EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعاءِ امام حسین علیہ السَّلام روزِ عرفہ
اس دن کی مشہور دعاؤں میں سے دعاء امام حسین سید الشہداء ہے جسے غالب اسدی کے فرزند بشر و بشیر نے روایت کی ہے کہ روز عرفہ عصر کے وقت عرفات میں میں امام علیہ السلام کی خدمت میں تھا۔آپؑ خیمہ سے باہر تشریف لائے اپنے اہلِ بیت فرزندوں اور شیعوں کی ایک جماعت کے ساتھ نہایت انکساری اور خضوع کے عالم میں اور پہاڑ کے بائیں جانب کھڑے ہو گئے اور کعبہ کی طرف رُخ کر کےہاتھ کو چہرہ کے برابر بلند کیا اس مسکین کی طرف جو کھانا طلب کر رہاہو اور پھر یہ دعا پڑھی۔</font>)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ لَيْسَ لِقَضَاۤئِهِ دَافِعٌ
حمد ہے خدا کے لیے جس کے فیصلے کو کوئی بدلنے والا نہیں
وَلَا لِعَطَاۤئِهِ مَانِعٌ
اور کوئی اس کی عطا روکنے والا نہیں
وَلَا كَصُنْعِهِ صُنْعُ صَانِعٍ
اور نہ کوئی اس کی جیسی کوئی شئے ایجاد کر سکتا ہے۔
وَهُوَ الْجَوَادُ الْوَاسِعُ
اور وہ کشادگی کے ساتھ دینے والا ہے
فَطَرَ اَجْنَاسَ الْبَدَاۤئِعِ
اس نے بے مثال چیزیں ایجاد کی ہیں
وَاَتْقَنَ بِحِكْمَتِهِ الصَّنَاۤئِعَ
اور اپنی حکمت کاملہ سے ہر صنعت کو محکم بنایا ہے۔
لَا تَخْفٰى عَلَيْهِ الطَّلَايِـعُ
زمانہ کی ایجاد اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں
وَلَا تَضِيْعُ عِنْدَهُ الْوَدَاۤئِعُ
اور امانتیں اس کی بارگاہ میں ضائع نہیں ہوتیں۔
جَازِىْ كُلِّ صَانِعٍ
ہر عمل کرنے والے کو جزا دینے والا،
وَرَاۤئِشُ كُلِّ قَانعٍ
ہر قناعت کرنے والے کو صلہ عطا کرنے والا
وَرَاحِمُ كُلِّ ضَارِعٍ
اور ہر فریاد کرنے والے پر رحم کھانے والا ہے۔
مُنْزِلُ الْمَنَافِعِ
منافع کا نازل کرنے والا
وَالْكِتَابِ الْجَامِعِ بِالنُّوْرِ السَّاطِعِ
اور روشن و تانباک نور کے ساتھ کتاب جامع کا اتارنے والا ہے۔
وَ هُوَ لِلدَّعَوَاتِ سَامِعٌ
ہر ایک کی دعا سننے والا،
وَلِلْكُرُبَاتِ دَافِعٌ
ہر ایک کے رنج کو دفع کرنے والا
وَلِلدَّرَجَاتِ رَافِعٌ،
درجات کا بلند کرنے والا
وَلِلْجَبَابِرَةِ قَامِعٌ
اور جباروں کا قلع قمع کرنے والا ہے۔
فَلَا اِلٰهَ غَيْرُهُ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں
وَلَا شَىْءَ يَعْدِلُهُ
اس کا کوئی ہمسر نہیں۔
وَلَيْسَ كَمِثْلِهِ شَىْءٌ
وہ بے مثال،
وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ
ہر ایک کی سننے والا،
اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ
ہر چیز کا دیکھنے والا
وَهُوَ عَلٰى كُلِّشَىْءٍ قَدِيْرٌ
اور ہر شئے پر قدرت رکھنے والا ہے
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَرْغَبُ اِلَيْكَ
خدایا میں تیری طرف متوجہ ہوں
وَاَشْهَدُ بِالرُّبُوْبِيَّةِ لَكَ
اور تیری ربوبیت کی گواہی دیتا ہوں۔
مُقِرًّا بِاَنَّكَ رَبِّىْ
مجھے اقرار ہے کہ تو میرا پروردگار ہے۔
وَ اِلَيْكَ مَرَدِّىْ
تیری بارگاہ میں مجھے پلٹ کر آنا ہے۔
اِبْتَدَاْتَنِىْ بِنِعْمَتِكَ
تو نے مجھ پر اس وقت انعامات شروع کیے ہیں
قَبْلَ اَنْ اَكُوْنَ شَيْئًا مَذْكُوْرًا
جب میں کوئی قابلِ ذکر شئے نہ تھا۔
وَخَلَقْتَنِىْ مِنَ التُّرَابِ
مجھے خاک سے پیدا کیا،
ثُمَّ اَسْكَنْتَنِىْ الْاَصْلَابَ
مختلف صلبوں سے گذارا
اٰمِنًا لِرَيْبِ الْمَنُوْنِ
زمانے کے حوادث،
وَاخْتِلَافِ الدُّهُوْرِ وَالسِّنِيْنَ،
دہر کے اختلاف، سن و سال کی تغیرات و انقلابات سے محفوظ رکھا
فَلَمْ اَزَلْ ظَاعِنًا مِنْ صُلْبٍ اِلٰى رَحِمٍ
میرا سفر ایک مدّت تک اصلاب سے ارحام کی طرف جاری رہا
فِىْ تَقَادُمٍ مِنَ الْاَيَّامِ الْمَاضِيَةِ
ان دنوں میں جو گزرے ہیں
وَالْقُرُوْنِ الْخَالِيَةِ
اور ان صدیوں میں جو بیت چکے ہیں
لَمْ تُخْرِجْنِىْ لِرَاْفَتِكَ بِىْ
یہ تیرا کرم ہوا کہ تو نے اس دنیا میں بھیج دیا
وَلُطْفِكَ لِىْ
اور تمام لطف
وَاِحْسَانِكَ اِلَىَّ
و احسان کی بنا پر
فِىْ دَوْلَةِ اَئِمَّةِ الْكُفْرِ
ان سربراہانِ کفر کی حکومت میں نہیں بھیجا
الَّذِيْنَ نَقَضُوْا عَهْدَكَ
جنھوں نے تیرے عہد کو توڑا
وَكَذَّبُوْا رُسُلَكَ
اور تیرے رسولوں کو جھٹلایا
لٰكِنَّكَ اَخْرَجْتَنِىْ لِلَّذِىْ سَبَقَلِىْ مِنَ الْهُدَى
بلکہ اس ماحول میں بھیجا جہاں آسان ہدایت کے انتظامات تھے
الَّذِىْ لَهُ يَسَّرْتَنِىْ
اور پھر اسی میں میری
وَفِيْهِ اَنْشَاءْتَنِىْ
نشو و نما کا انتظام کیا۔
وَمِنْ قَبْلِ ذٰلِكَ رَؤُفْتَ بِىْ
اس خلقت و تربیت سے پہلے بھی
بِجَمِيْلِ صُنْعِكَ
تیرا بہترین برتاؤ
وَسَوَابِـغِ نِعَمِكَ
اور کامل ترین انعام یہ تھا کہ
فَابْتَدَعْتَ خَلْقِىْ مِنْ مَنِىٍّ يُمْنٰى
تو نے ایک قطرۂ نجس سے بنایا
وَاَسْكَنْتَنِىْ فِىْ ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ
اور کھال کے درمیان تین تین پردوں میں رکھا
بَيْنَ لَحْمٍ وَدَمٍ وَجِلْدٍ،
یعنی گوشت خون اور جلد کے نیچے
لَمْ تُشْهِدْنِىْ خَلْقِىْ
اور خود مجھے بھی میری خلقت سے آگاہ نہ کیا
وَلَمْ تَجْعَلْ اِلَىَّ شَيْئًا مِنْ اَمْرِىْ
میرے معاملات کو اپنے ہاتھوں میں رکھا
ثُمَّ اَخْرَجْتَنِىْ لِلَّذِىْ سَبَقَ لِىْ مِنَ الْهُدٰى
اور مجھے میرے حال پر نہیں چھوڑ دی۔ اب جو تونے دنیا میں بھیجا تو ہدایت و رہنمائی
اِلَى الدُّنْيَا تآمًّا سَوِيًّا
کے سارے انتظامات کے ساتھ مکمل برابر کامل الخلقت پیدا کیا۔
وَحَفِظْتَنِىْ فِى الْمَهْدِ طِفْلًا صَبِيًّا
میں گہوارہ میں بچہ رہا تو تو نے حفاظت کا انتظام کیا
وَرَزَقْتَنِىْ مِنَ الْغِذَاۤءِ لَبَنًا مَرِيًّا
غذا کے لیے تازہ دودھ فراہم کیا۔
وَعَطَفْتَ عَلَىَّ قُلُوْبَ الْحَوَاضِنِ
پالنے والی عورتوں کو مہربان بنادیا۔
وَكَفَّلْتَنِىْ الْاُمَّهَاتِ الرَّوَاحِمَ
رحم دل ماؤں کو کفیل اور نگراں بنا دیا
وَكَلَاْتَنِىْ مِنْ طَوَارِقِ الْجَآنِّ
جنّات کے آسیب سے محفوظ رکھا
وَسَلَّمْتَنِىْ مِنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ
زیادتی اور کمی سے بچائے رکھا
فَتَعَالَيْتَ يَا رَحِيْمُ يَا رَحْمٰنُ
بے شک اے خدائے رحیم و کریم تیری ہستی بہت بلند و برتر ہے۔
حَتّٰى اِذَا اسْتَهْلَلْتُ نَاطِقًا بِالْكَلَامِ،
اس کے بعد جب میں بولنے کے لائق ہوا
اَتْمَمْتَ عَلَىَّ سَوَابغَ الْاِ نْعَامِ
تو تو نے اور مکمل نعمتیں دیں
وَرَبَّيْتَنِىْ زَاۤئِدًا فِى كُلِّ عَامٍ
اور تربیت کے ذریعہ ہر سال مجھے آگے بڑھایا
حَتّٰىۤ اِذَا اكْتَمَلَتْ فِطْرَتِىْ
یہاں تک کہ جب میری فطرت کامل ہو گئی
وَاعْتَدَلَتْ مِرَّتِىْۤ
اور میرے قویٰ مضبوط ہوگئے
اَوْجَبْتَ عَلَىَّ حُجَّتَكَ
تو تو نے مجھ پر اپنی حجّت کو لازم قرار دے دیا۔
بِاَنْ اَلْهَمْتَنِىْ مَعْرِفَتَكَ
مجھے معرفت کا الہام کیا
وَرَوَّعْتَنِىْ بِعَجَاۤئِبِ حِكْمَتِكَ
اپنی حکمت کے عجائبات سے مدہوش بنایا
وَاَيْقَظْتَنِىْ لِمَا ذَرَاْتَ فِىْ سَمَاۤئِكَ وَاَرْضِكَ
اور مجھے بیدار مغز بنا دیا زمین و آسمان کی عجیب ترین
مِنْ بَدَاۤئِعِ خَلْقِكَ
مخلوقات کے سمجھنے کے لیے
وَنَبَّهْتَنِىْ لِشُكْرِكَ وَذِكْرِكَ
اور پھر اپنی یاد اپنے شکریہ
وَاَوْجَبْتَ عَلَىَّ طَاعَتَكَ وَعِبَادَتَكَ
اور اپنی اطاعت کے لیے ہوشیار کر دیا
وَفَهَّمْتَنِىْ مَا جَاۤءَتْ بِهِ رُسُلُكَ
اور اتنی صلاحیت دی کہ رسولوں کے پیغام کو سمجھ سکوں۔
وَيَسَّرْتَ لِىْ تَقَبُّلَ مَرْضَاتِكَ
اتنی آسانی فراہم کی کہ تیری مرضی کی باتوں کو قبول کر سکوں
وَمَنَنْتَ عَلَىَّ فِىْ جَمِيْعِ ذٰلِكَ
اور پھر محروم نہیں رکھا ان سب مواقع پر اپنی مدد
بِعَوْنِكَ وَلُطْفِكَ
اپنے لطف و کرم و احسان سے
ثُمَّ اِذْ خَلَقْتَنِىْ مِنْ خَيْرِ الثَّرٰى،
مجھے بہترین مٹی سے پیدا کیا
لَمْ تَرْضَ لِىْ يَا اِلٰهِىْ نِعْمَةً دُوْنَ اُخْرٰى
اور پھر اسی ایک نعمت پر اکتفا نہیں کی
وَرَزَقْتَنِىْ مِنْ اَنْوَاعِ الْمَعَاشِ
بلکہ طرح طرح کی غذائیں دیں۔
وَصُنُوْفِ الرِّيَاشِ
قسم قسم کے لباس دیئے۔
بِمَنِّكَ الْعَظِيْمِ الْاَعْظَمِ عَلَىَّ
تیرا احسان مجھ پر عظیم
وَاِحْسَانِكَ الْقَدِيْمِ اِلَىَّ
اور تیرا لطف قدیم ہے
حَتّٰىۤ اِذَاۤ اَتْمَمْتَ عَلَىَّ جَمِيْعَ النِّعَمِ
پھر جب ساری نعمتوں کو مکمل کردیا
وَصَرَفْتَ عَنِّىْ كُلَّ النِّقَمِ
اور ساری بلاؤں کو دفع کر دیا
لَمْ يَمْنَعْكَ جَهْلِىْ وَجُرْاَتِىْ عَلَيْكَ
تو بھی میری جہالت و میری جسارت تجھے کرم سے روک نہیں سکی
اَنْ دَلَلْتَنِىْۤ اِلٰى مَا يُقَرِّبُنِىْۤ اِلَيْكَ
اور تو نے اس راستے کی راہنمائی کی جو تجھ سے قریب تر بنا سکے۔
وَوَفَّقْتَنِىْ لِمَا يُزْلِفُنِىْ لَدَيْكَ
اور ان اعمال کی توفیق دی جو تیری بارگاہ میں تقرب کا باعث بن سکیں
فَاِنْ دَعَوْتُكَ اَجَبْتَنِىْ
اور جب دعا کرتا ہوں تو تو قبول کر لیتا ہے
وَاِنْ سَئَلْتُكَ اَعْطَيْتَنِىْ
اور جب سوال کرتا ہوں تو عطا کر دیتا ہے۔
وَاِنْ اَطَعْتُكَ شَكَرْتَنِىْ
جب اطاعت کرتا ہوں تو شکریہ ادا کرتا ہے
وَاِنْ شَكَرْتُكَ زِدْتَنِىْ،
اور جب شکریہ ادا کرتا ہوں تو مزید دے دیتا ہے۔
كُلُّ ذٰلِكَ اِكْمَالٌ لِاَنْعُمِكَ عَلَىَّ
یہ سب درحقیقت تیرے احسانات
وَاِحْسَانِكَ اِلَىَّ
و انعامات کی تکمیل ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
فَسُبْحَانَكَ سُبْحَانَكَ
تو پاک بے نیاز
مِنْ مُبْدِئٍ مُعِيْدٍ
پیدا کرنے والا واپس لے جانے والا
حَمِيْدٍ مَجِيْدٍ
قابل حمد وثناء مالک مجد و بزرگی ہے۔
تَقَدَّسَتْ اَسْمَاۤؤُكَ
تیرے نام پاکیزہ
وَعَظُمَتْ اٰلَاۤؤُكَ
اور تیری نعمتیں عظیم ہیں۔
فَاَىُّ نِعَمِكَ يَاۤ اِلٰهِىْۤ اُحْصِىْ عَدَدًا وَذِكْرًا؟
خدایا میں تیری کن کن نعمتوں کا شمار کروں اور کسے کسے یاد رکھ سکوں،
اَمْ اَىُّ عَطَايَاكَ اَقُوْمُ بِهَا شُكْرًا
تیرے کس کس عطیے کا شکریہ ادا کروں
وَهِىَ يَا رَبِّ اَكْثَرُ مِنْ اَنْ يُحْصِيَهَا الْعَآدُّوْنَ
جب کہ ساری نعمتیں بڑے بڑے شمار کرنے والوں کے احصاء سے بالاتر
اَوْ يَبْلُغَ عِلْمًا بِهَا الْحَافِظُوْنَ
اور بڑے بڑے حافظہ والوں کے علم کی رسائی سے بلند تر ہیں۔
ثُمَّ مَا صَرَفْتَ وَدَرَاْتَ عَنِّىْ
اس کے علاوہ مجھ سے ٹالا ہے جن نقصانات،
اَللّٰهُمَّ مِنَ الضُرِّ وَالضَّرَّاۤءِ
مصائب اور بلاؤں کو
اَكْثَرُ مِمَّا ظَهَرَ لِىْ مِنَ الْعَافِيَةِ وَالسَّرَّاۤءِ
وہ اس عافیت و مسرت سے کہیں زیادہ اہم ہیں جن کا میں نے مشاہدہ کیا ہے اور جو میری نظروں کے سامنے ہیں۔
وَاَنَا اَشْهَدُ يَاۤ اِلٰهِىْ بِحَقِيْقَةِ اِيْمَانِىْ،
پروردگار میں اپنے ایمان کی حقیقت،
وَعَقْدِ عَزَمَاتِ يَقِيْنِىْ
اپنے یقین محکم،
وَخَالِصِ صَرِيْحِ تَوْحِيْدِىْ
خالص اور واضح توحید
وَبَاطِنِ مَكْنُوْنِ ضَمِيْرِىْ
ضمیر کے پوشیدہ اسرار،
وَعَلَاۤئِقِ مَجَارِىْ نُوْرِ بَصَرِىْ
نور بصارت کی گذرگاہوں،
وَاَسَارِيْرِ صَفْحَةِ جَبِيْنِىْ
صفحہ پیشانی کے خطوط،
وَخُرْقِ مَسَارِبِ نَفْسِىْ
سانس کے گذرنے کے شگاف،
وَخَذَارِيْفِ مَارِنِ عِرْنِيْنِىْ
قوت شامہ کے خزانوں
وَمَسَارِبِ سِمَاخِ سَمْعِىْ
اور قوت سماعت تک آواز پہنچنے کے سوراخوں
وَمَا ضُمَّتْ وَاَطْبَقَتْ عَلَيْهِ شَفَتَاىَ
ہونٹوں کے اندر دبے ہوئے رموز،
وَحَرَكَاتِ لَفْظِ لِسَانِىْ
زبان کی حرکت سے نکلے ہوئے الفاظ،
وَمَغْرَزِ حَنَكِ فَمِىْ وَفَكِّىْ،
دہن کے اوپر اور نیچے کے جبڑوں کے ارتباط کی جگہوں،
وَمَنَابِتِ اَضْرَاسِىْ
داڑھ کے اگنے کے مقامات
وَمَسَاغِ مَطْعَمِىْ وَمَشْرَبِىْ
کھانے پینے کی سہولت کے راستے،
وَحِمَالَةِ اُمِّ رَاْسِىْ
اپنے سر میں دماغ کی قرارگاہ
وَبُلُوْعِ فَارِغِ حَبَاۤئِلِ عُنُقِىْ
اپنی گردن میں غذا کی نالیوں اور ان ہڈیوں
وَمَا اشْتَمَلَ عَليْهِ تَامُوْرُ صَدْرِىْ
جن سے سینہ کا گھیرا بنا ہے
وَحَمَاۤئِلِ حَبْلِ وَتِيْنِىْ
اپنے اندر لٹکی ہوئی شہ رگ
وَنِيَاطِ حِجَابِ قَلْبِىْ
اپنے دل میں آویزاں پردے
وَاَفْلَاذِ حَوَاشِىْ كَبِدِىْ
جگر کے ٹکڑوں کو جمع کرنے والے اجزاء پہلو،
وَمَا حَوَتْهُ شَرَاسِيْفُ اَضْلَاعِىْ
اپنی ایک دوسری سے ملی اور جھکی ہوئی پسلیوں
وَحِقَاقُ مَفَاصِلِىْ
اپنے جوڑوں کے حلقوں
وَقَبْضُ عَوَامِلِىْ
جوڑ بند قوائے عمل،
وَاَطْرَافُ اَنَامِلِىْ
اطراف انگشت کے محتویات و مشتملات،
وَلَحْمِىْ وَدَمِىْ
گوشت، خون
وَشَعْرِىْ وَبَشَرِىْ
اور بال، کھال،
وَعَصَبِىْ وَقَصَبِىْ
اعصاب، شرائین،
وَعِظَامِىْ وَمُخِّىْ وَعُرُوْقِىْ
استخوان، مغز، رگیں،
وَجَمِيْعُ جَوَارِحِىْ
اور تمام جوارح
وَمَا انْتَسَجَ عَلٰى ذٰلِكَ اَيَّامَ رِضَاعِىْ
اور دورانِ رضاعت و شیرخواری مرتّب ہونے والے اجزاء بدن
وَمَاۤ اَقَلَّتِ الْاَرْضُ مِنِّىْ
اور زمین نے جو میرے وجود کا بار اٹھا رکھا ہے
وَنَوْمِىْ وَيَقْظَتِىْ وَسُكُوْنِىْ
اور اپنی نیند، بیداری،
وَحَرَكَاتِ رُكُوْعِىْ وَسُجُوْدِىْۤ،
حرکات و سکنات، رکوع و سجود
اَنْ لَوْ حَاوَلْتُ وَاجْتَهَدْتُ مَدَى الْاَعْصَارِ
سب کے حوالے سے اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اگر میں ارادہ بھی کروں اور کوشش بھی کروں
وَالْاَحْقَابِ لَوْ عُمِّرْتُهَاۤ
کہ آخر زمانہ تک زندہ رہ کر
اَنْ اُؤَدِّىَ شُكْرَ وَاحِدَةٍ مِنْ اَنْعُمِكَ
تیری کسی ایک نعمت کا شکریہ ادا کروں تو یہ ناممکن ہے مگر یہ کہ
مَا اسْتَطَعْتُ ذٰلِكَ
تیرا احسان بھی شامل حال ہو جائے
اِلَّا بِمَنِّكَ الْمُوْجَبِ عَلَىَّ بِهِ شُكْرُكَ
مگر وہ خود بھی تو ایک شکریہ کا طلبگار ہے۔
اَبَدًا جَدِيْدًا
میرے اوپر ہر وقت ایک نیا احسان بھی شامل حال ہو جائے
وَثَنَاۤءً طَارِفًا عَتِيْدًا
اور جس سے ہر آن ایک نئے شکریہ کا تقاضا۔
اَجَلْ وَلَوْ حَرَصْتُ
بے شک میں کیا اگر میرے ساتھ تمام شمار کرنے والے
اَنَا وَالْعَآدُّوْنَ مِنْ اَنَامِكَ
انسان شریک ہو کر
اَنْ نُحْصِىَ مَدٰۤى اِنْعَامِكَ
احسانات کی انتہا دریافت کرنا چاہیں
سَالِفِهِ وَ اٰنِفِهِ
چاہے وہ جدید و قدیم ہو
مَا حَصَرْنَاهُ عَدَدًا
تو ہرگز اس کا شمار نہیں کر سکتے
وَلَا اَحْصَيْنَاهُ اَمَدً
اور نہ اس کی مدّت کا حساب کرسکتے
اهَيْهَاتَ اَنّٰى ذٰلِكَ
اوریہ ممکن بھی کس طرح ہوگا
وَاَنْتَ الْمُخْبِرُ فِىْ كِتَابِكَ النَّاطِقِ،
جب کہ تو نے خود اپنی کتاب ناطق
وَالنَّبَاۤءِ الصَّادِقِ
اور خبر صادق کے ذریعہ یہ اعلان کر دیا ہے
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوْهَا
کہ تم سب مل کر بھی میری نعمتوں کا شمار کرنا چاہو گے تو نہیں کرسکتے
صَدَقَ كِتَابُكَ اللّٰهُمَّ وَاِنْبَاۤؤُكَ
بے شک تیری کتاب صادق، تیری خبر سچّی اور تیرا بیان حق ہے۔
وَبَلَّغَتْ اَنْبِيَاۤؤُكَ وَرُسُلُكَ
تیرے انبیاء ومرسلین نے
مَا اَنْزَلْتَ عَلَيْهِمْ مِنْ وَحْيِكَ
تیری وحی اور
وَشَرَعْتَ لَهُمْ وَبِهِمْ مِنْ دِيْنِكَ
شریعت کو مکمل طریقہ سے پہنچایا ہے
غَيْرَ اَنِّىْ يَاۤ اِلَهِىْ
اور میں خود بھی اپنی
اَشْهَدُ بِجَهْدِىْ وَجِدِّىْ
کوشش، ہمت،جہد،
وَمَبْلَغِ طَاعَتِىْ وَوُسْعِىْ
اطاعت اور وسعت و امکان بھر
وَاٰقُوْلُ مُؤْمِنًا مُوْقِنًا
اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور اس پر اپنے ایمان و یقین کا اعلان کرتا ہوں کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا
ساری تعریف اس خدا کے لیے جس کا کوئی بیٹا نہیں
فَيَكُوْنَ مَوْرُوْثًا
کہ اس کی میراث کا مالک ہو جائے
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيْكٌ فِىْ مُلْكِهِ
کوئی شریک نہیں ہے
فَيُضَآدُّهُ فِيْمَا ابْتَدَعَ،
کہ ایجادات میں جھگڑا کرے
وَلَا وَلِىٌّ مِنَ الذُّلِّ
کوئی ولی و سرپرست نہیں ہے
فَيُرْفِدَهُ فِيْمَا صَنَعَ
کہ صنعت میں تعاون کرے
فَسُبْحَانَهُ سُبْحَانَهُ
وہ پاک و پاکیزہ اور بے نیاز ہے
لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا وَتَفَطَّرَتَا
اگر زمین و آسمان میں اس کے علاوہ کوئی بھی خدا ہوتا تو زمین و آسمان دونوں برباد ہو جاتے اور ٹوٹ پھوٹ کے برابر ہو جاتے
سُبْحَانَ اللهِ الْوَاحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ
وہ پاک و بےنیاز ایک اکیلا اور سب سے مستغنی ہے
الَّذِىْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ
نہ اس کا کوئی باپ ہے
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ
نہ بیٹا اور نہ ہمسر۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا يُعَادِلُ حَمْدَ مَلَاۤئِكَتِهِ الْمُقَرَّبِيْنَ
میں اس کی حمد کا اعلان کرتا ہوں جو ملائکہ مقربین
وَاَنْبِيَاۤئِهِ الْمُرْسَلِيْنَ
اور انبیاء جو مرسلین کی حمد کے برابر ہو
وَصَلَّى اللهُ عَلٰى خِيَرَتِهِ
خدا خیرالمرسلین
مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ ؐ
وَاٰلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنَ الْمُخْلَصِيْنَ وَسَلَّمَ
اور ان کی آل طیبین طاہرین پر رحمتیں نازل فرمائے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِىْۤ اَخْشَاكَ كَاَنِّىْۤ اَرَاكَ
خدایا مجھے ایسا بنا دے کہ میں تجھ سے اس طرح ڈروں جیسے تجھے دیکھ رہا ہوں۔
وَاَسْعِدْنِىْ بِتَقْوٰيكَ
اپنے تقویٰ سے میری امداد فرما
وَلَا تُشْقِنِىْ بِمَعْصِيَتِكَ
اور معصیت سے مجھے شقی و بدبخت نہ بنانا
وَخِرْلِىْ فِىْ قَضَاۤئِكَ
اپنے فیصلہ کو میرے حق میں بہتر قرار دے
وَبَارِكْ لِىْ فِىْ قَدَرِكَ
اور اپنے مقدّرات کو میرے لیے مبارک بنادے
حَتّٰى لَاۤ اَحِبَّ تَعْجِيْلَ مَاۤ اَخَّرْتَ
تا کہ جس چیز کو تو نے دیر میں رکھا ہے اس کی جلدی نہ کروں
وَلَا تَاْخِيْرَ مَا عَجَّلْتَ
اور جس چیز کو مقدّم کردیا ہے اس کی تاخیر نہ چاہوں۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ غِنَاىَ فِىْ نَفْسِىْ
خدایا مجھے دل کا غنی بنا دے۔
وَالْيَقِيْنَ فِىْ قَلْبِىْ
میرے نفس میں یقین
وَالْاِخْلَاصَ فِىْ عَمَلِىْ
عمل میں اخلاص،
وَالنُّوْرَ فِىْ بَصَرِىْ
بصارت میں نور
وَالْبَصِيْرَةَ فِى دِيْنِىْ
اور دین میں بصیرت عطا فرما۔
وَمَتِّعْنِىْ بِجَوَارِحِىْ
میرے لیے اعضاء و جوارح کو مفید قرار دے
وَاجْعَلْ سَمْعِىْ وَبَصَرِىْ الْوَارِثِيْنِ مِنِّىْ
اور سماعت و بصارت کو میرا وارث بنا دے۔
وَانْصُرْنِىْ عَلٰى مَنْ ظَلَمَنِىْ
ظلم کرنے والوں کے مقابلہ میں میری مدد فرما
وَاَرِنِىْ فِيْهِ ثَارِىْ وَمَاَرِبِىْ
اور ان سے میرا انتقام میری نظروں کے سامنے لے لے
وَاَقِرَّ بِذٰلِكَ عَيْنِىْ
تا کہ میری آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔
اَللّٰهُمَّ اكْشِفْ كُرْبَتِىْ
خدایا میرے رنج کو دور فرما۔
وَاسْتُرْ عَوْرَتِىْ
میرے مخفی امور کی پردہ پوشی فرما،
وَاغْفِرْ لِىْ خَطِيْۤئَتِىْ
میری خطاؤں کو بخش دے۔
وَاخْسَاْ شَيْطَانِىْ
شیطان کو مجھ سے دور رکھ۔
وَفُكَّ رِهَانِىْ،
میری گرفتاریوں میں رہائی عطا فرما
وَاجْعَلْ لِىْ يَاۤ اِلٰهِىْ الدَّرَجَةَ الْعُلْيَا
اور مجھے بلند ترین درجات پر فائز فرما
فِى الْاٰ خِرَۃِ وَالْاُوْلٰى
دنیا وآخرت میں
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا خَلَقْتَنِىْ
خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے پیدا کیا
فَجَعَلْتَنِىْ سَمِیْعًا بَصِیْرًا
تو سماعت و بصارت سمیت پیدا کیا۔
وَلَكَ الْحَمْدُ كَمَا خَلَقْتَنِىْ
تیرا شکر کہ تو نے خلق کیا
فَجَعَلْتَنِىْ خَلْقًا سَوِیًّا رَحْمَهً بِىْ
تو تام وکامل خلق کیا، یہ صرف تیری رحمت ہے
وَقَدْ كُنْتَ عَنْ خَلْقِىْ غَنِیًّا
ورنہ تو میری تخلیق سے بے نیاز تھا۔
رَبِّ بِمَا بَرَاْتَنِىْ فَعَدَلْتَ فِطْرَتِىْ
خدایا جس طرح تو نے تخلیق میں خلقت کو معتدل بنایا ہے
رَبِّ بِمَاۤ اَنْشَاْتَنِىْ فَاَحْسَنْتَ صُوْرَتِىْ
اور تصویر میں صورت کو حسین اور متناسب بنایا ہے۔
رَبِّ بِمَاۤ اَحْسَنْتَ اِلَىَّ وَفِىْ نَفْسِىْ عَافَیْتَنِىْ
مجھ پر احسان کر کے میرے نفس میں عافیت عطا کی ہے
رَبِّ بِمَا كَلَاْتَنِىْ وَوَفَّقْتَنِىْ
مجھے محفوظ رکھا ہے اور توفیق کرامت فرمائی ہے
رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَىَّ فَهَدَیْتَنِىْ
مجھ پر انعام کیا ہے اور مجھے ہدایت دی،
رَبِّ بِمَاۤ اَوْلَیْتَنِىْ وَمِنْ كُلِّ خَیْرٍ اَعْطَیْتَنِىْ
مجھے احسان کے قابل بنایا ہے اور ہر خیر کا ایک حصّہ عطا کیا ہے۔
رَبِّ بِمَاۤ اَطْعَمْتَنِىْ وَسَقَیْتَنِىْ
مجھے کھانا کھلایا ہے اور پانی پلایا ہے۔
رَبِّ بِمَاۤ اَغْنَیْتَنِىْ وَاَقْنَیْتَنِىْ
مجھے بے نیاز بنایا ہے اور سرمایہ و عزّت عطا کی ہے میری مدد کی ہے۔
رَبِّ بِمَاۤ اَعَنْتَنِىْ وَاَعْزَزْتَنِىْ،
مجھے معزّز بنایا ہے، مجھے اپنے خاص کرامت سے
رَبِّ بِمَاۤ اَلْبَسْتَنِىْ مِنْ سِتْرِكَ الصَّافِىْ
ستر پوشی کرنے والا لباس دیا ہے
وَیَسَّرْتَ لِىْ مِنْ صُنْعِكَ الْكَافِىْ
اور اپنی مخصوص رحمت سے مشکلات کو آسان بنایا ہے۔
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا تو اب محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَعِنِّىْ عَلٰى بَوَاۤئِقِ الدُّهُوْرِ
اور زمانے کی مہلکات
وَصُرُوْفِ اللَّیَالِىْ وَالْاَیَّامِ
اور روز و شب کے تصرّفات کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔
وَنَجِّنِىْ مِنْ اَهْوَالِ الدُّنْیَا
دنیا کے ہولناک مواقع
وَكُرُبَاتِ الْاٰ خِرَۃِ
اور آخرت کے رنج افزاء مراحل سے نجات عطا فرما
وَاكْفِنِىْ شَرَّ مَا یَعْمَلُ الظَّالِمُوْنَ فِى الْاَرْضِ
اور روئے زمین کے ظالموں کی تدبیروں سے محفوظ فرما۔
اَللّٰهُمَّ مَا اَخَافُ فَاكْفِنِىْ
خدایا جس چیز کا مجھے خوف ہے اس کے لیے کفایت فرما
وَمَاۤ اَحْذَرُ فَقِنِىْ
اور جس چیز سے پرہیز کرتا ہوں اس سے بچالے۔
وَفِىْ نَفْسِىْ وَدِیْنِىْ فَاحْرُسْنِىْ
میرے نفس اور دین میں میری حراست فرما
وَفِىْ سَفَرِىْ فَاحْفَظْنِىْ
اور میرے سفر میں میری حفاظت کر،
وَفِىْۤ اَهْلِىْ وَمَالِىْ فَاخْلُفْنِىْ
اہل و مال کی کمی پوری فرما
وَفِیْمَا رَزَقْتَنِىْ فَبَارِكْ لِىْ
اور جو رزق دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔
وَفِىْ نَفْسِىْ فَذَلِّلْنِىْ
مجھے خود میرے نزدیک ذلیل بنا دے
وَفِىْۤ اَعْیُنِ النَّاسِ فَعَظِّمْنِىْ
اور لوگوں کی نگاہوں میں صاحبِ عزّت قرار دے
وَمِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فَسَلِّمْنِىْ
جنّ و انس کے شر سے صحیح و سالم رکھنا
وَبِذُنُوْبِىْ فَلَا تَفْضَحْنِىْ
اور گناہوں کی بنا پر مجھے رسوا نہ کرنا۔
وَبِسَرِیْرَتِىْ فَلَا تُخْزِنِىْ
میرے اسرار کو بے نقاب نہ فرمانا
وَبِعَمَلِىْ فَلَا تَبْتَلِنِىْ
اور میرے اعمال میں مجھے مبتلا نہ کرنا۔
وَنِعَمَكَ فَلَا تَسْلُبْنِىْ
جو نعمتیں دے دی ہے انھیں واپس نہ لینا
وَاِلٰى غَیْرِكَ فَلَا تَكِلْنِىْۤ
اور اپنے علاوہ کسی غیر کے حوالے نہ کرنا۔
اِلٰهِىْۤ اِلٰى مَنْ تَكِلُنِىْۤ
خدایا تو مجھے اپنے علاوہ کس کے حوالے کرے گا،
اِلٰى قَرِیْبٍ فَیَقْطَعُنِىْۤ
اقرباء کے حوالے کرے گا کہ قطع تعلق کر لیں
اَمْ اِلٰى بَعِیْدٍ فَیَتَجَهَّمُنِىْ
یا دور والوں کے سپرد کرے گا کہ حملہ آور ہو جائیں
اَمْ اِلَى الْمُسْتَضْعَفِیْنَ لِىْ
یا مجھے کمزور بنا دینے والوں کے حوالے کر دے گا
وَاَنْتَ رَبِّىْ وَمَلِیْكُ اَمْرِىْۤ
کہ جب کہ تو ہی میرا رب اور میرے امور کا مالک ہے۔
اَشْكُوْ اِلَیْكَ غُرْبَتِىْ وَبُعْدَ دَارِىْ
خدایا میں تجھ سے اپنی غربت، وطن سے دوری
وَهَوَانِىْ عَلٰى مَنْ مَلَّكْتَهُ اَمْرِىْۤ
اور صاحبانِ اختیار کی نگاہوں میں اپنی ذلّت کی فریاد کرتا ہوں۔
اِلٰهِىْ فَلَا تُحْلِلْ عَلَىَّ غَضَبَكَ
خدایا مجھ پر اپنا غضب نازل نہ فرمانا کہ
فَاِنْ لَمْ تَكُنْ غَضِبْتَ عَلَىَّ فَلَاۤ اُبَالِىْ سِوَاكَ
تو نے غضب سے آزاد کردیا تو مجھ کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔
سُبْحَانَكَ غَیْرَ اَنَّ عَافِیَتَكَ اَوْسَعُ لِىْ
تو پاک و بے نیاز ہے اور تیری عافیت میرے لیے بہت وسیع ہے۔
فَاَسْئَلُكَ یَا رَبِّ بِنُوْرِ وَجْهِكَ
پروردگار میں تیرے روئے روشن کے واسطہ سے
الَّذِىْۤ اَشْرَقَتْ لَهُ الْاَرْضُ وَالسَّمٰوَاتُ
جس نے زمین و آسمان کو منوّر کردیا ہے
وَكُشِفَتْ بِهِ الظُّلُمَاتُ،
اور ظلمتوں کو کافور بنا دیا ہے
وَصَلَحَ بِهِ اَمْرُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰ خِرِیْنَ
اور اوّلین و آخرین کے امور کی اصلاح کردی ہے
اَنْ لَا تُمِیْتَنِىْ عَلٰى غَضَبِكَ
یہ سوال کرتا ہوں کہ میری موت تیرے غضب کے عالم میں نہ ہو
وَلَا تُنْزِلَ بِىْ سَخَطَكَ
اور مجھ پر تیری ناراضگی کا نزول نہ ہو
لَكَ الْعُتْبٰى لَكَ الْعُتْبٰى
میں بار بار گذارش کرتا ہوں کہ عذاب نازل ہونے سے پہلے مجھ سے راضی ہو
حَتّٰى تَرْضٰى قَبْلَ ذٰلِكَ
اور اپنی ناراضگی کو لطف و کرم سے تبدیل کر دے
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرَامِ
تو شہر محترم
وَالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ
مشعر الحرام
وَالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ
اور اس عذاب سے آزاد کرانے والے قدیم ترین گھر کا مالک ہے
الَّذِىْۤ اَحْلَلْتَهُ الْبَرَكَۃَ
جسے تو نے برکتوں سے بھر دیا ہے
وَجَعَلْتَهُ لِلنَّاسِ اَمْنًا
اور لوگوں کے لیے جائے امن بنا دیا ہے۔
یَا مَنْ عَفَا عَنْ عَظِیْمِ الذُّنُوْبِ بِحِلْمِهِ
اے خدا جس نے اپنے حلم سے عظیم ترین گناہوں کو معاف کیا ہے
یَا مَنْ اَسْبَغَ النَّعْمَاۤءَ بِفَضْلِهِ
اور اپنے فضل و کرم سے مکمل ترین نعمتیں عطا کی ہیں۔
یَا مَنْ اَعْطَى الْجَزِیْلَ بِكَرَمِهِ
اے خدا جس نے اپنے کرم سے بہت کچھ عطا فرمایا ہے۔
یَا عُدَّتِىْ فِىْ شِدَّتِىْ
اے سختی کے وقت میری مدد پر آمادہ
یَا صَاحِبِىْ فِىْ وَحْدَتِىْ
اے تنہائی کے ہنگام میرے ساتھی
یَا غِیَاثِىْ فِىْ كُرْبَتِىْ
اے مشکل میں میرے فریاد رس
یَا وَلِیِّىْ فِىْ نِعْمَتِىْ
اے مجھے نعمت دینے والے مالک
یَا اِلٰهِىْ وَاِلٰهَ اٰبَاۤئِىْۤ
اے میرے معبود، میرے اور میرے بزرگانِ خاندان
اِبْرَاهِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ
ابراہیمؑ و اسماعیلؑ
وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ
اور اسحاقؑ و یعقوب کے مالک،
وَرَبَّ جَبْرَئِیْلَ وَمِیْكَاۤئِیْلَ وَاِسْرَافِیْلَ
جبرئیل و میکائیل و اسرافیل
وَرَبَّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اور خاتم النبیین محمد مصطفےٰ ؐ
وَ اٰلِهِ الْمُنْتَجَبِیْنَ
اور ان کی آل طیبین و طاہرینؑ کے پروردگار،
وَمُنَزِّلَ التَّوْرٰیۃِ وَالْاِ نْجِیْلِ
توریت اور انجیل
وَالزَّبُوْرِ وَالْفُرْقَانِ
و زبور و قرآن کو نازل کرنے والے۔
وَمُنَزِّلَ كٓهٰیٰعٓصٓ وَطٰهٰ وَیٰسٓ
کٰہٓیٰعٓصٓ وطٰہٰ و یٰسٓ
وَالْقُراٰنِ الْحَكِیْمِ
اور قرآن حکیم کے عرش سے اتارنے والے
اَنْتَ كَهْفِىْ حِیْنَ تُعْیِیْنِى الْمَذَاهِبُ فِىْ سَعَتِهَا
تو اس وقت بھی میری پناہ ہے جب وسیع ترین راستے بھی مشکل ہو جائیں
وَتَضِیْقُ بِىَ الْاَرْضُ بِرُحْبِهَا
اور بے پناہ وسعتیں رکھنے والی زمین بھی تنگ ہو جائے
وَلَوْلَا رَحْمَتُكَ لَكُنْتُ مِنَ الْهَالِكِیْنَ
تیری رحمت نہ ہوتی تو میں ہلاک ہو جاتا
وَاَنْتَ مُقِیْلُ عَثْرَتِىْ
تو گرتے ہوئے کو سہارا دینے والا ہے۔
وَلَوْلَا سَتْرُكَ اِیَّاىَ لَكُنْتُ مِنَ الْمَفْضُوْحِیْنَ
تیری پردہ پوشی نہ ہوتی تو میں رسوا ہو جاتا
وَاَنْتَ مُؤَیِّدِىْ بِالنَّصْرِ عَلٰىۤ اَعْدَاۤئِىْ
کہ تو دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کرنے والا ہے
وَلَوْلَا نَصْرُكَ اِیَّاىَ لَكُنْتُ مِنَ الْمَغْلُوْبِیْنَ
اور تیری کمک نہ ہوتی تو میں بالکل مغلوب ہو جاتا۔
یَا مَنْ خَصَّ نَفْسَهُ بِالسُّمُوِّ وَالرِّفْعَۃِ
اے خدا جس نے بلندی و رفعت کو اپنے لیے مخصوص رکھا ہے
فَاَوْلِیَاۤئُهُ بِعِزِّهِ یَعْتَزُّوْنَ
اور چاہنے والے اس کی عزّت سے صاحب عزّت بنے ہوئے ہیں۔
یَا مَنْ جَعَلَتْ لَهُ الْمُلُوْكُ نِیْرَ الْمَذَلَّۃِ عَلٰۤى اَعْنَاقِهِمْ
اے وہ خدا جس کے سامنے بادشاہوں نے ذلّت اور خاکساری کا طوق اپنی گردن میں ڈال رکھا ہے
فَهُمْ مِنْ سَطَوَاتِهِ خَاۤئِفُوْنَ،
اور اس کی ہیبت سے لرزہ بر اندام،
یَعْلَمُ خَاۤئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِىْ الصُّدُوْرُ
وہ آنکھوں کی خیانت کے اشاروں اور دل کے رازوں سے باخبر ہے
وَ غَیْبَ مَا تَاْتِىْ بِهِ الْاَزْمِنَۃُ وَالدُّهُوْرُ
اور اسے آنے والے زمانوں کی تمام حالات اور کیفیات کی اطلاع ہے۔
یَا مَنْ لَا یَعْلَمُ كَیْفَ هُوَ اِلَّا هُوَ
اے وہ خدا جس کے بارے میں کسی کو نہیں معلوم
یَا مَنْ لَا یَعْلَمُ مَا هُوَ اِلَّا هُوَ
کہ وہ کیا ہے اور کیسا ہے
یَا مَنْ لَا یَعْلَمُهُ اِلَّا هُوَ
کہ اس کا علم صرف اسی کے پاس ہے
یَا مَنْ كَبَسَ الْاَرْضَ عَلَى الْمَاۤءِ
اے زمین کو پانی پر روکنے والے
وَسَدَّ الْهَوَاۤءَ بِالسَّمَاۤءِ
اور ہوا کے راستوں کو آسمانوں سے بند کرنے والے
یَا مَنْ لَهُ اَكْرَمُ الْاَسْمَاۤءِ
اے وہ خدا جس کے نام بزرگ ترین ہے
یَا ذَاالْمَعْرُوْفِ الَّذِىْ لَا یَنْقَطِعُ اَبَدًا
اور جس کی نیکیاں ختم ہونے والی نہیں ہیں
یَا مُقَیِّضَ الرَّكْبِ لِیُوْسُفَ فِى الْبَلَدِ الْقَفْرِ
اے صحرائے بے آب و گیاہ میں یوسفؑ کے لیے قافلے کو روکنے والے
وَمُخْرِجَهُ مِنَ الْجُبِّ
اور انھیں کنویں سے نکال کر
وَجَاعِلَهُ بَعْدَ الْعُبُوْدِیَّۃِ مَلِكًا
غلامی کی کیفیت سے بادشاہت تک پہنچانے والے۔
یَا رآدَّهُ عَلٰى یَعْقُوْبَ
اے شدّت گریہ سے آنکھوں کے سفید ہوجانے کے بعد
بَعْدَ اَنِ ابْیَضَّتْ عَیْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ
انھیں یعقوؑب تک پلٹا دینے والے
یَا كاشِفَ الضُّرِّ وَالْبَلْوٰى عَنْ اَیُّوْبَ
اے ایوبؑ کی بلاؤں اور مصیبتوں کو دور کرنے والے
وَمُمْسِكَ یَدَىْ اِبْرٰهِیْمَ عَنْ ذَبْحِ ابْنِهِ
اے ابراہیمؑ کی ضعیفی میں ان کا ہاتھ پکڑ کر
بَعْدَ كِبَرِ سِنِّهِ وَفَنَاۤءِ عُمْرِهِ
ذبح کے امتحان سے روکنے والے
یَا مَنِ اسْتَجَابَ لِزَكَرِیَّا
اے زکریا کی دعا قبول کرکے
فَوَهَبَ لَهُ یَحْیٰى
یحییٰؑ جیسا فرزند عطا کرنے والے
وَلَمْ یَدَعْهُ فَرْدًا وَحِیْدًا
اور انھیں تنہائی و لاوارثی کی مصیبت سے بچانے والے۔
یَا مَنْ اَخْرَجَ یُوْنُسَ مِنْ بَطْنِ الْحُوْتِ
اے یونسؑ کو شکمِ ماہی سے نکالنے والے
یَا مَنْ فَلَقَ الْبَحْرَ لِبَنِىْۤ اِسْرَاۤئِیْلَ
اے سینۂ سمندر کو چاک کر کے بنی اسرائیل کو نجات دلانے والے
فَاَنْجَاهُمْ وَجَعَلَ فِرْعَوْنَ وَجُنُوْدَهُ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ
اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر دینے والے
یَا مَنْ اَرْسَلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ بَیْنَ یَدَىْ رَحْمَتِهِ
اپنی رحمتِ خاص سے ہواؤں کو خوشگوار موسم کی بشارت دے کر بھیجنے والے۔
یَا مَنْ لَمْ یَعْجَلْ عَلٰى مَنْ عَصَاهُ مِنْ خَلْقِهِ
اے اپنی گنہگار مخلوقات پر جلدی عذاب نہ کرنے والے
یَا مَنِ اسْتَنْقَذَ السَّحَرَۃَ مِنْ بَعْدِ طُوْلِ الْجُحُوْدِ
اور موسیٰؑ کے مقابلے میں آنے والے جادوگروں کو عذاب سے بچا لینے والے
وَقَدْ غَدَوْا فِىْ نِعْمَتِهِ
جب کہ انھوں نے بہت دنوں تک حقائق کا انکار کیا تھا
یَاْكُلُوْنَ رِزْقَهُ، وَیَعْبُدُوْنَ غَیْرَهُ
اور رزق خدا کھا کر غیر خدا کی عبادت کی تھی
وَقَدْ حَآدُّوْهُ وَنَآدُّوْهُ
اور اس کے رسولوں کی تکذیب کر کے
وَكَذَّبُوْا رُسُلَهُ
ان سے بر سر پیکار رہ چکے تھے۔
یَاۤ اَلله یَاۤ اَلله یَا بَدِىْۤءُ
اے اللہ اے اللہ اے بے مثل ایجاد کرنے والے
یَا بَدِیْعُ لَا نِدَّلَكَ
اور بے مثل پیدا کرنے والے تیرا کوئی جواب نہیں ہے
یَا دَاۤئِمًا لَا نَفَادَ لَكَ
اور تو ہمیشہ سے ہے تجھے فنا نہیں ہے
یَا حَیًّا حِیْنَ لَا حَىَّ
تو اس وقت بھی زندہ رہنے والا ہے جب کوئی ذی حیات نہ رہ جائے
یَا مُحْیِىَ الْمَوْتٰى
اے مُردہ کو زندہ کرنے والے
یَا مَنْ هُوَ قَاۤئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ
اور ہر نفس کے اعمال و افعال کی نگرانی کرنے والے
یَا مَنْ قَلَّ لَهُ شُكْرٰى فَلَمْ یَحْرِمْنِىْ
اے وہ خدا جس کا شکریہ میں نے بہت کم ادا کیا لیکن اس نے نعمتوں سے محروم نہیں رکھا ہے۔
وَعَظُمَتْ خَطِیْۤئَتِىْ فَلَمْ یَفْضَحْنِىْ
میری خطائیں بہت عظیم رہی ہیں لیکن اس نے رسوا نہیں کیا ہے
وَرَ اٰنِىْ عَلَى الْمَعَاصِىْ فَلَمْ یَشْهَرْنِىْ
مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھا ہے اور اسے مشہور نہیں کیا ہے
یَا مَنْ حَفِظَنِىْ فِىْ صِغَرِىْ
اس نے بچپنے میں بھی میری حفاظت کی
یَا مَنْ رَزَقَنِىْ فِىْ كِبَرِىْ
اور ضعیفی میں بھی مجھے رزق دیا ہے۔
یَا مَنْ اَیَادِیْهِ عِنْدِىْ لَا تُحْصٰى
اے وہ خدا جس کی نعمتیں میرے پاس بے شمار ہیں
وَنِعَمُهُ لَا تُجَازٰى
اور اس کے الطاف و مکارم ناقابل معاوضہ ہیں۔
یَا مَنْ عَارَضَنِىْ بِالْخَیْرِ وَالْاِحْسَانِ
اے وہ خدا جس نے میرا سامنا خیر و احسان کے ساتھ کیا
وَعَارَضْتُهُ بِالْاِسَاۤئَۃِ وَالْعِصْیَانِ
جب کہ میں نے اس کا مقابلہ برائی اور عصیان سے کیا ہے
یَا مَنْ هَدَانِىْ لِلْاِ یْمَانِ
اے وہ خدا جس نے مجھے ایمان کی ہدایت کی
مِنْ قَبْلِ اَنْ اَعْرِفَ شُكْرَ الْاِمْتِنَانِ
معرفت شکر احسان سے پہلے۔
یَا مَنْ دَعَوْتُهُ مَرِیْضًا فَشَفَانِىْ،
اے وہ خدا جسے مرض میں پکارا تو شفا دے دی
وَعُرْیَانًا فَكَسَانِىْ
برہنگی میں آواز دی تو لباس عطا فرما دیا
وَجَاۤئِعًا فَاَشْبَعَنِىْ
بھوک میں پکارا تو غذا دے دی
وَعَطْشَانً فَاَرْوَانِىْ
پیاس میں فریاد کی تو پانی پلا دیا
وَذَلِیْلًا فَاَعَزَّنِىْ
ذلّت میں پکارا تو عزّت دے دی،
وَجَاهِلًا فَعَرَّفَنِىْ
جہالت میں پکارا تو معرفت دے دی،
وَوَحِیْدًا فَكَثَّرَنِىْ
اکیلے میں آواز دی تو کثرت دے دی،
وَغَاۤئِبًا فَرَدَّنِىْ
غائب کے بارے میں التماس کی تو واپس پہنچا دیا،
وَمُقِلًّا فَاَغْنَانِىْ
غربت میں فریاد کی تو غنی بنا دیا،
وَمُنْتَصِرًا فَنَصَرَنِىْ
ظلم کے مقابلہ میں کمک مانگی تو عطا فرما دیا۔
وَغَنِیًّا فَلَمْ یَسْلُبْنِىْ
مالداری میں پکارا تو نعمت واپس نہیں کی
وَاَمْسَكْتُ عَنْ جَمِیْعِ ذٰلِكَ فَابْتَدَاَنِىْ
اور کچھ نہ مانگا تو از خود عطا کر دیا۔
فَلَكَ الْحَمْدُ وَالشُّكْرُ
پس شکر اور تعریف تیرے ہی لیے ہے،
یَا مَنْ اَقَالَ عَثْرَتِىْ
اے وہ خدا جس نے لغزشوں میں سہارا دیا
وَنَفَّسَ كُرْبَتِىْ
رنج و غم سے نجات دی،
وَاَجَابَ دَعْوَتِىْ
دعا کو قبول کیا،
وَسَتَرَ عَوْرَتِىْ
مخفی امور کی پردہ پوشی کی،
وَغَفَرَ ذُنُوْبِىْ
گناہوں کو معاف کیا
وَبَلَّغَنِىْ طَلِبَتِىْ
مقصد کو پورا کیا،
وَنَصَرَنِىْ عَلٰى عَدُوِّىْ
دشمنوں کے مقابلے میں میری مدد کی۔
وَاِنْ اَعُدَّ نِعَمَكَ وَمِنَنَكَ
میں تیری نعمتوں، تیرے احسانات اور تیری عظیم بخششوں کو
وَكَرَاۤئِمَ مِنَحِكَ لَاۤ اُحْصِیْهَا
شمار کرنا بھی چاہوں تو ہرگز شمار نہیں کر سکتا
یَا مَوْلَاىَ، اَنْتَ الَّذِىْ مَنَنْتَ
تو وہ ہے جس نے احسان کیا ہے
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَنْعَمْتَ
تو ہی وہ ہےجس نے انعام دیا ہے،
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَحْسَنْتَ
تو ہی وہ ہےجس نے لطف و احسان کیا ہے
اَنْتَ الَّذىْۤ اَجْمَلْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے جمال دیا،
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَفْضَلْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے بڑائی دی،
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَكْمَلْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے کمال عطا کیا،
اَنْتَ الَّذِىْ رَزَقْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے روزی دی،
اَنْتَ الَّذِىْ وَفَّقْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے توفیق دی ہے۔
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَعْطَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے عطا کیا ہے،
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَغْنَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے غنی بنایا ہے،
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَقْنَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے منتخب نعمتیں عطا کی ہیں،
اَنْتَ الَّذِىْ اَوَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے پناہ دی،
اَنْتَ الَّذِىْ كَفَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے کفایت کی،
اَنْتَ الَّذِىْ هَدَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے ہدایت کی،
اَنْتَ الَّذِىْ عَصَمْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے محفوظ رکھا،
اَنْتَ الَّذِىْ سَتَرْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے پردہ پوشی کی،
اَنْتَ الَّذِىْ غَفَرْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے مغفرت کی ہے
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَقَلْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے لغزشوں میں سہارا دیا،
اَنْتَ الَّذِىْ مَكَّنْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے طاقت دی،
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَعْزَزْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے عزّت دی،
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَعَنْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے امداد کی،
اَنْتَ الَّذِىْ عَضَدْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے زور بازو عطا کیا۔
اَنْتَ الَّذِىْ اَیَّدْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے تائید کی،
اَنْتَ الَّذِىْ نَصَرْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے نصرت کی،
اَنْتَ الَّذِىْ شَفَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے شفا دی ہے
اَنْتَ الَّذِىْ عَافَیْتَ
تو ہی وہ ہے جس نے عافیت دی ہے
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَكْرَمْتَ،
تو ہی وہ ہے جس نے بزرگی عطا کی ہے
تَبَارَكْتَ وَتَعَالَیْتَ
تو صاحب برکت و عظمت ہے۔
فَلَكَ الْحَمْدُ دَاۤئِمًا
تیری حمد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے
وَلَكَ الشُّكْرُ وَاصِبًا اَبَدًا
اور تیرا شکریہ بے حساب و بے نہایت ہے
ثُمَّ اَنَا یَاۤ اِلٰهِىْۤ اَلْمُعْتَرِفُ بِذُنُوْبِىْ
پھر میں ہوں اے میرے معبود! اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے والا
فَاغْفِرْهَا لِىْۤ
پس مجھے ان سے معافی دے
اَنَا الَّذِىْۤ اَسَاْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے برائیاں کی ہیں،
اَنَاالَّذِىْۤ اَخْطَاْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے خطا کی،
اَنَاالَّذِىْ هَمَمْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے بُرا ارادہ کیا،
اَنَاالَّذِىْ جَهِلْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے جہالت سے کام لیا،
اَنَاالَّذِىْ غَفَلْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے غفلت برتی ہے،
اَنَا الَّذِىْ سَهَوْتُ
میں ہی وہ ہوں جو چوک گیا،
اَنَا الَّذِى اعْتَمَدْتُ
میں نے خود پر اعتماد کیا،
اَنَا الَّذِىْ تَعَمَّدْتُ
میں نے دانستہ گناہ کیا،
اَنَا الَّذِىْ وَعَدْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے وعدہ کیا،
وَاَنَاالَّذِىْۤ اَخْلَفْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے وعدہ خلافی کی ہے
اَنَاالَّذِىْ نَكَثْتُ
میں ہی وہ ہوں جس نے عہدوں کو توڑا،
اَنَا الَّذِىْۤ اَقْرَرْتُ
میں ہی وہ ہوں جو تیری نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں
اَنَا الَّذِى اعْتَرَفْتُ بِنِعْمَتِكَ عَلَىَّ وَعِنْدِىْ
کہ نعمتیں مجھ پر نازل ہوتی رہی ہیں اور اب بھی میرے پاس ہیں
وَاَبُوْۤءُ بِذُنُوْبِىْ فَاغْفِرْهَا لِىْ
لیکن میں برابر گناہوں میں مبتلا رہا ہوں پروردگار مجھے معاف فرما دے
یَا مَنْ لَا تَضُرُّهُ ذُنُوْبُ عِبَادِهِ
کہ مجھ جیسے بندوں کے گناہوں سے تیرا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
وَهُوَ الْغَنِىُّ عَنْ طَاعَتِهِمْ
تو ہر ایک کی عبادت سے بے نیاز ہے
وَالْمُوَفِّقُ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْهُمْ
اور ہر نیک عمل کرنے والے کو
بِمَعُوْنَتِهِ وَرَحْمَتِهِ
اپنی توفیق و تائید سے سہارا بھی دیتا رہتا ہے۔
فَلَكَ الْحَمْدُ اِلٰهِىْ وَسَیِّدِىْ
میرے مالک اور میرے پروردگار ساری حمد تیرے لیے ہے۔
اِلٰهِىْۤ اَمَرْتَنِىْ فَعَصَیْتُكَ
خدایا تو نے مجھے حکم دیا ہے تو میں نے سرتابی کی ہےاور منع کیا ہے۔
وَنَهَیْتَنِىْ فَارْتَكَبْتُ نَهْیَكَ،
میں نے اطاعت نہیں کی ہے،
فَاَصْبَحْتُ لَا ذَا بَرَ اۤءَۃٍ لِىْ فَاَعْتَذِرُ
اب میرے پاس برائت کے لیے کوئی عذر نہیں ہے
وَلَاذَا قُوَّۃٍ فَاَنْتَصِرُ
اور عذاب کو دفع کرنے کے لیے کوئی صاحبِ طاقت بھی نہیں ہے۔
فَبِاَىِّ شَىْءٍ اَسْتَقْبِلُكَ یَا مَوْلَاىَ
میں کس طرح تیرا سامنا کروں کس کے سہارے تیری بارگاہ میں حاضری دوں۔
اَبِسَمْعِىْۤ اَمْ بِبَصَرِىْۤ
اس سماعت کے سہارے یا اس بصارت کے ذریعہ
اَمْ بِلِسَانِىْۤ اَمْ بِیَدِىْۤ اَمْ بِرِجْلِىْۤ
اس زبان کے سہارے یا اس دل کے سہارے اس ہاتھ کے وسیلے سے یا ان پیروں کے سہارے سے
اَلیْسَ كُلُّهَا نِعَمَكَ عِنْدِىْ
یہ سب تیری نعمتیں ہیں
وَبِكُلِّهَا عَصَیْتُكَ یَا مَوْلَاىَ
اور ان سب ہی سے تو میں نے تیری معصیت کی ہے،
فَلَكَ الْحُجَّۃُ وَالسَّبِیْلُ عَلَىَّ
یہ سب ہی تو میرے خلاف تیری حجّتیں اور دلیلیں ہیں۔
یَا مَنْ سَتَرَنِىْ مِنَ الْاٰ بَاۤءِ وَالْاُمَّهَاتِ اَنْ یَزْجُرُوْنِىْ
میرے پروردگار جس نے میری برائیوں کو میرے ماں باپ سے بھی پوشیدہ رکھا ہے اور انھیں جھڑکنے نہیں دیا۔
وَمِنَ الْعَشَاۤئِرِ وَالْاِخْوَانِ اَنْ یُعَیِّرُوْنِىْ
عشیرہ و قبیلہ سے مخفی رکھا اور انھیں سرزنش نہیں کرنے دی ہے۔
وَمِنَ السَّلَاطِیْنِ اَنْ یُعَاقِبُوْنِىْ
حکّام و سلاطین سے پوشیدہ رکھا ہے
وَلَوِ اطَّلَعُوْا یَا مَوْلَاىَ
اور انھیں سزا نہیں دینے دی ہے
عَلٰى مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنِّىْۤ
ورنہ اگر یہ سب تیری طرح ساری حرکتوں پر مطلع ہوتے
اِذًا مَاۤ اَنْظَرُوْنِىْ
تو ایک لمحہ کی مہلت نہ دیتے اور مجھے بالکل نظر انداز کر دیتے
وَلَرَفَضُوْنِىْ وَقَطَعُوْنِىْ
بلکہ مجھ سے قطع تعلق کر لیتے۔
فَهَاۤ اَنَا ذَا یَاۤ اِلٰهِىْ
پس اے میرے معبود
بَیْنَ یَدَیْكَ یَا سَیِّدِىْ،
میں تیرے سامنے حاضر ہوں اے میرے سردار
خَاضِعٌ ذَلِیْلٌ
خضوع و خشوع، تواضع و انکسار کے ساتھ
حَصِیْرٌ حَقِیْرٌ
اور اپنی حقارت و ذلّت کے ساتھ
لَا ذُوْ بَرَاۤئَۃٍ فَاَعْتَذِرُ
نہ برائت ذمّہ کے لیے کوئی عذر رکھتا ہوں
وَلَا ذُوْ قُوَّۃٍ فَاَنْتَصِرُ
اور نہ طاقت ہے کہ کامیاب ہوجاؤں
وَلَا حُجَّۃٍ فَاَحْتَجُّ بِهَا
نہ کوئی دلیل ہے کہ وہ پیش کروں
وَلَا قَاۤئِلٌ لَمْ اَجْتَرِحْ وَلَمْ اَعْمَلْ سُوْۤءًا
نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ گناہ نہیں کیا اور نہ یہ کہ برائی نہیں کی
وَمَا عَسَى الْجُحُوْدُ وَلَوْ جَحَدْتُ یَا مَوْلَاىَ یَنْفَعُنِىْ
اس سے انکار کا کوئی راستہ نہیں اور اگر انکار کروں تو اے میرے مولا اس کا کچھ فائدہ نہیں
كَیْفَ وَاَنّٰى ذٰلِكَ
اور ایسا کیوں کر ہوسکتا ہے
وَجَوَارِحِىْ كُلُّهَا شَاهِدَۃٌ عَلَىَّ بِمَا قَدْ عَمِلْتُ
جب کہ سارے اعضاء وجوراح میرے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔
وَعَلِمْتُ یَقِیْنًا غَیْرَ ذِىْ شَكٍّ
اور مجھے خود بھی اس بات کا یقین ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے
اَنَّكَ سَاۤئِلِىْ مِنْ عَظَاۤئِمِ الْاُمُوْرِ
کہ تو ان بڑے بڑے امور کے بارے میں سوال ضرور کرے گا۔
وَاَنَّكَ الْحَكَمُ الْعَدْلُ الَّذِىْ لَا تَجُوْرُ
تو حاکم عادل ہے۔ تیرے یہاں ظلم کا گذر نہیں ہے
وَعَدْلُكَ مُهْلِكِىْ
لیکن خدایا میرے لیے تو انصاف و عدل بھی تباہ کن ہے۔
وَمِنْ كُلِّ عَدْلِكَ مَهْرَبِىْ
میں تو تیرے عدل و انصاف سے بھی پناہ چاہتا ہوں اور صرف فضل و کرم کا معاملہ چاہتا ہوں۔
فَاِنْ تُعَذِّبْنِىْ یَاۤ اِلٰهِىْ
میرے پروردگار اگر تو عذاب بھی کرے گا تو یہ میرے گناہوں کا نتیجہ ہو گا
فَبِذُنُوْبِىْ بَعْدَ حُجَّتِكَ عَلَىَّ
تیری حجت تمام ہو چکی ہے
وَاِنْ تَعْفُ عَنِّىْ
اور تو معاف کر دے گا
فَبِحِلْمِكَ وَجُوْدِكَ وَكرَمِكَ
تو یہ تیرے حلم وجود وکرم کا نتیجہ ہو گا
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّى كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ،
اور میں ظلم کرنے والوں میں ہوں
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنّىْ كُنْتُ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
اور میں استغفار کرنے والوں میں ہوں
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الْمُوَحِّدِیْنَ
اور میں توحید کا کلمہ پڑھنے والوں میں ہوں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الْخَاۤئِفِیْنَ
اور میں خوفزدہ ہوں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِىْ كُنْتُ مِنَ الْوَجِلِیْنَ
اور میں لرزہ بر اندام ہوں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الرَّاجِیْنَ
اور میں امیدواروں میں ہوں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الرَّاغِبِیْنَ
اور میں رغبت رکھنے والوں میں ہوں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الْمُهَلِّلِیْنَ
اور میں تیری تہلیل کرنے والوں میں ہوں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ السَّاۤئِلِیْنَ
اور میں سوال کرنے والوں میں ہوں
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ
میں تسبیح کرنے والوں میں ہوں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الْمُكَبِّرِیْنَ
میں تکبیر کہنے والوں میں ہوں۔
لَاۤاِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک اور بے نیاز ہے
رَبِّىْ وَرَبُّ اٰبَاۤئِىَ الْاَوَّلِیْنَ،
اور میرا اور میرے آباء و اجداد سب کا پروردگار بھی ہے۔
اَللّٰهُمَّ هٰذَا ثَنَاۤئِىْ عَلَیْكَ مُمَجِّدًا
پروردگار یہ تیری حمد و ثنا تیری بزرگی کے اقرار کے ساتھ ہے
وَاِخْلَاصِىْ لِذِكْرِكَ مُوَحِّدًا
اور یہ میرا اخلاص تیرے ذکر توحید کے اعتراف کے ہمراہ ہے۔
وَاِقْرَارِىْ بِاٰلَاۤئِكَ مُعَدِّدًا
میں تیری نعمتوں کا ایک ایک کر کے اقرار کرتا ہوں
وَاِنْ كُنْتُ مُقِرًّا اَنِّىْ لَمْ اُحْصِهَا
اور پھر یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ کوئی انھیں شمار نہیں کر سکتا۔
لِكَثْرَتِهَا وَسُبُوْغِهَا
وہ بے حدود و حساب اور بے نہایت و بے شمار ہیں۔
وَتَظَاهُرِهَا وَتَقَادُمِهَاۤ اِلٰى حَادِثٍ مَا
تام و کامل بھی ہیں اور واضح و روشن اور قدیم وجدید بھی۔
لَمْ تَزَلْ تَتَعَهَّدُنِىْ بِهِ مَعَهَا
تیری نعمتوں کا سلسلہ روز اول سے جاری ہے
مُنْذُ خَلَقْتَنِىْ وَبَرَاْتَنِىْ
جس دن سے تو نے مجھے خلق کیا
مِنْ اَوَّلِ الْعُمْرِ
اور میری زندگی کا آغاز کیا تھا۔ وہ نعمتیں یہ ہیں کہ
مِنَ الْاِغْنَاۤءِ مِنَ الْفَقْرِ
تو نے فقیری سے بے نیازی دی ہے،
وَكَشْفِ الضُّرِّ
نقصانات کو رفع کیا ہے،
وَتَسْبِیْبِ الْیُسْرِ
سہلوت کے انتظامات کئے ہیں،
وَدَفْعِ الْعُسْرِ
سختیوں کو دور کیا ہے،
وَتَفْرِیْجِ الْكَرْبِ
رنج و الم کو برطرف کیا ہے،
وَالْعَافِیَۃِ فِىْ الْبَدَنِ
بدن میں عافیت دی ہے،
وَالسَّلَامَۃِ فِىْ الدِّیْنِ
دین محمدؐ میں سلامتی دی ہے۔
وَلَوْ رَفَدَنِىْ عَلٰى قَدْرِ ذِكْرِ نِعْمَتِكَ جَمِیْعُ الْعَالَمِیْنَ
اور یہ نعمتیں اس قدر بے حساب ہیں کہ
مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰ خِرِیْنَ
اگر اولین و آخرین مل کر میری مدد کریں
مَا قَدَرْتُ وَلَاهُمْ عَلٰى ذٰلِكَ
اور میں ان کا حساب کرنا چاہوں تو نہیں کر سکتا
تَقَدَّسْتَ وَتَعَالَیْتَ
اور نہ وہی سب کر سکتے ہیں تو پاک و پاکیزہ اور بلند و برتر ہے۔
مِنْ رَبٍّ كَرِیْمٍ عَظِیْمٍ رَحِیْمٍ
تو رب کریم و عظیم و رحیم
لَا تُحْصٰىۤ اٰلَاۤؤُكَ،
اور تیری رحمتوں کا شمار نہیں
وَلَا یُبْلَغُ ثَنَاۤؤُكَ
تیری حمد و ثنا کی منزل تک کوئی پہنچ نہیں سکتا
وَلَا تُكَافٰى نَعْمَاۤؤُكَ
اور تیری نعمتوں کا بدلہ ممکن نہیں ہے۔
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
پروردگار محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَتْمِمْ عَلَیْنَا نِعَمَكَ
اور ہمارے اوپر نعمتوں کو مکمل کر دے
وَاَسْعِدْنَا بِطَاعَتِكَ
اور اپنی اطاعت سے نیک بخت بنا دے
سُبْحَانَكَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
کہ تو پاک و بے نیاز اور وحدہٗ لا شریک ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ تُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ
خدایا تو مضطرب لوگوں کی دعاؤں کو قبول کرتاہے
وَتَكْشِفُ السُّوْۤءَ
برائیوں کو دفع کرتا ہے
وَتُغِیْثُ الْمَكْرُوْبَ
ستم رسیدہ کی فریاد رسی کرتا ہے،
وَتَشْفِىْ السَّقِیْمَ
بیماروں کو شفا دیتا ہے،
وَتُغْنِى الْفَقِیْرَ
فقیروں کو غنی بناتا ہے
وَتَجْبُرُ الْكَسِیْرَ
ہر شکستگی کو جوڑ دیتا ہے
وَتَرْحَمُ الصَّغِیْرَ
بچوں پر رحم کرتا ہے،
وَتُعِیْنُ الْكَبِیْرَ
بڑوں کو مدد بہم پہنچاتا ہے،
وَلَیْسَ دُوْنَكَ ظَهِیْرٌ
تیرے علاوہ کوئی مددگار نہیں ہے
وَلَا فَوْقَكَ قَدِیْرٌ
اور تجھ سے بالاتر کوئی صاحبِ طاقت نہیں ہے۔
وَاَنْتَ الْعَلِىُّ الْكَبِیْرُ
تو خدائے علی و کبیر ہے۔
یَا مُطْلِقَ الْمُكَبَّلِ الْاَسِیْرِ
اے پابستۂ زنجیر اسیروں کو رہائی دلانے والے۔
یَا رَازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیْرِ
اے کمسن بچوں کو روزی دینے والے،
یَا عِصْمَۃَ الْخَاۤئِفِ الْمُسْتَجِیْرِ
اے خوف زدہ طالبانِ پناہ کو پناہ دینے والے،
یَا مَنْ لَا شَرِیْكَ لَهُ وَلَا وَزِیْرَ،
اے وہ خدا جس کا کوئی شریک اور وزیر نہیں ہے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ وآل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَعْطِنِىْ فِىْ هٰذِهِ الْعَشِیَّۃِ
اور آج کی شام مجھے وہ سب کچھ عطا فرما دے
اَفْضَلَ مَاۤ اَعْطَیْتَ وَاَنَلْتَ
جو تو نے کسی بھی نیک بندے
اَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ
کو عطا کیا ہے
مِنْ نِعْمَۃٍ تُوْلِیْهَا
ظاہری نعمتوں کا تسلسل
وَ اٰلَاۤءٍ تُجَدِّدُهَا
باطنی نعمتوں کی تجدید
وَبَلِیَّهٍ تَصْرِفُهَا
بلاؤں سے نجات،
وَكُرْبَۃٍ تَكْشِفُهَا
رنج و غم کا دفعیہ،
وَدَعْوَۃٍ تَسْمَعُهَا
دعاؤں کی استجابت،
وَحَسَنَۃٍ تَتَقَبَّلُهَا
نیکیوں کی قبولیت،
وَسَیِّئَۃٍ تَتَغَمَّدُهَا
برائیوں کی پردہ پوشی وغیرہ
اِنَّكَ لَطِیْفٌ بِمَا تَشَاۤءُ خَبِیْرٌ
تو لطیف بھی ہے اور خبیر بھی
وَعَلٰى كُلِّشَىْءٍ قَدِیْرٌ
اور ہر شئے پر قادر و قدیر بھی۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ اَقْرَبُ مَنْ دُعِىَ
خدایا جس جس کو پکارا جاتا ہے ان میں تو سب سے زیادہ قریب ہے
وَاَسْرَعُ مَنْ اَجَابَ
اور تو ہی ہر ایک سے جلدی جواب دینے والا ہے۔
وَاَكْرَمُ مَنْ عَفٰى
ہر معاف کرنے والے سے زیادہ کریم
وَاَوْسَعُ مَنْ اَعْطٰى
اور ہر عطا کرنے والے سے زیادہ بخشنے والا،
وَاَسْمَعُ مَنْ سُئِلَ
ہر مسئول سے زیادہ سننے والا ہے
یَا رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ وَرَحِیْمَهُمَا
اور دنیا وآخرت میں رحمٰن و رحیم ہے۔
لَیْسَ كَمِثْلِكَ مَسْئُوْلٌ
تیرے جیسا کوئی قابل سوال نہیں
وَلَا سِوَاكَ مَاْمُوْلٌ
اور تیرے علاوہ کوئی امیدوں کا مرکز نہیں ہے۔
دَعَوْتُكَ فَاَجَبْتَنِىْ
میں نے تجھے پکارا تو تو نے قبول کیا۔
وَسَئَلْتُكَ فَاَعْطَیْتَنِىْ
تجھ سے مانگا تو تو نے عطا کیا۔
وَرَغِبْتُ اِلَیْكَ فَرَحِمْتَنِىْ،
تیری طرف رغبت کی تو تو نے رحم کیا
وَوَثِقْتُ بِكَ فَنَجَّیْتَنِىْ
اور تجھ پر بھروسہ کیا تو تو نے نجات عطا کر دی۔
وَفَزِعْتُ اِلَیْكَ فَكَفَیْتَنِىْۤ
تیری پناہ مانگی تو تو اکیلا ہی کافی ہو گیا۔
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل فرمانا حضرت محمد مصطفےٰ ؐ
عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَنَبِیِّكَ
اپنے بندے اپنے رسول و نبی
وَعَلٰىۤ اٰلِهِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ اَجْمَعِیْنَ
اور ان کی آل طیبین و طاہرینؑ پر
وَتَمِّمْ لَنَا نَعْمَاۤئَكَ
اور ہمارے اوپر اپنی نعمتوں کو مکمل فرما دے
وَهَنِّئْنَا عَطَاۤئَكَ
ہر عطا کو خوشگوار بنا دے
وَاكْتُبْنَا لَكَ شَاكِرِیْنَ
اور ہمارا نام شکر گذاروں میں
وَلِاٰ لَاۤئِكَ ذَاكِرِیْنَ
اور نعمتوں کو یاد رکھنے والوں میں درج کر دے۔
اٰمِیْنَ اٰمِیْنَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ
آمین آمین یا ربّ العالمین۔
اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ مَلَكَ فَقَدَرَ
خدایا اے پروردگار جس کی ملکیت کے ساتھ اختیارات بھی ہیں
وَقَدَرَ فَقَهَرَ
اور جس کے اختیارات کے ساتھ قہّاری بھی ہے۔
وَعُصِىَ فَسَتَرَ
جس نے عاصیوں کی پردہ پوشی کی ہے۔
وَاسْتُغْفِرَ فَغَفَرَ
استغفار کرنے والوں کو معاف کیا ہے۔
یَا غَایَۃَ الطَّالِبِیْنَ الرَّاغِبِیْنَ
اے طلبگاروں اور رغبت کرنے والوں کی منزلِ آخر،
وَمُنْتَهٰۤى اَمَلِ الرَّاجِیْنَ
امیدواروں کی امیدوں کی آماجگاہ۔
یَا مَنْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا
ہر شئے پر علمی احاطہ رکھنے والے
وَوَسِعَ الْمُسْتَقْیِلِیْنَ رَاْفَۃً وَرَحْمَۃً وَحِلْمًا،
اور عذر خواہوں پر رأفت، رحمت و تحمّل کا مظاہرہ کرنے والے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَتَوَجَّهُ اِلَیْكَ فِىْ هٰذِهِ الْعَشِیَّۃِ
خدایا ہم اس شام کے وقت تیری طرف متوجہ ہیں
الَّتِىْ شَرَّفْتَهَا وَعَظَّمْتَهَا
جسے تو نے با شرف و عظمت قرار دیا ہے۔
بِمُحَمَّدٍ نَبِیِّكَ وَرَسُوْلِكَ
ہمارا وسیلہ تیرا رسولؐ
وَخِیَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ
تیری مخلوقات کا منتخب ترین بندہ
وَاَمِیْنِكَ عَلٰى وَحْیِكَ
تیری وحی کا امین،
الْبَشِیْرِ النَّذِیْرِ
تیرے ثواب کی بشارت دینے والا، تیرے عذاب سے ڈرانے والا
السِّرَاجِ الْمُنِیْرِ
اور روشن چراغ پیغمبر ہے
الَّذِىْۤ اَنْعَمْتَ بِهِ عَلَى الْمُسْلِمِیْنَ
جس کے ذریعے تو نے مسلمان بندوں پر انعام کیا ہے
وَ جَعَلْتَهُ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْنَ
اور اسے عالمین کے لیے رحمت قرار دیا ہے
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر ویسی رحمت نازل فرما
كَمَا مُحَمَّدٌ اَهْلٌ لِذٰلِكَ مِنْكَ یَا عَظِیْمُ
جس کے وہ اہل ہیں۔ اے خدائے عظیم
فَصَلِّ عَلَیْهِ وَعَلٰى اٰلِهِ
حضرت محمدؐ اور
الْمُنْتَجَبِیْنَ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ اَجْمَعِیْنَ
ان کی آل طیبین و طاہرین پررحمت نازل فرما۔
وَتَغَمَّدْنَا بِعَفْوِكَ عَنَّا
اور اپنی مغفرت کے ذریعہ ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی فرما۔
فَاِلَیْكَ عَجَّتِ الْاَصْوَاتُ بِصُنُوْفِ اللُّغَاتِ
تیری طرف مختلف زبانوں میں آوازیں اور فریادیں بلند ہیں۔
فَاجْعَلْ لَنَا اللّٰهُمَّ فِىْ هٰذِهِ الْعَشِیَّۃِ
لہٰذا آج کی شام مجھے ہر اس نعمت میں حصّہ قرار دے
نَصِیْبًا مِنْ كُلِّ خَیْرٍ تَقْسِمُهُ بَیْنَ عِبَادِكَ
جسے تو اپنے بندوں پر تقسیم کر رہا ہے
وَنُوْرٍ تَهْدِىْ بِهِ
اور جس نور سے ہدایت کر رہا ہے
وَرَحْمَۃٍ تَنْشُرُهَا،
اور جس رحمت کو نشر کر رہاہے۔
وَبَرَكَۃٍ تُنْزِلُهَا
اور جس برکت کو نازل کر رہاہے
وَعَافِیَۃٍ تُجَلِّلُهَا
اور جس لباس عافیت سے پردہ پوشی کر رہا ہے
وَرِزْقٍ تَبْسُطُهُ
اور جس رزق میں وسعت دے رہا ہے۔
یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
اے تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے،
اَللّٰهُمَّ اَقْلِبْنَا فِىْ هٰذَا الْوَقْتِ
خدایا میں اس وقت واپس جاؤں تو
مُنْجِحِیْنَ مُفْلِحِیْنَ
کامیاب نجات یافتہ،
مَبْرُوْرِیْنَ غَانِمِیْنَ
نیک عمل، بہرہ ور (نفع اٹھانے والے)
وَلَاتَجْعَلْنَا مِنَ الْقَانِطِیْنَ
اور فائز المرام واپس جاؤں
وَلَا تُخْلِنَا مِنْ رَحْمَتِكَ
مجھے مایوس رحمت نہ قرار دینا
وَلَا تَحْرِمْنَا مَا نُؤَمِّلُهُ مِنْ فَضْلِكَ
اور اپنی رحمت سے خالی نہ رکھنا جس عطا کی امید رکھتا ہوں
وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْ رَحْمَتِكَ مَحْرُوْمِیْنَ
اس سے مایوس نہ ہو جاؤں
وَلَا لِفَضْلِ مَا نُؤَمِّلُهُ مِنْ عَطَاۤئِكَ قَانِطِیْنَ
اور تیری بارگاہ سے نامراد واپس نہ جاؤں
وَلَا تَرُدَّنَا خَاۤئِبِیْنَ
ہمیں ناکام کرکے نہ پلٹا
وَلَا مِنْ بَابِكَ مَطْرُوْدِیْنَ
اپنے دروازے سے ہٹا نہ دینا
یَاۤ اَجْوَدَ الْاَجْوَدِیْنَ
کہ اے بہترین بخشش کرنے والے
وَاَكْرَمَ الْاَكْرَمِیْنَ
اور بلند ترین کرم کرنے والے۔
اِلَیْكَ اَقْبَلْنَا مُوْقِنِیْنَ
میں تیری طرف بڑے یقین کے ساتھ متوجہ ہوں
وَلِبَیْتِكَ الْحَرَامِ آٰمِّیْنَ قَاصِدِیْنَ
اور تیرے محترم مکان کا دل سے قصد کیے ہوئے ہوں۔
فَاَعِنَّا عَلٰى مَنَاسِكِنَا
ان مناسک میں میری امداد فرما،
وَاَكْمِلْ لَنَا حَجَّنَا
میرے حج کو شرف قبولیت عطا کر،
وَاعْفُ عَنَّا وَعَافِنَا
میرے گناہوں کو بخش دے، میری خطاؤں کو معاف فرما،
فَقَدْ مَدَدْنَاۤ اِلَیْكَ اَیْدِیَنَا
میں نے تیری بارگاہ میں وہ ہاتھ پھیلایا ہے
فَهِىَ بِذِلَّۃِ الْاِعْتِرَافِ مَوْسُوْمَۃٌ
جس پر ذلت و حقارت کے نشانات لگے ہوئے ہیں۔
اَللّٰهُمَّ فَاَعْطِنَا فِىْ هٰذِهِ الْعَشِیَّۃِ مَا سَئَلْنَاكَ،
لیکن پروردگار جو ہم نے مانگا ہے وہ آج کی شام عطا کردے
وَاكْفِنَا مَا اسْتَكْفَیْنَاكَ
اور جس کام کے لیے پکارا ہے اس کے لیے کافی بن جا
فَلَا كَافِىَ لَنَا سِوَاكَ
تیرے علاوہ اور کوئی کافی نہیں ہے
وَلَا رَبَّ لَنَا غَیْرُكَ
اور تیرے سوا کوئی پروردگار بھی نہیں ہے۔
نافِذٌ فِیْنَا حُكْمُكَ
تیرا حکم نافذ ہے
مُحِیْطٌ بِنَا عِلْمُكَ
اور تیرا علم محیط ہے
عَدْلٌ فِیْنَا قَضَاۤؤُكَ
اور تیرا فیصلہ مبنی پر انصاف ہے
اِقْضِ لَنَا الْخَیْرَ
ہمارے حق میں خیر کا فیصلہ فرما
وَاجْعَلْنَا مِنْ اَهْلِ الْخَیْرِ
اور ہمیں اہل خیر میں قرار۔
اَللّٰهُمَّ اَوْجِبْ لَنَا بِجُوْدِكَ عَظِیْمَ الْاَجْرِ
خدایا اپنے جود ہمارے لیے عظیم ترین اجر
وَكَرِیْمَ الذُّخْرِ
اور کرم بہترین ذخیرہ ثواب
وَدَوَامَ الْیُسْرِ
اور دائمی سہولت و رفاہیت کو لازم قرار دے دے
وَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اَجْمَعِیْنَ
ہمارے گناہوں کو معاف فرما
وَلَا تُهْلِكْنَا مَعَ الْهَالِكِیْنَ
اور ہمیں اہل ہلاکت کے ساتھ ہلاک نہ کرنا۔
وَلَا تَصْرِفْ عَنَّا رَاْفَتَكَ وَرَحْمَتَكَ
اپنی رحمت و رافت کا رخ ہماری طرف سے نہ موڑ دینا
یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ،
کہ تو ارحم الراحمین اور خیر الغافرین ہے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا فِىْ هٰذَا الْوَقْتِ مِمَّنْ سَئَلَكَ فَاَعْطَیْتَهُ
خدایا آج کی شام ان لوگوں میں قرار دے جن کے سوال پر تو نے عطا کیا ہے
وَشَكَرَكَ فَزِدْتَهُ
اور جن کے شکر پر تو نےمزید دیا ہے
وَتَابَ اِلَیْكَ فَقَبِلْتَهُ
جن کی توبہ کو قبول کیا ہے
وَتَنَصَّلَ اِلَیْكَ مِنْ ذُنُوْبِهِ كُلِّهَا فَغَفَرْتَهَا لَهُ
اور جن کے گناہوں سے جدا ہوجانے پر انھیں معاف کر دیا
یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
اے صاحبِ جلال و اکرام۔
اَللّٰهُمَّ وَنَقِّنَا وَسَدِّدْنَا
خدایا ہمیں پاکیزہ بنا دے ہماری مدد فرما۔
وَاقْبَلْ تَضَرُّعَنَا
ہماری فریاد و زاری پر رحم فرما
یَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ
اے بہترین مسئول
وَیَاۤ اَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ
اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے
یَا مَنْ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ اِغْمَاضُ الْجُفُوْنِ
اے وہ خدا جس پر پلکوں کی بندش
وَلَا لَحْظُ الْعُیُوْنِ
اور آنکھوں کے اشارے مخفی نہیں
وَلَا مَا اسْتَقَرَّ فِى الْمَكْنُوْنِ
نہ وہ چیز جو پردے کے نیچے ہو
وَلَا مَا انْطَوَتْ عَلَیْهِ مُضْمَرَاتُ الْقُلُوْبِ
جو دلوں کے مضمرات کو بھی جانتا ہے
اَلَا كُلُّ ذٰلِكَ قَدْ اَحْصَاهُ عِلْمُكَ
اور سینے کے اندر چھپے ہوئے رازوں سے بھی باخبر ہے
وَوَسِعَهُ حِلْمُكَ
اور اس کا حلم ہر شئے پر احاطہ رکھتا ہے۔
سُبْحَانَكَ وَتَعَالَیْتَ عَمَّا یَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ
تو پاک وبے نیاز ہےاور مخالفین کے اقوال و تصورات سے
عُلُوًّا كَبِیْرًا
بہت زیادہ بلند تر ہے
تُسَبِّحُ لَكَ السَّمٰوَاتُ السَّبْعُ
ساتوں آسمانوں
وَالْاَرَضُوْنَ وَمَنْ فِیْهِنَّ
تمام زمینیں اور دونوں کی مخلوقات سب تیری تسبیح کر رہی ہیں
وَاِنْ مِنْ شَىْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ،
ہر ذرۂ کائنات تیری حمد کا تسبیح خواں ہے۔
فَلَكَ الْحَمْدُ وَالْمَجْدُ
حمد تیرے لیے ہے
وَعُلُوُّ الْجَدِّ
اور بزرگی بھی تیرے ہی لیے ہے۔
یَا ذَاالْجَلَا لِ وَالْاِكْرَامِ
تو صاحبِ جلال و اکرام
وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعَامِ
اور مالک فضل وانعام ہے۔
وَالْاَیَادِىْ الْجِسَامِ
تیری نعمتیں عظیم ہیں
وَاَنْتَ الْجَوَادُ الْكَرِیْمُ
اور تو جواد و کریم
الرَّؤُوْفُ الرَّحِیْمُ
اور رؤف و رحیم ہے۔
اَللّٰهُمَّ اَوْسِعْ عَلَىَّ مِنْ رِزْقِكَ الْحَلَالِ
پروردگار ہمارے لیے رزقِ حلال میں وسعت عطا فرما۔
وَعَافِنِىْ فِىْ بَدَنِىْ وَدِیْنِىْ
ہمارے بدن اور دین دونوں میں عافیت عطا فرما۔
وَ اٰمِنْ خَوْفِىْ
ہمیں خوف میں امن و امان عطا فرما
وَاَعْتِقْ رَقَبَتِىْ مِنَ النَّارِ
اور ہماری گردن کو آتش جہنم سے رہائی عطا فرما۔
اَللّٰهُمَّ لَا تَمْكُرْ بِىْ
خدایا ہمیں اپنی تدبیروں کا نشانہ نہ بنانا
وَلَا تَسْتَدْرِجْنِىْ
اور اپنے عذاب میں دھیرے دھیرے کھینچ نہ لینا۔
وَلَا تَخْدَعْنِىْ
ہم کسی دھوکے میں نہ رہنے پائیں۔
وَادْرَءْ عَنِّىْ شَرَّ فَسَقَۃِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ
اور جنّات و انسان کے فاسقوں کے شر سے محفوظ رہیں۔
یَاۤ اَسْمَعَ السَّامِعِیْنَ
اے سب سے بہتر سننے والے
وَ یَاۤ اَبْصَرَ النَّاظِرِیْنَ
اور سب سے زیادہ نگاہ رکھنے والے
وَیَاۤ اَسْرَعَ الْحَاسِبِیْنَ
سب سے تیز تر حساب کرنے والے
وَیَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل کر۔
۟اِلسَّادَۃِ الْمَیَامِیْنِ
جو برکت والے سید و سردار ہیں
وَاَسْئَلُكَ اللّٰهُمَّ حَاجَتِىَ
پروردگار میں تجھ سے ایسی حاجتیں طلب کر رہاہوں
الَّتِىْۤ اِنْ اَعْطَیْتَنِیْهَا لَمْ یَضُرَّنِىْ مَا مَنَعْتَنِىْ
کہ اگر تو انھیں پورا کردے گا تو باقی سب کا رد کردینا بھی مضر نہ ہو گا
وَاِنْ مَنَعْتَنِیْهَا لَمْ یَنْفَعْنِىْ مَاۤ اَعْطَیْتَنِىْۤ
اور انھیں رد کردے گا تو باقی سب کا عطا کر دینا بھی مفید نہ ہوگا
اَسْئَلُكَ فَكَاكَ رَقَبَتِىْ مِنَ النَّارِ
اور میری گردن کو آتش جہنم سے آزاد کر دے
لَاۤاِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
کہ تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ
اور تو وحدۂ لا شریک ہے۔
لَكَ الْمُلْكُ وَلَكَ الْحَمْدُ
بادشاہت تیرے لیے ہے اور حمد تیرے لیے ہے
وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّشَىْءٍ قَدِیْرٌ
اور تو ہر شئے پر قادر ہے۔
یَا رَبِّ یَا رَبِّ ۔۔۔
اے میرے پروردگار اے میرے پروردگار۔
اِلٰهِىْۤ اَنَا الْفَقِیْرُ فِىْ غِنَاىَ
خدایا میں اپنی مالداری میں بھی فقیر ہی ہوں
فَكَیْفَ لَاۤ اَكُوْنُ فَقِیْرًا فِىْ فَقْرِىْۤ
تو غربت میں کس طرح فقیر نہ ہوں گا۔
اِلٰهِىْۤ اَنَا الْجَاهِلُ فِىْ عِلْمِىْ
اور اپنے علم کے باوجود جاہل ہوں
فَكَیْفَ لَاۤ اَكُوْنُ جَهُوْلًا فِىْ جَهْلِىْۤ
تو جہالت میں کس طرح جاہل نہ ہوں گا۔
اِلٰهِىْۤ اِنَّ اخْتِلَافَ تَدْبِیْرِكَ
تیری تدبیروں کی نیرنگی
وَسُرْعَۃَ طَوَاۤءِ مَقَادِیْرِكَ
اور تیرے مقدّرات کی بسرعت تبدیلی نے
مَنَعَا عِبَادَكَ الْعَارِفِیْنَ بِكَ
تیرے با معرفت بندوں کو ان باتوں سے روک رکھا ہے
عَنِ السُّكُوْنِ اِلٰى عَطَاۤءٍ
کہ نہ کسی عطیہ کی طرف سے پر سکون ہونے پاتے ہیں
وَالْیَاْسِ مِنْكَ فِىْ بَلَاۤءٍ
اور نہ کسی بلا سے مایوس ہونے پاتے ہیں۔
اِلٰهِىْ مِنِّىْ مَا یَلِیْقُ بِلُؤْمِىْ
پروردگار میری طرف سے وہ سب کچھ ہے جو میری ذلت و پستی کے مطابق ہے
وَمِنْكَ مَا یَلِیْقُ بِكَرَمِكَ،
تو تیری طرف سے بھی وہ سب کچھ ہونا چاہیئے جو تیرے رحم وکرم کے شایانِ شان ہے۔
اِلٰهِىْ وَصَفْتَ نَفْسَكَ بِاللُّطْفِ وَالرَّاْفَۃِ لِىْ
خدایا تو نے اپنی تعریف لفظ لطیف و رؤف سے کی ہے
قَبْلَ وُجُوْدِ ضَعْفِىْۤ
اور میرے ضعف کے وجود کے پہلے سے اس کا مظاہرہ کیا
اَفَتَمْنَعُنِىْ مِنْهُمَا بَعْدَ وُجُوْدِ ضَعْفِىْۤ
تو کیا اب ضعف ظاہر ہو جانے کے بعد انھیں روک دے گا۔
اِلٰهِىْۤ اِنْ ظَهَرَتِ الْمَحَاسِنُ مِنِّىْ
خدایا اگر مجھ سے نیکیوں کا ظہور ہو
فَبِفَضْلِكَ وَلَكَ الْمِنَّۃُ عَلَىَّ
تو وہ تیرے کرم ہی کا نتیجہ ہے
وَاِنْ ظَهَرَتِ الْمَسَاوِىْ مِنِّىْ
اور اگر برائیاں ظاہر ہوں
فَبِعَدْلِكَ وَلَكَ الْحُجَّۃُ عَلَىَّ
تو یہ میرے اعمال کا نتیجہ ہیں اور ان پر تیری حجت تمام ہے۔
اِلٰهِىْ كَیْفَ تَكِلُنِىْ وَقَدْ تَكَفَّلْتَ لِىْ
خدایا جب تو میرا کفیل ہے تو دوسرے کے حوالے کس طرح کرے گا۔
وَكَیْفَ اُضَامُ وَاَنْتَ النَّاصِرُ لِىْ
اور جب تو میرا مددگار ہے تو میں ذلّت سے دوچار کس طرح ہوں گا۔
اَمْ كَیْفَ اَخِیْبُ وَاَنْتَ الْحَفِىُّ بِىْ
تو میرے حال پر مہربان ہے تو مایوس اور ناکام ہونے کی کیا وجہ ہے۔
هَا اَنَا اَتَوَسَّلُ اِلَیْكَ بِفَقْرِىْۤ اِلَیْكَ
اب میں اپنی فقیری ہی کو واسطہ قرار دیتا ہوں
وَكَیْفَ اَتَوَسَّلُ اِلَیْكَ
لیکن اسے کس طرح واسطہ قرار دوں
بِمَا هُوَ مُحَالٌ اَنْ یَصِلَ اِلَیْكَ
جب کہ تیری بارگاہ تک پہنچنے کا سوال ہی نہیں ہے۔
اَمْ كَیْفَ اَشْكُوْ اِلَیْكَ حَالِىْ
میں اپنے حالات کا شکوہ کس طرح کروں
وَهُوَ لَا یَخْفٰى عَلَیْكَ
کہ تو خود ہی بہتر جانتا ہے
اَمْ كَیْفَ اُتَرْجِمُ بِمَقَالِىْ
اپنی زبان سے کس طرح ترجمانی کروں
وَهُوَ مِنْكَ بَرَزٌ اِلَیْكَ
کہ سب کچھ تو تجھ پر خود ہی واضح اور روشن ہے
اَمْ كَیْفَ تُخَیِّبُ اٰمَالِىْ
تو کیسے میری امیدوں کا ناامید کرے گا
وَهِىَ قَدْ وَفَدَتْ اِلَیْكَ
کہ وہ تیرے ہی کرم کی بارگاہ میں پیش کی گئی ہیں
اَمْ كَیْفَ لَا تُحْسِنُ اَحْوَالِىْ
اور کیسے حالات کی اصلاح نہیں کرے گا
وَبِكَ قَامَتْ
جب کہ ان کا قیام تیری ہی ذات سے وابستہ ہے۔
اِلٰهِىْ مَاۤ اَلْطَفَكَ بِىْ
خدایا تو کس قدر مہربان ہے
مَعَ عَظِیْمِ جَهْلِىْ
میری عظیم ترین جہالت کے باوجود
وَمَاۤ اَرْحَمَكَ بِىْ
تو کس قدر رحیم وکریم ہے
مَعَ قَبِیْحِ فِعْلِىْۤ
میرے بد ترین اعمال کے باوجود
اِلٰهِىْ مَاۤ اَقْرَبَكَ مِنِّىْ
خدایا تو کس قدر مجھ سے قریب ہے
وَاَبْعَدَنِىْ عَنْكَ
اور میں کس قدر تجھ سے دور ہوں
وَمَاۤ اَرْاَفَكَ بِىْ
اور جب تو اس قدر مہربان ہے
فَمَا الَّذِىْ یَحْجُبُنِىْ عَنْكَ
تو اب کون درمیان میں حائل ہو سکتا ہے۔
اِلٰهِىْ عَلِمْتُ بِاخْتِلَافِ الْاٰثَارِ
خدایا آثار کے اختلاف
وَتَنَقُّلَاتِ الْاَطْوَارِ
اور زمانہ کے تغیرات سے میں یہ سمجھا ہوں کہ
اَنَّ مُرَادَكَ مِنِّىْۤ اَنْ تَتَعَرَّفَ اِلَىَّ فِىْ كُلِّشَىْءٍ
تو ہر چیز اور ہر رنگ میں اپنے کو واضح کرنا چاہتا ہے
حَتّٰى لَاۤ اَجْهَلَكَ فِىْ شَىْءٍ
کہ میں کسی طرح جاہل نہ رہ جاؤں اور بہرحال تجھے پہچان سکوں۔
اِلٰهِىْ كُلَّمَاۤ اَخْرَسَنِىْ لُؤْمِىْۤ
پروردگار جب میری پستی میری زبان گُنگ کردیتی ہے
اَنْطَقَنِىْ كَرَمُكَ
تو تیرا کرم قوتِ گویائی پیدا کر دیتا ہے
وَكُلَّمَاۤ اٰیَسَتْنِىْۤ اَوْصَافِىْۤ
اور جب میرے حالات و کیفیات مجھے مایوس بنانا چاہتے ہیں
اَطْمَعَتْنِىْ مِنَنُكَ،
تو تیرے احسانات پھر پر امید بنا دیتے ہیں۔
اِلٰهِىْ مَنْ كَانَتْ مَحَاسِنُهُ مَسَاوِىَ
خدایا! میں، جس کی نیکیاں بھی برائیوں جیسی ہیں
فَكَیْفَ لَا تَكُوْنُ مَسَاوِیْهِ مَسَاوِىَ
تو اس کی برائیوں کا کیا حال ہوگا۔
وَمَنْ كَانَتْ حَقَایِقُهُ دَعَاوِىَ
اور جس کی نگاہ کے حقائق بھی دعوے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ہیں
فَكَیْفَ لَا تَكُوْنُ دَعَاوِیْهِ دَعَاوِىَ
تو اس کے دعوؤں کی کیا حیثیت۔
اِلٰهِىْ حُكْمُكَ النَّافِذُوَمَشِیَّتُكَ الْقَاهِرَۃُ
پروردگار تیرے نافذ حکم اور تیری قہرمان مشیّت نے
لَمْ یَتْرُكَا لِذِىْ مَقَالٍ مَقَالًا
کسی کے لیے بولنے کا موقع نہیں چھوڑا
وَلَا لِذِىْ حَالٍ حَالًا
اور کسی نہ کسی حال پر ثابت رہنے دیا ہے۔
اِلٰهِىْ كَمْ مِنْ طَاعَۃٍ بَنَیْتُهَا
کتنی ہی مرتبہ میں نے اطاعت کی بنا رکھی
وَحَالَۃٍ شَیَّدْتُهَا
اور حالات کو مضبوط بنایا
هَدَمَ اعْتِمَادِىْ عَلَیْهَا عَدْلُكَ
لیکن تیرے عدل و انصاف نے میرے اعتماد کو منہدم کردیا
بَلْ اَقَالَنِىْ مِنْهَا فَضْلُكَ
اور پھر فضل وکرم نے مجھے سہارا دیا
اِلٰهِىْۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ
پروردگار تجھے معلوم ہے
اَنِّىْ وَاِنْ لَمْ تَدُمِ الطَّاعَۃُ مِنِّىْ فِعْلًا جَزْمًا
کہ فعل و عمل کے اعتبار سے میری اطاعت دائمی نہیں ہے
فَقَدْ دَامَتْ مَحَبَّۃً وَعَزْمًا
تو عزم و جزم کے اعتبار سے بہرحال دائمی ہے۔
اِلٰهِىْ كَیْفَ اَعْزِمُ وَاَنْتَ الْقَاهِرُ
میری حالت تو یہ ہے کہ میں کس طرح عزم کروں جب کی صاحبِ اقتدار اور قاہر تو ہے
وَكَیْفَ لَاۤ اَعْزِمُ وَاَنْتَ الْاٰ مِرُ،
اور کس طرح عزم نہ کروں جب کہ حاکم و آمر بھی تو ہی ہے۔
اِلٰهِىْ تَرَدُّدِىْ فِى الْاٰ ثَارِ
خدایا آثار کائنات میں غور و فکر
یُوْجِبُ بُعْدَ الْمَزَارِ
مجھے تیری ملاقات سے دور تر کیے جا رہے ہیں
فَاجْمَعْنِىْ عَلَیْكَ بِخِدْمَۃٍ تُوْصِلُنِىْۤ اِلَیْكَ
لہٰذا کسی ایسی خدمت کا سہارا دے دے کہ میں تیری بارگاہ میں پہنچ جاؤں،
كَیْفَ یُسْتَدَلُّ عَلَیْكَ بِمَا هُوَ فِىْ وُجُوْدِهِ مُفْتَقِرٌ اِلَیْكَ
میں ان چیزوں کوکس طرح راہنما بناؤں جو خود ہی اپنے وجود میں تیری محتاج ہیں۔
اَیَكُوْنُ لِغَیْرِكَ مِنَ الظُّهُوْرِ مَا لَیْسَ لَكَ
کیا کسی شئے کو تجھ سے زیادہ بھی ظہور حاصل ہے
حَتّٰى یَكُوْنَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَكَ
کہ وہ دلیل بن کر تجھے ظاہر کر سکے
مَتٰى غِبْتَ حَتّٰى تَحْتَاجَ اِلٰى دَلِیْلٍ یَدُلُّ عَلَیْكَ
تو کب ہم سے غائب رہا ہے کہ تیرے لیے کسی دلیل اور رہنمائی کی ضرورت ہو۔
وَمَتٰى بَعُدْتَ حَتّٰى تَكُوْنَ الْاٰ ثارُ هِىَ الَّتِىْ تُوْصِلُ اِلَیْكَ
اور کب ہم سے دور رہا ہے کہ آثار تیری بارگاہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔
عَمِیَتْ عَیْنٌ لَا تَرَاكَ عَلَیْهَا رَقِیْبًا
وہ آنکھیں اندھی ہیں جو تجھے اپنا نگراں نہیں سمجھ رہی ہیں
وَخَسِرَتْ صَفْقَهُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَهُ مِنْ حُبِّكَ نَصِیْبًا،
اور وہ بندہ اپنے معاملاتِ حیات میں سخت خسارہ میں ہے جسے تیری محبت کا کوئی حصّہ نہیں ملا۔
اِلٰهِىْۤ اَمَرْتَ بِالرُّجُوْعِ اِلَى الْاٰ ثَارِ
خدایا تو نے آثارِ کائنات کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے
فَارْجِعْنِىْۤ اِلَیْكَ بِكِسْوَۃِ الْاَنْوَارِ
تو اب اپنی بارگاہ میں واپس بلا لے نور کے لباس
وَهِدَایَۃِ الْاِسْتِبْصَارِ
اور ہدایت کی بصیرت کے سہارے
حَتّٰىۤ اَرْجِعَ اِلَیْكَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْتُ اِلَیْكَ مِنْهَا
تا کہ میں اسی شان سے واپس آؤں کہ میرا باطن
مَصُوْنَ السِّرِّ عَنِ النَّظَرِ اِلَیْهَا
اس کائنات کی طرف توجہ سے محفوظ ہو
وَمَرْفُوْعَ الْهِمَّۃِ عَنِ الْاِعْتِمَادِ عَلَیْهَا
اور میری ہمت اس دنیا پر بھروسہ کرنے سے بلند ہو۔
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّشَىٍْ قَدِیْرٌ
تو ہر شئے پر قدرت و اختیار رکھتا ہے
اِلٰهِىْ هٰذَا ذُلِّىْ ظَاهِرٌ بَیْنَ یَدَیْكَ
پروردگار یہ میری ذات ہے جو تیری جانب میں بالکل واضح اور روشن ہے
وَهٰذَا حَالِىْ لَا یَخْفٰى عَلَیْكَ
یہ میری حالت ہے جس پر کوئی پردہ نہیں ہے
مِنْكَ اَطْلُبُ الْوُصُوْلَ اِلَیْكَ
مین تیرے ہی ذریعہ تیری بارگاہ تک پہنچنا چاہتا ہوں
وَبِكَ اَسْتَدِلُّ عَلَیْكَ
اور تیری ہی رہنمائی کا طلب گار ہوں۔
فَاهْدِنِىْ بِنُوْرِكَ اِلَیْكَ
اپنے نور سے اپنی طرف ہدایت فرما
وَاَقِمْنِىْ بِصِدْقِ الْعُبُوْدِیَّۃِ بَیْنَ یَدَیْكَ
اور اپنی سچّی بندگی کے ساتھ اپنی بارگاہ میں حاضری کی سعادت کرامت فرما۔
اِلٰهِىْ عَلِّمْنِىْ مِنْ عِلْمِكَ الْمَخْزُوْنِ
خدایا مجھے اپنے علم کے خزانوں سے علم عطا کر
وَصُنِّىْ بِسِتْرِكَ الْمَصُوْنِ،
اور اپنے محفوظ پردوں سے میری حفاظت فرما۔
اِلٰهِىْ حَقِّقْنِىْ بِحَقَاۤئِقِ اَهْلِ الْقُرْبِ
خدایا مجھے اہل تقرّب کا حاصل ہونے والے حقائق عطا فرما
وَاسْلُكْ بِىْ مَسْلَكَ اَهْلِ الْجَذْبِ
اور جذب و کشش رکھنے والوں کے مسلک پر چلنے کی توفیق کرامت فرما۔
اِلٰهِىْۤ اَغْنِنِىْ بِتَدْبِیْرِكَ لِىْ عَنْ تَدْبِیْرِىْ
اپنی تدبیر کے ذریعہ سے مجھے میری تدبیر سے بے نیاز کر دے
وَبِاخْتِیَارِكَ عَنْ اِخْتِیَارِىْ
اور اپنے اختیار کے ذریعہ میرے اختیار و انتخاب سے مستغنی بنا دے
وَاَوْقِفْنِىْ عَلٰى مَرَاكِزِ اضْطِرَارِىْ
اور اضطرار و اضطراب کے مواقع کی اطلاع اور آگاہی عطا فرما۔
اِلٰهِىْۤ اَخْرِجْنِىْ مِنْ ذُلِّ نَفْسِىْ
پروردگار مجھے میرے نفس کی ذلّت سے باہر نکال دے
وَطَهِّرْنِىْ مِنْ شَكِّىْ وَشِرْكِىْ
ہر شک و شر سے پاک و پاکیزہ بنا دے
قَبْلَ حُلُوْلِ رَمْسِىْ
موت سے پہلے
بِكَ اَنْتَصِرُ فَانْصُرْنِىْ
میں تیری ہی مدد چاہتا ہوں تو تو میری امداد کر
وَعَلَیْكَ اَتَوَكَّلُ فَلَا تَكِلْنِىْ
اور تجھی پر بھروسہ کرتاہوں تو تو کسی اور کے حوالے نہ کر دینا
وَاِیَّاكَ اَسْئَلُ فَلَا تُخَیِّبْنِىْ
بس تجھ سے سوال کرتا ہوں تو ناامید نہ کرنا
وَفِىْ فَضْلِكَ اَرْغَبُ فَلَا تَحْرِمْنِىْ
اور صرف فضل کی رغبت رکھتا ہوں تو مجھے محروم نہ رکھنا۔
وَبِجَنَابِكَ اَنْتَسِبُ فَلَا تُبْعِدْنِىْ
میں تیری جناب سے رشتہ رکھتا ہوں تو مجھے دور نہ کرنا
وَبِبَابِكَ اَقِفُ فَلَا تَطْرُدْنِىْ،
اور تیرے دروازے پر کھڑا ہوں تو مجھے بھگا نہ دینا۔
اِلٰهِىْ تَقَدَّسَ رِضَاكَ اَنْ یَكُوْنَ لَهُ عِلَّۃٌ مِنْكَ
تیری مرضی اس سے بلند تر ہے کہ اس میں تیری طرف سے کوئی نقص پیدا ہو سکے
فَكَیْفَ یَكُوْنُ لَهُ عِلَّۃٌ مِنِّىْۤ
تو میری طرف سے کیا نقص پیدا ہو سکتا ہے
اِلٰهِىْ اَنْتَ الْغَنِىُّ بِذَاتِكَ اَنْ یَصِلَ اِلَیْكَ النَّفْعُ مِنْكَ
تو اپنی ذات سے اس بات سے بے نیاز ہے کہ تجھے تیرے ہی طرف سے کوئی فائدہ پہنچے
فَكَیْفَ لَا تَكُوْنُ غَنِیًّا عَنِّىْۤ
تو میری طرف سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اِلٰهِىْ اِنَّ الْقَضَاۤءَ وَالْقَدَرَ یُمَنِّیْنِىْ
خدایا یہ صرف قضا و قدر ہے جو امید وار بنائے ہوئے ہے
وَاِنَّ الْهَوٰى بِوَثَاۤئِقِ الشَّهْوَۃِ اَسَرَنِىْ
ورنہ خواہش تو آرزوؤں کی رسّی میں جکڑی ہوئی تھی۔
فَكُنْ اَنْتَ النَّصِیْرَ لِىْ
اب تو ہی میرا مددگار بن جا
حَتّٰى تَنْصُرَنِىْ وَتُبَصِّرَنِىْ
تا کہ تو ہی مدد کرے اور تو ہی راستہ دکھائے۔
وَاَغْنِنِىْ بِفَضْلِكَ
اپنے فضل و کرم سے ایسا غنی بنا دے
حَتّٰىۤ اَسْتَغْنِىَ بِكَ عَنْ طَلَبِىْۤ
کہ اپنی طلب سے بھی بے نیاز ہوجاؤں۔
اَنْتَ الَّذِىْۤ اَشْرَقْتَ الْاَنْوَارَ فِىْ قُلُوْبِ اَوْلِیَاۤئِكَ
تو ہی وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں میں انوار الوہیت کی روشنی پیدا کر دی
حَتّٰى عَرَفُوْكَ وَوَحَّدُوْكَ
تو وہ تجھے پہچان گئے اور تیری وحدانیت کا اقرار کرنے لگے
وَاَنْتَ الَّذِىْۤ اَزَلْتَ الْاَغْیَارَ عَنْ قُلُوْبِ اَحِبَّاۤئِكَ
اور تو ہی وہ ہے جس نے اپنے محبّوں کے دلوں سے اغیار کو نکال کر باہر کردیا
حَتّٰى لَمْ یُحِبُّوْا سِوَاكَ
تو اب تیرے علاوہ کسی کے چاہنے والے نہیں ہیں
وَلَمْ یَلْجَئُوْۤا اِلٰى غَیْرِكَ
اور کسی کی پناہ نہیں مانگتے۔
اَنْتَ الْمُوْنِسُ لَهُمْ
تو نے اس وقت اس کا سامان فراہم کیا
حَیْثُ اَوْحَشَتْهُمُ الْعَوَالِمُ
جب سارے عالم سبب وحشت بنے ہوئے تھے
وَاَنْتَ الَّذِىْ هَدَیْتَهُمْ
اور تو نے ان کی اس طرح ہدایت کی
حَیْثُ اسْتَبَانَتْ لَهُمُ الْمَعَالِمُ
کہ سارے راستے روشن ہوگئے۔
مَاذَا وَجَدَ مَنْ فَقَدَكَ
پروردگار جس نے تجھے کھو دیا اس نے پایا کیا
وَمَا الَّذِىْ فَقَدَ مَنْ وَجَدَكَ
اور جس نے تجھے پا لیا اس نے کھویا کیا۔
لَقَدْ خَابَ مَنْ رَضِىَ دُوْنَكَ بَدَلًا
جو تیرے بدل پر راضی ہوگیا وہ نا مُراد ہوگیا
وَلَقَدْ خَسِرَ مَنْ بَغٰى عَنْكَ مُتَحَوِّلًا
اور جس نے تجھ سے منہ موڑا وہ گھاٹے میں رہا۔
كَیْفَ یُرْجٰى سِوَاكَ
تیرے علاوہ غیر سے امید کیوں کی جائے
وَاَنْتَ مَا قَطَعْتَ الْاِحْسَانَ
جب کہ تو نے احسان کا سلسلہ روکا نہیں
وَكَیْفَ یُطْلَبُ مِنْ غَیْرِكَ
اور تیرے سوا دوسرے سے مانگا ہی کیوں جائے
وَاَنْتَ مَا بَدَّلْتَ عَادَۃَ الْاِمْتِنَانِ
جب کہ تیرے فضل و کرم کی عادت میں فرق نہیں آیا ہے۔
یَا مَنْ اَذَاقَ اَحِبَّاۤئَهُ حَلَاوَۃَ الْمُؤَانَسَۃِ
وہ پروردگار جس نے اپنے دوستوں کو انس و محبت کی حلاوت کا مزہ چکھا دیا ہے
فَقَامُوْا بَیْنَ یَدَیْهِ مُتَمَلِّقِیْنَ
تو اس کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوئے ہوں
وَیَا مَنْ اَلْبَسَ اَوْلِیَاۤئَهُ مَلَابِسَ هَیْبَتِهِ
اور اپنے اولیاء کی ہیبت کا لباس پہنا دیا ہے
فَقَامُوْا بَیْنَ یَدَیْهِ مُسْتَغْفِرِیْنَ
تو اس کے سامنے استغفار کرنے کے لیے ایستادہ ہیں۔
اَنْتَ الذَّاكِرُ قَبْلَ الذَّاكِرِیْنَ
تو تمام یاد کرنے والوں سے پہلے یاد کرنے والا ہے۔
وَاَنْتَ الْبَادِىْ بِالْاِحْسَانِ قَبْلَ تَوَجُّهِ الْعَابِدِیْنَ
تو عابدوں کی توجہ سے پہلے احسان کرنے والا ہے
وَاَنْتَ الْجَوَادُ بِالْعَطَاۤءِ قَبْلَ طَلَبِ الطَّالِبِیْنَ
اور سوال کرنے والوں کے سوال سے پہلے عطا کرنے والا ہے
وَاَنْتَ الْوَهَّابُ، ثُمَّ لِمَا وَهَبْتَ لَنَا مِنَ الْمُسْتَقْرِضِیْنَ
اور تو ہی عطا کرنے والا اور خود ہی دے کر قرض مانگنے والا ہے۔
اِلٰهِىْۤ اُطْلُبْنِىْ بِرَحْمَتِكَ حَتّٰىۤ اَصِلَ اِلَیْكَ
خدایا مجھے اپنی رحمت سے طلب کر لے تا کہ میں تیری بارگاہ تک پہنچ جاؤں
وَاجْذِبْنِىْ بِمَنِّكَ حَتّٰىۤ اُقْبِلَ عَلَیْكَ
اور مجھے اپنے احسان کے سہارے اپنی طرف کھینچ لے تا کہ میں تیری طرف متوجہ ہو جاؤں۔
اِلٰهِىْ اِنَّ رَجَاۤئِىْ لَا یَنْقَطِعُ عَنْكَ وَاِنْ عَصَیْتُكَ
خدایا میری اُمید تجھ سے منقطع ہونے والی نہیں ہے چاہے گنہگار ہی کیوں نہ ہوں
كَمَاۤ اَنَّ خَوْفِىْ لَا یُزَایِلُنِىْ وَاِنْ اَطَعْتُكَ
جس طرح کے میرا خوف ختم ہونے والا نہیں ہے چاہے اطاعت ہی کیوں نہ کروں
فَقَدْ دَفَعَتْنِىْ الْعَوَالِمُ اِلَیْكَ
اس لیے تمام جہان نے تیری طرف ڈھکیل دیا ہے
وَقَدْ اَوْقَعَنِىْ عِلْمِىْ بِكَرَمِكَ عَلَیْكَ
اور تیرے کرم کی اطلاع نے تیرے سامنے کھڑا کر دیا ہے
اِلٰهِىْ كَیْفَ اَخِیْبُ وَاَنْتَ اَمَلِىْ
جب تو میری امید ہے تو میں مایوس کس طرح ہو جاؤں
اَمْ كَیْفَ اُهَانُ وَعَلَیْكَ مُتَّكَلِىْۤ
اور جب تجھ پر بھروسہ ہے تو ذلیل کس طرح ہو سکتا ہوں
اِلٰهِىْ كَیْفَ اَسْتَعِزُّ وَفِىْ الذِّلَّۃِ اَرْكَزْتَنِىْۤ
اگر تو نے ذلت میں ڈال دیا تو صاحب عزت کیسے بنوں گا
اَمْكَیْفَ لَاۤ اَسْتَعِزُّ وَاِلَیْكَ نَسَبْتَنِىْۤ،
اور تو نے اپنا بنا لیا تو ذلیل کیسے ہو سکوں گا۔
اِلٰهِىْ كَیْفَ لَاۤ اَفْتَقِرُ وَاَنْتَ الَّذِىْ فِىْ الْفُقَرَاۤءِ اَقَمْتَنِىْۤ
پروردگار میں کس طرح فقیر نہ بنوں کہ تو نے فقیروں کے درمیان رکھا ہے اور کیسے فقیر رہ سکوں گا
اَمْ كَیْفَ اَفْتَقِرُ وَاَنْتَ الَّذِىْ بِجُوْدِكَ اَغْنَیْتَنِىْ
جب کہ تو نے اپنے فضل وکرم سے غنی بنا دیا ہے۔
وَاَنْتَ الَّذِىْ لَاۤ اِلٰهَ غَیْرُكَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
تَعَرَّفْتَ لِكُلِّ شَىْءٍ فَمَا جَهِلَكَ شَىْءٌ
تو نے اپنے کو ہر ایک کو پہچنوا دیا ہے
وَاَنْتَ الَّذِىْ تَعَرَّفْتَ اِلَىَّ فِىْ كُلِّ شَىْءٍ
تو اب کوئی تجھ سے ناواقف نہیں ہے اور میرے لیے اور بھی واضح اور نمایاں ہو گیا ہے
فَرَاَیْتُكَ ظَاهِرًا فِىْ كُلِّ شَىْءٍ
تو مجھے تیرا جلوہ ہر شئے میں نظر آنے لگا ہے۔
وَاَنْتَ الظَّاهِرُ لِكُلِّ شَىْءٍ
تو در حقیقت ہر ایک کے لیے روشن ہے۔
یَا مَنِ اسْتَوٰى بِرَحْمَانِیَّتِهِ
اے خدا جس نے اپنی رحمانیت سے ہر شئے پر احاطہ کر لیا
فَصَارَ الْعَرْشُ غَیْبًا فِىْ ذَاتِهِ
تو عرشِ اعظم بھی اس کی ذات میں گُم ہو گیا۔
مَحَقْتَ الْاٰ ثارَ بِالْاٰ ثارِ
تو نے آثار وجود کو دوسرے آثار کے ذریعے نابود کر دیا
وَمَحَوْتَ الْاَغْیَارَ بِمُحِیْطَاتِ اَفْلَاكِ الْاَنْوَارِ
اور اغیار کو افلاک نور کے احاطہ سے محو کر دیا ہے۔
یَا مَنِ احْتَجَبَ فِىْ سُرَادِقَاتِ عَرْشِهِ
اے وہ خدا جو عرش کے سراپا پردوں میں اس طرح پوشیدہ ہوا
عَنْ اَنْ تُدْرِكَهُ الْاَبْصَارُ
کہ نگاہیں اس کو دیکھنے کے لیے ترس گئیں
یَا مَنْ تَجَلّٰى بِكَمَالِ بَهَاۤئِهِ
اور کمال تجلّی سے اس طرح روشن ہوا
فَتَحَقَّقَتْ عَظَمَتُهُ الْاِسْتِوَاۤءَ
کہ اس کی عظمت ہر شئے پر حاوی ہوگئی۔
كَیْفَ تَخْفٰى وَاَنْتَ الظَّاهِرُ
تیرا ظہور ہےاور کس طرح غائب ہوسکتا ہے
اَمْ كَیْفَ تَغِیْبُ وَاَنْتَ الرَّقِیْبُ الْحَاضِرُ
جب کہ ہر ایک کے سامنے رہ کر اس کے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے۔
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّشَىْءٍ قَدِیْرٌ
تو ہر شئے پر قادر ہے
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهُ۔
اور ساری تعریف تیری ذاتِ واحد کے لیے ہے۔
يَا رَبِّ اِنَّ ذُنُوْبِيْ لَا تَضُرُّكَ
خدایا میرے گناہ تجھ کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے
وَ اِنَّ مَغْفِرَتَكَ لِيْ لَا تَنْقُصُكَ
اور میری مغفرت تجھ میں کچھ کمی نہ پیدا کر سکے گی
فَاَعْطِنِيْ مَا لَا يَنْقُصُكَ
لہٰذا مجھ کو وہ عطا کر جس سے تیرے یہاں کمی نہیں ہوتی ہے
وَ اغْفِرْ لِيْ مَا لَا يَضُرُّكَ
اور مجھے بخش دے وہ جس سے تیرا کوئی نقصان نہیں ہونے والاہے۔
اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنِيْ خَيْرَ مَا عِنْدَكَ لِشَرِّ مَا عِنْدِيْ
خدایا مجھ کو کسی ایسی نیکی سے محروم نہ کرنا جو تیرے پاس ہے کسی اس برائی کی بنا پر جو میرے پاس ہے
فَاِنْ اَنْتَ لَمْ تَرْحَمْنِيْ بِتَعَبِيْ وَ نَصَبِيْ
اگر تو مجھ پر میری تکلیف اور زحمت کی بنا پر رحم نہ بھی کرے تو کم سے کم
فَلَا تَحْرِمْنِيْۤ اَجْرَ الْمُصَابِ عَلٰى مُصِيْبَتِهِ
تو معصیت کے اٹھانے کے اجر سے محروم نہ کرنا۔