مناجات منظوم علی بن ابئ طالب علیہ السلام منقول از صحیفہ علویہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بنام خدائے رحمان و رحیم
لَكَ الْحَمْدُ يَا ذَا الْجُوْدِ وَ الْمَجْدِ وَ الْعُلٰى
حمد تیری مالک مجد و کرم ربِّ علا
تَبَارَكْتَ تُعْطِيْ مَنْ تَشَاۤءُ وَ تَمْنَعُ
تیری ہی برکت سے وابستہ ہے ہر منع و عطا
اِلٰهِيْ وَ خَلَّاقِيْ وَ حِرْزِيْ وَ مَوْئِلِيْ
میرے مالک میرے خالق میرا ملجا تو ہی ہے
اِلَيْكَ لَدَى الْاِعْسَارِ وَ الْيُسْرِ اَفْزَعُ
تیری ہی درگاہ ہے ماوائے ہر فقر و غنا
اِلٰهِيْ لَئِنْ جَلَّتْ وَ جَمَّتْ خَطِيْۤئَتِيْ
میرے مالک لاکھ ہوجائیں گنہ میرے عظیم
فَعَفْوُكَ عَنْ ذَنْبِيْۤ اَجَلُّ وَ اَوْسَعُ
عفو سے تیرے نہیں بالا میری کوئی خطا
اِلٰهِيْ لَئِنْ اَعْطَيْتُ نَفْسِيَ سُؤْلَهَا
میرے مالک کر کے پوری نفس کی ہر آرزو
فَهَاۤ اَنَا فِيْ رَوْضِ النَّدَامَةِ اَرْتَعُ
آج بستان پشیمانی میں ہیں میری غذا
اِلٰهِيْ تَرٰى حَالِيْ وَ فَقْرِيْ وَ فَاقَتِيْ
میرے مالک فقرو فاقہ کا ہے میرے تو علیم
وَ اَنْتَ مُنَاجَاتِي الْخَفِيَّةَ تَسْمَعُ
اور پھر سنتا ہے تو ہی میری ہر مخفی دعا
اِلٰهِيْ فَلَا تَقْطَعْ رَجَاۤئِيْ وَ لَا تُزِغْ
میرے مالک ہوں تیرے الطاف کا امیدوار
فُؤَادِيْ فَلِيْ فِيْ سَيْبِ جُوْدِكَ مَطْمَعٌ
نا امیدی اور گمراہی سے اب تو ہی بچا
اِلٰهِيْ لَئِنْ خَيَّبْتَنِيْۤ اَوْ طَرَدْتَنِيْ
میرے مالک کردیا گر تو نے رسوا و ذلیل
فَمَنْ ذَا الَّذِيْۤ اَرْجُوْ وَ مَنْ ذَا اُشَفِّعُ
کس سے مانگوں گا مدد اور کون ہے شافع میرا
اِلٰهِيْۤ اَجِرْنِيْ مِنْ عَذَابِكَ اِنَّنِيْۤ
میرے مالک دے مجھے نار جہنّم سے نجات
اَسِيْرٌ ذَلِيْلٌ خَاۤئِفٌ لَكَ اَخْضَعُ
میں ذلیل و خائف و خاضع ہوں ایک بندہ تیرا
اِلٰهِيْ فَاٰنِسْنِيْ بِتَلْقِيْنِ حُجَّتِيْۤ
میرے مالک حرفِ حق کی مجھ کو تلقیں چاہیے
اِذَا كَانَ لِيْ فِيْ الْقَبْرِ مَثْوًى وَ مَضْجَعٌ
گوشۂ تاریک تربت میں ہو جس دم میری جاں
اِلٰهِيْ لَئِنْ عَذَّبْتَنِيْۤ اَلْفَ حِجَّةٍ
میرے مالک گر ہزاروں سال ہوں مجھ پر عذاب
فَحَبْلُ رَجَاۤئِيْ مِنْكَ لَا يَتَقَطَّعُ
رشتۂ امید تجھ سے ہو نہیں سکتا جدا
اِلٰهِيْۤ اَذِقْنِيْ طَعْمَ عَفْوِكَ يَوْمَ
میرے مالک مال اور اولاد جب بے سود ہوں
لَا بَنُوْنَ وَ لَا مَالٌ هُنَالِكَ يَنْفَعُ
تو چکھا دینا مجھے اپنے کرم کا ذائقہ
اِلٰهِيْ لَئِنْ لَمْ تَرْعَنِيْ كُنْتُ ضَاۤئِعًا
میرے مالک میں فنا ہو جاؤں گا تیرے بغیر
وَ اِنْ كُنْتَ تَرْعَانِيْ فَلَسْتُ اُضَيَّعُ
تو محافظ ہے تو پھر مجھ کو نہیں خوفِ فنا
اِلٰهِيْۤ اِذَا لَمْ تَعْفُ عَنْ غَيْرِ مُحْسِنٍ
میرےمالک غیر محسن کو نا گر بخشے گا تو
فَمَنْ لِمُسِيْۤءٍ بِالْهَوٰى يَتَمَتَّعُ
خواہشوں سے کھیلنے والے کا آخر ہو گا کیا
اِلٰهِيْ لَئِنْ فَرَّطْتُ فِيْ طَلَبِ التُّقٰى
میرے مالک راہِ تقویٰ میں جو ہے کوتاہیاں
فَهَاۤ اَنَا اِثْرَ الْعَفْوِ اَقْفُوْ وَ اَتْبَعُ
ان کی خاطر ڈھونڈتا ہوں مغفرت کے نقشِ پا
اِلٰهِيْ لَئِنْ اَخْطَأْتُ جَهْلًا فَطَالَمَا
میرے مالک گر جہالت سے کiے میں نے گناہ
رَجَوْتُكَ حَتّٰى قِيْلَ مَا هُوَ يَجْزَعُ
اس قدر رویا تیری رحمت کو جوش آہی گیا
اِلٰهِيْ ذُنُوْبِيْ بَذَّتِ الطَّوْدَ وَ اعْتَلَتْ
میرے مالک ہے گنہ میرے پہاڑوں سے بلند
وَ صَفْحُكَ عَنْ ذَنْبِيْۤ اَجَلُّ وَ اَرْفَعُ
پر معافی ہے تیری اُن رفعتوں سے ماسوا
اِلٰهِيْ يُنَجِّي ذِكْرُ طَوْلِكَ لَوْعَتِيْ
میرے مالک گر چاہے بادِ کرم وجہِ سکون
وَ ذِكْرُ الْخَطَايَا الْعَيْنَ مِنِّيْ يُدَمِّعُ
پھر بھی رُلا دیتا ہے مجھ کو اپنا احساسِ خطا
اِلٰهِيْۤ اَقِلْنِيْ عَثْرَتِيْ وَ امْحُ حَوْبَتِيْ
میرے مالک لغزشوں کو میری کردے اب معاف
فَاِنِّيْ مُقِرٌّ خَاۤئِفٌ مُتَضَرِّعٌ
میں ہوں خائف، معترف، گریہ کناں بندہ تیرا
اِلٰهِيْۤ اَنِلْنِيْ مِنْكَ رَوْحًا وَ رَاحَةً
میرے مالک کر عطا مجھ کو سکون و مرحمت
فَلَسْتُ سِوٰۤى اَبْوَابِ فَضْلِكَ اَقْرَعُ
میں نہیں کرتا کبھی غیروں کے در پر التجا
اِلٰهِيْ لَئِنْ اَقْصَيْتَنِيْۤ اَوْ اَهَنْتَنِيْ
میرے مالک کردیا گر تو نے مردود و ذلیل
فَمَا حِيْلَتِيْ يَا رَبِّ اَمْ كَيْفَ اَصْنَعُ
کس سے امید کرم ہے؟ کون ہے شافع میرا؟
اِلٰهِيْ حَلِيْفُ الْحُبِّ فِي اللَّيْلِ سَاهِرٌ
میرےمالک دوست تیرے ایسے ہیں شب زندہ دار
يُنَاجِيْ وَ يَدْعُوْ وَ الْمُغَفَّلُ يَهْجَعُ
غافلوں کے خواب کے ہنگام کرتے ہیں دعا
اِلٰهِيْ وَ هٰذَا الْخَلْقُ مَا بَيْنَ نَاۤئِمٍ
میرے مالک گر تیرے کچھ بندے محوِ خواب ہیں
وَ مُنْتَبِهٍ فِيْ لَيْلِهِ يَتَضَرَّعُ
کچھ ہیں ایسے بھی جو ہیں بیدار اور صرفِ بکا
وَ كُلُّهُمْ يَرْجُوْ نَوَالَكَ رَاجِيًا
میرے مالک سب ہیں تیرے لُطف کے اُمیدوار
لِرَحْمَتِكَ الْعُظْمٰى وَ فِيْ الْخُلْدِ يَطْمَعُ
تیری جنّت کے سوالی تیری رحمت کے گواہ
اِلٰهِيْ يُمَنِّيْنِيْ رَجَاۤئِيْ سَلَامَةً
میرے مالک ہے امیدوں سے امید عافیت
وَ قُبْحُ خَطِيْۤئَاتِيْ عَلَيَّ يُشَنِّعُ
ورنہ ہے ساری خطائیں طعنہ زن برحالِ ما
اِلٰهِيْ فَاِنْ تَعْفُوْ فَعَفْوُكَ مُنْقِذِيْ
میرے مالک تیری بخشش ہی سے ممکن ہے نجات
وَ اِلَّا فَبِالذَّنْبِ الْمُدَمِّرِ اُصْرَعُ
ورنہ یہ مہلت خطائیں مجھ کو کر دیں گی فنا
اِلٰهِيْ بِحَقِّ الْهَاشِمِيِّ مُحَمَّدٍ
میرے مالک تیرے پیغمبر نبیِؐ ہاشمی
وَ حُرْمَةِ اَطْهَارٍ هُمُ لَكَ خُضَّعٌ
اور ان کی پاک و خاشع آلؑ کا ہے واسطہ
اِلٰهِيْ بِحَقِّ الْمُصْطَفٰى وَ ابْنِ عَمِّهِ
میرے مالک مصطفےٰؐ اور ان کے ابنِ عمؑ کے ساتھ
وَ حُرْمَةِ اَبْرَارٍ هُمُ لَكَ خُشَّعٌ
واسطہ ان نیک بندوں کا جو ہیں تجھ پر فدا
اِلٰهِيْ فَاَنْشِرْنِيْ عَلٰى دِيْنِ اَحْمَدٍ
میرے مالک دینِ احمد پر اٹھانا قبر سے
مُنِيْبًا تَقِيًّا قَانِتًا لَكَ اَخْضَعُ
متقی، پاکیزہ سیرت، باعمل اور باصفا
وَ لا تَحْرِمَنِّيْ يَاۤ اِلٰهِيْ وَ سَيِّدِيْ
میرے مالک میں نہ محروم شفاعت ہو سکوں
شَفَاعَتَهُ الْكُبْرٰى فَذَاكَ الْمُشَفَّعُ
حشر میں ان کو بنانا میرا شافع اے خدا
وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ مَا دَعَاكَ مُوَحِّدٌ
میرے مالک تا ابد ہو ان پہ رحمت کا نزول
وَ نَاجَاكَ اَخْيَارٌ بِبَابِكَ رُكَّعٌ
جب تلک بندے رہیں محوِ مناجات و دعا
اِلٰهِيْ كَفٰى بِيْ عِزًّا اَنْ اَكُوْنَ لَكَ عَبْدًا
خدایا میری عزت کے لئے یہ کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں
وَ كَفٰى بِيْ فَخْرًا اَنْ تَكُوْنَ لِيْ رَبًّا
اور میرے فخر کے لئے یہ کافی ہے کہ تو میرا رب ہے۔
اَنْتَ كَمَاۤ اُحِبُّ فَاجْعَلْنِيْ كَمَا تُحِبُّ
مالک تو ویسا ہے جیسا میں چاہتا ہوں۔ اب مجھے بھی ویسا ہی بنادے جیسا تو چاہتا ہے۔