EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
مَا ذَا عَلَى الْمُشْتَمِّ تُرْبَةَ اَحْمَدٍ
جو سونگھ لے تری خاکِ لحد کو شاہِ انام
اَنْ لَا يَشَمَّ مَدَى الزَّمَانِ غَوَالِيَا
کرے تابہ ابد خوشبوؤں کا استشمام
صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَاۤئِبٌ لَوْ اَنَّهَا
اگر زمانہ پہ یہ حادثات ہوجاتے
صُبَّتْ عَلَى الْاَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا
تو دن بھی فرطِ مصائب سے رات ہوجاتے
قُلْ لِلْمُغَيَّبِ تَحْتَ اَثْوَابِ الثَّرٰى
کوئی یہ صاحبِ تربت سے کاش کہہ دے پیام
اِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَرْخَتِيْ وَ نِدَاۤئِيَا
ستم رسیدہ کی فریاد سن لیں شاہِ انام
صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَاۤئِبٌ لَوْ اَنَّهَا
اگر زمانہ پہ یہ حادثات ہوجاتے
صُبَّتْ عَلَى الْاَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا
تو دن بھی فرط مصائب سے رات ہوجاتے
قَدْ كُنْتُ ذَاتَ حِمًى بِظِلِّ مُحَمَّدٍ
بظل سایۂ رحمت جو زندگی گزری
لَاۤ اَخْشَ مِنْ ضَيْمٍ وَ كَانَ حِمٰی لِيَا
ہر اک رنج و بلا سے بچی ہوئی گزری
فَالْيَوْمَ اَخْضَعُ لِلذَّلِيْلِ وَ اَتَّقِيْ
مگر ستم پہ تلا آج ہر ستمگر ہے
ضَيْمِيْ وَ اَدْفَعُ ظَالِمِيْ بِرِدَاۤئِيَا
بچانے والی مری آج صرف چادر ہے
فَاِذَا بَكَتْ قُمْرِيَّةٌ فِيْ لَيْلِهَا
اگر ہے رات میں قمری فضا میں نالہ کناں
شَجَنًا عَلٰى غُصْنٍ بَكَيْتُ صَبَاحِيَا
تو دن میں آپ کی لختِ جگر ہے نوحہ خواں
فَلَاَجْعَلَنَّ الْحُزْنَ بَعْدَكَ مُوْنِسِيْ
جہاں میں آج فقط غم ہی میرا ہمدم ہے
وَ لَاَجْعَلَنَّ الدَّمْعَ فِيْكَ وَشَاحِيَا
سکونِ دل کا سہارا یہ اشکِ ماتم ہے۔