ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے عہد حضرت امامِ عصرؑ
(امر سوم۔ دعائے عہد، جو امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص اس عہد کو چالیس صبح پڑھے گا وہ ہمارے قائمؑ کے انصار میں ہوگا اور اگر ظہور سے پہلے مرجائے گا تو خدا اس کو قبر سے نکالے گا تا کہ حضرت کی خدمت میں رہے اور پروردگار ہر کلمہ کے مقابلہ میں ہزار حسنات عطا فرمائے گا اور گناہوں کو معاف کرے گا۔ )
(وہ عہد یہ ہے۔)
اَللّٰهُمَّ رَبَّ النُّوْرِ الْعَظِيْمِ
پروردگار اے عظیم نور کے مالک۔ اے کرسی رفیع کےمالک۔ اے بھڑکتے سمندروں کے رب اور انجیل و زبور کے نازل کرنے والے اے سایۂ آفتاب کے پروردگار اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے اور ملائکہ مقربین و انبیاء و مرسلین کے پروردگار۔ خدایا میرا سوال تری کریم ذات اور تیرے روشن چہرہ کے نور کے واسطہ سے ہے اور تیرے ملک قدیم کے وسیلہ سے ہے اے خدائے حی و قیوم اور میرا سوال تیرے اس نام کے وسیلہ سے ہے جس سے آسمان و زمین روشن ہیں اور اس کے ذریعہ اولین و آخرین کے امور کی اصلاح ہوتی ہے اور ہر زندہ سے پہلے زندہ اور ہر زندہ کے بعد زندہ رہنے والے۔ اے اس وقت کے صاحب حیات جب کوئی زندہ نہ تھا اور اے مردوں کو حیات اور زندوں کو موت دینے والے۔ اے خدائے حّی جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ہمارے مولا امام ہادی مہدی جو تیرے امر کے ساتھ قیام کرنے والے ہیں ان تک مشرق و مغرب کے تمام مومنین و مومنات اور صحرا و کوہستان اور خشک وتر کے تمام رہنے والے افراد اور میرے اور میرے والدین کی طرف سےایسی صلوات پہونچا دے جو عرش الٰہی کے وزن اور کلمات الٰہی کی وسعت کے برابر ہو اور جس کا احصاء علم الٰہی اورکتاب پروردگارکےعلاوہ کوئی نہ کرسکے۔ خدایا میں آج کی صبح اور جب تک زندہ رہوں ہر صبح ان کی بیعت کا عہد کرتا ہوں اور ان کی یہ بیعت میری گردن پر رہے گی جس سے نہ ہٹ سکتا ہوں اور نہ الگ ہو سکتا ہوں۔ خدایا مجھے ان کے انصار واعوان ان سے دفاع کرنے والوں، ان کی حاجتوں کو پورا کرنے میں تیزی سے کام کرنے والوں، ان کے امرکی اطاعت کرنے والوں، ان کی طرف سے دفاع کرنے والوں، ان کے مقاصد کی طرف سبقت کرنے والوں اور ان کے سامنےشہید ہونے والوں میں قرار دے دے۔ خدایا اگر ان کے اور میرے درمیان وہ موت حائل ہو جائے جس کوتو نے اپنے بندوں کے لئے حتمی قرار دیا ہےتو مجھے قبرسے اس طرح نکالنا کہ کفن پہنے ہوئے ہوں، تلوار کھینچے ہوئے ہوں، نیزہ اٹھائے ہوئے ہوںاور ہر منزل پر داعی الٰہی کو لبیک کہتے ہوئے آگےبڑھوں۔ خدایا ہمیں وہ طلعت زیبا اور وہ روئے روشن دکھلا دے اورہماری آنکھوں میں ان پر نگاہ کرنے کا سرمہ لگا دے۔ان کے ظہور میں تعجیل فرما۔ ان کے خروج کو آسان فرما دے۔ ان کے راستوں کو وسیع بنا دے اور ہمیں ان کے راستہ پر چلا دے۔ ان کے امر کو نافذ کر دے۔ ان کی پشت کو قوی بنا دے۔ ان کے ذریعہ شہروں کو آباد کر دے اور مُردوں کو زندگی دےدے کہ تو نے خود فرمایا ہے کہ فساد بروبحر میں ظاہر ہو گیا ہے لوگوں کے اعمال کی بنا پر لہٰذا خدایا اب تو ہمارے لئے اپنے ولی، اپنے نبیؐ کی دختر کے لال اپنے رسول کے ہم نام کو منظر عام پر لے آ تا کہ ان کے سامنے کوئی باطل نہ آئے جس کو مٹا نہ دیں اور کوئی حق نہ آئے جس کو ثابت نہ کردیں اور خدایا انھیں بندگان مظلومین کے لئے پناہ گاہ اور بے سہارا لوگوں کے لئے مددگار بنا دے۔ انھیں اپنی کتاب کے معطل احکام کا زندہ کرنے والا اور دین کے گرے ہوئے پرچموں کو سنبھالنے والا اور سنتِ نبیؐ کا احیاء کرنے والا قرار دےدے۔ خدایا انھیں ان لوگوں میں قرار دےدے جن کو تو نے ظالموں کے شر سے بچایا ہے۔ خدایا اپنے رسول حضرت محمدؐ کو ان کی رویت سے مسرور کر دے اور ان لوگوں کو بھی خوش کر دے کہ جو ان کی دعوت پر ان کی پیروی کریں۔ خدایا ان کی غیبت میں ہماری ذلت و پریشانی پر رحم فرما۔ خدایا اس امت کے غم و اندوہ کو ان کی حاضری سے دور فرما دےاور ان کے ظہور میں تعجیل فرما جسے لوگ بہت دور سمجھتے ہیں مگر ہم بہت قریب سمجھتے ہیں۔ اپنی رحمت کے سہارے اے بہترین رحم کرنے والے۔
وَ رَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفِيْعِ
(اس کے بعد تین مرتبہ داہنی ران پر ہاتھ مارے اور ہر مرتبہ کہے)
وَ رَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ
اَلْعَجَلَ اَلْعَجَلَ يَا مَوْلَايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ
وَ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الزَّبُوْرِ
وَ رَبَّ الظِّلِّ وَ الْحَرُوْرِ
وَ مُنْزِلَ الْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ
وَ رَبَّ الْمَلَاۤئِكَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ
وَ الْاَنْبِيَاۤءِ وَ الْمُرْسَلِيْنَ
اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اَسْاَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ
وَ بِنُوْرِ وَجْهِكَ الْمُنِيْرِ
وَ مُلْكِكَ الْقَدِيْمِ
يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ
اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِيۤ اَشْرَقَتْ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَ الْاَرَضُوْنَ
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ يَصْلَحُ بِهِ الْاَوَّلُوْنَ وَ الْاٰخِرُوْنَ
يَا حَيًّا قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ
وَ يَا حَيًّا بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ
وَ يَا حَيًّا حِيْنَ لَا حَيَّ
يَا مُحْيِيَ الْمَوْتٰى وَ مُمِيْتَ الْاَحْيَاۤءِ
يَا حَيُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ۔
اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلَانَاالْاِمَامَ الْهَادِيَ الْمَهْدِيَّ الْقَاۤئِمَ بِاَمْرِكَ
صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَ عَلٰىۤ اٰبَاۤئِهِ الطَّاهِرِيْنَ
عَنْ جَمِيْعِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ
فِيْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبِهَا
سَهْلِهَا وَ جَبَلِهَا
وَ بَرِّهَا وَ بَحْرِهَا
وَ عَنِّيْ وَ عَنْ وَالِدَيَّ
مِنَ الصَّلَوَاتِ زِنَةَ عَرْشِ اللّٰهِ
وَ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ
وَ مَاۤ اَحْصَاهُ عِلْمُهُ وَ اَحَاطَ بِهِ كِتَابُهُ
اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اُجَدِّدُ لَهُ فِيْ صَبِيْحَةِ يَوْمِيْ هٰذَا
وَ مَا عِشْتُ مِنْ اَيَّامِيْ
عَهْدًا وَ عَقْدًا وَ بَيْعَةً لَهُ فِيْ عُنُقِيْ
لَاۤ اَحُوْلُ عَنْهَا وَ لَا اَزُوْلُ اَبَدًا
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنْ اَنْصَارِهِ
وَ اَعْوَانِهِ وَ الذَّآبِّيْنَ عَنْهُ
وَ الْمُسَارِعِيْنَ اِلَيْهِ فِيْ قَضَاۤءِ حَوَاۤئِجِهِ
وَ الْمُمْتَثِلِيْنَ لِاَوَامِرِهِ‏
وَ الْمُحَامِيْنَ عَنْهُ
وَ السَّابِقِيْنَ اِلٰۤى اِرَادَتِهِ
وَ الْمُسْتَشْهَدِيْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ
اَللّٰهُمَّ اِنْ حَالَ بَيْنِيْ وَ بَيْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِيْ جَعَلْتَهُ عَلٰى عِبَادِكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا،
فَاَخْرِجْنِيْ مِنْ قَبْرِيْ مُؤْتَزِرًا كَفَنِيْ
شَاهِرًا سَيْفِيْ
مُجَرِّدًا قَنَاتِيْ
مُلَبِّيًا دَعْوَةَ الدَّاعِيْ فِي الْحَاضِرِ وَ الْبَادِيۤ
اَللّٰهُمَّ اَرِنِي الطَّلْعَةَ الرَّشِيْدَةَ
وَ الْغُرَّةَ الْحَمِيْدَةَ
وَ اكْحُلْ نَاظِرِيْ بِنَظْرَةٍ مِنِّيۤ اِلَيْهِ
وَ عَجِّلْ فَرَجَهُ
وَ سَهِّلْ مَخْرَجَهُ
وَ اَوْسِعْ مَنْهَجَهُ
وَ اسْلُكْ بِيْ مَحَجَّتَهُ
وَ اَنْفِذْ اَمْرَهُ
وَ اشْدُدْ اَزْرَهُ
وَ اعْمُرِ اللّٰهُمَّ بِهِ بِلَادَكَ
وَ اَحْيِ بِهِ عِبَادَكَ
فَاِنَّكَ قُلْتَ وَ قَوْلُكَ الْحَقُّ
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْ النَّاسِ
فَاَظْهِرِ اللّٰهُمَّ لَنَا وَلِيَّكَ
وَ ابْنَ بِنْتِ نَبِيِّكَ
الْمُسَمّٰى بِاسْمِ رَسُوْلِكَ،
حَتّٰى لَا يَظْفَرَ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْبَاطِلِ اِلَّا مَزَّقَهُ
وَ يُحِقَّ الْحَقَّ وَ يُحَقِّقَهُ
وَ اجْعَلْهُ اللّٰهُمَّ مَفْزَعًا لِمَظْلُوْمِ عِبَادِكَ
وَ نَاصِرًا لِمَنْ لَا يَجِدُ لَهُ نَاصِرًا غَيْرَكَ
وَ مُجَدِّدًا لِمَا عُطِّلَ مِنْ اَحْكَامِ كِتَابِكَ
وَ مُشَيِّدًا لِمَا وَرَدَ مِنْ اَعْلَامِ دِيْنِكَ وَ سُنَنِ نَبِيِّكَ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
وَ اجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدِيْنَ
اَللّٰهُمَّ وَ سُرَّ نَبِيَّكَ مُحَمَّدًا
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
بِرُؤْيَتِهِ وَ مَنْ تَبِعَهُ عَلٰى دَعْوَتِهِ
وَ ارْحَمِ اسْتِكَانَتَنَا بَعْدَهُ
اَللّٰهُمَّ اكْشِفْ هٰذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ بِحُضُوْرِهِ
وَ عَجِّلْ لَنَا ظُهُوْرَهُ
اِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيْدًا وَ نَرَاهُ قَرِيْبًا
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اے میرے مولا اے صاحب الزمان جلدی آیئے جلدی آیئے۔
اَلْعَجَلَ اَلْعَجَلَ يَا مَوْلَايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ