EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
زيارة الناحية المقدسة
<font color="#480607">رحمٰن و رحیم اللہ کے نام نامی سے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
<font color="#480607">سلام ہو خلقِ خدا میں منتخب روزگار نبی آدمؑ پر۔ سلام ہو اللہ کے ولی اور اس کے نیک بندے شیثؑ پر۔ سلام ہو خدا کے دلیلوں کے مظہر ادریسؑ پر۔ سلام ہو نوحؑ پر اللہ نے جن کی دعا قبول کی۔ سلام ہو ہودؑ پر جن کی مراد اللہ نے پوری کی۔ سلام ہو صالحؑ پر جن کی اللہ نے اپنے لطف خاص سے رہبری کی۔ سلام ہو ابراہیمؑ خلیل پر جنھیں اللہ نے اپنے لطفِ خاص سے رہبری کی۔ سلام ہو فدیۂِ راہِ حق اسمٰعیلؑ پر جنھیں اللہ نے جنت سے ذبح عظیم کا تحفہ بھیجا۔ سلام ہو اسحاقؑ پر جن کی ذریت میں اللہ نے نبوت قرار دی۔ سلام ہو یعقوبؑ پر جن کی بینائی اللہ کی رحمت سے واپس آگئی۔ سلام ہو یوسفؑ پر جو اللہ کی بزرگی کے طفیل کنویں سے رہا ہوئے۔ سلام ہو موسیٰؑ پر جن کے لئے اللہ نےاپنی قدرتِ خاص سے دریا میں راستے بنا دیئے۔ سلام ہو ہارونؑ پر جنھیں اللہ نے اپنی نبوت کے لئے مخصوص فرمایا۔ سلام ہو شعیبؑ پر جنھیں اللہ نے ان اُمت پر نصرت دے کر سرفراز کیا۔ سلام ہو سلیمانؑ پر جن کے سامنے اللہ کی عزت کے طفیل جنوں نے سر جھکایا۔ سلام ہو ایوبؑ پر جن کو اللہ نے بیماری سے شفا دی۔ سلام ہو یونسؑ پر جن کے وعدہ کو اللہ نے پورا کیا۔ سلام ہو عزیزؑ پر جن کو اللہ نے دوبارہ زندگی عطا فرمائی۔ سلام ہو زکریاؑ پر جنھوں نے سخت آزمائشوں میں بھی صبر سے کام لیا۔ سلام ہو یحیٰؑ پر جنھیں اللہ نے شہادت سے سر بلند کیا۔ سلام ہو عیسیٰؑ پر جو اللہ کی روح اور اس کا پیغام ہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلٰى اٰدَمَ صِفْوَةِ اللهِ مِنْ خَلِيْقَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى شَيْثٍ وَلِيِّ اللهِ وَ خِيَرَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى اِدْرِيْسَ الْقَآئِمِ لِلّٰهِ بِحُجَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى نُوْحٍ الْمُجَابِ فِيْ دَعْوَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى هُوْدٍ الْمَمْدُوْدِ مِنَ اللهِ بِمَعُونَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى صَالِحِ الَّذِيْ تَوَّجَهُ اللهُ بِكَرَامَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى اِبْرَاهيمَ الَّذِيْ حَبَاهُ اللهُ بِخُلَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى اِسْمَاعِيْلَ الَّذِيْ فَدَاهُ اللهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ مِنْ جَنَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى اِسْحَاقَ الَّذِيْ جَعَلَ اللهُ النُّبُوَّةَ فِيْ ذُرِّيَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى يَعْقُوْبَ الَّذِيْ رَدَّ اللهُ عَلَيْهِ بَصَرَهٗ بِرَحْمَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى يُوْسُفَ الَّذِيْ نَجَّاهُ اللهُ مِنَ الْجُبِّ بِعَظَمَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مُوسٰى الَّذِيْ فَلَقَ اللهُ الْبَحْرَ لَهٗ بِقُدْرَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى هَارُوْنَ الَّذِيْ خَصَّهُ اللهُ بِنُبُوَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى شُعَيْبِ الَّذِيْ نَصَرَهُ اللهُ عَلٰى اُمَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى دَاوٗدَ الَّذِيْ تابَ اللهُ عَلَيْهِ مِنْ خَطِيْئَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى سُلَيْمَانَ الَّذِيْ ذَلَّتْ لَهٗ الْجِنُّ بِعِزَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى اَيُّوْبَ الَّذِيْ شَفَاهُ اللهُ مِنْ عِلَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى يُوْنُسَ الَّذِيْ اَنْجَزَ اللهُ لَهٗ مَضْمُوْنَ عِدَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى عُزَيْرٍ الَّذِيْ اَحْيَاهُ اللهُ بَعْدَ مَيْتَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى زَكَرِيَّا الصَّابِرِ فِيْ مِحْنَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى يَحْيٰى الَّذِيْ اَزْلَفَهُ اللهُ بِشَهَادَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى عِيْسٰى رُوْحِ اللهِ وَ كَلِمَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مُحَمَّدٍ حَبِيْبِ اللهِ وَ صِفْوَتِهٖ،
<font color="#480607">سلام ہو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر جو اللہ کے حبیب اور اس کے منتخب بندے ہیں۔ سلام ہو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر جنھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قوتِ بازو ہونے کا شرف حاصل ہے۔ سلام ہو رسولؐ کی اکلوتی بیٹی فاطمہؑ پر۔ سلام ہو امام حسنؑ پر جو اپنے بابا کی امانتوں کے رکھوالے اور ان کے جانشین ہیں۔ سلام ہو حسینؑ پر جنھوں نے انتہائی خلوص سے راہِ خدا میں جان نثار کر دی۔ سلام ہو اس پر جس نے خلوت و جلوت میں چھُپ کر آشکار اللہ کی اطاعت و بندگی کی۔ سلام ہو اس پر جس کی قبر کی مٹی خاک شفا ہے۔ سلام ہو اس پر جس کے حرم کی فضا میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ سلام ہو اس پر کے سلسلہ امامت اس کی ذریت سے ہے۔ سلام ہو پسرِ ختمی مرتبتؐ پر۔
اَلسَّلَامُ عَلٰى اَمِيْرِالْمُؤْمِنِيْنَ عَلِيِّ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ الْمَخْصُوْصِ بِاُخُوَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى فَاطِمَةَ الزَّهْرَآءِ ابْنَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى اَبِيْ مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ وَصِيِّ اَبِيْهِ وَ خَلِيْفَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الَّذِيْ سَمَحَتْ نَفْسُهٗ بِمُهْجَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ اَطَاعَ اللهَ فِيْ سِرِّهٖ وَ عَلَانِيَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ جَعَلَ اللهُ الشِّفَاءَ فِيْ تُرْبَتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنِ الْاِجَابَةُ تَحْتَ قُبَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنِ الْاَئِمَّةُ مِنْ ذُرِّيَّتِهٖ، اَلسَّلَامُ عَلَى ابْنِ خاتَمِ الْاَنْبِيَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلَى ابْنِ سَيِّدِ الْاَوْصِيَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلَى ابْنِ فَاطِمَةَ الزَّهْرَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلَى ابْنِ خَدِيْجَةَ الْكُبْرٰى، اَلسَّلَامُ عَلَى ابْنِ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى، اَلسَّلَامُ عَلَى ابْنِ جَنَّةِ الْمَأْوٰى، اَلسَّلَامُ عَلَى ابْنِ زَمْزَمَ وَ الصَّفَا، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُرَمَّلِ بِالدِّمَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمَهْتُوْكِ الْخِبَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى خَامِسِ اَصْحابِ الْكِسَآءِ،
<font color="#480607">سلام ہو سیّد الاوصیاء کے فرزند پر۔ سلام ہو فاطمہؑ زہرا کے بیٹے پر۔ سلام ہو خدیجۃؑ الکبریٰ کے نواسے پر۔ سلام ہو سدرۃ المنتہیٰ کے وارث و مختار پر۔ سلام ہوجنت الماویٰ کے مالک پر۔ سلام ہو زمزم و صفا والے پر۔ سلام ہو اس پر جوخاک و خون میں میں غلطاں ہوا۔ سلام ہو اس پر جس کی سرکار لوٗٹی گئی۔ سلام ہو کساء والوں کی پانچویں شخصیت پر۔ سلام ہو سب سے بڑے پردیسی پر۔ سلام ہو سرورِ شہیداں پر۔ سلام ہو اس پر جو بے ننگ و نام لوگوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔ سلام ہو کربلا میں آ کر بسنے والے پر۔ سلام ہو اس پر جس پر فرشتے روئے۔ سلام ہو اس پر جس کی ذریت پاک و پاکیزہ ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلٰى غَرِيْبِ الْغُرَبَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى شَهِيْدِ الشُّهَدَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى قَتِيْلِ الْاَدْعِيَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى سَاكِنِ كَرْبَلَاءَ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ بَكَتْهُ مَلَائِكَةُ السَّمَآءِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ ذُرِّيَّتُهُ الْاَزْكِيَآءُ، اَلسَّلَامُ عَلٰى يَعْسُوْبِ الدِّيْنِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنازِلِ الْبَرَاهِيْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَئِمَّةِ السَّادَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْجُيُوْبِ الْمُضَرَّجَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الشِّفَاهِ الذَّابِلَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى النُّفُوْسِ الْمُصْطَلَمَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَرْوَاحِ الْمُخْتَلَسَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَجْسَادِ الْعَارِيَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْجُسُوْمِ الشَّاحِبَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الدِّمَاءِ السَّائِلَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَعْضَاءِ الْمُقَطَّعَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الرُّؤُوْسِ الْمُشَالَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى النِّسْوَةِ الْبَارِزَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى حُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلٰى آبَائِكَ الطَّاهِرِيْنَ،
<font color="#480607">سلام ہو دین کے سید و سردار پر۔ سلام ہو ان پر جو دلائل و براہین کی آماجگاہ ہیں۔ سلام ہو ان پر جو سرداروں کے سردار امام ہیں۔ سلام ہو چاک گریبانوں پر۔ سلام ہو مرجھائے ہوئے ہونٹوں پر۔ سلام ہو کرب و اندوہ میں گھرے ہوئے چور چور نفوس پر۔ سلام ہو ان روحوں پر جن کے جسموں کو دھوکے سے تہہِ تیغ کیا گیا۔ سلام ہو بے گرو کفن نعشوں پر۔ سلام ہو ان جسموں پر دھوپ کی شدّت سے جن کے رنگ بدل گئے۔ سلام ہو خون کی ان دھاروں پر جو کربلا کے دامن میں جذب ہوگئیں۔ سلام ہو بکھرے ہوئے اعضاء پر۔ سلام ہو ان سروں پر جنھیں نیزوں پر بلند کیا گیا۔ سلام ہو ان محذراتِ عصمت پر جنھیں بے ردا پھرایا گیا۔ سلام ہو دونوں جہانوں کے پالنہار کی حجت پر۔ سلام ہو آپ پر اور آپ کے پاک و پاکیزہ آباؤ اجداد پر۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلٰى اَبْنَائِكَ الْمُسْتَشْهَدِيْنَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلٰى ذُرِّيَّتِكَ النَّاصِرِيْنَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُضَاجِعِيْنَ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْقَتِيْلِ الْمَظْلُوْمِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى اَخِيْهِ الْمَسْمُوْمِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى عَلِيٍّ الْكَبِيْرِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الرَّضِيْعِ الصَّغِيْرِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَبْدَانِ السَّلِيْبَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْعِتْرَةِ الْقَرِيْبَةِ [الْغَرِيْبَةِ]، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُجَدَّلِيْنَ فِي الْفَلَوَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَى النَّازِحِيْنَ عَنِ الْاَوْطَانِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمَدْفُوْنِيْنَ بِلَا اَكْفَانِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الرُّؤُوْسِ الْمُفَرَّقَةِ عَنِ الْاََبْدَانِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُحْتَسِبِ الصَّابِرِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمَظْلُوْمِ بِلَا نَاصِرٍ، اَلسَّلَامُ عَلٰى سَاكِنِ التُّرْبَةِ الزَّاكِيَةِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى صَاحِبِ الْقُبَّةِ السَّامِيَةِ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ طَهَّرَهُ الْجَلِيْلُ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنِ افْتَخَرَ بِهٖ جَبْرَئِيْلُ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ نَاغَاهُ فِي الْمَهْدِ مِيْكَائِيْلُ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ نُكِثَتْ ذِمَّتُهٗ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ هُتِكَتْ حُرْمَتُهٗ، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ اُرِيْقَ بِالظُّلْمِ دَمُهٗ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُغَسَّلِ بِدَمِ الْجِرَاحِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُجَرَّعِ بِكَأْسَاتِ الرِّمَاحِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُضَامِ الْمُسْتَبَاحِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمَنْحُوْرِ فِي الْوَرٰى، اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ دَفَنَهٗ اَهْلُ الْقُرٰى، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمَقْطُوعِ الْوَتِيْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُحَامِيْ بِلَا مُعِيْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الشَّيْبِ الْخَضِيْبِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْخَدِّ التَّرِيْبِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْبَدَنِ السَّلِيْبِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الثَّغْرِ الْمَقْرُوْعِ بِالْقَضِيْبِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الرَّأْسِ الْمَرْفُوْعِ، اَلسَّلَامُ عَلَى الْأَجْسَامِ الْعَارِيَةِ فِي الْفَلَوَاتِ، تَنْهَشُهَا الذِّئَابُ الْعَادِيَاتُ، وَ تَخْتَلِفُ اِلَيْهَا السِّبَاعُ الضَّارِيَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يا مَوْلَايَ وَ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُرَفْرَفِيْنَ حَوْلَ قُبَّتِكَ، الْحَافِّيْنَ بِتُرْبَتِكَ، الطَّائِفِيْنَ بِعَرْصَتِكَ، الْوَارِدِيْنَ لِزِيَارَتِكَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ فَاِنِّيْ قَصَدْتُ اِلَيْكَ، وَ رَجَوْتُ الْفَوْزَ لَدَيْكَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ سَلَامَ الْعَارِفِ بِحُرْمَتِكَ، الْمُخْلِصِ فِيْ وِلَايَتِكَ، الْمُتَقَرِّبِ اِلَى اللهِ بِمَحَبَّتِكَ، الْبَرِيْءِ مِنْ أَعْدَائِكَ، سَلَامَ مَنْ قَلْبُهٗ بِمُصَابِكَ مَقْرُوْحٌ، وَ دَمْعُهٗ عِنْدَ ذِكْرِكَ مَسْفُوْحٌ، سَلَامَ الْمَفْجُوعِ الْحَزِيْنِ، الْوَالِهِ الْمُسْتَكِيْنِ، سَلَامَ مَنْ لَوْ كَانَ مَعَكَ بِالطُّفُوْفِ، لَوَقَاكَ بِنَفْسِهٖ حَدَّ السُّيُوْفِ، وَ بَذَلَ حُشَاشَتَهٗ دُوْنَكَ لِلْحُتُوْفِ، وَ جَاهَدَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَ نَصَرَكَ عَلٰى مَنْ بَغٰى عَلَيْكَ، وَ فَدَاكَ بِرُوْحِهٖ وَ جَسَدِهٖ وَ مَالِهٖ وَ وَلَدِهٖ،
<font color="#480607">سلام ہو آپ اور آپ کے شہید فرزندوں پر۔ سلام ہو آپ اور آپ کی نصرت کرنے والی ذریت پر۔ سلام ہو آپ اور آپ کی قبر کے مجاور فرشتوں پر۔ سلام ہو انتہائے مظلومیت کے ساتھ قتل ہونے والے پر۔ سلام ہو آپ کے زہر سے شہید ہونے والے بھائی پر۔ سلام ہو علی اکبرؑ پر۔ سلام ہو کمسن شیر خوار پر۔ سلام ہو ان نازنین جسموں پر جن پر کوئی کپڑا نہیں رہنے دیا گیا۔ سلام ہو آپؑ کے دربدر کئے جانے والے خاندان پر۔ سلام ہو ان لاشوں پر جو صحراؤں میں بکھری رہیں۔ سلام ہو ان پر جن سے ان کا وطن چھڑایا گیا۔ سلام ہو ان پر جنھیں بغیر کفن کے دفنانا پڑا۔ سلام ہو ان سروں پر جنھیں جسموں سے جدا کر دیا گیا۔ سلام ہو اس پر جس نے صبر وشکیبائی کے ساتھ اللہ کی راہ میں جان قربان کی۔ سلام ہو اس مظلوم پر جو بے یار و مددگار تھا۔ سلام ہو پاک و پاکیزہ خاک میں بسنے والےسلام ہو پاک و پاکیزہ خاک میں بسنے والے پر۔ سلام ہو بلند و بالا قبہ والے پر۔
وَ رُوحُهٗ لِرُوْحِكَ فِدَاءٌ، وَ اَهْلُهٗ لِأَهْلِكَ وِقَاءٌ، فَلَئِنْ أَخَّرَتْنِي الدُّهُوْرُ، وَ عَاقَنِيْ عَنْ نَصْرِكَ الْمَقْدُوْرُ، وَ لَمْ اَكُنْ لِمَنْ حارَبَكَ مُحارِبًا، وَ لِمَنْ نَصَبَ لَكَ الْعَدَاوَةَ مُناصِبًا، فَلَأَنْدُبَنَّكَ صَبَاحًا وَ مَسَاءً وَ لَأَبْكِيَنَّ لَكَ بَدَلَ الدُّمُوْعِ دَمًا، حَسْرَةً عَلَيْكَ وَ تَأَسُّفًا عَلٰى مَا دَهَاكَ وَ تَلَهُّفًا، حَتّٰى أَمُوْتَ بِلَوْعَةِ الْمُصَابِ، وَ غُصَّةِ الْاِكْتِيَابِ، أَشْهَدُ اَ نَّكَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلٰوةَ، وَ آتَيْتَ الزَّكٰوةَ، وَ أَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ، وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْعُدْوَانِ، وَ أَطَعْتَ اللهَ وَ مَا عَصَيْتَهٗ، وَ تَمَسَّكْتَ بِهٖ وَ بِحَبْلِهٖ فَأرْضَيْتَهٗ وَ خَشَيْتَهٗ وَ رَاقَبْتَهٗ وَ اسْتَجَبْتَهٗ، وَ سَنَنْتَ السُّنَنَ، وَ اَطْفَأْتَ الْفِتَنَ، وَ دَعَوْتَ اِلَى الرَّشَادِ، وَ أَوْضَحْتَ سُبُلَ السَّدَادِ، وَ جَاهَدْتَ فِي اللهِ حَقَّ الْجِهَادِ، وَ كُنْتَ لِلّٰهِ طَائِعًا، وَ لِجَدِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهٖ تَابِعًا، وَ لِقَوْلِ أَبِيْكَ سَامِعًا، وَ اِلٰى وَصِيَّةِ أَخِيْكَ مُسَارِعًا، وَ لِعِمَادِ الدِّيْنِ رَافِعًا، وَ لِلطُّغْيَانِ قَامِعًا، وَ لِلطُّغَاةِ مُقَارِعًا، وَ لِلْأُمَّةِ نَاصِحًا، وَ فِيْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ سَابِحًا،
<font color="#480607">سلام ہو اس پر جسے خدائے بزرگ و برتر نے پاک کیا۔ سلام ہو اس پر جس کی خدمت گذاری پر جبرئیل کو ناز تھا۔ سلام ہو اس پر جسے میکائیل نے گہوارے میں لوری دی۔ سلام ہو اس پر جس کے دشمنوں نے اس کے اور اس کے اہلِ حرم کا سلسلہ میں اپنے پیمان کو توڑا۔ سلام ہو اس پر جس کی حرمت پامال ہوئی۔ سلام ہو اس پر جس کا خون ظلم کے ساتھ بہایا گیا۔ سلام ہو زخموں سے نہانے والے پر۔ سلام ہو اس پر جسے پیاس کی شدت میں نوکِ سناں کے تلخ گھونٹ پلائے گئے۔ سلام ہو اس پر جسے اتنی بڑی کائنات میں یکہ وتنہا چھوڑ دیا گیا۔ سلام ہو اس پر جسے یوں عریاں چھوڑا گیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ سلام ہو اس پر جس کی شہ رگ کاٹی گئی۔ سلام ہو دین کے اس حامی پر جس نے بغیر کسی مددگار کے دفاعی جنگ لڑی۔ سلام ہو اس ریشِ اقدس پر جو خون سے رنگین ہوئی۔ سلام ہو آپ کے خاک آلود رخساروں پر۔ سلام ہو لٹے اور نُچے ہوئے بدن پر۔ سلام ہو اس دندانِ مبارک پر جس کی چھَڑی سے بے حرمتی کی گئی۔ سلام ہو کٹی ہوئی شہ رَگ پر۔ سلام ہو نیزےپر بلند کئے جانے والے سرِ اقدس پر۔
وَ لِلْفُسَّاقِ مُكَافِحًا، وَ بِحُجَجِ اللهِ قَائِمًا، وَ لِلْاِسْلَامِ وَ الْمُسْلِمِيْنَ رَاحِمًا، وَ لِلْحَقِّ نَاصِرًا، وَ عِنْدَ الْبَلَاءِ صَابِرًا، وَ لِلدِّيْنِ كَالِئًا، وَ عَنْ حَوْزَتِهٖ مُرَامِيًا، تَحُوْطُ الْهُدٰى وَ تَنْصُرُهٗ، وَ تَبْسُطُ الْعَدْلَ وَ تَنْشُرُهٗ، وَ تَنْصُرُ الدِّيْنَ وَ تُظْهِرُهٗ، وَ تَكُفُّ الْعَابِثَ وَ تَزْجُرُهٗ، وَ تَأْخُذُ لِلدَّنِيِّ مِنَ الشَّرِيْفِ، وَ تُسَاوٰي فِي الْحُكْمِ بَيْنَ الْقَوِيِّ وَ الضَّعِيْفِ، كُنْتَ رَبِيْعَ الْأَيْتَامِ، وَ عِصْمَةَ الْأَنَامِ، وَ عِزَّ الْاِسْلَامِ، وَ مَعْدِنَ الْأَحْكَامِ، وَ حَلِيْفَ الْاِنْعَامِ، سَالِكًا طَرَائِقَ [فِيْ طَرِيْقَةِ] جَدِّكَ وَ أَبِيْكَ، مُشْبِهًا فِي الْوَصِيَّةِ لِأَخِيْكَ، وَفِيَّ الذِّمَمِ، رَضِيَّ الشِّيَمِ، ظَاهِرَ الْكَرَمِ، مُتَهَجِّدًا فِي الظُّلَمِ، قَوِيْمَ الطَّرَائِقِ، كَرْيْمَ الْخَلَائِقِ، عَظِيْمَ السَّوَابِقِ، شَرِيْفَ النَّسَبِ، مُنِيْفَ الْحَسَبِ، رَفِيْعَ الرُّتَبِ، كَثِيْرَ الْمَنَاقِبِ، مَحْمُوْدَ الضَّرَائِبِ، جَزِيْلَ الْمَوَاهِبِ، حَلِيْمٌ رَشِيْدٌ مُنِيْبٌ، جَوَادٌ عَلِيْمٌ شَدِيْدٌ، اِمَامٌ شَهِيْدٌ، أَوَّاهٌ مُنِيْبٌ، حَبِيْبٌ مَهِيْبٌ، كُنْتَ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهٖ وَلَدًا، وَ لِلْقُرْآنِ سَنَدًا [مُنْقِذًا] وَ لِلْأُمَّةِ عَضُدًا، وَ فِي الطَّاعَةِ مُجْتَهِدًا،
<font color="#480607">سلام ہو ان مقدس جسموں پر جن کے ٹکڑے صحرا میں بکھر گئے۔(یہاں ایسے مصائب کا ذکر ہے جن کے ترجمے سے دل لرزتا ہے۔ مترجم) آقا! ہمارا سلامِ نیاز و ادب قبول فرمایئے، نیز آپؑ کے قبہ کے گرد پروانہ وار فدا ہونے والے، آپؑ کی تربت کو ہمیشہ گھیرے رہنے والے، آپؑ کی ضریح اقدس کا ہمیشہ طواف کرنے والے اور آپ کی زیارت کے لئے آنے والے فرشتوں پر بھی ہمارے سلام نچھاور ہوں۔ آقا! میں آپ کے حضور سلامِ شوق کا ہدیہ لئے کامیابی و کامرانی کی آس لگائے حاضر ہوا ہوں۔ آقا! ایسے غلام کی عقیدت سے بھر پور سلام قبول کیجئے جو آپؑ کی عزّت وحرمت سے آگاہ آپ کی ولایت میں مخلص، آپ کی محبت کے وسیلہ سے اللہ کے تقرب کا شیدا نیز آپ کے دشمنوں سے بری و بیزار ہے۔ آقا! ایسے عاشق کا سلام قبول فرمایئے جس کا دل آپ کی مصیبتوں کے سبب زخموں سے چھلنی ہو چکا ہے اور آپ کی یاد میں خون کے آنسو بہاتا ہے۔ آقا! اس چاہنے والے کا آداب قبول کیجئے جو آپ کے غم میں نڈھال۔ بے حال اور بے چین ہے۔ آقا! اس جانثار کا ہدیٔہ سلام قبول قبول کیجئے۔ جو اگر کربلا میں آپ کے ساتھ ہوتا تو آپ کی حفاظت کے لئے تلواروں سے ٹکرا کر اپنی جان کی بازی لگا دیتا۔ دل و جان سے آپ پرفدا ہونے کے لئے موت سے پنجہ آزمائی کرتا، آپ کے سامنے جنگ و جہاد کے جوہر دکھاتا، آپ کے خلاف بغاوت کرنے والوں کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرتا اور انجام کار اپنا جسم و جان، روح و مال اور آل اولاد سب کچھ آپ پر قربان کر دیتا۔
حَافِظًا لِلْعَهْدِ وَ الْمِيْثَاقِ، نَاكِبًا عَنْ سُبُلِ الْفُسَّاقِ، [وَ] بَاذِلًا لِلْمَجْهُوْدِ، طَوِيْلَ الرُّكُوْعِ وَ السُّجُوْدِ، زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا زُهْدَ الرَّاحِلِ عَنْهَا، نَاظِرًا اِلَيْهَا بِعَيْنِ الْمُسْتَوْحِشِيْنَ مِنْهَا، آمَالُكَ عَنْهَا مَكْفُوْفَةٌ، وَ هِمَّتُكَ عَنْ زِيْنَتِهَا مَصْرُوْفَةٌ، وَ اَلْحَاظُكَ عَنْ بَهْجَتِهَا مَطْرُوْفَةٌ، وَ رَغْبَتُكَ فِي الْآخِرَةِ مَعْرُوْفَةٌ، حَتّٰى اِذَا الْجَوْرُ مَدَّ بَاعَهٗ، وَ اَسْفَرَ الظُّلْمُ قِنَاعَهٗ، وَ دَعَا الْغَيُّ اَتْبَاعَهٗ، وَ اَنْتَ فِيْ حَرَمِ جَدِّكَ قاطِنٌ، وَ لِلظَّالِمِيْنَ مُبَايِنٌ، جَلِيْسُ الْبَيْتِ وَ الْمِحْرَابِ، مُعْتَزِلٌ عَنِ اللَّذَّاتِ وَ الشَّهَوَاتِ، تُنْكِرُ الْمُنْكَرَ بِقَلْبِكَ وَ لِسَانِكَ، عَلٰى حَسَبِ طاقَتِكَ وَ اِمْكَانِكَ، ثُمَّ اقْتَضَاكَ الْعِلْمُ لِلْاِنْكَارِ، وَ لَزِمَكَ [اَلْزَمَكَ] اَنْ تُجَاهِدَ الْفُجَّارَ، فَسِرْتَ فِيْ اَوْلَادِكَ وَ اَهَالِيْكَ، وَ شِيْعَتِكَ وَ مَوَالِيْكَ وَ صَدَعْتَ بِالْحَقِّ وَ الْبَيِّنَةِ، وَ دَعَوْتَ اِلَى اللهِ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، وَ اَمَرْتَ بِاِقَامَةِ الْحُدُوْدِ، وَ الطَّاعَةِ لِلْمَعْبُوْدِ، وَ نَهَيْتَ عَنِ الْخَبَائِثِ وَ الطُّغْيَانِ، وَ وَاجَهُوْكَ بِالظُّلْمِ وَ الْعُدْوَانِ، فَجَاهَدْتَهُمْ بَعْدَ الْاِيْعَازِ لَهُمْ [الْاِيْعَادِ اِلَيْهِمْ] وَ تَاْكِيْدِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ، فَنَكَثُوْا ذِمَامَكَ وَ بَيْعَتَكَ، وَ اَسْخَطُوْا رَبَّكَ وَ جَدَّكَ،
<font color="#480607">آقا! اس جاں نثار کا سلام قبول کیجئے جس کی روٗح آپ کی روٗح پر فدا اور اس کے اہل وعیال آپ کے اہل و عیال پر تصدق۔ مولا! میں واقعۂِ شہادت کے بعد پیدا ہوا ،اپنی قسمت کے سبب میں حضورؐ کی نصرت سے محروم رہا، آپؑ کے سامنے میدانِ کار زار میں اُترنے والوں میں شامل نہ ہو سکا، اور نہ ہی میں آپ کے دشموں سے نبردآزما ہو سکا! لہٰذا اب میں کمالِ حسرت و اندوہ کے ساتھ آپ پر ٹوٹنے والے مصائب و آلام پر افسوس و ملال اور تپش رنج و غم کے سبب صبح و شام مسلسل گریہ و زاری کرتا رہوں گا۔ نیز۔ آپؑ کے خون کی جگہ اس قدر خون کے آنسوں بہاؤں گا کہ انجام کار غم و اندوہ کی بھٹی اور مصیبتوں کے لپکتے ہوئے شعلوں میں جل کر خاکستر ہو جاؤں اور یوں آپ کے حضور اپنی جان کا نذارانہ پیش کردوں۔ آقا! میں شہادت دیتا ہوں کہ: آپ نے نماز قائم کرنے کا حق ادا فرمایا زکوٰۃ ادا کی، نیکی کا حکم دیا۔ بُرائی اور دشمنی سے روکا، دل و جان سے اللہ کی اطاعت کی۔ پل بھر کے لئے بھی اس کی نافرمانی نہیں کی، اللہ اور اس کی رسّی سے یوں وابستہ رہے کہ اس کی رضا حاصل کر لی، ہمیشہ اس کے احکام کی نگہداشت و پاسبانی کرتے رہے، اس کی آواز پر لبیک کہی، اس کی سنتوں کو قائم کیا، فتنوں کی بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھایا۔ لوگوں کو حق و ہدایت کی طرف بلایا، ان کے لئے ہدایت کے راستوں کو روشن و منور کر کےواضح کیا، نیز آپؑ نے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا۔ آقا! میں دل و جان سے گواہی دیتا ہوں کہ: آپ ہمیشہ دل سے اللہ کے فرماں بردار رہے، آپ نے ہمیشہ اپنے جد امجد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی اتباع اور پیروی کی، اپنے والد ماجد کے ارشادات کو سُنا اور اس پر عمل کیا، بھائی کی وصیت کی تیزی سے تکمیل کی، دین کے ستون کو بلند کیا، بغاوتوں کا قلع قمع کیا نیز سرکشوں اور باغیوں کی سرکوبی کی۔
وَ بَدَؤُوْكَ بِالْحَرْبِ، فَثَبَتَّ لِلطَّعْنِ وَ الضَّرْبِ، وَ طَحَنْتَ جُنُوْدَ الْفُجَّارِ، وَ اقْتَحَمْتَ قَسْطَلَ الْغُبَارِ، مُجَالِدًا بِذِىْ الْفَقَارِ، كَاَنَّكَ عَلِيٌّ الْمُخْتَارُ، فَلَمَّا رَاَوْكَ ثَابِتَ الْجَاشِ، غَيْرَ خَائِفٍ وَ لَا خَاشٍ، نَصَبُوْا لَكَ غَوَائِلَ مَكْرِهِمْ، وَ قَاتَلُوْكَ بِكَيْدِهِمْ وَ شَرِّهِمْ، وَ اَمَرَ اللَّعِيْنُ جُنُوْدَهٗ، فَمَنَعُوْكَ الْمَاءَ وَ وُرُوْدَهٗ، وَ نَاجَزُوْكَ الْقِتَالَ، وَ عَاجَلُوْكَ النِّزَالَ، وَ رَشَقُوْكَ بِالسِّهَامِ وَ النِّبَالِ، وَ بَسَطُوْا اِلَيْكَ اَكُفَّ الْاِصْطِلَامِ، وَ لَمْ يَرْعَوْا لَكَ ذِمَامًا، وَ لَا رَاقَبُوْا فِيْكَ اَثَامًا، فِيْ قَتْلِهِمْ اَوْلِيَائَكَ، وَ نَهْبِهِمْ رِحَالَكَ، وَ اَنْتَ مُقَدَّمٌ فِي الْهَبَوَاتِ، وَ مُحْتَمِلٌ لِلْاَذِيَّاتِ، قَدْ عَجِبَتْ مِنْ صَبْرِكَ مَلَائِكَةُ السَّمَاوَاتِ، فَاَحْدَقُوْا بِكَ مِنْ كُلِّ الْجِهَاتِ، وَ اَثْخَنُوْكَ بِالْجِرَاحِ، وَ حَالُوْا بَيْنَكَ وَ بَيْنَ الرَّوَاحِ، وَ لَمْ يَبْقَ لَكَ نَاصِرٌ، وَ اَنْتَ مُحْتَسِبٌ صَابِرٌ، تَذُبُّ عَنْ نِسْوَتِكَ وَ اَوْلَادِكَ، حَتّٰى نَكَسُوْكَ عَنْ جَوَادِكَ، فَهَوَيْتَ اِلَى الْاَرْضِ جَرِيْحًا، تَطَؤُكَ الْخُيُوْلُ بِحَوَافِرِهَا، وَ تَعْلُوْكَ الطُّغَاةُ بِبَوَاتِرِهَا، قَدْ رَشَحَ لِلْمَوْتِ جَبِيْنُكَ، وَ اخْتَلَفَتْ بِالْاِنْقِبَاضِ وَ الْاِنْبِسَاطِ شِمَالُكَ وَ يَمِيْنُكَ، تُدِيْرُ طَرْفًا خَفِيًّا اِلٰى رَحْلِكَ وَ بَيْتِكَ، وَ قَدْ شُغِلْتَ بِنَفْسِكَ عَنْ وُلْدِكَ وَ اَهَالِيْكَ، وَ اَسْرَعَ فَرَسُكَ شَارِدًا، اِلٰى خِيَامِكَ قاصِدًا، مُحَمْحِمًا بَاكِيًا، فَلَمَّا رَاَيْنَ النِّسَاءُ جَوَادَكَ مَخْزِيًّا، وَ نَظَرْنَ سَرْجَكَ عَلَيْهِ مَلْوِيًّا، بَرَزْنَ مِنَ الْخُدُوْرِ، نَاشِرَاتِ الشُّعُوْرِ، عَلَى الْخُدُوْدِ لَاطِمَاتِ الْوُجُوْهِ سَافِرَاتٍ، وَ بِالْعَوِيْلِ دَاعِيَاتٍ،
<font color="#480607">آپ ہمیشہ امت کے ناصح بن کر رہے، آپ نے جان سپاری کی سختیوں کو صبر و تحمل اور بردباری سے برداشت کیا، فاسقوں کا جم کر مقابلہ فرمایا، اللہ کی حجتوں کو قائم کیا، اسلام اور مسلمانوں کی دستگیری کی، حق کی مدد کی، آزمائشوں کے موقعہ پر صبر و شکیبائی سے کام لیا،دین کی حفاظت کی اور اس کے دائرہ کار کی نگہداشت فرمائی۔ آقا! میں اللہ کے حضور گواہی دیتا ہوں کہ۔ آپ نے منارۂ ہدایت کو قائم رکھا، عدل کی نشرو اشاعت کی، دین کی مدد کر کے اسے ظاہر کیا، دین کی تضحیک کرنے والوں کو روکا اور انھیں قرار واقعی سزا دی، سفلوں سے شریفوں کا حق لے کر انہیں پہنچایا، نیز عدل و انصاف کے معاملہ میں کمزور اور طاقتور میں برابری رَوا رکھی۔ آقا! میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ: آپ یتیموں کے سرپرست اور ان کے دلوں کی بہار، خلقِ خدا کے لئے بہترین پناہ گاہ، اسلام کی عزت، احکام الٰہی کا مخزن اور انعام و اکرام کامعدن، اپنے جد امجد اور والدِ ماجد کے راستوں پر چلنے والے، نیز وصیت و نصیحت میں اپنے بھائی جیسے تھے۔ مولا! آپؑ کی شان و صفات یہ ہیں کہ آپؑ: ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے، صاحبِ اوصاف حمیدہ، جو دو کرم میں مشہور، شب کی تاریکیوں میں تہجّد گذار، مضبوط طریقوں کو اختیار کرنے والے، خلقِ خدا میں سب سے زیادہ خوبیوں کے مالک، عظیم ماضی کے حامِل، اعلیٰ حسب ونسب و الے، بلند مرتبوں اور بے پناہ مناقب کا مرکز، پسندیدہ نمونہ عمل کے خالق مثالی زندگی بسر کرنےوالے، باوقار، بردبار، بلند مرتبہ، دریا دل، دانا وبینا، صاحبِ عزم وجزم، خدا شناس رہبر، خوف وخشیت اور سوزو تپش رکھنےوالے، خدا کے چاہنے نیز اس کی بارگاہ میں سر نیوڑانے والے۔ آپ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے فرزند، قرآن کے بچانے والے،اُمت کے مددگار، اطاعتِ الٰہی میں جفاکش، عہد و میثاق کے پابندو محافظ، فاسقوں کےراستوں سے دور رہنے والے، حصولِ مقصد کے لئے دل و جان کی بازی لگانے والے اور طولانی رکوع و سجود ادا کرنے والے ہیں۔
وَ بَعْدَ الْعِزِّ مُذَلَّلَاتِ، وَ اِلٰى مَصْرَعِكَ مُبَادِرَاتٍ، وَ الشِّمْرُ جَالِسٌ عَلٰى صَدْرِكَ، وَ مُوْلِغٌ سَيْفَهٗ عَلٰى نَحْرِكَ، قَابِضٌ عَلٰى شَيْبَتِكَ بِيَدِهٖ، ذَابِحٌ لَكَ بِمُهَنَّدِهٖ، قَدْ سَكَنَتْ حَوَاسُّكَ، وَ خَفِيَتْ اَنْفَاسُكَ، وَ رُفِعَ عَلَى الْقَنَاةِ رَأْسُكَ، وَ سُبِيَ اَهْلُكَ كَالْعَبِيْدِ، وَ صُفِّدُوا فِي الْحَدِيْدِ فَوْقَ اَقْتَابِ الْمَطِيَّاتِ، تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمْ حَرُّ الْهَاجِرَاتِ، يُسَاقُوْنَ فِي الْبَرَارِيْ وَ الْفَلَوَاتِ، اَيْدِيْهِمْ مَغلُوْلَةٌ اِلَى الْاَعْناقِ، يُطَافُ بِهِمْ فِي الْاَسْوَاقِ، فَالْوَيْلُ لِلْعُصَاةِ الْفُسَّاقِ، لَقَدْ قَتَلُوْا بِقَتْلِكَ الْاِسْلَامَ، وَ عَطَّلُوا الصَّلٰوةَ وَ الصِّيَامَ، وَ نَقَضُوْا السُّنَنَ وَ الْاَحْكَـامَ، وَ هَدَمُوْا قَواعِدَ الْاِيْمَانِ، وَ حَرَّفُوْا آيَاتِ الْقُرْآنِ، وَ هَمْلَجُوْا فِي الْبَغْيِ وَ الْعُدْوَانِ، لَقَدْ اَصْبَحَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهٖ مَوْتُوْرًا، وَ عَادَ كِتَابُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ مَهْجُوْرًا، وَ غُوْدِرَ الْحَقُّ اِذْ قُهِرْتَ مَقْهُوْرًا، وَ فُقِدَ بِفَقْدِكَ التَّكْبِيْرُ وَ التَّهْلِيْلُ، وَالتَّحْرِيْمُ وَ التَّحْلِيْلُ، وَ التَّنْزِيْلُ وَ التَّأْوِيْلُ، وَ ظَهَرَ بَعْدَكَ التَّغْيِيْرُ وَ التَّبْدِيْلُ، وَ الْاِلْحَادُ وَ التَّعْطِيْلُ، وَ الْاَهْوَاءُ وَ الْاَضَالِيْلُ، وَ الْفِتَنُ وَ الْاَبَاطِيْلُ، فَقَامَ نَاعِيْكَ عِنْدَ قَبْرِ جَدِّكَ الرَّسُوْلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهٖ، فَنَعَاكَ اِلَيْهِ بِالدَّمْعِ الْهَطُوْلِ، قَائِلًا: يا رَسُوْلَ اللهِ، قُتِلَ سِبْطُكَ وَ فَتَاكَ،
<font color="#480607">آپؑ نے دنیا سے اس طرح مُنہ موڑا اور یوں بے اعتنائی دکھائی جیسے دنیا سے ہمیشہ کے لئے کوچ کرنے والے کرتے ہیں، دنیا سے خوفزدہ لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ آپؑ کی تمنّائیں اور آرزوئیں دنیا سے ہٹی ہوئی تھیں۔ آپؑ کی ہمت و کوشش اس کی زینتوں سے بے نیاز تھی اور آپؑ نے تو دنیا کے چہرے کی طرف کبھی اُچٹتی ہوئی نگاہ بھی نہ ڈالی۔ البتہ، آخرت میں آپ کی دلچسپی شہرۂ آفاق ہے۔ یہاں تک کہ، وہ وقت آیا، جب، جو رو ستم نے لمبے لمبے ڈگ بھر کر سرکشی شروع کر دی، ظلم تمام تر ہتھیار جمع کر کے سخت جنگ کے لئے آمادہ ہو گیا، اور باغیوں نے اپنے تمام ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ اس وقت، آپ، اپنے جد کے حرم میں پناہ گزیں، ظالموں سے الگ تھلگ، مسجدو محراب کے سائے میں لذات اور خواہشات سے بیزار بیٹھے تھے، آپ اپنی طاقت اور امکانات کے مطابق دل و زبان کے ذریعہ برائیوں سے نفرت کا اظہار کرتے اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے تھے۔ مگر، پھر آپؑ کے علم کا تقاضا ہوا کہ آپؑ کھلم کھلا بیعت سے انکار کریں اور فجار کے خلاف جہاد کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں۔ چنانچہ آپ اپنے اہل و عیال اپنے شیعوں، چاہنے والوں اور جاں نثاروں کو لے کر روانہ ہو گئے۔ اور اپنی اس مختصر لیکن باعزم و حوصلہ جماعت کی مدد سے، حق اور دلائل وبراہین کو اچھی طرح واضح کر دیا، لوگوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ اللہ کی طرف بلایا، حدود الٰہی کے قیام اور اللہ کی اطاعت کا حکم دیا نیز لوگوں کو خبائث و بے ہودگیوں اور سرکشی سے روکا۔ لیکن لوگ ظلم و ستم کے ساتھ آپؑ کے مقابلے پر ڈٹ گئے۔ ایسے آڑے وقت پر بھی، آپؑ نے پہلے تو ان کو خدا کے غضب سے ڈرایا اور ان پر حجت تمام کی پھر ان سے جہاد کیا۔ تب، انھوں نے آپ سے کیا ہوا عہد توڑا نیز آپؑ کی بیعت سے نکل کر آپ کے رب اور آپ کے جد امجد کو ناراض کیا اور آپؑ کے ساتھ جنگ شروع کر دی۔ لہٰذا آپؑ بھی میدان کارزار میں اُترآئے، آپؐ نے فجّار کے لشکروں کو روند ڈالا اور ذوالفقار سونت کر جنگ کے گہرے غبار کے بادلوں میں گھس کر گھمسان کا رن ڈالا کہ لوگوں کو علیؑ کی جنگ یاد آگئی۔ دشمنوں نے آپؑ کی ثابت قدمی، دلیری اور بے باکی دیکھی تو ان کا پِتّہ پانی ہو گیا اور انھوں نے مقابلہ کے بجائے مکاری سے کام لیا اور آپ کے قتل کے لئے فریب کے جال بچھا دیئے۔ اور ملعون عمر سعد نے لشکر کوحکم دیا کہ وہ آپ پر پانی بند کر دے اور آپ تک پانی پہنچنے کے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دے۔ پھر دشمن نے تیز جنگ شروع کر دی اور آپؑ پر پے در پے حملے کرنے لگا۔ جس کے نتیجہ میں اس نے آپؑ کو تیروں اور نیزوں سے چھلنی کر دیا، اور انتہائی درندگی کے ساتھ آپ کو لوٹ لیا۔
وَ اسْتُبِيْحَ اَهْلُكَ وَ حِمَاكَ، وَ سُبِيَتْ بَعْدَكَ ذَرَارِيْكَ، وَ وَقَعَ الْمَحْذُورُ بِعِتْرَتِكَ وَ ذَوِيْكَ، فَانْزَعَجَ الرَّسُوْلُ، وَ بَكٰى قَلْبُهُ الْمَهُوْلُ، وَ عَزَّاهُ بِكَ الْمَلَائِكَةُ وَ الْاَنْبِيَاءُ، وَ فُجِعَتْ بِكَ اُمُّكَ الزَّهْرَاءُ، وَ اخْتَلَفَتْ جُنُوْدُ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ، تُعَزّٰي اَبَاكَ اَمِيْرَالْمُؤْمِنِيْنَ، وَ اُقِيْمَتْ لَكَ الْمَآتِمُ فِيْ اَعْلَا عِلِّيّيْنَ، وَ لَطَمَتْ عَلَيْكَ الْحُوْرُ الْعِيْنُ، وَ بَكَتِ السَّمَاءُ وَ سُكَّانُهَا، وَ الْجِنَانُ وَ خُزَّانُهَا، وَ الْهِضَابُ وَ اَقْطَارُهَا، وَ الْبِحَارُ وَ حِيْتَانُهَا، وَ الْجِنَانُ وَ وِلْدَانُهَا، وَ الْبَيْتُ وَ الْمَقَامُ، وَ الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، وَ الْحِلُّ وَ الْاِحْرَامُ، اَللّٰهُمَّ فَبِحُرْمَةِ هٰذَا الْمَكَانِ الْمُنِيْفِ، صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَتِهِمْ، وَ اَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِمْ، اَللّٰهُمَّ اِنّي اَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ يا اَسْرَعَ الْحَاسِبِيْنَ، وَ يَااَكْرَمَ الْاَكْرَمِيْنَ، وَ يَااَحْكَمَ الْحَاكِمِيْنَ، بِمُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، رَسُوْلِكَ اِلَى الْعَالَمِيْنَ اَجْمَعِيْنَ، وَ بِاَخِيْهِ وَ ابْنِ عَمِّهِ الْاَنْزَعِ الْبَطِيْنِ، الْعَالِمِ الْمَكِيْنِ، عَلِيٍّ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ، وَ بِفَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِيْنَ، وَ بِالْحَسَنِ الزَّكِيِّ عِصْمَةِ الْمُتَّقِيْنَ، وَ بِاَبِيْ عَبْدِاللهِ الْحُسَيْنِ اَكْرَمِ الْمُسْتَشْهَدِيْنَ،
<font color="#480607">اس نے نہ تو آپ کےسلسلہ میں کسی عہد و پیمان کی پروا کی اور نہ ہی آپ کے دوستوں کے قتل نیز آپ اور آپ کے اہلِبیتؑ کا سامان غارت کے سلسلہ میں کسی گناہ کی فکر کی۔ اور آپؑ نے میدانِ جنگ میں سب سے آگے بڑھ کر مصائب و مشکلات کو یوں جھیلا کہ آسمان کے فرشتے بھی آپؑ کی صبر واستقامت پر دنگ رہ گئے۔! پھر، دشمن ہر طرف سے آپؑ پر ٹوٹ پڑا، اس نے آپ کو زخموں سے چوٗر چوٗر کر کے نڈھال کر دیا اور دم لینے تک کی فرصت نہ دی، یہاں تک کہ آپ کا کوئی ناصر و مددگار باقی نہ رہا اور آپؑ انتہائی صبر وشکیبائی سے سب کچھ دیکھتے اور جھیلتے ہوئے یکہ و تنہا اپنی محذرات عصمت و طہارت اور بچوں کو دشمن کے حملوں سے بچانے میں مصروف رہے۔یہاں تک کہ دشمن نے آپ کو گھوڑے سے گرادیا اور آپؑ زخموں سے پاش پاش جسم کے ساتھ زمین پر گر پڑے پھر وہ تلواریں لے کر آپ پر پل پڑا اور اُس نے گھوڑوں کے سموں سے آپ کو پامال کر دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب آپؑ کی جبینِ اقدس پر موت کا پسینہ آ گیا اور روٗح نکلنے کے سبب آپ کا جسمِ نازنین دائیں بائیں سکڑنے پھیلنے لگا۔ اب آپ اس موڑ پر تھے جہاں انسان سب کچھ بھُول جاتا ہے ایسے میں آپؑ نے اپنے خیام اور گھر کی طرف آخری بار حسرت بھری نگاہ ڈالی اور آپؑ کا اسپِ باوفا تیزی سے ہنہناتا اور روتا ہوا سنانی سنانے کے لئے خیام کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب محذراتِ عصمت وطہارت نے آپؑ کے دلدل کو خالی اور آپ کی زین کو الٹا ہوا دیکھا تو ایک کُہرام مچ گیا اور وہ غم کی تاب نہ لاتے ہوئے خیموں سے نکل آئیں۔ انھوں نے اپنے بال چہروں پر بکھرا لئےاور اپنے رخساروں پر طمانچے مارتے ہوئے اپنے بزرگوں کو پکار پکار کر نوحہ و گریہ شروع کر دیا، کیونکہ اب اس سنگین صدمے کے بعد ان کو عزت و احترام کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جا رہا تھا اور سب کے سب غم سے نڈھال آپ کی شہادت گاہ کی طرف جارہے تھے۔ افسوس! شمر ملعون آپ کے سینہ پر بیٹھا ہوا، آپؑ کے گلوئے مبارک پر اپنی تلوار رکھے ہوئے تھا وہ کمینہ آپ کی ریشِ اقدس کو پکڑے ہوئے اپنی ہندی تلوار سے آپ کو ذبح کر رہا تھا! یہاں تک کہ، آپؑ کے ہوش و حواس ساکن ہو گئے، آپؑ کی سانس مدھم پڑ گئی اور آپ کا پاک و پاکیزہ سَر نیزہ پر بلند کر دیا گیا۔ آپ کے اہل وعیال کو غلاموں اور کنیزوں کی طرح قید کر لیا گیا اور ان کو آہنہ زنجیروں میں جکڑ کر اس طرح بے کجاوہ اونٹوں پر سوار کر دیا گیاکہ دن کی بے پناہ گرمی ان کے چہروں کو جھُلسائے دے رہی تھی۔ بے غیرت دشمن ان کو جنگلوں اور بیابانوں میں لے جا رہا تھا اور ان کے نازک ہاتھوں کو گردنوں کے پیچھے سختی سے باندھ کر گلیوں اور بازاروں میں ان کی نمائش کر رہاتھا۔ لعنت ہو اس فاسق گروہ پر، جس نے آپؑ کو قتل کر کے اسلام کو قتل اور نماز و روزہ کو معطل کر دیا، احکام و سنن الٰہی کی نافرمانی کی، ایمان کی بنیادوں کو ہلا دیا، آیاتِ قرآنی میں تحریف کی، اور بغاوت و دشمنی کی دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا۔ آپؑ کی شہادت پر اللہ کا رسولؐ سراپا درد بن گیا۔ کتابِ خدا کا کوئی پوچھنے والا نہ رہا۔ آپؑ پر جفا کرنے والوں کا حق سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ آپؑ کے اُٹھ جانے سے تکبیر و تہلیل،حرام وحلال نیز تنزیل و تاویل پر پردےپڑ گئے۔ اس کے علاوہ_____آپؑ کے نہ ہونے سے، دین میں کیا کیا بدلاگیا! کیسے کیسے تغیرات عمل میں لائے گئے! ملحدانہ نظریوں کو فروغ ملا، احکامِ شریعت معطل کئے گئے، نفسانی خواہشوں کی گرفت مضبوط ہوئی، گمراہیوں نے زور پکڑا، فتنوں نے سر اُٹھایا، اور باطل کی بن آئی! پھر ہوا یہ کہ نوحہ گروں نے آپؑ کے جد امجد کے مزار پر آہ و بکا اور گریہ و زاری کےساتھ یوں مرثیہ خوانی کی۔ اللہ کے رسولؐ! آپؐ کا بیٹاؑ، آپؐ کا نواسہؑ قتل کر ڈالا گیا، آپؑ کا گھر لوٹ لیا گیا، آپؑ کی ذریت اسیر ہوئی، آپؐ کی عترت پر بڑی افتاد پڑی۔ یہ سُن کر پیغمبرؐ کو بہت صدمہ پہنچا، ان کے قلب تپاں نے خون کے آنسوبرسائے، ملائکہ نے انھیں پرسہ دیا، انبیاء نے تعزیت کی۔ اورمولا! آپ کی مادرِ گرامی جناب فاطمہ زہراؑ پر قیامت ٹوٹ پڑی! ملائکہ قطار در قطار آپ کے والد گرامیؑ کےحضور تعزیت کے لئےآئے، اعلیٰ علیّین میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ حوریں اپنے رخساروں پر طمانچےمار ما ر کر نڈھال ہو گئیں، آسمان اور آسمانی مخلوق ، جنت اور جنت کے درو دیوار، بلندیوں اور پستیوں، سمندروں اور مچھلیوں، جنت کے خدّام مِل کر آپؑ کی مصیبت پر خون کے آنسو بہائے! بارِ الٰہا! اس بابرکت وَ باعزت جگہ کے طفیل، محمدؐ و آل محمدؐ پر درود بھیج، مجھےان کے ساتھ محشور فرما اور ان کی شفاعت کے سبب مجھے جنت عطا کر۔
وَ بِاَوْلَادِهِ الْمَقْتُوْلِيْنَ، وَ بِعِتْرَتِهِ الْمَظْلُوْمِيْنَ، وَ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ زَيْنِ الْعَابِدِيْنَ، وَ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قِبْلَةِ الْاَوَّابِيْنَ، وَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ اَصْدَقِ الصَّادِقِيْنَ، وَ مُوسٰى بْنِ جَعْفَرٍ مُظْهِرِ الْبَرَاهِيْنَ، وَ عَلِيِّ بْنِ مُوْسٰى نَاصِرِ الدِّيْنِ، وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قُدْوَةِ الْمُهْتَدِيْنَ، وَ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ اَزْهَدِ الزّاهِدِيْنَ، وَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وارِثِ الْمُسْتَخْلَفِيْنَ، وَالْحُجَّةِ عَلَى الْخَلْقِ اَجْمَعينَ، اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، الصَّادِقِيْنَ الْاَبَرِّيْنَ، آلِ طٰهٰ وَ يٰسٓ، وَ اَنْ تَجْعَلَنِيْ فِي الْقِيَامَةِ مِنَ الْآمِنِيْنَ الْمُطْمَئِنِّيْنَ، الْفَائِزِيْنَ الْفَرِحِيْنَ الْمُسْتَبْشِرِيْنَ، اَللّٰهُمَّ اكْتُبْنِيْ فِي الْمُسْلِمِيْنَ، وَ اَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِيْنَ، وَاجْعَلْ لِيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِيْنَ، وَانْصُرْنِيْ عَلَى الْبَاغِيْنَ، وَاكْفِنِيْ كَيْدَ الْحَاسِدِيْنَ، وَاصْرِفْ عَنِّي مَكْرَ الْمَاكِرِيْنَ، وَاقْبِضْ عَنِّي اَيْدِيَ الظَّالِمِيْنَ، وَاجْمَعْ بَيْنِيْ وَ بَيْنَ السَّادَةِ الْمَيَامِيْنِ فِيْ اَعْلَا عِلِّيِّيْنَ، مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّيْنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَاءِ وَ الصَّالِحِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يا اَرْحَمَ الرّاحِمِيْنَ، اَللّٰهُمَّ اِنّي اُقْسِمُ عَلَيْكَ بِنَبِيِّكَ الْمَعْصُوْمِ، وَ بِحُكْمِكَ الْمَحْتُومِ، وَ نُهْيَكَ [نَهْيِكَ] الْمَكْتُوْمِ، وَ بِهٰذَا الْقَبْرِ الْمَلْمُوْمِ، الْمُوَسَّدِ فِيْ كَنَفِهِ الْاِمَامُ الْمَعْصُوْمُ، الْمَقْتُوْلُ الْمَظْلُوْمُ، اَنْ تَكْشِفَ مَا بِيْ مِنَ الْغُمُوْمِ، وَ تَصْرِفَ عَنّٰي شَرَّ الْقَدَرِ الْمَحْتُوْمِ،
<font color="#480607">بارِالٰہا! اے جلد حساب کرنے والے، اے سب سے کریم ہستی، اور اے سب سے بڑے حاکم۔! میں تیری بارگاہ میں! تمام جہانوں کی طرف تیرے رسولؐ اور آخری نبیؐ حضرت محمدؐ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم۔ان کے بھائی ابنِ عم، توانا بازو اور دانش و آگہی کے مرکز امیرالمومنین علی ابنِ ابیِ طالن علیہ السلام۔ تمام جہانوں کی خواتین کی سردار حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا۔پرہیز گاروں کے محافظ امام حسن زکی علیہ السلام۔ شہداءکے سید و سردار حضرت ابی عبداللہ الحسین علیہ السلام۔ نیز ان کی مظلوم عترت۔ عابدوں کی زینت حضرت علی بن حسین علیہ السلام۔ جویائےحق لوگوں کے مرکز توجہ حضرت محمد بن علی علیہ السلام۔ سب سے بڑے صادق القول حضرت جعفر بن محمد علیہ السلام۔ دلیلوں کو ظاہر کرنے والےحضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام۔ دین کے مددگار حضرت علی بن موسیٰ علیہ السلام۔پیروکاروں کے رہنما حضرت محمد بن علی علیہ السلام۔ سب سے بڑے پارسا حضرت علی بن محمد علیہ السلام۔ نیز سلسلہ نبوت و امامت کے تمام بزرگوں کے وارث اور اے اللہ! تیری تمام مخلوق پر تیری حجت(چونکہ زیارت خود امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے صادر ہوئی ہے اس لئے آپ نے خود اپنا نامِ نامی نہیں لیا ہے۔) واسطہ دیتا ہوں کہ: تو محمدؐ و آل محمدؐ پر جو آلِ طہٰ و یٰسین بھی ہیں اور سچے اور نیکوکار بھی۔درود نازل فرما۔ اور مجھے روزِ قیامت ان لوگوں میں شامل فرما لے جن کوا س دن امن و اطمینان حاصل ہو گا، اور وہ اس پریشانی والے دن بھی خوش و خرم ہوں گے اور جنھیں جنت رضوان کی خوشخبری سنائی جائے گی۔
وَ تُجِيْرَنِيْ مِنَ النَّارِ ذَاتِ السَّمُوْمِ، اَللّٰهُمَّ جَلِّلْنِيْ بِنِعْمَتِكَ، وَ رَضِّنِيْ بِقَسْمِكَ، وَ تَغَمَّدْنِيْ بِجُوْدِكَ وَ كَرَمِكَ، وَ بَاعِدْنِيْ مِنْ مَكْرِكَ وَ نِقْمَتِكَ، اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِيْ مِنَ الزَّلَلِ، وَ سَدِّدْنِيْ فِي الْقَوْلِ وَ الْعَمَلِ، وَافْسَحْ لِيْ فِيْ مُدَّةِ الْاَجَلِ، وَ اعْفِنِيْ مِنَ الْاَوْجَاعِ وَ الْعِلَلِ، وَ بَلِّغْنِيْ بِمَوَالِيَّ وَ بِفَضْلِكَ اَفْضَلَ الْاَمَلِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اقْبَلْ تَوْبَتِيْ، وَارْحَمْ عَبْرَتِيْ، وَ اَقِلْنِيْ عَثْرَتِيْ، وَ نَفِّسْ كُرْبَتِيْ، وَاغْفِرْ لِيْ خَطِيْئَتِيْ، وَ اَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ، اَللّٰهُمَّ لَا تَدَعْ لِيْ فِيْ هٰذَا الْمَشْهَدِ الْمُعَظَّمِ وَ الْمَحَلِّ الْمُكَرَّمِ ذَنْبًا اِلاَّ غَفَرْتَهٗ، وَ لَا عَيْبًا اِلاَّ سَتَرْتَهٗ، وَ لَا غَمًّا اِلاَّ كَشَفْتَهٗ، وَ لَا رِزْقًا اِلَّا بَسَطْتَهٗ، وَ لَا جَاهًا اِلَّا عَمَرْتَهٗ، وَ لَا فَسَادًا اِلَّا اَصْلَحْتَهٗ، وَ لَا اَمَلًا اِلَّا بَلَّغْتَهٗ، وَ لَا دُعَاءً اِلَّا اَجَبْتَهٗ، وَ لَا مَضِيْقًا اِلَّا فَرَّجْتَهٗ، وَ لَا شَمْلًا اِلَّا جَمَعْتَهٗ، وَ لَا اَمْرًا اِلَّا اَتْمَمْتَهٗ، وَ لَا مَالًا اِلَّا كَثَّرْتَهٗ، وَ لَا خُلْقًا اِلَّا حَسَّنْتَهٗ، وَ لَا اِنْفَاقًا اِلَّا اَخْلَفْتَهٗ، وَ لَا حَالًا اِلَّا عَمَرْتَهٗ، وَ لَا حَسُوْدًا اِلَّا قَمَعْتَهٗ، وَ لَا عَدُوًّا اِلَّا اَرْدَيْتَهٗ، وَ لَا شَرًّا اِلَّا كَفَيْتَهٗ، وَ لَا مَرَضًا اِلَّا شَفَيْتَهٗ، وَ لَا بَعِيْدًا اِلَّا اَدْنَيْتَهٗ، وَ لَا شَعِثًا اِلَّا لَمَمْتَهٗ، وَ لَا سُؤَالًا [سُؤْلًا] اِلَّا اَعْطَيْتَهٗ، اَللّٰهُمَّ اِنّيِ اَسْئَلُكَ خَيْرَ الْعَاجِلَةِ، وَ ثَوَابَ الْآجِلَةِ، اَللّٰهُمَّ اَغْنِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنِ الْحَرَامِ، وَ بِفَضْلِكَ عَنْ جَمِيْعِ الْاَنَامِ، اَللّٰهُمَّ اِنّيِ اَسْئَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَ قَلْبًا خَاشِعًا، وَ يَقِيْنًا شَافِيًا، وَ عَمَلًا زَاكِيًا، وَ صَبْرًا جَمِيْلًا، وَ اَجْرًا جَزِيْلًا، اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِيْ شُكْرَ نِعْمَتِكَ عَلَىَّ، وَ زِدْ فِيْ اِحْسَانِكَ وَ كَرَمِكَ اِلَىَّ،
<font color="#480607">بارِ الٰہا! اے ارحم الراحمین اپنی رحمت کے صدقے میں میرا نام مسلمانوں میں لکھ لے، مجھے صالح اور نیکوکار لوگوں میں شامل فرما لے، میرے پسماندگان اور بعد والی نسلوں میں ذکر سچائی اور بھلائی کے ساتھ جاری رکھ، باغیوں کے مقابلہ میں میری نصرت فرما، حسد کرنے والوں کئ کید و شر سے میری حفاظت فرما، ظالموں کے ہاتھوں کو میری جانب بڑھنے سے روک دے، مجھے اعلیٰ علیّین میں بابرکت پیشواؤں اور ائمہ اہلِبیت علیہم السلام کے جوار میں ان انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جمع کر جن پرتو نے اپنی نعمتیں نازل فرمائی ہیں۔ پروردگارا! تجھے قسم ہے: تیرے معصوم نبیؐ کی، تیرے حتمی احکام کی، تیرے مقررہ منہیات کی۔ اور اس پاک و پاکیزہ قبر کی جس کے پہلو میں معصوم،مقتول اور مظلوم امامؑ دفن ہیں۔ کہ، تو مجھے دنیا کے غموں سے نجات عطا فرما، میرے مقدر کی برائی اور شر کو مجھ سے دور کر دے اور مجھے زہریلی آگ سے بچا لے۔ بارِ الٰہا! تو اپنی نعمت کے طفیل مجھے عزّت و آبرو مرحمت فرما، مجھے اپنی تقسیم کی ہوئی روزی پر راضی رکھ، مجھے اپنے کرم اور جود و سخا سے ڈھانپ لےنیز مجھے اپنی ناگواری اور ناراضگی سے محفوظ فرما دے۔ پروردگارا! لغزشوں سے میری حفاظت فرما، میرے قول و عمل کو درست کر دےمیری مدت عمر کو بڑھا دے، مجھے درد و امراض سے عافیت عطا فرما دے، اور مجھے آئمہؑ کے صدقے اور اپنے فضل وکرم کے طفیل بہترین امیدوں تک پہنچا دے۔ خداوندا! محمدؐ و آل محمدؐ پر درود نازل فرما، میری توبہ قبول فرما لے، میرےآنسوؤں پر رحم فرما، میری تکالیف اور رنج و غم میں میرا مونس و غم خوار بن جا، میری خطائیں معاف فرما دے اور میری اولاد کو سعید و صالح بنا دے۔ ربِّ جلیل! اس عظیم بارگاہ اور باکرامت مقام پر میرے تمام گناہ بخش دے،میرے سارے غم دور کر دے، میرے رزق میں وسعت عطا فرما، کی فرصت نہ ملے اور مجھ پر اتنا فضل و کرم کر کہ میں تمام مخلوقات سے بے نیاز ہو جاؤں! میرے پالنہار! میں تجھ سے نفع بخش علم، تیری جانب جھکنے والے دل، پختہ ایمان، پاکیزہ اور مخلصانہ عمل، مثالی صبر، اور بے پناہ اجر و ثواب کا طلبگار ہوں! میرے اللہ! تو نے مجھ پر جو فراوان نعمتیں نازل فرمائی ہیں تو ہی مجھے ان کے بارے میں اپنے شکرو سپاس کی توفیق عطا فرما اور اس کے نتیجہ میں مجھ پر اپنے احسان و کرم میں اضافہ فرما۔ لوگوں کے درمیان میرے قول میں تاثیر عطا کر، میرے عمل کو اپنی بارگاہ میں بلندی عطا فرما، مجھے ایسا بنا دے کہ میری نیکیوں کی پیروی کی جانے لگے، اور میرے دشمن کو تباہ و برباد کر دے۔ اے جہانوں کے پالنہار! تو اپنے بہترین بندوں یعنی محمدؐ و آل محمدؐ پر شب و روز اپنی رحمتیں اور درود نازل فرما، اور مجھے بروں کی شر سے محفوظ کر دے، گناہوں سے پاک فرما دے۔ میرے بوجھ اُتار دے۔ مجھے سکون و قرار کی جگہ یعنی جنت میں جگہ دے۔ نیز مجھے اور مومنین و مومنات میں سے میرے تمام بھائیوں اور بہنوں اور اعزہ و اقربا کو بخش دےْ۔ اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے اپنی رحمت کے تصدق میری التجا کو قبول فرما لے۔
وَ اجْعَلْ قَوْلِيْ فِي النَّاسِ مَسْمُوْعًا، وَ عَمَلِيْ عِنْدَكَ مَرْفُوْعًا، وَ اَثَرِيْ فِي الْخَيْرَاتِ مَتْبُوْعًا، وَ عَدُوِّيْ مَقْمُوْعًا، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ الْاَخْيَارِ، فِيْ آنَاءِ اللَّيْلِ وَ اَطْرَافِ النَّهَارِ، وَ اكْفِنِيْ شَرَّ الْاَشْرَارِ، وَ طَهِّرْنِيْ مِنَ الذُّنُوْبِ وَ الْاَوْزَارِ، وَ اَجِرْنِيْ مِنَ النَّارِ، وَ اَحِلَّنِيْ دَارَالْقَرَارِ، وَ اغْفِرْ لِيْ وَ لِجَمِيْعِ اِخْوَانِيْ فِيْكَ وَ اَخَوَاتِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.
ترجمہ : (حجۃ الاسلام مولانا سید حسین مرتضیٰ)