والے۔ اے رنج کو دور کرنے والے۔ اے نیکیوں کے مالک۔ اے درجات کے بلند کرنے والے۔ اے سوالات عطا کرنے والے۔ اے مردوں کو زندہ کرنے والے، اے متفرقات کو جمع کرنے والے۔ اے نیتوں سے باخبر۔ اے جانے والے کو پلٹانے والے۔ اے وہ جس پر آوازیں مشتبہ نہیں ہوتیں۔ جسے سوالات خستہ حال نہیں کرتے۔ جس کو ظلمتیں ڈھانپ نہیں سکتیں۔ اے آسمان و زمین کے نور۔ اے مکمل نعمت والے۔ اے بلاؤں کو دفع کرنے والے۔ اے سانسوں کے ایجاد کرنے والے۔ اے امتوں کے جمع کرنے والے۔ اے بیماریوں کو شفا دینے والے۔ اے خالق نور و ظلمت۔ اے صاحب جود و کرم۔ اے وہ جس کے عرش عظمت کو کسی قدم نے روندا نہیں ہے۔ اے بہترین جودو کرم کرنے والے۔ اے سب کے سننے والے۔ اے ہر ایک کے دیکھنے والے۔ اے ہر طالب پناہ کو پناہ دینے والے۔ ہر خوفزدہ کے امان، ہر طلب پناہ کے سہارے، مومنین کے ولی، فریادیوں کے فریاد رس، طالبین کے مقصود، اے ہر مسافر کے ساتھی۔ ہر اکیلے کے مونس۔ ہر ہنکائے ہوئے کی پناہ گاہ۔ ہر بھاگے ہوئے کا ملجاء و ماوا۔ ہر بہکے ہوئے اور گمشدہ کے محافظ۔ اےضعیف بوڑھے پر رحم کرنے والے۔ اے کمسن بچے کو روزی دینے والے۔ اے ٹوٹی ہڈیوں کے جوڑنے والے۔ اے اسیروں کے رہا کرنے والے، اے فقیر کو غنی بنانے والے۔ اے طالب پناہ کو پناہ دینے والے۔ اے صاحب تدبیر و تقدیر۔ اے وہ جس کے لئے ہر دشوار آسان ہے۔ اے وہ جو کسی تصویر کا محتاج نہیں ہے۔ اے وہ جو ہر شے پر قادر ہے۔ اے وہ جو ہر شے سے باخبر ہے۔ اے وہ جو ہر شے کو دیکھ رہا ہے۔ اے ہواؤں کے چلانے والے، صبح کے ایجاد کرنے والے، ارواح کو سامنے لانے والے صاحب جودو کرم جس کے ہاتھ میں ہر مفتاح اور ہر کنجی ہے۔ اے ہر آواز کے سننے والے۔ ہر آگے جانے والے کے سابق۔ ہر نفس کو موت کے بعد زندہ کرنے والے۔ اے وہ جو شدت میں میرا سہارا۔ غربت میں میرا محافظ۔ وحدت میں میرا مونس۔ نعمتوں میں میرا مالک ہے جواس وقت پناہ دیتا ہے جب سب راستے تنگ ہوجاتے ہیں اور اقرباء چھوڑ دیتے ہیں۔ ساتھی الگ ہو جاتے ہیں۔ اے بے سہاروں کے سہارے۔ اے بے سندوں کی سند۔ اے بے ذخیرہ لوگوں کے ذخیرے۔ اے محافظ لوگوں کے محافظ۔ اے پناہ لوگوں کے پناہ گاہ۔ اے بے خزانہ لوگوں کے خزانے۔ اے بے رکن کے رکن۔ اے بے آسرا فریادیوں کے فریاد رس۔ اے اس کے ہمسایہ جس کا کوئی ہمسایہ نہیں۔ اے وہ ہمسایہ جو ہمیشہ ساتھ رہے۔ اے وہ سہارا جو مستحکم ہے۔ اے میرے یقینی پروردگار۔ اے خانہ کعبہ کے مالک۔ اے شفیق، اے رفیق مجھے تنگیوں کے حلقے سے نجات دیدے اور مجھ سے ہر ہم و غم اور تنگدستی کو دور کر دے۔ وہ بوجھ جس کی طاقت نہ ہو اس کے شر سے بچا لے اور جس کی طاقت ہو اس پر امداد فرما۔ اے یوسفؑ کو یعقوبؑ تک پلٹانے والے۔ اے ایوبؑ کی مصیبت کو دور کرنے والے، اے داؤدؑ کی لغزش کو معاف کرنے والے۔ اے عیسیٰؑ بن مریمؑ کو بلند کرکے یہودیوں کے شر سے بچانے والے اے تاریکیوں میں یونسؑ کی آواز سننے والے۔ اے موسیٰؑ کو کمالات کے ذریعے انتخاب کرنے والے اے وہ جس نے آدمؑ کی لغزش کو معاف کیا اور ادریسؑ کو اپنی رحمت سے بلند جگہ عنایت فرمائی۔ اے وہ جس نے نوحؑ کو ڈوبنے سے بچایا اور عاد و ثمود کو ہلاک کر دیا اور باقی نہ رہنے دیا اور اس سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی ہلاک کر دیا کہ یہ سب ظالم اور سرکش تھے اور اہل افک کو بھی تباہ کر دیا۔ اے وہ جس نےقوم لوطؑ کو برباد کر دیا قوم شعیبؑ پر عذاب نازل کر دیا۔ اے وہ جس نے ابراہیمؑ کو خلیل موسیٰؑ کو کلیم اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ و آلہ و علیہم اجمعین کو حبیب بنایا۔ اے لقمان کو حکمت دینے والے اور سلیمان کو ملک دینے والے جو ان کے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو۔ اے وہ جس نے ذوالقرنین کی مدد کی ظالم بادشاہوں کے مقابلہ میں اور جس نے خضرؑ کو حیات دی۔ یوشعؑ بن نون کے لئے غروب کے بعد آفتاب پلٹا دیا اور موسیٰؑ کے دل کو مطمئن کر دیا۔ مریم ؑبنت عمران کی عفت کی حفاظت کی یحیٰؑ بن زکریاؑ کو گناہ سے بچا لیا۔ موسیٰؑ کے غضب کو ٹھنڈا کر دیا۔ زکریاؑ کو یحیٰؑ کی بشارت دی۔ اسماعیلؑ کو ذبح عظیم کے ذریعہ ذبح سے بچا لیا۔ اے وہ جس نے ہابیل کی قربانی کو قبول کر لیا اور قابیل کو ملعون قرار دے دیا۔ اے پیغمبر اسلام کے لئے احزاب کو شکست دینے والے محمدؐ و آل محمد ؐ پر اپنی رحمت نازل فرما اور تمام مرسلین پر اور تمام ملائکہ مقربین پر اور تمام اہل اطاعت پر میں تجھ سے ان تمام چیزوں کا سوال کر رہا ہوں جن کا سوال تیرے کسی پسندیدہ بندہ نے کیا ہے اور تو نے اس کی قبولیت کا ارادہ کر لیا۔ اے اللہ، اے اللہ، اے اللہ، اے رحمٰن، اے رحمٰن، اے رحمٰن، اے رحیم، اے رحیم، اے رحیم، اے صاحب جلال و اکرام، اے صاحب جلا ل و اکرام، اے صاحب جلال و اکرام۔ اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ۔ میں تجھ سے ہر اس نام کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنے لئے اختیار کیا ہے یا اپنی کتاب میں اتارا ہے یا علمِ غیب میں اپنے پاس محفوظ رکھا ہے اور تیرے عرش کے مقامات عزت کو واسطہ اور تیری کتاب میں منتہائے رحمت کا واسطہ اور تیرے ان کلمات کا واسطہ کہ اگر تمام درخت قلم ہو جائیں اور سمندروں کی امداد میں سات سمندر آجائیں تو بھی وہ کلمات ختم ہونے والے نہیں ہیں اس لئے خدا عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔ میں تجھ سے ان اسمائے حسنیٰ کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جن کی تونے اپنی کتاب میں تعریف کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس کے لئے اسمائے حسنیٰ ہیں۔ لہٰذا انھیں کے ذریعہ اس سے دعائیں کرو اور تو نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا اور فرمایا ہے کہ پیغمبر ؐ اگر میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں بہت قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والوں کی دعا قبول کر لیتا ہوں۔ اور تونے فرمایا ہے اے میرے بندوں جنھوں نے اپنے نفس پر اسراف کیا ہے خبردار رحمت خدا سے مایوس نہ ہو جانا کہ اللہ تمام گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ وہی غفور ہے وہی رحیم ہے۔ اور خدا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ پروردگار میں تجھ سے دعا کرتا ہوں۔ میرے مولا میں امیدوار ہوں اور میں قبولیت کی طمع رکھتا ہوں جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے۔ اب میں دعا کر رہا ہوں جس طرح کہ تونے مجھے حکم دیا ہے لہٰذا میرےسا تھ وہ برتاؤ کرنا جس کا تو اہل ہے۔ اے کریم ساری حمد اللہ رب العالمین کے لئے ہے اور خدا کی صلوات محمد ؐو آل محمد ؐکے لئے ہے۔
(اپنی حاجتوں کا ذکر کرے کہ انشاء اللہ پوری ہو گی۔ اور مہج الدعوات کی روایت ہے کہ جب بھی انسان اس دعا کو پڑھے تو اسے باطہارت ہونا چاہئیے تا کہ پاکیزگی کے زیر ِ اثر اس کی دعا منزلِ قبولیت تک پہنچ جائے )
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کر رہا ہوں
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تیرے نام سے جو رحمان و رحیم ہے
یَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحب جلال و اکرامات
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ
اے حیّ و قیّوم
یَا لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
اے وہ زندہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
یَا هُوَ یَا مَنْ لَا یَعْلَمُ مَا هُوَ
اے وہ خدا جس کی حقیقت،
وَ لَا كَیْفَ هُوَ
کیفیت،
وَ لَا اَیْنَ هُوَ
منزل
وَ لَا حَیْثُ هُوَ اِلَّا هُوَ
اور عظمت کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے۔
یَا ذَا الْمُلْكِ وَ الْمَلَكُوْتِ
اے صاحب ملک و ملکوت۔
یَا ذَا الْعِزَّۃِ وَ الْجَبَرُوْتِ
اے صاحب عزت و جبروت،
یَا مَلِكُ یَا قُدُّوْسُ یَا سَلَامُ
اے بادشاہ، اے پاک و پاکیزہ، اے سلامتی والے
یَا مُؤْمِنُ یَا مُهَیْمِنُ
اے امان دینے والے، اے نگرانی کرنے والے،
یَا عَزِیْزُ یَا جَبَّارُ یَا مُتَكَبِّرُ
اے عزیز اے جبار، اے متکبر،
یَا خَالِقُ یَا بَارِئُ یَا مُصَوِّرُ
اے خالق، اے موجد، اے مصوّر،
یَا مُفِیْدُ یَا مُدَبِّرُ
اے مفید، اے مدبّر،
یَا شَدِیْدُ یَا مُبْدِئُ
اے شدید، اے ایجاد کرنے والے،
یَا مُعِیْدُ یَا مُبِیْدُ
اے دوبارہ پلٹانے والے، اے ہلاک کرنے والے،
یَا وَدُوْدُ یَا مَحْمُوْدُ یَا مَعْبُوْدُ
اے محبت کرنے والے، اے محمود، اے معبود،
یَا بَعِیْدُ یَا قَرِیْبُ
اے بعید، اے قریب،
یَا مُجِیْبُ یَا رَقِیْبُ یَا حَسِیْبُ
اے مجیب، اے نگراں، اے حساب کرنے والے،
یَا بَدِیْعُ یَا رَفِیْعُ
اے موجد، اے بلند مرتبہ،
یَا مَنِیْعُ یَا سَمِیْعُ
اے محفوظ، اے سننے والے،
یَا عَلِیْمُ یَا حَلِیْمُ یَا كَرِیْمُ
اے جاننے والے، اے برداشت کرنے والے، اے کریم،
یَا حَكِیْمُ یَا قَدِیْمُ
اے حکیم، اے قدیم،
یَا عَلِیُّ یَا عَظِیْمُ
اے علی، اے عظیم،
یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ
اے مہربان، اے محسن،
یَا دَیَّانُ یَا مُسْتَعَانُ
اے بدلہ لینے والے، اے مددگار،
یَا جَلِیْلُ یَا جَمِیْلُ
اے جلیل، اے جمیل،
یَا وَكِیْلُ یَا كَفِیْلُ
اے وکیل، اے کفیل،
یا مُقِیْلُ یَا مُنِیْلُ
اے سہارا دینے والے، اے عطا کرنے والے،
یَا نَبِیْلُ یَا دَلِیْلُ
اے بزرگ، اے راہنما،
یَا هَادِیْ یَا بَادِیْ
اے ہادی، اے ابتدا کرنے والے،
یَا اَوَّلُ یَا اۤخِرُ
اے اوّل، اے آخر،
یَا ظَاهِرُ یَا بَاطِنُ
اے ظاہر، اے باطن،
یَا قَاۤئِمُ یَا دَاۤئِمُ
اے قائم، اے دائم،
یَا عَالِمُ یَا حَاكِمُ
اے عالم، اے حاکم،
یَا قَاضِیْ یَا عَادِلُ
اے قاضی، اے عادل،
یَا فَاصِلُ یَا وَاصِلُ
اے جدا کرنے والے، اے ملانے والے،
یَا طَاهِرُ یَا مُطَهِّرُ
اے طاہر، اے پاک کرنے والے،
یَا قَادِرُ یَا مُقْتَدِرُ
اے قادر، اے صاحب اقتدار،
یَا كَبِیْرُ یَا مُتَكَبِّرُ
اے کبیر، اے کبریائی والے،
یَا وَاحِدُ یَا اَحَدُ یَا صَمَدُ
اے ایک، اے یکتا، اے بے نیاز،
یَا مَنْ لَّمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْ لَدْ
اے وہ جس کا کوئی باپ نہیں ہے اور جس کا کوئی بیٹا نہیں ہے
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌا
اور جس کا کوئی کفو و ہمسفر نہیں ہے
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَۃٌ وَّلَا وَلَدٌ
جس کی کوئی زوجہ نہیں ہے
وَلَا كَانَ مَعَهٗ وَزِیْرٌ
اور اس کا کوئی وزیر نہیں ہے۔
وَلَا اتَّخَذَ مَعَهٗ مُشِیْرًا
اس نے کوئی مشیر نہیں بنایا ہے۔
وَ لَا احْتَاجَ اِلٰی ظَهِیْرٍ
نہ کسی مددگار کا محتاج ہے
وَّ لَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ
نہ اس کے ساتھ کوئی خدا ہے۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
فَتَعَالَیْتَ عَمَّا یَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا
تو ظالمین کے اقوال سے بلند و بالا ہے۔
یَا عَلِیُّ یَا شَامِخُ یَا بَاذِخُ
اے علی، اے بلند، اے بزرگ،
یَا فَتَّاحُ یَا نَفَّاحُ یَا مُرْتَاحُ
اے کشادگی دینے والے، اے آرام دینے والے، اے راحت دینے والے،
یَا مُفَرِّجُ یَا نَاصِرُ یَا مُنْتَصِرُ
اے سکون دینے والے، اے مددگار، اے بدلہ لینے والے،
یَا مُدْرِكُ یَا مُهْلِكُ یَا مُنْتَقِمُ
اے گرفت میں رکھنے والے، اے ہلاک کرنے والے، اے انتقام لینے والے،
یَا بَاعِثُ یَا وَارِثُ
اے قبروں سے اٹھانے والے، اے وارث،
یَا طَالِبُ یَا غَالِبُ
اے طالب، اے غالب،
یَا مَنْ لَّا یَفُوْتُهٗ هَارِبٌ
اے وہ جس سے کوئی بھاگ کے نہیں جاسکتا،
یَا تَوَّابُ یَا اَوَّابُ یَا وَهَّابُ
اے توبہ قبول کرنے والے، اے مڑ مڑ کر دیکھنے والے، اے عطا کرنے والے،
یَا مُسَبِّبَ الْاَسْبَابِ
اسباب فراہم کرنے والے،
یَا مُفَتِّحَ الْاَبْوَابِ
رحمت کے دروازے کھولنے والے،
یَا مَنْ حَیْثُ مَا دُعِیَ اَجَابَ
جہاں بلایا جائے وہیں قبول کرنے والے،
یَا طَهُوْرُ یَا شَكُوْرُ
اے پاکیزہ، اے شکور،
یَا عَفُوُّ یَا غَفُوْرُ
اے معاف کرنے والے، اے غفور،
یَا نُوْرَ النُّوْرِ
اے نوروں کے نور،
یَا مُدَبِّرَ الْاُمُوْرِ
اے امور کے مدبّر،
یَا لَطِیْفُ یَا خَبِیْرُ
اے لطیف، اے خبیر،
یَا مُجِیْرُ یَا مُنِیْرُ
اے پناہ دینے والے، اے روشن کرنے والے،
یَا بَصِیْرُ یَا ظَهِیْرُ یَا كَبِیْرُ
اے بصیر، اے ظہیر، اے کبیر،
یَا وِتْرُ یَا فَرْدُ
اے اکیلے، اے تنہا،
یَا اَبَدُ یَا سَنَدُ یَا صَمَدُ
اے ابدی، اے سند، اے بے نیاز،
یَا كَافِیْ یَا شَافِیْ
اے کافی، اے شافی،
یَا وَافِیْ یَا مُعَافِیْ
اے وافی، اے عافیت دینے والے،
یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ
اے محسن، اے نیک عمل کرنے والے،
یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ (یَا مُتَفَضِّلُ)
اے نعمت دینے والے، اے فضل کرنے والے،
یَا مُتَكَرِّمُ یَا مُتَفَرِّدُ
اے کرم کرنے والے، اے تنہا اوراکیلے،
یَا مَنْ عَلَا فَقَهَرَ
اے وہ جو بلندیوں سے سب پر غالب ہے
یَا مَنْ مَلَكَ فَقَدَرَ
ملکیت سے سب پر قدرت حاصل کرتا ہے۔
یَا مَنْ بَطَنَ فَخَبَرَ
ہر ایک کی گہرائی سے باخبر ہے۔
یَا مَنْ عُبِدَ فَشَكَرَ
اس کی عبادت کی گئی تو شکریہ ادا کیا۔
یَا مَنْ عُصِیَ فَغَفَرَ وَ سَتَرَ
معصیت کی گئی تو معاف کردیا۔
یَا مَنْ لَا تَحْوِیْهِ الْفِكَرُ
فکریں اس پر حاوی نہیں ہو سکتیں۔
وَ لَا یُدْرِكُهٗ بَصَرٌ
نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں۔
وَ لَا یَخْفٰی عَلَیْهِ اَثَرٌ
نشانات اس پر مخفی نہیں رہ سکتے۔
یَا رَازِقَ الْبَشَرِ
اے انسانوں کو روزی دینے والے۔
یَا مُقَدِّرَ كُلِّ قَدَرٍ
اے تقدیر معین کرنے والے۔
یَا عَالِیَ الْمَكَانِ
اے بلند مکان۔
یَا شَدِیْدَ الْاَرْكَانِ
اے شدید الارکان،
یَا مُبَدِّلَ الزَّمَانِ
اے زمانے کے بدلنے والے،
یَا قَابِلَ الْقُرْبَانِ
قربانیوں کے قبول کرنے والے۔
یَا ذَاالْمَنِّ وَ الْاِحْسَانِ
صاحب من و احسان،
یَا ذَا الْعِزَّۃِ وَ السُّلْطَانِ
صاحب عزّت و سلطان،
یَا رَحِیْمُ یَا رَحْمٰنُ
رحیم و رحمان،
یَا مَنْ هُوَ كُلَّ یَوْمٍ فِیْ شَاْنٍ
جس کی ہر روزایک نئی شان ہے۔
یَا مَنْ لَّا یَشْغَلُهٗ شَاْنٌ عَنْ شَاْنٍ
جس کی ایک نئی شان دوسری شان سے مشغول نہیں بنا سکتی
یَا عَظِیْمَ الشَّاْنِ
اے عظیم الشان۔
یَا مَنْ هُوَ بِكُلِّ مَكَانٍ
اے وہ جو ہر مکان میں ہے۔
یَا سَامِعَ الْاَصْوَاتِ
اے آوازوں کو سننے والے۔
یَا مُجِیْبَ الدَّعْوَاتِ
اے دعاؤں کو قبول کرنے والے،
یَا مُنْجِحَ الطَّلِبَاتِ
اے حاجتوں کے عطا کرنے والے،
یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ
اے مطالبات کو پورا کرنے والے،
یَا مُنْزِلَ الْبَرَكَاتِ
برکتوں کے نازل کرنے والے،
یَا رَاحِمَ الْعَبَرَاتِ
اے آنسوؤں پر رحم کھانے والے۔
یَا مُقِیْلَ الْعَثَرَاتِ
اے لغزشوں سے بچانے والے۔
یَا كَاشِفَ الْكُرُبَاتِ
اے رنج کو دور کرنے والے۔
یَا وَلِیَّ الْحَسَنَاتِ
اے نیکیوں کے مالک۔
یَا رَافِعَ الدَّرَجَاتِ
اے درجات کے بلند کرنے والے۔
یَا مُعْطِیَ السُّؤْلَاتِ
اے سوالات عطا کرنے والے۔
یَا مُحْیِیَ الْاَمْوَاتِ
اے مُردوں کو زندہ کرنے والے،
یَا جَامِعَ الشَّتَاتِ
اے متفرقات کو جمع کرنے والے۔
یَا مُطَّلِعًا عَلَی النِّیَّاتِ
اے نیتوں سے باخبر۔
یَا رَاۤدَّ مَا قَدْ فَاتَ
اے جانے والے کو پلٹانے والے۔
یَا مَنْ لَا تَشْتَبِهُ عَلَیْهِ الْاَصْوَاتُ
اے وہ جس پر آوازیں مشتبہ نہیں ہوتیں۔
یَا مَنْ لَا تُضْجِرُهُ الْمَسْئَلَاتُ
جسے سوالات خستہ حال نہیں کرتے۔
وَلَا تَغْشَاهُ الظُّلُمَاتُ
جس کو ظلمتیں ڈھانپ نہیں سکتیں۔
یَا نُوْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتِ
اے آسمان و زمین کے نور۔
یَا سَابِغَ النِّعَمِ
اے مکمل نعمت والے۔
یَا دَافِعَ النِّقَمِ
اے بلاؤں کو دفع کرنے والے۔
یَا بَارِئَ النَّسَمِ
اے سانسوں کے ایجاد کرنے والے۔
یَا جَامِعَ الْاُمَمِ
اے امتوں کے جمع کرنے والے۔
یَا شَافِیَ السَّقَمِ
اے بیماریوں کو شفا دینے والے۔
یَا خَالِقَ النُّوْرِ وَ الظُّلَمِ
اے خالق نور و ظلمت۔
یَا ذَاالْجُوْدِ وَالْكَرَمِ
اے صاحب جود و کرم۔
یَا مَنْ لَا یَطَاۤئُ عَرْشَهٗ قَدَمٌ
اے وہ جس کے عرش عظمت کو کسی قدم نے روندا نہیں ہے۔
یَا اَجْوَدَ الْاَجْوَدِیْنَ
اے بہترین جود کرنے والے۔
یَا اَكْرَمَ الْاَكْرَمِیْنَ
اے بہترین کرم کرنے والے۔
یَا اَسْمَعَ السَّامِعِیْنَ
اے سب کے سننے والے۔
یَا اَبْصَرَ النَّاظِرِیْنَ
اے ہر ایک کے دیکھنے والے۔
یَا جَارَ الْمُسْتَجِیْرِیْنَ
اے ہر طالب پناہ کو پناہ دینے والے۔
یَا اَمَانَ الْخَاۤئِفِیْنَ
ہر خوفزدہ کے امان،
یَا ظَهْرَ اللَّاجِیْنَ
ہر طلب پناہ کے سہارے،
یَا وَ لِیَّ الْمُؤْمِنِیْنَ
مومنین کے ولی،
یَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ
فریادیوں کے فریاد رس،
یَا غَایَۃَ الطَّالِبِیْنَ
طالبین کے مقصود،
یَا صَاحِبَ كُلِّ غَرِیْبٍ
اے ہر مسافر کے ساتھی۔
یَا مُوْنِسَ كُلِّ وَحِیْدٍ
ہر اکیلے کے مونس۔
یَا مَلْجَاۤئَ كُلِّ طَرِیْدٍ
ہر ہنکائے ہوئے کی پناہ گاہ۔
یَا مَاْوٰی كُلِّ شَرِیْدٍ
ہر بھاگے ہوئے کا ملجاء و ماوا۔
یَا حَافِظَ كُلِّ ضَاۤلَّۃٍ
ہر بہکے ہوئے اور گمشدہ کے محافظ۔
یَا رَاحِمَ الشَّیْخِ الْكَبِیْرِ
اےضعیف بوڑھے پر رحم کرنے والے۔
یَا رَازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیْرِ
اے کمسن بچّے کو روزی دینے والے۔
یَا جَابِرَ الْعَظْمِ الْكَسِیْرِ
اے ٹوٹی ہڈیوں کے جوڑنے والے۔
یَا فَاكَّ كُلِّ اَسِیْرٍ
اے اسیروں کے رہا کرنے والے،
یَا مُغْنِیَ الْبَاۤئِسِ الْفَقِیْرِ
اے فقیر کو غنی بنانے والے۔
یَا عِصْمَۃَ الْخَاۤئِفِ الْمُسْتَجِیْرِ
اے طالب پناہ کو پناہ دینے والے۔
یَا مَنْ لَهُ التَّدْبِیْرُ وَ التَّقْدِیْرُ
اے صاحب تدبیر و تقدیر۔
یَا مَنِ الْعَسِیْرُ عَلَیْهِ سَهْلٌ یَسِیْرٌ
اے وہ جس کے لئے ہر دشوار آسان ہے۔
یَا مَنْ لَا یَحْتَاجُ اِلٰی تَفْسِیْرٍ
اے وہ جو کسی تصویر کا محتاج نہیں ہے۔
یَا مَنْ هُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ
اے وہ جو ہر شے پر قادر ہے۔
یَا مَنْ هُوَ بِكُلِّ شَیْئٍ خَبِیْرٌ
اے وہ جو ہر شے سے باخبر ہے۔
یَا مَنْ هُوَ بِكُلِّ شَیْئٍ بَصِیْرٌ
اے وہ جو ہر شے کو دیکھ رہا ہے۔
یَا مُرْسِلَ الرِّیَاحِ
اے ہواؤں کے چلانے والے،
یَا فَالِقَ الْاَصْبَاحِ
صبح کے ایجاد کرنے والے،
یَا بَاعِثَ الْاَرْوَاحِ
ارواح کو سامنے لانے والے
یَا ذَا الْجُوْدِ وَ السَّمَاۤحِ
صاحب جودو کرم جس کے ہاتھ میں
یَا مَنْ بِیَدِهٖ كُلُّ مِفْتَاحٍ
ہر مفتاح اور ہر کنجی ہے۔
یَا سَامِعَ كُلِّ صَوْتٍ
اے ہر آواز کے سننے والے۔
یَا سَابِقَ كُلِّ فَوْتٍ
ہر آگے جانے والے کے سابق۔
یَا مُحْیِیَ كُلِّ نَفْسٍ بَعْدَ الْمَوْتِ
ہر نفس کو موت کے بعد زندہ کرنے والے۔
یَا عُدَّتِیْ فِیْ شِدَّتِیْ
اے وہ جو شدت میں میرا سہارا۔
یَا حَافِظِیْ فِیْ غُرْبَتِیْ
غربت میں میرا محافظ۔
یَا مُوْنِسِیْ فِیْ وَحْدَتِیْ
وحدت میں میرا مونس۔
یَا وَلِیِّ فِیْ نِعْمَتِیْ
نعمتوں میں میرا مالک ہے
یَا كَهْفِیْ حِیْنَ تُعْیِیْنِیْ الْمَذَاهِبُ
جواس وقت پناہ دیتا ہے جب سب راستے تنگ ہوجاتے ہیں
وَ تُسَلِّمُنِی الْاَقَارِبُ
اور اقرباء چھوڑ دیتے ہیں۔
وَ یَخْذُلُنِیْ كُلُّ صَاحِبٍ
ساتھی الگ ہو جاتے ہیں۔
یَا عِمَادَ مَنْ لَا عِمَادَ لَهٗ
اے بے سہاروں کے سہارے۔
یَا سَنَدَ مَنْ لَا سَنَدَ لَهٗ
اے بے سندوں کی سند۔
یَا ذُخْرَ مَنْ لَا ذُخْرَ لَهٗ
اے بے ذخیرہ لوگوں کے ذخیرے۔
یَا حِرْزَ مَنْ لَا حِرْزَ لَهٗ
اے محافظ لوگوں کے محافظ۔
یَا كَهْفَ مَنْ لَا كَهْفَ لَهٗ
اے پناہ لوگوں کے پناہ گاہ۔
یَا كَنْزَ مَنْ لَا كَنْزَ لَهٗ
اے بے خزانہ لوگوں کے خزانے۔
یَا رُكْنَ مَنْ لَا رُكْنَ لَهٗ
اے بے رکن کے رکن۔
یَا غِیَاثَا مَنْ لَاغِیَاثَ لَهٗ
اے بے آسرا فریادیوں کے فریاد رس۔
یَا جَارَ مَنْ لَا جَارَ لَهٗ
اے اس کے ہمسایہ جس کا کوئی ہمسایہ نہیں۔
یَا جَارِیَ اللَّصِیْقَ
اے وہ ہمسایہ جو ہمیشہ ساتھ رہے۔
یَا رُكْنِیَ الْوَثِیْقَ
اے وہ سہارا جو مستحکم ہے۔
یَا اِلٰهِیْ بِالتَّحْقِیْقِ
اے میرے یقینی پروردگار۔
یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ
اے خانہ کعبہ کے مالک۔
یَا شَفِیْقُ یَا رَفِیْقُ
اے شفیق، اے رفیق
فُكَّنِیْ مِنْ حَلَقِی الْمَضِیْقِ
مجھے تنگیوں کے حلقے سے نجات دے دے
وَ اصْرِفْ عَنِّیْ كُلَّ هَمٍّ وَّ غَمٍّ وَّ ضِیْقٍ
اور مجھ سے ہر ہم و غم اور تنگدستی کو دور کردے۔
وَّ اكْفِنِیْ شَرَّ مَا لَا اُطِیْقُ
وہ بوجھ جس کی طاقت نہ ہو اس کے شر سے بچا لے
وَ اَعِنِّیْ عَلٰی مَا اُطِیْقُ
اور جس کی طاقت ہو اس پر امداد فرما۔
یَا رَاۤدَّ یُوْسُفَ عَلٰی یَعْقُوْبَ
اے یوسفؑ کو یعقوبؑ تک پلٹانے والے۔
یَا كَاشِفَ ضُرِّ اَیُّوْبَ
اے ایوبؑ کی مصیبت کو دور کرنے والے،
یَا غَافِرَ ذَنْبِ دَاوٗدَ
اے داؤدؑ کی لغزش کو معاف کرنے والے۔
یَا رَافِعَ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَ مُنْجِیَهٗ مِنْ اَیْدِی الْیَهُوْدِ
اے عیسیٰؑ بن مریمؑ کو بلند کرکے یہودیوں کے شر سے بچانے والے
یَا مُجِیْبَ نِدَاۤئِ یُوْنُسَ فِی الظُّلُمَاتِ
اے تاریکیوں میں یونسؑ کی آواز سننے والے۔
یَا مُصْطَفِیَ مُوْسٰی بِالْكَلِمَاتِ
اے موسیٰؑ کو کمالات کے ذریعے انتخاب کرنے والے
یَا مَنْ غَفَرَ لِاۤدَمَ خَطِۤیْئَتَهٗ
اے وہ جس نے آدمؑ کی لغزش کو معاف کیا
وَ رَفَعَ اِدْرِیْسَ مَكَانًا عَلِیًّا بِرَحْمَتِهٖ
اور ادریسؑ کو اپنی رحمت سے بلند جگہ عنایت فرمائی۔
یَا مَنْ نَجٰی نُوْحًا مِنَ الْغَرَقِ
اے وہ جس نے نوحؑ کو ڈوبنے سے بچایا
یَا مَنْ اَهْلَكَ عَادًا نِ الْاُوْلٰی
اور عاد و ثمود کو ہلاک کر دیا
وَ ثَمُوْدَ فَمَا اَبْقٰی
اور باقی نہ رہنے دیا
وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ
اور اس سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی ہلاک کر دیا کہ
اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰی
یہ سب ظالم اور سرکش تھے
وَ الْمُؤْتَفِكَۃِ اَهْوٰی
اور اہل افک کو بھی تباہ کردیا۔
یَا مَنْ دَمَّرَ عَلٰی قَوْمِ لُوْطٍ
اے وہ جس نےقوم لوطؑ کو برباد کردیا
وَّ دَمْدَمَ عَلٰی قَوْمِ شُعَیْبٍ
قوم شعیبؑ پر عذاب نازل کر دیا۔
یَا مَنِ اتَّخَذَ اِبْرَاهِیْمَ خَلِیْلًا
اے وہ جس نے ابراہیمؑ کو خلیل
یَا مَنِ اتَّخَذَ مُوْسٰی كَلِیْمًا
موسیٰؑ کو کلیم
وَ اتَّخَذَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ وَ عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ حَبِیْبًا
اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ و آلہ و علیہم اجمعین کو حبیب بنایا۔
یَا مُؤْتِیَ لُقْمَانَ الْحِكْمَۃَ
اے لقمان کو حکمت دینے والے
وَ الْوَاهِبَ لِسُلَیْمَانَ مُلْكًا
اور سلیمان کو ملک دینے والے
لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِهٖ
جو ان کے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو۔
یَا مَنْ نَصَرَ ذَا الْقَرْنَیْنِ عَلَی الْمُلُوْكِ الْجَبَابِرَۃِ
اے وہ جس نے ذوالقرنین کی مدد کی ظالم بادشاہوں کے مقابلہ میں
یَا مَنْ اَعْطَی الْخِضْرَ الْحَیٰوۃَ
اور جس نے خضرؑ کو حیات دی۔
وَ رَدَّ لِیُوْشَعَ بْنِ نُوْنٍ الشَّمْسَ بَعْدَ غُرُوْبِهَا
یوشعؑ بن نون کے لئے غروب کے بعد آفتاب پلٹا دیا
یَا مَنْ رَبَطَ عَلٰی قَلْبِ اُمِّ مُوْسٰی
اور موسیٰؑ کے دل کو مطمئن کردیا۔
وَ اَحْصَنَ فَرْجَ مَرْیَمَ ابْنَتِ عِمْرَانَ
مریم ؑبنت عمران کی عفّت کی حفاظت کی
یَا مَنْ حَصَّنَ یَحْییَ بْنَ زَكَرِیَّا مِنَ الذَّنْبِ
یحییٰؑ بن زکریاؑ کو گناہ سے بچا لیا۔
وَ سَكَّنَ عَنْ مُوْسَی الْغَضَبَ
موسیٰؑ کے غضب کو ٹھنڈا کردیا۔
یَا مَنْ بَشَّرَ زَكَرِیَّا بِیَحْیٰی
زکریاؑ کو یحییٰؑ کی بشارت دی۔
یَا مَنْ فَدَا اِسْمٰعِیْلَ مِنَ الذَّبْحِ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ
اسماعیلؑ کو ذبح عظیم کے ذریعہ ذبح سے بچا لیا۔
یَا مَنْ قَبِلَ قُرْبَانَ هَابِیْلَ
اے وہ جس نے ہابیل کی قربانی کو قبول کر لیا
وَ جَعَلَ الَّعْنَۃَ عَلٰی قَابِیْلَ
اور قابیل کو ملعون قرار دے دیا۔
یَا هَازِمَ الْاَحْزَابِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ
اے پیغمبر اسلام کے لئے احزاب کو شکست دینے والے
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمد ؐ پر اپنی رحمت نازل فرما
وَّ عَلٰی جَمِیْعِ الْمُرْسَلِیْنَ وَ مَلَاۤئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِیْنَ
اور تمام مرسلین پر اور تمام ملائکہ مقربین پر
وَ اَهْلِ طَاعَتِكَ اَجْمَعِیْنَ
اور تمام اہل اطاعت پر
وَ اَسْئَلُكَ بِكُلِّ مَسْئَلَۃٍ سَئَلَكَ بِهَا اَحَدٌ
میں تجھ سے ان تمام چیزوں کا سوال کر رہا ہوں
مِّمَّنْ رَضِیْتَ عَنْهُ فَحَتَمْتَ لَهٗ عَلَی الْاِجَابَۃِ
جن کا سوال تیرے کسی پسندیدہ بندہ نے کیا ہے اور تو نے اس کی قبولیت کا ارادہ کر لیا۔
یَا اَللّٰهُ یَا اَللّٰهُ یَا اَللّٰهُ
اے اللہ، اے اللہ، اے اللہ،
یَا رَحْمٰنُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحْمٰنُ
اے رحمٰن، اے رحمٰن، اے رحمٰن،
یَا رَحِیْمُ یَا رَحِیْمُ یَا رَحِیْمُ
اے رحیم، اے رحیم، اے رحیم،
یَا ذَا الْجَلاَلِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحب جلال و اکرام،
یَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحب جلال و اکرام،
یَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحب جلال و اکرام،
بِهٖ بِهٖ بِهٖ بِهٖ بِهٖ بِهٖ بِهٖ
اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ، اسی کا واسطہ۔
اَسْئَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ سَمَّیْتَ بِهٖ نَفْسَكَ
میں تجھ سے ہر اس نام کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں
اَوْ اَنْزَلْتَهٗ فِیْ شَیْئٍ مِنْ كُتُبِكَ
جو تو نے اپنے لئے اختیار کیا ہے یا اپنی کتاب میں اتارا ہے
اَوِاسْتَاْثَرْتَ بِهٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَكَ
یا علمِ غیب میں اپنے پاس محفوظ رکھا ہے
وَ بِمَعَاقَدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ
اور تیرے عرش کے مقامات عزّت کو واسطہ
وَ بِمُنْتَهَی الرَّحْمَۃِ مِنْ كِتَابِكَ
اور تیری کتاب میں منتہائے رحمت کا واسطہ
وَ بِمَا لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ
اور تیرے ان کلمات کا واسطہ کہ اگر تمام درخت قلم ہو جائیں
وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ
اور سمندروں کی امداد میں سات سمندر آجائیں
مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللّٰهِ
تو بھی وہ کلمات ختم ہونے والے نہیں ہیں
اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ
اس لئے خدا عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔
وَّ اَسْئَلُكَ بِاَسْمَاۤئِكَ الْحُسْنَی
میں تجھ سے ان اسمائے حسنیٰ کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں
الَّتِیْ نَعَتَّهَا فِیْ كِتَابِكَ فَقُلْتَ
جن کی تونے اپنی کتاب میں تعریف کی ہے
وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَاۤئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْهُ بِهَا
اور فرمایا ہے کہ اس کے لئے اسمائے حسنیٰ ہیں۔
وَ قُلْتَ اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ
لہٰذا انھیں کے ذریعہ اس سے دعائیں کرو
وَ قُلْتَ وَ اِذَا سَئَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ
اور تو نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو اور فرمایا ہے کہ پیغمبر ؐ اگر میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں بہت قریب ہوں۔
اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
میں دعا کرنے والوں کی دعا قبول کر لیتا ہوں۔
وَقُلْتَ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِهِمْ
اور تونے فرمایا ہے اے میرے بندوں جنھوں نے اپنے نفس پر اسراف کیا ہے
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰهِ
خبردار رحمت خدا سے مایوس نہ ہو جانا کہ
اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا
اللہ تمام گناہوں کا بخشنے والا ہے۔
اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
وہی غفور ہے وہی رحیم ہے۔
وَ اَنَا اَسْئَلُكَ یَا اِلٰهِیْ
اور خدا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔
وَ اَدْعُوْكَ یَا رَبِّ
پروردگار میں تجھ سے دعا کرتا ہوں۔
وَ اَرْجُوْكَ یَا سَیِّدِی
میرے مولا میں امیدوار ہوں
وَ اَطْمَعُ فِیْ اِجَابَتِیْ یَا مَوْلَایَ كَمَا وَعَدْتَنِیْ
اور میں قبولیت کی طمع رکھتا ہوں جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے۔
وَ قَدْ دَعَوْتُكَ كَمَا اَمَرْتَنِیْ
اب میں دعا کر رہا ہوں جس طرح کہ تونے مجھے حکم دیا ہے
فَافْعَلْ بِیْ مَا اَنْتَ اَهْلُهٗ یَا كَرِیْمُ
لہٰذا میرے ساتھ وہ برتاؤ کرنا جس کا تو اہل ہے۔ اے کریم
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالِمَیْنَ
حمد اللہ رب العالمین کے لئے ہے
وَ صَلَّی اللّٰهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ اَجْمَعِیْنَ۔
اور خدا کی صلوات محمد ؐو آل محمد ؐکے لئے ہے۔