ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
زیارت امین اللہ
زیارت معروف بہ امین اللہ جس کا آغاز یوں ہوتا ہے
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اَمِيْنَ اللهِ فِىۤ اَرْضِهَ
سلام ہو آپ پر اے زمین پر اللہ کےامین اور بندوں پر اللہ کی حجت۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا۔
وَ حُجَّتَهُ عَلٰى عِبَادِهِ‏
اَشْهَدُ اَنَّكَ جَاهَدْتَ فِىْ اللهِ
(یہ زیارت امیرالمومنینؑ کی زیارات کے ذیل میں نقل ہو چکی ہے جس کو ہم نے زیارت دوم قرار دیا ہے۔)
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا اَمِیْنَ اللّٰهِ فِیْ اَرْضِهٖ،
(دوسری زیارت: جو زیارت امین اللہ کے نام سے مشہور ہے اور نہایت درجہ معتبر ہے اور تمام کتب مزار اور مصابیح میں نقل ہوئی ہے اور علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ یہ تین اور سند کے اعتبار سےبہترین زیارت ہے اور تمام روضوں میں اس کی پابندی کرنا چاہیئے اور اس کی کیفیت وہی ہے جو معتبر سندوں کے ساتھ جابر کے واسطہ سے امام محمد باقرؑ اور ان کے واسطہ سے امام زین العابدینؑ سے نقل کی گئی ہے کہ دونوں حضرات نے قبر کے پاس کھڑے ہو کر گریہ کیا اور اس طرح زیارت پڑھی۔)
وَ حُجَّتَهٗ عَلٰی عِبَادِهٖ.
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ.
اَشْهَدُ اَنَّكَ جَاهَدْتَ فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ،
وَ عَمِلْتَ بِكِتَابِهٖ،
وَ اتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِیِّهٖ
صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ،
حَتّٰی دَعَاكَ اللّٰهُ اِلیٰ جِوَارِهٖ،
فَقَبَضَكَ اِلَیْهِ بِاِخْتِیَارِهٖ،
وَ اَلْزَمَ اَعْدَاۤئَكَ الْحُجَّۃَ،
مَعَ مَا لَكَ مِنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَۃِ عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِهٖ.
اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ نَفْسِیْ مُطْمَئِنَّۃً بِقَدَرِكَ،
رَاضِیَۃً بِقَضَاۤئِكَ،
مُوْلَعَۃً بِذِكْرِكَ وَ دُعَاۤئِكَ،
مُحِبَّۃً لِصَفْوَۃِ اَوْلِیَاۤئِكَ،
مَحْبُوْبَۃً فِیْ اَرْضِكَ وَ سَمَاۤئِكَ،
صَابِرَۃًعَلٰی نُزُوُلِ بَلَاۤئِكَ،
شَاكِرَۃً لِفَوَاضِلِ نَعْمَاۤئِكَ،
ذَاكِرَۃً لِسَوَابِغِ اٰلَاۤئِكَ.
مُشْتَاقَۃً اِلیٰ فَرْحَتِ لِقَاۤئِكَ،
مُتَزَوِّدَۃً التَّقْوٰی لِیَوْمِ جَزَاۤئِكَ،
مُسْتَنَّۃً بِسُنَنِ اَوْلِیَاۤئِكَ،
مُفَارِقَۃً لِاَخْلَاقِ اَعْدَاۤئِكَ،
مَشْغُوْلَۃً عَنِ الدُّنْیَا بِحَمْدِكَ وَ ثَنَاۤئِكَ۔
سلام ہو آپ پر اے اللہ کی زمین پر اس کے امین اور اس کے بندوں پر اس کی حجت۔ سلام ہو آپ پر اے امیرالمومنینؑ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے راہِ خدا میں جہاد کیا جو جہاد کا حق تھا اور اس کی کتاب پر عمل کیا اور اللہ کے نبی کی سنتوں کا اتباع کیا(اللہ کا درود ہو ان پر اور ان کی آل پر)یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اپنے جوار میں بلا لیا اور اپنے ارادہ سے آپ کی روح کو قبض کر لیا اور آپ کے دشمنوں پر حجت کو تمام کر دیا علاوہ ان حجتوں کے جو آپ کے لئے تمام مخلوقات پر ہیں لہٰذا خدایا میرے نفس کو اپنے قدر پر مطمئن کر دے اور اپنے قضا پر راضی کر دے۔ اپنے ذکر و دعا کو شیدائی بنا دے اور اپنے خالص و برگزیدہ اولیاء کا محبت کرنے والا بنا دے اور اپنے آسمان و زمین میں محبوب بنا دے اور اپنی بلاء کے نزول پر صابر اور اپنی بہترین نعمتوں پر شاکر بنا دے۔ اپنی تمام نعمتوں کا یاد کرنے والا اور ملاقات کی فرحت کا مشتاق بنا دے اور روز جزا کے لئے تقویٰ کو زاد سفر بنانے والا اوراپنے اولیاء کی سنت پر عمل کرنے والا اور اپنے دشمنوں کے اخلاق سے دور رہنے والا اور اپنی حمد و ثناء کے سہارے دنیا سے بیزار رہنے والا بنا دے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّ قُلُوْبَ الْمُخْبِتِیْنَ اِلَیْكَ وَالِهَۃٌ،
(پھر آپ نے اپنا رخسارِ مبارک قبر پر رکھا اور فرمایا۔)
وَ سُبُلَ الرَّاغِبِیْنَ اِلَیْكَ شَارِعَۃٌ،
وَ اَعْلَامَ الْقَاصِدِیْنَ اِلَیْكَ وَاضِحَۃٌ،
وَ اَفْئِدَۃَ الْعَارِفِیْنَ مِنْكَ فَازِعَۃٌ،
وَ اَصْوَاتَ الدَّاعِیْنَ اِلَیْكَ صَاعِدَۃٌ،
وَ اَبْوَابَ الْاِجَابَۃِ لَهُمْ مُفَتَّحَۃٌ،
وَ دَعْوَۃَ مَنْ نَاجَاكَ مُسْتَجَابَۃٌ،
وَ تَوْبَۃَ مَنْ اَنَابَ اِلَیْكَ مَقْبُوْلَۃٌ،
وَ عَبْرَۃَ مَنْ بَكٰی مِنْ خَوْفِكَ مَرْحُوْمَۃٌ،
وَ الْاِغَاثَۃَ لِمَنِ اسْتَغَاثَ بِكَ مَوْجُوْدَۃٌ،
وَ الْاِعَانَۃَ لِمَنِ اسْتَعَانَ بِكَ مَبْذُوْلَۃٌ،
وَ عِدَاتِكَ لِعِبَادِكَ مُنْجَزَۃٌ،
وَ زَلَلَ مَنِ اسْتَقَالَكَ مُقَالَۃٌ،
وَ اَعْمَالَ الْعَامِلِیْنَ لَدَیْكَ مَحْفُوْظَۃٌ،
وَ اَرْزَاقَكَ اِلَی الْخَلَاۤئِقِ مِنْ لَّدُنْكَ نَازِلَۃٌ،
وَ عَوَاۤئِدَ الْمَزِیْدِ اِلَیْھِمْ وَاصِلَۃٌ،
وَ ذُنُوْبَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ مَغْفُوْرَۃٌ،
وَ حَوَاۤئِجِ خَلْقِكَ عِنْدَكَ مَقْضِیَّۃٌ،
وَ جَوَاۤئِزَ السَّاۤئِلِیْنَ عِنْدَكَ مُوَفَّرَۃٌ،
وَ عَوَاۤئِدَ الْمَزِیْدِ مُتَوَاْتِرَۃٌ،
وَ مَوَاۤئِدَ الْمُسْتَطْعِمِیْنَ مُعَدَّۃٌ،
وَ مَنَاهِلَ الظِّمَاۤئِ مُتْرَعَۃٌ.
اَللّٰهُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعَاۤئِیْ،
وَ اقْبَلْ ثَنَاۤئِیْ،
وَ اجْمَعْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اَوْلِیَاۤئِیْ،
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ عَلِیٍّ
وَ فَاطِمَۃَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ،
اِنَّكَ وَلِیُّ نَعْمَاۤئِیْ،
وَ مُنْتَهٰی مُنَایَ،
وَ غَایَۃُ رَجَاۤئِیْ، فِیْ مُنْقَلَبِیْ وَ مَثْوَایَ۔
خدایا خدا ترس لوگوں کے دل تیری طرف والہانہ طور پر متوجہ ہیں اور مشتاقین کی راہ تیری طرف کھلی ہوئی ہے اور تیری طرف قصد کرنے والوں کے لئے نشانیاں واضح ہیں اور تیری معرفت رکھنے والوں کے دل ہراساں ہیں اور تیری طرف دعا کرنے والوں کی آوازیں بلند ہیں اور ان کے لئے قبولیت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور جو تجھ سے مناجات کرتے ہیں ان کی دعا قبول ہے اور جو تجھ سے توبہ کرتے ہیں ان کی دعا مقبول ہے اور جو تیرے خوف سے رونے والے ہیں ان کے آنسو مقامِ رحم میں ہیں اور جو تجھ سے فریاد کرنے والے ہیں ان کے لئے فریاد رسی موجود ہے اور جو تجھ سے مدد چاہے اس کے لئے مدد حاضر ہے اور تیرے وعدے تیرے بندوں کے لئے مکمل اور جو تجھ سے عذر طلب کرتے ہیں ان کی لغزشوں کو بخشا گیا ہے اور عمل کرنے والوں کے اعمال تیری بارگاہ میں محفوظ ہیں اور تیری روزی تیری جانب سے مخلوق پر نازل ہوتی رہی ہے اور مزید نعمتیں ان کو ملتی رہتی ہیں اور استغفار کرنے والوں کے گناہ بخشے ہوئے ہیں اور تیری مخلوق کی حاجتیں تیری بارگاہ میں پوری ہو چکی ہیں اور سوال کرنے والوں کے انعام تیرے پاس وافر ہیں اور مزید عطایا بھی متواتر ہیں اور روزی طلب کرنے والوں کے لئے خوان احسان مہیا ہیں اور پیاسوں کے لئے سر چشمۂ آب بھرا ہوا ہے لہٰذا خدایا میری دعا کو قبول کر لے اور میری ثناء کو بھی قبول کر لے اور مجھ کو میرے محبوب افراد کے ساتھ جمع کر دےمحمدؐ، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ کے واسطہ سے۔ بے شک تو میرا ولی نعمت ہےاور میری آرزو کی انتہا اور امید کی منزل ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اَنْتَ اِلٰهِیْ وَ سَیَّدِیْ وَ مَوْلَایَ،
(اور کامل الزیارات میں اس کے بعد یہ فقرے بھی لکھے ہوئے ہیں۔)
اغْفِرْ لِاَوْلِیَاۤئِنَا،
وَ كُفَّ عَنَّا اَعْدَاۤئَنَا،
وَ اشْغَلْهُمْ عَنْ اَذَانَا،
وَ اَظْهِرْ كَلِمَۃَ الْحَقِّ،
وَ اجْعَلْهَا الْعُلْیَا،
وَ اَدْحِضْ كَلِمَۃَ الْبَاطِلِ،
وَ اجْعَلْهَا السُّفْلیٰ.
اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
تو میرا معبود اور میرا سردار اور میرا مولا ہے۔ میرے دوستوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے دشمنوں کو روک دے اور ان کو ہمیں تکلیف دینے سے دور رکھ اور کلمہ حق کا ظاہر کر دے اور اس کا بلند قرار دے دے اور کلمۂ باطل کو پلٹادے اور اس کو پست کر دے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
(اس کے بعد حضرت امام محمد باقرؑ نے فرمایا کہ ہمارے شیعوں میں سے جو بھی اس دعا اور زیارت کو قبر امیرالمومنینؑ کے پاس پڑھے گا ائمہ علیہم السلام میں سے کسی کی قبر کے پاس پڑھے گا خداوند عالم اس زیارت اور دعا کو اس کے نامۂ اعمال میں رہے گاکہ امام زمانہ قائم آل محمدؐ کے حوالہ کر دیا جائے گا اور وہ اس عمل کے کرنے والے کا استقبال کریں گے بشارت اور تحیت و اکرام کے ساتھ انشاء اللہ۔ مؤلّف کہتا ہے کہ یہ زیارت زیارات مطلقہ میں بھی شمار ہوتی ہے اور زیارات مخصوصہ روزِ عیدِ غدیر میں بھی اور زیارات جامعہ میں بھی جو تمام روضوں میں پڑھی جاتی ہے۔)