EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر
وَ اسْمَعْ دُعَاۤئِيْ اِذَا دَعَوْتُكَ
اور جب میں دعا کروں تو میری دعا کو قبول کرلے
وَ اسْمَعْ نِدَاۤئِيْۤ اِذَا نَادَيْتُكَ
اور جب میں پکاروں تو میری آواز کو سن لے۔
وَ اَقْبِلْ عَلَيَّ اِذَا نَاجَيْتُكَ
جب میں مناجات کروں تو میری طرف توجہ فرما کہ
فَقَدْ هَرَبْتُ اِلَيْكَ
میں تیری ہی طرف بھاگ آیا ہوں
وَ وَقَفْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ مُسْتَكِيْنًا لَكَ
اور تیرے ہی سامنے کھڑا ہوں۔ فقیر و مسکین ہوں
مُتَضَرِّعًا اِلَيْكَ
فریادی ہوں
رَاجِيًا لِمَا لَدَيْكَ ثَوَابِيْ
اور تیرے ثواب کا امیدوار ہوں۔
وَ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ
تو میرے دل کا حال جانتا ہے۔
وَ تَخْبُرُ حَاجَتِيْ
میری حاجت سے باخبر ہے۔
وَ تَعْرِفُ ضَمِيْرِيْ
میرے ضمیر کو پہچانتا ہے
وَ لَا يَخْفٰى عَلَيْكَ اَمْرُ مُنْقَلَبِيْ وَ مَثْوَايَ
اور تجھ سے میرا انجام مخفی نہیں ہے
وَ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ اُبْدِئَ بِهِ مِنْ مَنْطِقِيْ
اور جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ بھی تجھے معلوم ہے
وَ اَتَفَوَّهُ بِهِ مِنْ طَلِبَتِيْ
اور جو بیان کررہا ہوں وہ بھی تو جانتا ہے
وَ اَرْجُوْهُ لِعَاقِبَتِيْ
اور عاقبت کے لیے جس چیز کا امیدوار ہوں
وَ قَدْ جَرَتْ مَقَادِيْرُكَ عَلَيَّ يَا سَيِّدِيْ
اے میرے سید و سردار! وہ بھی تیرے علم میں ہے ،
فِيْمَا يَكُوْنُ مِنِّيْۤ اِلٰۤى اٰخِرِ عُمْرِيْ
اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے آخرِ عمر تک کے لیے،
مِنْ سَرِيْرَتِيْ وَ عَلَانِيَتِيْ
تیرے علاوہ کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے میرے ظاہر و باطن
وَ بِيَدِكَ لَا بِيَدِ غَيْرِكَ زِيَادَتِيْ وَ نَقْصِيْ
سب کے لیے زیادتی و کمی
وَ نَفْعِيْ وَ ضَرِّيْۤ
اور نفع و نقصان
اِلٰهِيْۤ اِنْ حَرَمْتَنِيْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَرْزُقُنِيْ
خدایا اگر تو محروم کردے گا تو مجھے کون عطا کرے گا
وَ اِنْ خَذَلْتَنِيْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُنِيْ۔
اور اگر تو چھوڑ دے گا تو کون مدد کرے گا۔
اِلٰهِيْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَضَبِكَ وَ حُلُوْلِ سَخَطِكَ
خدایا میں تیرے غضب سے اور تیری ناراضگی کے نازل ہونے سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔
اِلٰهِيْۤ اِنْ كُنْتُ غَيْرَ مُسْتَأْهِلٍ لِرَحْمَتِكَ
مالک اگر میں تیری رحمت کا اہل نہیں ہوں تو
فَاَنْتَ اَهْلٌ اَنْ تَجُوْدَ عَلَيَّ بِفَضْلِ سَعَتِكَ
تو اس بات کا اہل ہے کہ اپنی مہربانی سے مجھ پر کرم کرے۔
اِلٰهِيْ كَاَنِّيْ بِنَفْسِيْ وَاقِفَةٌ بَيْنَ يَدَيْكَ
خدایا جیسے کہ میں تیرے سامنے کھڑا ہوں
وَ قَدْ اَظَلَّهَا حُسْنُ تَوَكُّلِيْ عَلَيْكَ
اور میرے نفس پر حُسنِ توکّل کا سایہ ہے۔
فَقُلْتَ [فَفَعَلْتَ‏] مَاۤ اَنْتَ اَهْلُهُ وَ تَغَمَّدْتَنِيْ بِعَفْوِكَ
تو نے اپنی بات کہہ دی ہے اور مجھے اپنی معافی سے ڈھانپ لیا ہے
اِلٰهِيْۤ اِنْ عَفَوْتَ فَمَنْ اَوْلٰى مِنْكَ بِذٰلِكَ
خدایا اگر تو معاف کردے گا تو تیرے علاوہ اس کا اہل کون ہوگا۔
وَ اِنْ كَانَ قَدْ دَنَا اَجَلِيْ وَ لَمْ يُدْنِنِيْ مِنْكَ عَمَلِيْ
اور اگر میری موت قریب آگئی اور میرے اعمال نے تجھ سے قریب نہیں بنایا ہے
فَقَدْ جَعَلْتُ الْاِقْرَارَ بِالذَّنْبِ اِلَيْكَ وَسِيْلَتِيْۤ
تو میں گناہوں کے اقرار ہی کو اپنا وسیلہ بنارہا ہوں۔
اِلٰهِيْ قَدْ جُرْتُ عَلٰى نَفْسِيْ فِيْ النَّظَرِ لَهَا
خدایا میں نے اپنے نفس کو مہلت دے کر ہلاک کردیا ہے۔
فَلَهَا الْوَيْلُ اِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَهَاۤ
اب اگر تو معاف نہ کرے گا تو وائے بر حالِ ما۔
اِلٰهِيْ لَمْ يَزَلْ بِرُّكَ عَلَيَّ اَيَّامَ حَيَاتِيْ
خدایا زندگی بھر تو تو احسان کرتا رہا ہے
فَلَا تَقْطَعْ بِرَّكَ عَنِّيْ فِيْ مَمَاتِيْۤ
تو اب مرنے کے بعد اس احسان کو قطع نہ کرنا
اِلٰهِيْ كَيْفَ اٰيَسُ مِنْ حُسْنِ نَظَرِكَ لِيْ بَعْدَ مَمَاتِيْ
بھلا میں مرنے کے بعد تیری نگاہِ کرم سے کیسے مایوس ہوسکتا ہوں
وَ اَنْتَ لَمْ تُوَلِّنِيْۤ اِلَّا الْجَمِيْلَ فِيْ حَيَاتِيْ۔
جب کہ زندگی بھر تجھ سے سوائے نیکیوں کے کچھ نہیں دیکھا ہے۔
اِلٰهِيْ تَوَلَّ مِنْ اَمْرِيْ مَاۤ اَنْتَ اَهْلُهُ
خدایا میرے ساتھ وہی برتاؤ کرنا جس کا تو اہل ہے
وَ عُدْ عَلَيَّ بِفَضْلِكَ عَلٰى مُذْنِبٍ قَدْ غَمَرَهُ جَهْلُهُ
اور اپنے فضل سے اس بندہ پر مہربانی کرنا جو گنہگار ہے اور جس کو جہالتوں نے ڈھانپ لیا ہے۔
اِلٰهِيْ قَدْ سَتَرْتَ عَلَيَّ ذُنُوْبًا فِيْ الدُّنْيَا
مالک تو نے دنیا میں میرے گناہوں کو چھپایا ہے
وَ اَنَاۤ اَحْوَجُ اِلٰى سَتْرِهَا عَلَيَّ مِنْكَ فِي الْاُخْرٰى
تو میں آخرت میں ان کی پردہ پوشی کا اس سے زیادہ محتاج ہوں۔
اِلٰهِيْ قَدْ اَحْسَنْتَ اِلَيَّ‏ اِذْ لَمْ تُظْهِرْهَا لِاَحَدٍ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ
جب تو نے اپنے نیک بندوں پر ظاہر نہیں کیا ہے
فَلَا تَفْضَحْنِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى رُؤُسِ الْاَشْهَادِ
تو اب قیامت کے دن منظرِ عام پر مجھے رسوا نہ کرنا۔
اِلٰهِيْ جُوْدُكَ بَسَطَ اَمَلِيْ
خدایا تیرے کرم نے میری امیدوں کو پھیلا دیا ہے
وَ عَفْوُكَ اَفْضَلُ مِنْ عَمَلِيْ
اور تیری معافی میرے عمل سے کہیں زیادہ بہتر ہے،
اِلٰهِيْ فَسُرَّنِيْ بِلِقَاۤئِكَ يَوْمَ تَقْضِيْ فِيْهِ بَيْنَ عِبَادِكَ
لہٰذا میرے مالک جس دن بندوں کے درمیان فیصلہ کرنا ہمیں اپنی ملاقات کے شرف سے محروم نہ کرنا۔
اِلٰهِيْ اِعْتِذَارِيْۤ اِلَيْكَ اعْتِذَارُ مَنْ لَمْ يَسْتَغْنِ عَنْ قَبُوْلِ عُذْرِهِ
خدایا یہ میری معذرت اس بندے کی ہے جو قبولیت سے بے نیاز نہیں ہے
فَاقْبَلْ عُذْرِيْ يَاۤ اَكْرَمَ مَنِ اعْتَذَرَ اِلَيْهِ الْمُسِيْۤئُوْنَ۔
لہٰذا میرے عذر کو قبول کرلے۔ اے وہ کریم ترین مالک جس سے ہر خطاکار معذرت کرتا ہے۔
اِلٰهِيْ لَا تَرُدُّ حَاجَتِيْ
خدایا میری حاجتوں کو پلٹانا نہیں۔
وَ لَا تُخَيِّبْ طَمَعِيْ
میری امید کو نا اُمید نہ کرنا
وَ لَا تَقْطَعْ مِنْكَ رَجَاۤئِيْ وَ اَمَلِيْۤ
مالک اگر تو مجھے ذلیل کرنا چاہتا تو ہدایت نہ دیتا
اِلٰهِيْ لَوْ اَرَدْتَ هَوَانِيْ لَمْ تَهْدِنِيْ
اور اگر رسوا کرنا چاہتا تو عافیت نہ دیتا۔
وَ لَوْ اَرَدْتَ فَضِيْحَتِيْ لَمْ تُعَافِنِيْۤ
میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہوں کہ
اِلٰهِيْ مَا اَظُنُّكَ تَرُدُّنِيْ فِيْ حَاجَةٍ قَدْ اَفْنَيْتُ عُمْرِيْ فِيْ طَلَبِهَا مِنْكَ
تو میری اس حاجت کو رد کردے گا۔ جس کو مانگنے میں ساری زندگی گزاری ہے۔
اِلٰهِيْ فَلَكَ الْحَمْدُ اَبَدًا اَبَدًا دَاۤئِمًا سَرْمَدًا
میرے مالک تیرے لیے دائمی، ابدی، سرمدی حمد ہے
يَزِيْدُ وَ لَا يَبِيْدُ كَمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰىۤ
جس میں اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں ہوتی ہے جیسے تو چاہتا ہے۔
اِلٰهِيْۤ اِنْ اَخَذْتَنِيْ بِجُرْمِيْۤ اَخَذْتُكَ بِعَفْوِكَ
خدایا اگر تو میرے جرم کا مؤاخذہ کرے گا تو میں تیری معافی کا سوال کروں گا
وَ اِنْ اَخَذْتَنِيْ بِذُنُوْبِيْۤ اَخَذْتُكَ بِمَغْفِرَتِكَ
اور اگر تو میرے گناہوں کی گرفت کر لے گا تو میں تیری مغفرت کے بارے میں پوچھوں گا
وَ اِنْ اَدْخَلْتَنِيْ النَّارَ اَعْلَمْتُ اَهْلَهَاۤ اَنِّيْۤ اُحِبُّكَ
اور اگر تو مجھے جہنّم میں داخل کردے گا تو میں اہلِ جہنّم سے کہوں گا کہ میں تیرا چاہنے والا تھا۔
اِلٰهِيْۤ اِنْ كَانَ صَغُرَ فِيْ جَنْبِ طَاعَتِكَ عَمَلِيْ
خدایا اگر تیری اطاعت کے سامنے میرا عمل چھوٹا ہے
فَقَدْ كَبُرَ فِيْ جَنْبِ رَجَاۤئِكَ اَمَلِيْۤ
تو تیری کرامت کے سامنے میری امید بہت بڑی ہے۔
اِلٰهِيْ كَيْفَ اَنْقَلِبُ مِنْ عِنْدِكَ بِالْخَيْبَةِ مَحْرُوْمًا
خدایا میں تیری بارگاہ سے ناکام اور محروم کس طرح جاسکتا ہوں
وَ قَدْ كَانَ حُسْنُ ظَنِّيْ بِجُوْدِكَ اَنْ تَقْلِبَنِيْ بِالنَّجَاةِ مَرْحُوْمًا
جب کہ میرا حسنِ ظن تیرے کرم سے یہی تھا کہ تو مجھے نجات دے کر رحمت کے ساتھ مخصوص کردے گا۔
اِلٰهِيْ وَ قَدْ اَفْنَيْتُ عُمُرِيْ فِيْ شِرَّةِ السَّهْوِ عَنْكَ
خدایا میں نے غفلتوں کے عالم میں اپنی زندگی کو گزاردیا ہے
وَ اَبْلَيْتُ شَبَابِيْ فِيْ سَكْرَةِ التَّبَاعُدِ مِنْكَ
اور تجھ سے دوری کے نشہ میں اپنی جوانی کو برباد کردیا ہے
اِلٰهِيْ فَلَمْ اَسْتَيْقِظْ اَيَّامَ اغْتِرَارِيْ بِكَ
اور ایک دن جب میں تیری ناراضگی
وَ رُكُوْنِيْۤ اِلٰى سَبِيْلِ سَخَطِكَ۔
کے راستے پر جارہا تھا مجھے ہوش نہیں آیا
اِلٰهِيْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدِكَ قَاۤئِمٌ بَيْنَ يَدَيْكَ
مگر بہرحال میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندہ کا فرزند ہوں، تیرے سامنے کھڑا ہوں
مُتَوَسِّلٌ بِكَرَمِكَ اِلَيْكَ
اور تیرے ہی کرم کو وسیلہ بنائے ہوئے ہوں۔
اِلٰهِيْۤ اَنَا عَبْدٌ اَتَنَصَّلُ اِلَيْكَ مِمَّا كُنْتُ اُوَاجِهُكَ بِهِ
خدایا میں وہ بندہ ہوں جو تیری مہلت سے فائدہ اُٹھا کر
مِنْ قِلَّةِ اسْتِحْيَاۤئِيْ مِنْ نَظَرِكَ
بے حیائی کے ذریعہ تیرا سامنا کرتا تھا
وَ اَطْلُبُ الْعَفْوَ مِنْكَ اِذِ الْعَفْوُ نَعْتٌ لِكَرَمِكَ
مگر اب میں ہر برائی سے نکل آیا ہوں اور تجھ سے معافی کا طلبگار ہوں اس لیے کہ معافی ہی تیرے کرم کی ضمانت ہے۔
اِلٰهِيْ لَمْ يَكُنْ لِيْ حَوْلٌ فَاَنْتَقِلَ بِهِ عَنْ مَعْصِيَتِكَ
خدایا میرے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جس کے ذریعہ میں معصیت سے نکل آؤں
اِلَّا فِيْ وَقْتٍ اَيْقَظْتَنِيْ لِمَحَبَّتِكَ
مگر اسی وقت جب تو مجھے اپنی محبّت کے لیے بیدار کردے۔
وَ كَمَاۤ اَرَدْتَ اَنْ اَكُوْنَ كُنْتُ
جیسا تو نے چاہا میں ہوگیا۔
فَشَكَرْتُكَ بِاِدْخَالِيْ فِيْ كَرَمِكَ
اب تیرا شکر ہے کہ تو نے اپنے کرم میں داخل کرلیا ہے
وَ لِتَطْهِيْرِ قَلْبِيْ مِنْ اَوْسَاخِ الْغَفْلَةِ عَنْكَ
اور میرے دل کو غفلت کی کثافت سے پاک کردیا ہے۔
اِلٰهِيْ انْظُرْ اِلَيَّ نَظَرَ مَنْ نَادَيْتَهُ فَاَجَابَكَ
مالک میری طرف اس بندہ کی طرح نظر فرما جس کو تو نے پکارا
وَ اسْتَعْمَلْتَهُ بِمَعُوْنَتِكَ فَاَطَاعَكَ
تو اس نے سن لیا اور اُسے اپنی راہ میں لگانا چاہا تو اس نے اختیار کرلیا۔
يَا قَرِيْبًا لَا يَبْعُدُ عَنِ الْمُغْتَرِّ بِهِ
اے وہ قریب جو فریب خوردہ سے بھی دور نہیں ہوتا ہے
وَ يَا جَوَادًا لَا يَبْخَلُ عَمَّنْ رَجَا ثَوَابَهُ
اور اے وہ سخی جو کسی امیدوار کے ثواب میں بخل نہیں کرتا ہے۔
اِلٰهِيْ هَبْ لِيْ قَلْبًا يُدْنِيْهِ مِنْكَ شَوْقُهُ
میرے مالک مجھے وہ دل دے دے جس کا شوق تجھ سے قریب تر کردے
وَ لِسَانًا يُرْفَعُ اِلَيْكَ صِدْقُهُ
اور وہ زبان دے دے جس کی صداقت تیری بارگاہ تک پہنچادے۔
وَ نَظَرًا يُقَرِّبُهُ مِنْكَ حَقُّهُ
وہ نگاہ دے دے جو تجھ سے قریب تر بنادے۔
اِلٰهِيْۤ اِنَّ مَنْ تَعَرَّفَ بِكَ غَيْرُ مَجْهُوْلٍ
خدایا جو تیرے ذریعہ معروف ہوتا ہے وہ مجہول نہیں ہوتا ہے
وَ مَنْ لَاذَ بِكَ غَيْرُ مَخْذُوْلٍ
اور جو تیری پناہ لے لیتا ہے وہ لاوارث نہیں ہوتا ہے۔
وَ مَنْ اَقْبَلْتَ عَلَيْهِ غَيْرُ مَمْلُوْلٍ،
جس کی طرف تو متوجہ ہوجائے وہ رنجیدہ نہیں ہوتا ہے۔
اِلٰهِيْۤ اِنَّ مَنِ انْتَهَجَ بِكَ لَمُسْتَنِيْرٌ
مالک جو تیرے سہارے چلے اسے روشنی مل جاتی ہے
وَ اِنَّ مَنِ اعْتَصَمَ بِكَ لَمُسْتَجِيْرٌ
اور جو تیری پناہ لے لے اُسے پناہ مل جاتی ہے۔
وَ قَدْ لُذْتُ بِكَ يَاۤ اِلٰهِيْ فَلَا تُخَيِّبْ ظَنِّيْ مِنْ رَحْمَتِكَ
اب میں تیری پناہ میں آیا ہوں لہٰذا اپنی رحمت سے نا اُمید نہ کرنا
وَ لَا تَحْجُبْنِيْ عَنْ رَأْفَتِكَ
اور اپنی رافت میں کسی چیز کو حائل نہ کرنا۔
اِلٰهِيْۤ اَقِمْنِيْ فِيْۤ اَهْلِ وِلَايَتِكَ
خدایا مجھے اپنے چاہنے والوں میں ان کی منزل پر کھڑا کردے
مُقَامَ مَنْ رَجَا الزِّيَادَةَ مِنْ مَحَبَّتِكَ
جو محبّت میں اضافہ کے امیدوار ہیں۔
اِلٰهِيْ وَ اَلْهِمْنِيْ وَلَهًا بِذِكْرِكَ اِلٰى ذِكْرِكَ
خدایا مجھے مسلسل اپنے ذکر کا شوق عنایت فرما
وَ هِمَّتِيْ فِيْ رَوْحِ نَجَاحِ اَسْمَاۤئِكَ وَ مَحَلِّ قُدْسِكَ
اور میری ہمّت کو اپنے اسمائے گرامی اور محلِ قدس میں کامیابی کے نشاط میں قرار دے دے۔
اِلٰهِيْ بِكَ عَلَيْكَ اِلَّاۤ اَلْحَقْتَنِيْ بِمَحَلِّ اَهْلِ طَاعَتِكَ
خدایا تجھے میری قسم کہ مجھے اہلِ اطاعت کی منزل سے
وَ الْمَثْوَى الصَّالِحِ مِنْ مَرْضَاتِكَ
اور اپنی رضا کے نیک ترین مقام سے ملادے کہ
فَاِنِّيْ لَاۤ اَقْدِرُ لِنَفْسِيْ دَفْعًا
میں نہ اپنے نفس سے کسی بلا کو ٹال سکتا ہوں
وَ لَا اَمْلِكُ لَهَا نَفْعًا
اور نہ اُسے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہوں۔
اِلٰهِيْۤ اَنَا عَبْدُكَ الضَّعِيْفُ الْمُذْنِبُ
خدایا میں تیرا بندۂ ضعیف و گنہگار ہوں
وَ مَمْلُوْكُكَ الْمُنِيْبُ [الْمَعِيْبُ‏]
اور تیرا غلامِ عیب دار ہوں
فَلا تَجْعَلْنِيْ مِمَّنْ صَرَفْتَ عَنْهُ وَجْهَكَ
لہٰذا مجھے ان لوگوں میں قرار نہ دینا جن سے تو اپنا منہ موڑ لے
وَ حَجَبَهُ سَهْوُهُ عَنْ عَفْوِكَ
اور جن کی غفلت تیری معافی کی راہ میں حائل ہوجائے
اِلٰهِيْ هَبْ لِيْ كَمَالَ الْاِنْقِطَاعِ اِلَيْكَ
خدایا مجھے اپنی طرف مکمل توجہ عنایت فرما
وَ اَنِرْ اَبْصَارَ قُلُوْبِنَا بِضِيَاۤءِ نَظَرِهَاۤ اِلَيْكَ
اور میرے دل کی نگاہوں کو اپنی طرف دیکھنے کی روشنی سے نورانی بنادے
حَتّٰى تَخْرِقَ اَبْصَارُ الْقُلُوْبِ حُجُبَ النُّوْرِ
تا کہ دل کی نگاہیں حجابِ نور کو چاک کرکے
فَتَصِلَ اِلٰى مَعْدِنِ الْعَظَمَةِ
اس محل و معدنِ عظمت تک پہنچ جائیں
وَ تَصِيْرَ اَرْوَاحُنَا مُعَلَّقَةً بِعِزِّ قُدْسِكَ
اور ہماری روحیں تیرے مقامِ عزّت و قدس سے وابستہ ہوجائیں۔
اِلٰهِيْ وَ اجْعَلْنِيْ مِمَّنْ نَادَيْتَهُ فَاَجَابَكَ
خدایا مجھے ان لوگوں میں قرار دے دے جن کو تو نے پکارا تو انھوں نے لبیک کہی
وَ لَاحَظْتَهُ فَصَعِقَ لِجَلَالِكَ
اور جن کو دیکھ لیا تو تیرے جلال سے بے ہوش ہوگئے۔
فَنَاجَيْتَهُ سِرًّا وَ عَمِلَ لَكَ جَهْرًا۔
تو نے ان سے خاموشی سے باتیں کیں اور انھوں نے علی الاعلان تیرے لیے عمل کیا۔
اِلٰهِيْ لَمْ اُسَلِّطْ عَلٰى حُسْنِ ظَنِّيْ قُنُوْطَ الْاَيَاسِ
خدایا ہم نے اپنے حسنِ ظن پر مایوسی کو مسلّط نہیں کیا
وَ لَا انْقَطَعَ رَجَاۤئِيْ مِنْ جَمِيْلِ كَرَمِكَ
اور نہ میری امیدیں تیرے کرم سے قطع ہوئیں۔
اِلٰهِيْۤ اِنْ كَانَتِ الْخَطَايَا قَدْ اَسْقَطَتْنِيْ
خدایا اگر خطاؤں نے تیری بارگاہ میں گرا دیا ہے
لَدَيْكَ فَاصْفَحْ عَنِّيْ بِحُسْنِ تَوَكُّلِيْ عَلَيْكَ
تو اب حسنِ توکّل کی بناپر مجھ سے درگذر فرما۔
اِلٰهِيْۤ اِنْ حَطَّتْنِيْ الذُّنُوْبُ مِنْ مَكَارِمِ لُطْفِكَ
مالک اگر میرے گناہوں نے تیرے مقامِ لطف سے گرادیا ہے
فَقَدْ نَبَّهَنِيْ الْيَقِيْنُ اِلٰى كَرَمِ عَطْفِكَ
تو تیری مہربانی و کرم نے مجھے ہوشیار کردیا ہے۔
اِلٰهِيْۤ اِنْ اَنَامَتْنِيْ الْغَفْلَةُ عَنِ الْاِسْتِعْدَادِ لِلِقَاۤئِكَ
مالک اگر مجھے غفلت نے تیری ملاقات کی تیاری سے سُلا دیا ہے
فَقَدْ نَبَّهَتْنِي الْمَعْرِفَةُ بِكَرَمِ اٰلَاۤئِكَ
تو تیرے احسانات کی معرفت نے مجھے بیدار کردیا ہے۔
اِلٰهِيْۤ اِنْ دَعَانِيْۤ اِلَى النَّارِ عَظِيْمُ عِقَابِكَ
مالک اگر تیرے عظیم عقاب نے مجھے جہنّم کی طرف بلایا ہے
فَقَدْ دَعَانِيْۤ اِلَى الْجَنَّةِ جَزِيْلُ ثَوَابِكَ
تو تیرے عظیم ثواب نے جنّت کی دعوت دی ہے۔
اِلٰهِيْ فَلَكَ اَسْاَلُ وَ اِلَيْكَ اَبْتَهِلُ وَ اَرْغَبُ
اب میں تجھ ہی سے امیدوار ہوں اور تجھ ہی سے دعا کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رغبت کرتا ہوں
وَ اَسْاَلُكَ اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
اور میرا مطالبہ یہی ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اَنْ تَجْعَلَنِيْ مِمَّنْ يُدِيْمُ ذِكْرَكَ
اور ان لوگوں میں قرار دے دے جو ہمیشہ تیرا ذکر کریں۔
وَ لَا يَنْقُضُ عَهْدَكَ
تیرے عہد کو نہ توڑیں۔
وَ لَا يَغْفُلُ عَنْ شُكْرِكَ
تیرے شکر سے غافل نہ ہوں
وَ لَا يَسْتَخِفُّ بِاَمْرِكَ
اور تیرے حکم کا استخفاف نہ کریں۔
اِلٰهِيْ وَ اَلْحِقْنِيْ بِنُوْرِ عِزِّكَ الْاَبْهَجِ
خدایا مجھے اپنے روشن ترین نور عزّت و جلالت سے ملحق کردے
فَاَكُوْنَ لَكَ عَارِفًا
تاکہ میں تیرا عارف ہوجاؤں
وَ عَنْ سِوَاكَ مُنْحَرِفًا
اور تیرے غیر سے منحرف ہوجاؤں
وَ مِنْكَ خَاۤئِفًا مُرَاقِبًا
صرف تجھ سے ڈرتا ہوں اور لرزتا رہوں
يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحبِ جلال و اکرام۔
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ رَسُوْلِهِ وَ اٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ
خدا رحمت نازل کرے محمدؐ رسول اللہ
وَ سَلَّمَ تَسْلِيْمًا كَثِيْرًا۔
اور ان کے آلِ طیبینؑ پر اور بے شمار سلام ان پر۔