اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَ مَا بَيْنَهُنَّ
اے ساتوں آسمان اور ان کے درمیان کی ہر شئے
وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ
اور عرشِ عظیم کے مالک۔
وَ رَبَّ جَبْرَئِيْلَ وَ مِيْكَاۤئِيْلَ وَ اِسْرَافِيْلَ
اے جبریل و میکائیل و اسرافیل کے مالک،
وَ رَبَّ الْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ
اے قرآن عظیم کے مالک،
وَ رَبَّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
اے خاتم النبیینؐ کے پروردگار،
اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِالَّذِىْ تَقُوْمُ بِهِ السَّمَاۤءُ
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے سہارے سے
وَ بِهِ تَقُوْمُ الْاَرْضُ
جس سے زمین و آسمان قائم ہیں ۔
وَ بِهِ تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ
وہ طاقت جس کے ذریعہ مجتمع چیزیں الگ ہوتی ہیں
وَ بِهِ تَجْمَعُ بَيْنَ الْمُتَفَرِّقِ
اور متفرقات جمع ہوتی ہیں،
وَ بِهِ تَرْزُقُ الْاَحْياۤءَ
تمام زندوں کو روزی دی جاتی ہے
وَ بِهِ اَحْصَيْتَ عَدَدَ الرِّمَالِ
جس کے ذریعہ ریت کے ذرّوں کا
وَ وَزْنَ الْجِبَالِ
پہاڑ کے وزن کا
وَكَيْلَ الْبُحُوْرِ۔
اور سمندر کے قطرات کا حساب ہوتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ امْلَاءْ قَلْبِىْ حُبًّا لَكَ وَ خَشْيَةً مِنْكَ وَ تَصْدِيْقًا وَ اِيْمَانًا بِكَ وَ فَرَقًا مِنْكَ وَ شَوْقًا اِلَيْكَ يَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ اِلَیَّ لِقَاۤئَكَ وَاجْعَلْ لِىْ فِىْ لِقَاۤئِكَ خَيْرَ الرَّحْمَةِ وَالْبَرَكَةِ وَ اَلْحِقْنِىْ بِالصَّالِحِيْنَ وَلَاتُؤَخِّرْنِىْ مَعَ الْاَشْرَارِ وَ اَلْحِقْنِىْ بِصَالِحِ مَنْ مَضٰى وَاجْعَلْنِىْ مَعَ صَالِحِ مَنْ بَقِىَ وَ خُذْبِىْ سَبِيْلَ الصَّالِحِيْنَ وَ اَعِنِّىْ عَلٰى نَفْسِىْ بِمَا تُعِيْنُ بِهِ الصَّالِحِيْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَلَاتَرُدَّنِىْ فِىْ سُوْۤءٍ ۟اِسْتَنْقَذْتَنِىْ مِنْهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ اَسْئَلُكَ اِيْمَانًا لَاۤ اَجَلَ لَهُ دُوْنَ لِقَاۤئِكَ تُحْيِيْنِىْ وَ تُمِيْتُنِىْ عَلَيْهِ وَ تَبْعَثُنِىْ عَلَيْهِ اِذَا بَعَثْتَنِىْ وَاَبْرِءْ قَلْبِىْ مِنَ الرِّيَاۤءِ وَالسُّمْعَةِ وَالشَّكِّ فِىْ دِيْنِكَ، اَللّٰهُمَّ اَعْطِنِىْ نَصْرًا فِىْ دِيْنِكَ وَ قُوَّةً فِىْ عِبَادَتِكَ وَ فَهْمًا فِىْ خَلْقِكَ وَ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِكَ وَ بَيِّضْ وَجْهِىْ بِنُوْرِكَ وَاجْعَلْ رَغْبَتِىْ فِيْمَا عِنْدَكَ وَ
خدایا میرے دل کو اپنی محبّت، اپنے خوف، اپنی تصدیق ایمان اور اپنے شوق سے معمور کر دے۔ اے صاحب جلال و اکرام میری نگاہ میں اپنی ملاقات کو محبوب بنا دے۔ اس ملاقات میں میرے لیے بہترین رحمت اور برکت قرار دے اور مجھے سابقین سے ملحق کر دے۔ مجھے اشرار کے ساتھ نہ قرار دینا، ان لوگوں سے ملحق کر دینا جو مجھ سے پہلے نیک کردار گذر چکے ہیں اور میرے بعد نیک کردار آنے والے ہیں۔ مجھے نیکوں کے راستے پر چلانا اور میری ویسی ہی مدد کرنا جیسے نیک بندوں کی مدد ان کے نفس کے مقابلے میں کی ہے۔ جس برائی سے تو نے مجھے نکال لیا دوبارہ اس میں واپس نہ جانے دینا ۔ اے عالمین کے پروردگار میرا سوال اس ایمان کے بارے میں ہے جو تیری ملاقات سے پہلے تمام نہ ہونے پائے ۔ اسی پر زندہ رہوں ، اسی پر مر جاؤں اور اسی پر روزِ قیامت اٹھایا جاؤں ۔ میرے دل کو ریا کاری ، شک اور شبہات سے پاک و پاکیزہ کر دے، اپنے دین کے بارے میں میری مدد فرما ۔ عبادت کی قوّت اور تخلیق کو سمجھنے کی صلاحیت عطا فرما۔ اپنی رحمت سے تمام حصّے عطا فرما اور اپنے نور سے میرے چہرے کو روشن کر دے ۔ ثواب کی رغبت عطا فرما اور اپنے دین اور پیغمبرؐ کے راستے پر مجھے دنیا سے اٹھانا ۔ خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں کسل مندی سے، بزدلی سے، کمزوری سے کنجوسی سے غفلت سنگدلی سستی اور فقیری سے اور اے خدا میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس نفس کے مقابلے میں جو کبھی سیر نہ ہو، اس دل کے مقابلے میں جس میں خشوع و خضوع نہ ہو، اس دعا کے مقابلے میں جو قابل قبول نہ ہو، اس نماز کے مقابلہ میں جو فائدہ بخش نہ ہو ۔ میں تیری پناہ میں اپنے نفس کو اپنے اہل کو اور اپنی ذریّت کو دیتا ہوں کہ انھیں شیطان الرجیم سے محفوظ فرما۔ خدایا تیرے علاوہ مجھے کوئی پناہ دینے والا نہیں اور نہ میرا کوئی ٹھکانہ ہے۔ مجھے نظر انداز نہ کرنا۔ ہلاکت میں ڈال نہ دینا اور کسی عذاب کی طرف پلٹا نہ دینا۔ میں تجھ سے دین پر ثبات ، کتاب کی تصدیق اور پیغمبرؐ کے اتباع کا سوال کرتا ہوں ۔ خدایا مجھے اپنی رحمت سے یاد کرنا ، میری خطاؤں کو درگذر فرما میرے عمل کو قبول فرما اور اس میں اضافہ فرمادے اس لیے کہ میری توجہ تیری ہی طرف ہے، میری گفتگو اور میری نشست کا ثواب اپنی رضا کو قرار دے دے، میرے عمل اور میری دعا کو خالص بنادے اور میرے ثواب کو جنت قرار دے دے ۔ جو کچھ میں نے سوال کیا ہے سب عطا کردے بلکہ اپنے فضل سے اضافہ بھی کر دے اس لیے کہ میری توجہ تیری ہی طرف ہے۔ پروردگار اب ستارے ڈوب چکے ہیں، آنکھیں سو چکی ہیں فقط خدائے حی و قیوم ہے جس کے سامنے نہ کوئی رات پردہ ہے ، نہ کوئی آسمان ، نہ کوئی زمین ، نہ کوئی سمندر نہ تاریکیاں ۔ تو جسے چاہتا ہے رحمت عنایت فرما دیتا ہے۔ تو نگاہوں کی خیانت اور دل کے رازوں سے باخبر ہے ۔ میں ان تمام باتوں کی گواہی دیتا ہوں جن کی تو نے خود اپنے بارے میں گواہی دی ہے یا تیرے ملائکہ اور صاحبان علم نے گواہی دی ہے کہ تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور تو عظیم و حکیم ہے اور اگر کسی نے ان باتوں کی شہادت نہیں دی ہے تو میری شہادت کو اس کی شہادت کی جگہ پر لکھ لے ۔ خدایا تو سلام ہے، تیری طرف سے سلامتی ہے ۔ اے صاحبِ جلال و اکرام میرا ایک سوال ہے کہ میری گردن کو آتشِ جہنّم سے آزاد کردے
تَوَفَّنِىْ فِىْ سَبِيْلِكَ عَلٰى مِلَّتِكَ وَ مِلَّةِ رَسُوْلِكَ اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَ الْهَرَمِ وَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَ الْغَفْلَةِ وَالْقَسْوَةِ وَالْفَتْرَةِ وَ الْمَسْكَنَةِ وَ اَعُوْذُبِكَ يَا رَبِّ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَ مِنْ دُعَاۤءٍ لَايُسْمَعُ وَ مِنْ صَلٰوةٍ لَاتَنْفَعُ وَ اُعِيْذُ بِكَ نَفْسِىْ وَ اَهْلِىْ وَ ذُرِّيَّتِىْ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ اَللّٰهُمَّ اِنَّهُ لَايُجِيْرُنِىْ مِنْكَ اَحَدٌ وَلَاۤ اَجِدُ مِنْ دُوْنِكَ مُلْتَحَدًا فَلَا تَخْذُلْنِىْ وَلَاتَرُدَّنِىْ فِىْ هَلَكَةٍ وَلَاتَرُدَّنِىْ بِعَذَابٍ اَسْئَلُكَ الثَّبَاتَ عَلٰى دِيْنِكَ وَالتَّصْدِيْقَ بِكِتَابِكَ وَ اتِّبَاعَ رَسُوْلِكَ اَللّٰهُمَّ اذْكُرْنِىْ بِرَحْمَتِكَ وَلَاتَذْكُرْنِىْ بِخَطِيْئَتِىْ وَ تَقَبَّلْ مِنِّىْ وَ زِدْنِىْ مِنْ فَضْلِكَ اِنِّىْۤ اِلَيْكَ رَاغِبٌ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ ثَوَابَ مَنْطِقِىْ وَ ثَوَابَ مَجْلِسِىْ رِضَاكَ عَنِّىْ وَاجْعَلْ عَمَلِىْ وَ دُعَاۤئِىْ خَالِصًا لَكَ وَاجْعَلْ ثَوَابِىَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ وَاجْمَعْ لِىْ جَمِيْعَ مَا
سَئَلْتُكَ وَ زِدْنِىْ مِنْ فَضْلِكَ اِنِّىْ ۤاِلَيْكَ رَاغِبٌ اَللّٰهُمَّ غَارَتِ النُّجُوْمُ وَ نَامَتِ الْعُيُوْنُ وَ اَنْتَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ لَا يُوَارِىْ مِنْكَ لَيْلٌ سَاجٍ وَ لَا سَمَاۤءٌ ذَاتُ اَبْرَاجٍ وَ لَاۤ اَرْضٌ ذَاتُ مِهَادٍ وَلَابَحْرٌ لُجِّىٌ وَلَا ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ تُدْلِجُ الرَّحْمَةَ عَلٰى مَنْ تَشَاۤءُ مِنْ خَلْقِكَ تَعْلَمُ خَاۤئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِىْ الصُّدُوْرُ اَشْهَدُ بِمَا شَهِدَتْ بِهِ عَلٰى نَفْسِكَ وَ شَهِدَتْ مَلَاۤئِكَتُكَ وَاُوْلُوْا الْعِلْمِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ وَ مَنْ لَمْ يَشْهَدْ عَلٰى مَا شَهِدْتَ عَلٰى نَفْسِكَ وَ شَهِدَتْ مَلَاۤئِكَتُكَ وَ اُوْلُوْاالْعِلْمِ فَاكْتُبْ شَهَادَتِىْ مَكَانَ شَهَادَتِهِ اَللّٰهُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ اَسْئَلُكَ يَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ اَنْ تَفُكَّ رَقَبَتِىْ مِنَ النّارِ۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَسْاَلُكَ الْاَمْنَ وَ الْاِيْمَانَ
خدایا میرا سوال امن، ایمان،
وَ التَّصْدِيْقَ بِنَبِيِّكَ
پیغمبرؐ کی تصدیق،
وَ الْعَافِيَةَ مِنْ جَمِيْعِ الْبَلَاۤءِ
ہر بلا سے عافیت
وَ الشُّكْرَ عَلَى الْعَافِيَةِ
اور ہر عافیت پر شکر کے بارے میں ہے
وَ الْغِنٰى عَنْ شِرَارِ النَّاسِ۔
اور مجھے بدترین لوگوں سے بے نیاز بنا دے ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَشْهَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَاشَرِيْكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ وَ بِجَمِيْعِ رُسُلِهِ وَ بِجَمِيْعِ مَاۤ اُنْزِلَ بِهِ عَلٰى جَمِيْعِ الرُّسُلِ وَ اَنَّ وَعْدَاللّٰهِ حَقٌّ وَ لِقَاۤئَهُ حَقٌّ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ بَلَّغَ الْمُرْسَلُوْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَ سُبْحَانَ اللّٰهِ كُلَّمَا سَبَّحَ اللّٰهَ شَيْئٌ وَ كَمَا يُحِبُّ اللّٰهُ اَنْ يُسَبَّحَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كُلَّمَا حَمِدَ اللّٰهَ شَيْئٌ وَ كَمَا يُحِبُّ اللّٰهُ اَنْ يُحْمَدَ وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ كُلَّمَا هَلَّلَ اللّٰهَ شَيْى ءٌ وَ كَمَا يُحِبُّ اللّٰهُ اَنْ يُهَلَّلَ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ كُلَّمَا كَبَّرَاللّٰهَ شَيْى ءٌ وَ كَمَا يُحِبُّ اللّٰهُ اَنْ يُكَبَّرَ اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَسْئَلُكَ مَفَاتِيْحَ الْخَيْرِ وَ خَوَاتِيْمَهُ وَ سَوَابِغَهُ وَ فَوَاۤئِدَهُ وَ بَرَكَاتِهِ وَ مَا بَلَغَ عِلْمَهُ عِلْمِىْ وَ مَا قَصَرَ عَنْ اِحْصَاۤئِهِ حِفْظِىْۤ، اَللّٰهُمَّ انْهَجْ لِىْۤ
شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ حضرت محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اللہ پر اور تمام رسولوں پر اور تمام الٰہی تعلیمات پر جو رسول پر نازل ہوئیں، سب پر ایمان لایا۔ اللہ کا وعدہ سچّا ہے اور اس کی ملاقات برحق ہے ۔ اس نے سچ فرمایا ہے اور مرسلین نے اس کے پیغام کو صحیح پہنچایا ہے ساری حمد اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے ۔ میں اس کی تسبیح کرتا ہوں جیسا کہ کوئی شئے اس کی تسبیح کرتی ہے اور جس طرح وہ تسبیح کو پسند کرتا ہے۔ میں اس کی حمد کرتا ہوں جیسے بھی کوئی شئے حمد کرتی ہے اور جس طرح وہ حمد کو پسند کرتا ہے میں اس کی تہلیل کرتا ہوں جیسے بھی کوئی شئے تہلیل کرتی ہے اور اسی طرح تحلیل کرتا ہوں جس طرح وہ پسند کرتا ہے ۔ میں اس کی کبریائی کا اقرار کرتا ہوں جیسے بھی کوئی شئے اقرار کرتی ہے اور اسی طرح جس طرح وہ پسند کرتا ہے۔ خدایا میں ہرشئے کے آغاز و انجام اور اس کے تمام و کمال اور اس کے فوائد و برکات کا سوال کرتا ہوں ۔ جہاں تک میرے علم کی رسائی ہے اور جہاں تک رسائی نہیں ہے۔ خدایا مجھے معرفت کے راستے پر چلادے اس کے دروازوں کو کھول دے اپنی رحمت کی برکات سے مجھے ڈھانک لے، مجھ پر احسان فرما۔ تو مجھے دین میں لغزش سے بچالے، میرے دل کو شک سے پاک کردے میرے دل کو دنیا میں اور دنیا کی معاشیات میں مبتلا کر کے آخرت سے غافل نہ ہونے دینا۔ میرے دل کو مشغول کر دے ان چیزوں کو محفوظ رکھنے میں جن کی جہالت قابلِ معافی نہیں ہے۔ میری زبان کو خیر کے لیے ہموار کر دے ، میرے دل کو ریا کاری سے پاک کر دے ۔ میرے عمل کو خالص بنادے۔ خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں شر سے اور طرح کے جرم سے، ظاہر و باطن اور تمام غفلتوں سے اور تمام ان چیزوں سے جو شیطان مجھ سے چاہتا ہے یا ظالم بادشاہ چاہتے ہیں ، تو سب کو جانتا بھی ہے اور سب سے بچا بھی سکتا ہے۔ خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں جن وانس کے تمام حوادث سے ، ان کے مہلکات سے ان کے کید و مکر سے اور فاسقوں کے مراکز سے اور اس بات سے کہ دین میں لغزش نہ پیدا ہو جائے کہ آخرت خراب ہو جائے اور یہ میرے لیے ضرر کا باعث ہو جائے یا کوئی بلا ایسی نازل ہو جائے جو ظالموں کی طرف سے مجھ پر وارد ہو اور میں اس کا دفاع نہ کر سکوں اور نہ میں اسے برداشت کر سکوں ایسی کسی مصیبت میں مجھے مبتلا نہ کرنا کہ میں تیری یاد سے غافل ہو جاؤں یا تیری عبادت سے غافل ہو جاؤں ۔ تو بہترین محافظ، دفاع کرنے والا اور ہر بلا سے بچانے والا ہے ۔ خدایا میں جب تک زندہ رہوں تجھ سے معیشت میں رفاہیت کا سوال کرتا ہوں لیکن ایسی معیشت جس سے اطاعت کی طاقت پیدا ہو، تیری رضا حاصل کر سکوں اور کل جنّت تک پہنچ سکوں ۔ ایسا رزق نہ دینا جس سے سرکشی پیدا ہو جائے فقیری میں مبتلا نہ کر دینا کہ تنگی کا شکار ہو جاؤں۔ آخرت می بہترین حصّہ عطا فرمانا اور دنیا میں خوش گوار معیشت عطا فرمانا نہ اس دنیا کو میرے واسطے قید خانہ بنا دے اور نہ اس کے فراق کو باعثِ رنج قرار دینا ۔ مجھے اس کے فتنے سے محفوظ رکھنا میرے عمل کو مقبول بنا دے۔ میری سعی کو مشکور بنادے اور جو بھی میرے بارے میں کوئی برائی چاہتا ہے تو اسے اسی برائی میں مبتلا کر دے اور جو مجھ سے مکر کرتا ہے اس مکر کو اسی کی طرف پلٹا دے اگر کوئی شخص مجھ پر ہم وغم کو وارد کرنا چاہتا ہے تو اسے موت دے اور اگر کوئی مجھ سے مکر کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کی سزادے کہ تو بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ خدایا کافروں اور ظالموں ، باغیوں اور حاسدوں کی آنکھوں کو بند کردے میرے اوپر سکون و وقار نازل فرما ۔ مجھے اپنی مضبوط گرہ عطا فرما اور مجھے اپنی حفاظت میں لے لے ۔ عافیت عطا فرما اور فعل کی صداقت اور اولاد اور مال و اہل میں برکت عطا فرما۔ خدایا میرے قبل و بعد اور وہ تمام چیزیں جن سے میں راضی ہوں یا جن کا میں نے ارادہ کیا ہے جن میں سستی کی ہے یا جن کا اعلان کیا ہے یا جن کا اظہار کیا ہے ان تمام برائیوں کو معاف فرما دے کہ تو ارحم الراحمین ہے۔
اَسْبَابَ مَعْرِفَتِهِ وَافْتَحْ لِىْۤ اَبْوَابَهُ وَ غَشِّنِىْ بَرَكَاتِ رَحْمَتِكَ وَ مُنَّ عَلَىَّ بِعِصْمَةٍ عَنِ الْاِزَالَةِ عَنْ دِيْنِكَ وَ طَهِّرْ قَلْبِىْ مِنَ الشَّكِّ وَلَاتَشْغَلْ قَلْبِىْ بِدُنْيَاىَ وَ عَاجِلِ مَعَاشِىْ عَنْ اٰجِلِ ثَوَابِ اٰخِرَتِىْ وَاشْغَلْ قَلْبِىْ بِحِفْظِ مَالَا تَقْبَلُ مِنِّىْ جَهْلَهُ وَ ذَلِّلْ لِكُلِّ خَيْرٍ لِسَانِىْ وَ طَهِّرْ قَلْبِىْ مِنَ الرِّيَاۤءِ وَلَاتُجْرِهِ فِىْ مَفَاصِلِىْ وَاجْعَلْ عَمَلِىْ خَالِصًا لَكَ اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الشَّرِّ وَ اَنْوَاعِ الْفَوَاحِشِ كُلِّهَا ظَاهِرِهَا وَ بَاطِنِهَا وَ غَفَلَاتِهَا وَ جَمِيْعِ مَا يُرِيْدُنِىْ بِهِ الشَّيْطَانُ الرَّجِيْمُ وَ مَا يُرِيْدُنِىْ بِهِ السُّلْطَانُ الْعَنِيْدُ مِمَّاۤ اَحَطْتَ بِعِلْمِهِ وَ اَنْتَ الْقَادِرُ عَلٰى صَرْفِهِ عَنِّىْۤ، اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ طَوَارِقِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَ زَوَابِعِهِمْ وَ بَوَاۤئِقِهِمْ وَ مَكَايِدِهِمْ وَ مَشَاهِدِ الْفَسَقَةِ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَ اَنْ اُسْتَزَلَّ عَنْ دِيْنِىْ فَتَفْسُدَ عَلَىَّ
اٰخِرَتِىْ وَ اَنْ يَكُوْنَ ذٰلِكَ مِنْهُمْ ضَرَرًا عَلَىَّ فِىْ مَعَايِشِىْ اَوْ يَعْرِضَ بَلَاۤءٌ يُصِيْبُنِىْ مِنْهُمْ لَاقُوَّةَ لِىْ بِهِ وَلَا صَبْرَ لِىْ عَلَى احْتِمَالِهِ فَلَا تَبْتَلِيَنِّىْ يَاۤ اِلٰهِىْ بِمُقَاسَاتِهِ فَيَمْنَعُنِىْ ذٰلِكَ عَنْ ذِكْرِكَ وَ يَشْغَلُنِىْ عَنْ عِبَادَتِكَ اَنْتَ الْعَاصِمُ الْمَانِعُ الدَّافِعُ الْوَاقِىْ مِنْ ذٰلِكَ كُلِّهِ اَسْئَلُكَ اللّٰهُمَّ الرَّفَاهِيَةَ فِىْ مَعِيْشَتِىْ مَاۤ اَبْقَيْتَنِىْ مَعِيْشَةً اَقْوٰى بِهَا عَلٰى طَاعَتِكَ وَاَبْلُغُ بِهَا رِضْوَانَكَ وَاَصِيْرُ بِهَاۤ اِلٰى دَارِ الْحَيَوَانِ غَدًا وَ لَا تَرْزُقْنِىْ رِزْقًا يُطْغِيْنِىْ وَ لَاتَبْتَلِيَنِّىْ بِفَقْرٍ اَشْقٰى بِهِ مُضَيَّقًا عَلَىَّ اَعْطِنِىْ حَظًّا وَافِرًا فِىْۤ اٰخِرَتِىْ وَ مَعَاشًا وَاسِعًا هَنِيْۤئًا مَرِیْۤئًا فِىْ دُنْيَاىَ وَ لَاتَجْعَلِ الدُّنْيَا عَلَىَّ سِجْنًا وَلَاتَجْعَلْ فِرَاقَهَا عَلَىَّ حُزْنًا اَجِرْنِىْ مِنْ فِتْنَتِهَا وَاجْعَلْ عَمَلِىْ فِيْهَا مَقْبُوْلًا وَ سَعْيِىْ فِيْهَا مَشْكُوْرًا، اَللّٰهُمَّ وَ مَنْ اَرَادَنِىْ بِسُوْۤءٍ فَاَرِدْهُ بِمِثْلِهِ وَ مَنْ
كَادَنِىْ فِيْهَا فَكِدْهُ وَاصْرِفْ عَنِّىْ هَمَّ مَنْ اَدْخَلَ عَلَىَّ هَمَّهُ وَامْكُرْ بِمَنْ مَكَرَ بِىْ فَاِنَّكَ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ وَافْقَاْعَنِّىْ عُيُوْنَ الْكَفَرَةِ الظَّلَمَةِ وَالطُّغَاةِ الْحَسَدَةِ اَللّٰهُمَّ وَ اَنْزِلْ عَلَىَّ مِنْكَ السَّكِيْنَةَ وَ اَلْبِسْنِىْ دِرْعَكَ الْحَصِيْنَةَ وَاحْفَظْنِىْ بِسِرِّكَ الْوَاقِىْ وَ جَلِّلْنِىْ عَافِيَتَكَ النَّافِعَةَ وَ صَدِّقْ قَوْلِىْ وَ فِعَالِىْ وَ بَارِكْ لِىْ فِىْ وَلَدِىْ وَ اَهْلِىْ وَ مَالِىْ اَللّٰهُمَّ مَا قَدَّمْتُ وَ مَاۤ اَخَّرْتُ وَ مَاۤ اَغْفَلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ وَ مَا تَوَانَيْتُ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُ وَ مَاۤ اَسْرَرْتُ فَاغْفِرْلِىْ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اَللّٰهُمَّ اَوْسِعْ عَلَىَّ فِىْ رِزْقِىْ
خدایا میرے رزق میں وسعت عطا فرما
وَامْدُدْلِىْ فِىْ عُمْرِىْ
میری عمر کو طویل فرما۔
وَاغْفِرْلِىْ ذَنْبِىْ
میرے گناہوں کو معاف فرما
وَاجْعَلْنِىْ مِمَّنْ تَنْتَصِرُ بِهِ لِدِيْنِكَ
اور مجھے ان لوگوں میں قرار دے جو دین کے مدد گار ہوں
وَلَا تَسْتَبْدِلْ بِى غَيْرِىْ
اور اس مسئلہ میں کسی کو میرا بدل نہ قرار دینا ہے
يَا مَنْ يَشْكُرُ الْيَسِيْرَ
وہ خدا جو معمولی عمل کو قبول کرتا ہے
وَ يَعْفُوْ عَنِ الْكَثِيْرِ
اور بڑے گناہوں کو معاف کرتا ہے ۔
وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ
وہ غفورو رحیم ہے۔
اِغْفِرْلِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ
میرے ان گناہوں کو معاف کردے
ذَهَبَتْ لَذَّتُهَا وَ بَقِيَتْ تَبِعَتُهَا
جن کی لذّت تو ختم ہوگئی لیکن ان کا اثر باقی ہے۔
يَا نُوْرُ يَا قُدُّوْسُ
اے نور اے پاکیزہ صفات،
يَاۤ اَوَّلَ الْاَوَّلِيْنَ
اے تمام اوّلین سے اوّل،
وَ يَاۤ اٰخِرَ الْاٰخِرِيْنَ
اے تمام آخرین کے بعد رہنے والے
يَا رَحْمٰنُ يَا رَحِيْمُ
اے رحمن و رحیم
اِغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تُغَيِّرُ النِّعَمَ
میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تُحِلُّ النِّقَمَ
اور ان گناہوں کو معاف کر دے جو عذاب کو نازل کر دیتے ہیں،
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تَهْتِكُ الْعِصَمَ
ان گناہوں کو معاف کردے جن سے عزّت خطرے میں پڑ جاتی ہے،
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تُنْزِلُ الْبَلَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کر دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہیں،
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تُدِيْلُ الْاَعْدَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کر دے جن سے دشمنوں کو اختیار حاصل ہوتا ہے،
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تُعَجِّلُ الْفَنَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کر دے جن سے انسان فنا ہو جاتا ہے،
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تَقْطَعُ الرَّجَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کر دے جن سے امید قطع ہو جاتی ہے،
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تُظْلِمُ الْهَوَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کر دے جن سے فضاء تاریک ہو جاتی ہے،
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تَكْشِفُ الْغِطَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردے اٹھا دیتے ہیں
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تَرُدُّ الدُّعَاۤءَ
اور ان گناہوں کو معاف کر دے جو دعاؤں کو پلٹا دیتے ہیں۔
وَاغْفِرْ لِىَ الذُّنُوْبَ الَّتِىْ تَرُدُّ غَيْثَ السَّمَاۤءِ
ان گناہوں کو معاف کردے جن سے بارش رُک جاتی ہے۔
يَا عُدَّتِىْ فِىْ كُرْبَتِىْ
اے رنج و کرب میں میرے سہارے
وَ يَا صَاحِبِىْ فِىْ شِدَّتِىْ
اور شدّت میں میرے ساتھی،
وَ يَاوَلِىّٖ فِىْ نِعْمَتِىْ
اے نعمت میں میرے مالک،
وَ يَا غِيَاثِىْ فِىْ رَغَبَتِىْ
اے مصیبت میں میرے فریاد رس۔
اَللّٰهُمَّ كَتَبْتَ الْاٰثَارَ
پروردگار تو نے تمام آثار کو لکھ لیا ہے،
وَ عَلِمْتَ الْاَخْبَارَ
تو تمام اخبار کو جانتا ہے،
وَ اطَّلَعْتَ عَلَى الْاَسْرَارِ
اسرار کو پہچانتا ہے ۔
فَحُلْتَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الْقُلُوْبِ
تو ہمارے درمیان اور ہمارے دلوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے
فَالسِّرُّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ
راز تیرے پاس ہے راز تیری بارگاہ میں واضح ہیں۔
وَ الْقُلُوْبُ اِلَيْكَ مُفْضَاةٌ
قلوب تیری بارگاہ میں حاضر ہیں۔
وَ اِنَّمَاۤ اَمْرُكَ لِشَيْئٍ اِذَا اَرَدْتَهُ
تو جس چیز کا ارادہ کرلیا ہے
اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ
وہ بہرحال ہوجاتی ہے۔
فَقُلْ بِرَحْمَتِكَ لِطَاعَتِكَ
لہٰذا اپنی اطاعت کو
اَنْ تَدْخُلَ فِىْ كُلِّ عُضْوٍ مِنْ اَعْضَاۤئِىْ
میرے پورے وجود میں شامل کر دے
وَلَاتُفَارِقَنِىْ حَتّٰىۤ اَلْقَاكَ
اور ہمیں اس سے تاروزِ قیامت الگ نہ ہونے پاؤں
وَ قُلْ بِرَحْمَتِكَ لِمَعْصِيَتِكَ
معصیت کو میرے سارے
اَنْ تَخْرُجَ مِنْ كُلِّ عُضْوٍ مِنْ اَعْضَاۤئِىْ
وجود سے الگ کردے
فَلَا تَقْرُبَنِىْ حَتّٰىۤ اَلْقَاكَ
اور قیامت تک مجھ سے قریب نہ آنے پائیں ۔
وَارْزُقْنِىْ مِنَ الدُّنْيَا وَ زَهِّدْنِىْ فِيْهَا
مجھے مال ِ دنیا دے اور اس سے بے پروا کر دے۔
وَ لَا تَزْوِهَا عَنِّىْ وَ رَغْبَتِىْ فِيْهَا يَاۤ رَحْمٰنُ
اور مجھ سے دور نہ کر جب میں اسے چاہوں اے بڑے رحم کرنے والے ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلِىِّ الْحَمْدِ وَ اَهْلِهِ وَ مُنْتَهَاهُ وَ مَحَلِّهِ اَخْلَصَ مَنْ وَحَّدَهُ وَاهْتَدٰى مَنْ عَبَدَهُ وَ فَازَ مَنْ اَطَاعَهُ وَ اَمِنَ الْمُعْتَصِمُ بِهِ اَللّٰهُمَّ يَا ذَا الْجُوْدِ وَالْمَجْدِ وَ الثَّنَاۤءِ الْجَمِيْلِ وَ الْحَمْدِ اَسْئَلُكَ مَسْئَلَةَ مَنْ خَضَعَ لَكَ بِرَقَبَتِهِ وَ رَغَمَ لَكَ اَنْفُهُ وَ غَفَّرَ لَكَ وَجْهَهُ وَ ذَلَّلَ لَكَ نَفْسَهُ وَ فَاضَتْ مِنْ خَوْفِكَ دُمُوْعُهُ وَ تَرَدَّدَتْ عَبْرَتُهُ وَاعْتَرَفَ لَكَ بِذُنُوبِهِ وَ فَضَحَتْهُ عِنْدَكَ خَطِيْئَتُهُ وَ شَاَنَتْهُ عِنْدَكَ جَرِيْرَتُهُ فَضَعُفَتْ عِنْدَ ذٰلِكَ قُوَّتُهُ وَ قَلَّتْ حِيْلَتُهُ وَ انْقَطَعَتْ عَنْهُ اَسْبَابُ خَدَايِعِهِ وَاضْمَحَلَّ عَنْهُ كُلُّ بَاطِلٍ وَ اَلْجَاَتْهُ ذُ نُوْبُهُ اِلٰى ذُلِّ مَقَامِهِ بَيْنَ يَدَيْكَ وَ خُضُوْعِهِ لَدَيْكَ وَابْتِهَالِهِ اِلَيْكَ اَسْئَلُكَ اللّٰهُمَّ سُؤَالَ مَنْ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِ اَرْغَبُ اِلَيْكَ كَرَغْبَتِهِ وَ اَتَضَرَّعُ اِلَيْكَ كَتَضَرُّعِهِ وَاَبْتَهِلُ اِلَيْكَ كَاَشَدِّ ابْتِهَالِهِ، اَللّٰهُمَّ
حمد اللہ کے لئے جو حمد کا مالک ہےوہ اس کا اہل ہے اس کی انتہا اور مقام ہے وہ کھرا ہے جو اسے یکتا جانے وہ ہدایت پا گیا جس نے اس کی عبادت کی کامیاب ہوا جس نے اطاعت کی اس نے امان پائی جو اس کی پنا ہ میں آیا اے معبود! تو سخاوت شان اور بہترین تعریف و خوبی کا مالک ہے۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں اس سوالی کی طرح جو تیرے آگے پوری طرح جھکا ہوا ہے تیرے سامنے ناک رگڑتا ہے تیرے لئے منہ پر خاک ملی ہے تیرےسامنے پست ہوا تیرے خوف سے اس کے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہ رہے ہیں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اقراری ہے اس کی خطاؤں نے اس کو تیرے سامنے رسوا کیا اس کے جرائم نے اسے تیرے سامنے داغدار کیا تو ایسے میں اس کی طاقت جواب دے گئی اس کی تدبیریں ناکام ہوئیں اس کے قریب کے اسباب قطع ہوگئے اس کا ہر باطل عمل ماند پڑ گیا اس کے گناہوں نے اس کو پست مقام پر پھینک دیا جہاں تیرے سامنے پڑا ہے اس کے گریہ و زاری نے اسے تیرے آگے جھکا دیا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں اے معبود !اس کے مانند جو ایسے شخص کی جگہ پر ہو تیری طرف رغبت کرتا ہوں تیرے آگے اس سے زیادہ نالہ کرتا ہوں تیرےسامنے اس سے زیادہ گڑ گڑاتا ہوں اے معبود! پس رحم فرما میری گفتار کی کمزوری پر میرے مقام کی پستی پر میری نشست پر اور تیرے آگے جو عاجزی کی ہے اس پر رحم کر سوال کرتا ہوں تجھ سے اے معبود کہ گمراہی میں ہدایت دے کم نظری میں بینائی عطا کر اور بے راہی میں سیدھی راہ پہ ڈال دے سوال کرتا ہوں اے معبود کہ خوش حالی میں تیری زیادہ حمد کروں مصیبت کے وقت اچھے طریقے سے صبر کروں شکر کے موقع پر بہتر سے بہتر انداز میں شکر ادا کروں شبہ کے وقت تیرے آگے جھک جاؤں۔میں تیری بندگی کے لئے طاقت مانگتا ہوں گناہوں میں کمزوری چاہتا ہوں تجھ سےڈر کے تیری طرف آنا چاہتا ہوں تیرے نزدیک آنا چاہتا ہوں اے پروردگار ایسی جستجو مانگتا ہوں جو اس چیز کے لیے ہو جو تجھ کو مجھ سے خوشنود کرے جب کہ دوسرے لوگ مجھ پر ناراض ہوں تیری خوشنودی کا طالب ہوں پروردگاراگر تو مجھ پر رحم نہ کرے تو کس سے امید رکھو ں یا اگر دھتکاردے تو کون میری طرف توجہ کرے گا یااگر تو مجھے سزا دے تو کس کی معافی میرے کام آئے گی یا اگر تومجھے محروم کرے توکس کی عطاؤں کی آرزو کروں گا یا اگر تو مجھے پست کرے تو کون مجھے عزت دار بنائے گا۔یا اگر تو مجھے عزت بخشے توکون میری توہین کر سکتا ہے پروردگار میرے فعل کتنے برے ہیں میرا عمل کتنا ناپسندیدہ ہے میرا دل کیسا سخت ہے میری آرزو کتنی لمبی ہے میری مدّت ِعمر کتنی کم ہے پیدا کرنے والےمجھے گناہوں پر کتنادلیر بنا دیا ہے۔ پروردگار میری طرف تیری آزمائش کیسی اچھی ہے مجھ پر تیری نعمتیں کس قدر نمایا ں ہیں مجھ پر تیری اتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ میں انہیں شمار نہیں کر سکتا اور ان پر میرا شکر کتنا کم ہے اس لئے میں نعمتوں پر مغرور ہو گیا ہوں عذاب کے سامنے آکھڑا ہوں میں تیری یاد چھوڑ بیٹھا ہوں میں علم رکھتے ہوئے نادانی کی سواری پر سوار ہوگیا ہوں میں عدل سے منہ موڑ کر ظلم کی طرف چل نکلا ہوں نیکی سے گزر کر گناہوں تک پہنچ گیاہوں اور خوف اور اندیشہ چھوڑ کر خوش وقتی میں لگ گیا ہوں پس کتنی چھوٹی اور کم ترہیں میری نیکیاں جب کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں کتنے بڑے ہیں میرے گناہ جب کہ میری عمر کم ہے اور اعضاء بدن کمزور ہیں پروردگار میری مدت عمرکتنی کم ہے اور میری آرزو کتنی لمبی ہے میری عمر کی کوتا ہی میں بھی آرزو کتنی لمبی ہے ۔ میرے ظاہر کے مقابل میرا باطن کس قدر آلودہ ہے پروردگار اگر میں اس پر دلیل لاؤں تو میرے پاس کوئی دلیل نہیں اور اگر عذر کرنے لگوں تو میرے پاس کوئی عذر نہیں اگر سختی میں پڑوں تو میں اس پر شکر نہیں کرتا اور اگر تو مجھے شکر کرنے کی تو فیق نہ دے تو میں تیرا شکر ادا نہیں کر پاتا ۔ میرے پروردگار کل قیامت میں میرامیزان عمل کتنا ہلکا ہوگا اور اگر تو اسے بھاری نہ بنائے میری زبان تتلائے گی اگر تو اسے ثابت نہ رکھے اور کتنا سیاہ ہو گا میراچہرہ اگر تو اسےروشن نہ کرے پالنے والے میرے ان گناہوں کا کیا بنے گا جو میں کر چکا ہوں جن کے بوجھ سے میرے اعضا ٹوٹ گئے ہیں پالنے والے میں دنیاوی خواہشوں کے پیچھے کیوں کر جاتا ہوں جب کہ ان میں ناکامی پر رو رہا ہوں مگر میں اپنے گناہوں اورنافرمانیوں کی حسرت رکھتا ہوں اور ان پر گریہ و زاری نہیں کرتا پالنے والے دنیاکی خواہشوں نے پکارا تو میں ان کی طرف لپک کر چلا گیا ان کا کہنا مانا اور ان کی طرف جھک پڑا اور آخرت کی حاجات نے آواز دی تو میں ڈھیلا ہوگیا اور انہیں قبول کرنے میں سستی سے کام لیا جب کہ دنیا کی پکار پر اس طرف جانے میں جلدی کی تھی۔ میں دنیا کی رنگینیوں اور ناپائیدار سامان ٹوٹی ہوئی بے کار شاخ اور جھوٹے سراب پر ریجھ[مائل ہو] گیا اے پروردگار! تونے مجھے ڈرایا اور شوق بھی دلایا تو نے میرے بندے ہونے پر دلیل ٹھہرائی میری روزی کا ذمہ داربنا لیکن میں نے تیرا خوف بھلا دیا تیرے شوق کی طرف سے منہ موڑ لیا تیری ذمہ داری پر بھروسہ نہ کیا تیری قائم کی ہوئی دلیل کو کم تر جانا پس اے معبود! اس دنیا میں جو میں تیری طرف سے مطمئن ہوں تو اسے خوف میں بدل دے میری سستی کو شوق میں بدل دے میں نے تیری دلیل کو کمتر جانا تو اسے لحاظ میں بدل دے پھر مجھے رزق کی تقسیم پرراضی فرما جو تو نے کی ہے۔ اے سخی میں تیرے باعظمت نام پر تیری خوشنودی مانگتا ہوں تیری ناراضگی کے وقت اورکشائش وآسائش چاہتا ہوں سختی میں سوال ہے تاریکی کے وقت نور کا اور شبہ کے فتنے میں سمجھ داری کا پروردگار میری خطاؤں کے لئے محکم ڈھال بنا دےجنت میں میرے درجات بلند کر دے میرے تمام اعمال قبول فرما اور میری نیکیوں کو دگنا اورخالص بنا دے میں تیری پناہ لیتاہوں تمام فتنوں میں جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں حد سے بڑھ کر کھانے پینے سے ہر اس چیز کے شر سے جسے جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتاتیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ علم کے بدلے جہالت حاصل کروں بردباری کے بدلےسختی عدل کے بدلے ظلم خوش کرداری کے بدلے بد سلوکی صبر کے بدلے بے تابی یا ہدایت کے بدلے گمراہی یا ایمان کے بدلے کفر خرید کروں ۔
فَارْحَمِ اسْتِكَانَةَ مَنْطِقِىْ وَذُلَّ مَقَامِىْ وَ مَجْلِسِىْ وَ خُضُوْعِىْ اِلَيْكَ بِرَقَبَتِىْ اَسْئَلُكَ اللّٰهُمَّ الْهُدٰى مِنَ الضَّلَالَةِ وَالْبَصِيْرَةَ مِنَ الْعَمٰى وَالرُّشْدَ مِنَ الْغِوَايَةِ وَاَسْئَلُكَ اللّٰهُمَّ اَكْثَرَ الْحَمْدِ عِنْدَ الرَّخَاۤءِ وَاَجْمَلَ الصَّبْرِ عِنْدَ الْمُصِيْبَةِ وَ اَفْضَلَ الشُّكْرِ عِنْدَ مَوْضِعِ الشُّكْرِ وَ التَّسْلِيْمَ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ وَ اَسْئَلُكَ الْقُوَّةَ فِىْ طَاعَتِكَ وَالضَّعْفَ عَنْ مَعْصِيَتِكَ وَالْهَرَبَ اِلَيْكَ مِنْكَ وَ التَّقَرُّبَ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى وَالتَّحَرِّىَ لِكُلِّ مَا يُرْضِيْكَ عَنِّىْ فِىْ اِسْخَاطِ خَلْقِكَ اِلْتِمَاسًا لِرِضَاكَ رَبِّ مَنْ اَرْجُوْهُ اِنْ لَمْ تَرْحَمْنِىْ اَوْ مَنْ يَعُوْدُ عَلَىَّ اِنْ اَقْصَيْتَنِىْ اَوْ مَنْ يَنْفَعُنِىْ عَفْوُهُ اِنْ عَاقَبْتَنِىْ اَوْ مَنْ اٰمُلُ عَطَايَاهُ اِنْ حَرَمْتَنِىْ اَوْ مَنْ يَمْلِكُ كَرَامَتِىْۤ اِنْ اَهَنْتَنِىْ اَوْ مَنْ يَضُرُّنِىْ هَوَانُهُ اِنْ اَكْرَمْتَنِىْ، رَبِّ مَاۤ اَسْوَءَ فِعْلِىْ وَ اَقْبَحَ عَمَلِىْ وَ اَقْسٰى قَلْبِىْ وَ اَطْوَلَ
اَمَلِىْ وَ اَقْصَرَ اَجَلِىْ وَ اَجْرَاَنِىْ عَلٰى عِصْيَانِ مَنْ خَلَقَنِىْ رَبِّ وَ مَاۤ اَحْسَنَ بَلَاۤئَكَ عِنْدِىْ وَ اَظْهَرَ نَعْمَاۤئَكَ عَلَىَّ كَثُرَتْ عَلَىَّ مِنْكَ النِّعَمُ فَمَاۤ اُحْصِيْهَا وَ قَلَّ مِنِّىْ الشُّكْرُ فِيْمَاۤ اَوْلَيْتَنِيْهِ فَبَطِرْتُ بِالنِّعَمِ وَ تَعَرَّضْتُ لِلنِّقَمِ وَ سَهَوْتُ عَنِ الذِّكْرِ وَ رَكِبْتُ الْجَهْلَ بَعْدَ الْعِلْمِ وَ جُزْتُ مِنَ الْعَدْلِ اِلَى الظُّلْمِ وَ جَاوَزْتُ الْبِرَّ اِلَى الْاِثْمِ وَ صِرْتُ اِلَى اللَّهْوِ مِنَ الْخَوْفِ وَ الْحُزْنِ فَمَاۤ اَصْغَرَ حَسَنَاتِىْ وَ اَقَلَّهَا فِىْ كَثْرَةِ ذُ نُوْبِىْ وَاَعْظَمَهَا عَلٰى قَدْرِ صِغَرِ خَلْقِىْ وَ ضَعْفِ رُكْنِىْ رَبِّ وَ مَاۤ اَطْوَلَ اَمَلِىْ فِىْ قِصَرِ اَجَلِىْ وَ اَقْصَرَ اَجَلِىْ فِىْ بُعْدِ اَمَلِىْ وَ مَاۤ اَقْبَحَ سَرِيْرَتِىْ فِىْ عَلَانِيَتِىْ رَبِّ لَا حُجَّةَ لِىْۤ اِنِ احْتَجَجْتُ وَلَا عُذْرَلِىْ اِنِ اعْتَذَرْتُ، وَلَا شُكْرَ عِنْدِىْۤ اِنِ ابْتَلَيْتُ وَ اُوْلِيْتُ اِنْ لَمْ تُعِنِّىْ عَلٰى شُكْرِ مَا اَوْلَيْتَ رَبِّىْ مَاۤ اَخَفَّ مِيْزَانِىْ غَدًا
اِنْ لَمْ تُرَجِّحْهُ وَ اَزَلَّ لِسَانِىْ اِنْ لَمْ تُثَبِّتْهُ وَ اَسْوَدَ وَجْهِىْۤ اِنْ لَمْ تُبَيِّضْهُ رَبِّ كَيْفَ لِىْ بِذُنُوْبِىَ الَّتِىْ سَلَفَتْ مِنِّىْ قَدْ هُدَّتْ لَهَاۤ اَرْكَانِىْ رَبِّ كَيْفَ اَطْلُبُ شَهَوَاتِ الدُّنْيَا وَ اَبْكِىْ عَلٰى خَيْبَتِىْ فِيْهَا وَ لَاۤ اَبْكِىْ وَ تَشْتَدُّ حَسَرَاتِىْ عَلٰى عِصْيَانِىْ وَ تَفْرِيْطِىْ رَبِّ دَعَتْنِىْ دَوَاعِىْ الدُّنْيَا فَاَجَبْتُهَا سَرِيْعًا وَ رَكَنْتُ اِلَيْهَا طَاۤئِعًا وَ دَعَتْنِىْ دَوَاعِىْ الْاٰخِرَةِ فَتَثَبَّطْتُ عَنْهَا وَ اَبْطَاْتُ فِى الْاِجَابَةِ وَالْمُسَارَعَةِ اِلَيْهَا كَمَا سَارَعْتُ اِلٰى دَوَاعِىْ الدُّنْيَا وَ حُطَامِهَا الْهَامِدِ وَ هَشِيْمِهَا الْبَاۤئِدِ وَ سَرَابِهَا الذَّاهِبِ رَبِّ خَوَّفْتَنِىْ وَ شَوَّقْتَنِىْ وَاحْتَجَجْتَ عَلَىَّ بِرِقِّىْ وَ تَكَفَّلْتَ لِىْ بِرِزْقِىْ فَاَمِنْتُ خَوْفَكَ وَ تَثَبَّطْتُ عَنْ تَشْوِيْقِكَ وَ لَمْ اَتَّكِلْ عَلٰى ضَمَانِكَ وَ تَهَاوَنْتُ بِاحْتِجَاجِكَ، اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ اَمْنِىْ مِنْكَ فِىْ هٰذِهِ الدُّنْيَا خَوْفًا وَ حَوِّلْ تَثَبُّطِىْ شَوْقًا وَ
تَهَاوُنِىْ بِحُجَّتِكَ فَرَقًا مِنْكَ ثُمَّ رَضِّنِىْ بِمَا قَسَمْتَ لِىْ مِنْ رِزْقِكَ يَا كَرِيْمُ اَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الْعَظِيْمِ رِضَاكَ عِنْدَ السُّخْطَةِ وَ الْفُرْجَةَ عِنْدَ الْكُرْبَةِ وَالنُّوْرَ عِنْدَ الظُّلْمَةِ وَالْبَصِيْرَةَ عِنْدَ تَشَبُّهِ الْفِتْنَةِ رَبِّ اجْعَلْ جُنَّتِىْ مِنْ خَطَايَاىَ حَصِيْنَةً وَ دَرَجَاتِىْ فِى الْجِنَانِ رَفِيْعَةً وَاَعْمَالِىْ كُلَّهَا مُتَقَبَّلَةً وَ حَسَنَاتِىْ مُضَاعَفَةً زَاكِيَةً اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْفِتَنِ كُلِّهَا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ مِنْ رَفِيْعِ الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَ مِنْ شَرِّ مَاۤ اَعْلَمُ وَ مِنْ شَرِّ مَا لَاۤ اَعْلَمُ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ اَنْ اَشْتَرِىَ الْجَهْلَ بِالْعِلْمِ وَ الْجَفَا بِالْحِلْمِ وَالْجَوْرَ بِالْعَدْلِ وَالْقَطِيْعَةَ بِالْبِرِّ وَالْجَزَعَ بِالصَّبْرِ اَوِ الْهُدٰى بِالضَّلَالَةِ اَوِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ