ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے صنمی قریش
دعاء صنمی قریش (قریش کے بت ) مولا امیر المومنین ؑ علی ؑ ابن ابی طالب ؑ کی معتبر ترین دعاؤں میں سے ایک ہے اور معروف ومشہور شیعہ راویان احادیث سے اس دعا کی سند ملتی ہے۔
ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں مسجد رسول ؐ میں گیا تاکہ نماز شب وہیں ادا کروں ، میں نے حضرت امیر المومنین ؑ کو نماز میں مشغول پایا، میں ایک گوشہ میں بیٹھ کر حسنِ عبادت اور قرات سننے لگا۔ حضرت امیر المومنین ؑ نماز شب سے فارغ ہوئے اور پھر شفع اور وتر پڑھی اور پھر اس قسم کی دعائیں پڑھیں کہ میں نے پہلے کبھی نہ سنی تھیں۔ جب حضرت امیر المومنین ؑ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی کہ میری جان آپؑ پر فدا ہو یہ کیا دعا ء تھی ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آپ ؑ نے فرمایا یہ دعاء صنمی قریش ہے۔قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ؐ اور علی ؑ کی جان ہے ، جو شخص اس دعاء کو پڑھے اس کو ایسا ثواب حاصل ہوگا کہ گویا اس نے حضور ؐنبی اکرم ؐ کے ساتھ جنگ احد اور بدر ، حنین اور تبوک میں جہاد کیا اور حضور ؐنبی اکرم ؐ کے روبرو شہید ہوا۔ نیز اس کو حضور ؐنبی اکرم ؐ کے ساتھ سو حج اور عمرہ بجالانے کا ثواب ہوگا۔ اور ہزار مہینوں کے روزوں کا ثواب ہوگا اور روزِ قیامت اس کا حشر جنابِ رسالت مآب ؐ اور آئمہ معصومین ؑ کے ساتھ ہوگا، اور خداوند عالم اس کے تمام گناہ کو بخش دے گا اگرچہ تعداد میں آسمان کے ستاروں ، صحرا میں ریت کے ذروں اور تمام درختوں کے پتوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں اور وہ شخص عذاب قبر سے امان میں ہوگا۔ اس کی قبر میں بہشت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، جس حاجت کے لئے پڑھے گا انشاء اللہ پوری ہو گی ۔ ابن عباس اگر ہمارے کسی دوست پر بلا و مصیبت آئے تو وہ اس دعاء کو پڑھے نجات ہوگی۔ (حوالہ مصباح کفعمی میں۵۵۲ ، بحار الا نوار جلد ۸۲/۸۵ ص۲۶۰ )
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ صَنَمَیْ قُرَیْشٍ وَ جِبْتَیْھَا وَ طَاغُوْتَیْھَا وَ اِفْكَیْھَا وَ اِبْنَتَیْھَا الَّذَیْنِ خَالَفَا اَمْرَكَ وَ اَنْكَرَا وَحْیَكَ وَ جَحَدَا اِنْعَامَكَ وَ عَصَیَا رَسُوْلَكَ وَ قَلَّبَا دِیْنَكَ وَ حَرَّفَا كِتَابَكَ وَ اَحَبَّا اَعْدَاۤئَكَ وَ جَحَدَ ا اٰلَاۤئَكَ وَ عَطَّلَا اَحْكَامَكَ وَ اَبْطَلَا فَرَاۤئِضَكَ وَ اَلْحَدَا فِیْ اٰیَاتِكَ وَ عَادَیَا اَوْلِیَاۤئَكَ وَ وَالَیَا اَعْدَاۤئَكَ وَ خَرَّبَا بِلَادَكَ وَ اَفْسَدَا عِبَادَكَ اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمَا وَ اَتْبَاعَھُمَا وَ اَوْلِیَاۤئَھُمَا وَ اَشْیَاعَھُمَا وَ مُحِبِّیْھِمَا فَقَدْ اَخْرَبَا بَیْتَ النُّبُوَّۃِ وَ رَدَمَا بَابَہٗ وَ نَقَضَا سَقْفَہٗ وَ اَلْحَقَا سَمَاۤئَہٗ بِاَرْضِہٖ وَ عَالِیَہٗ بِسَافِلِہٖ وَ ظَاھِرَہٗ بِبَاطِنِہٖ وَ اسْتَاْصَلَا اَھْلَہٗ وَ اَبَادَ اَنْصَارَہٗ وَ قَتَلَا اَطْفَالَہٗ وَ اَخْلَیَا مِنْبَرَہٗ مِنْ وَ صِیِّہٖ وَ وَارِثِ عِلْمِہٖ وَ جَحَدَا اِمَامَتَہٗ وَ اَشْرَكَا بِرَبِّھِمَا فَعَظِّمْ ذَنْبَھُمَا وَ خَلِّدْھُمَا فِیْ سَقَرَ وَ مَاۤ اَدْرَاكَ مَا سَقَرُ لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ بِعَدَدِ كُلِّ مُنْكَرٍ اَتَوْہُ وَحَقٍّ اَخْفَوْہُ وَ مِنْبَرٍ عَلَوْہُ وَ مُؤْمِنٍ اَرْجَوْہُ وَ مُنَافِقٍ وَلَّوْہُ وَ وَلِیٍّ اٰذَوْہُ وَ طَرِیْدٍ اٰوَوْہُ وَ صَادِقٍ طَرَدُوْہُ وَ كَافِرٍ نَصَرُوْہُ وَ اِمَامٍ قَھَرُوْہُ وَ فَرْضٍ غَیَّرُوْہُ وَ اَثَرٍ اَنْكَرُوْہُ وَ شَرٍّ اٰثَرُوْہُ وَ دَمٍ اَرَاقُوْہُ وَ خَیْرٍ بَدَّلُوْہُ وَ كُفْرٍ نَصَبُوْہُ وَ كِذْبٍ دَلَّسُوْہُ وَ اِرْثٍ غَصَبُوْہُ وَ فَیْءٍ اقْتَطَعُوْہُ وَ سُحْتٍ اَكَلُوْہُ وَ خُمْسٍ اِسْتَحَلُّوْہُ وَ بَاطِلٍ اَسَّسُوْہُ وَ جَوْرٍ بَسَطُوْہُ وَ نِفَاقٍ اَسَرُّوْہُ وَ غَدْرٍ اَضْمَرُوْہُ وَ ظُلْمٍ نَشَرُوْہُ وَ وَعْدٍ اَخْلَفُوْہُ وَ اَمَانَۃٍ خَانُوْہُ وَ عَھْدٍ نَقَضُوْہُ وَ حَلَالٍ حَرَّمُوْہُ وَ حَرَامٍ اَحَلُّوْہُ وَ بَطْنٍ فَتَقُوْہُ وَ جَنِیْنٍ اَسْقَطُوْہُ وَ ضِلَعٍ دَقُّوْہُ وَ صَكٍّ مَّزَّقُوْہُ وَ شَمْلٍ بَدَّدُوْہُ وَ عَزِیْزٍ اَذَلُّوْہُ وَ ذَلِیْلٍ اَعَزُّوْہُ وَ حَقٍّ مَنَعُوْہُ وَ كِذْبٍ دَلَّسُوْہُ وَ حُكْمٍ قَلَّبُوْہُ وَ اِمَامٍ خَالَفُوْہُ اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ بِعَدَدِ كُلِّ اٰیَۃٍ حَرَّفُوْھَا وَ فَرِیْضَۃٍ تَرَكُوْھَا وَ سُنَّۃٍ غَیَّرُوْھَا وَ اَحْكَامٍ عَطَّلُوْھَا وَ رُسُوْمٍ قَطَعُوْھَا وَ وَصِیَّۃٍ بَدَّلُوْھَا وَ اُمُوْرٍ ضَیَّعُوْھَا وَ بَیْعَۃٍ نَكَثُوْھَا وَ شَھَادَاتٍ كَتَمُوْھَا وَ دَعْوَاۤءٍ اَبْطَلُوْھَا وَ بَیِّنَۃٍ اَنْكَرُوْھَا وَ حِیْلَۃٍ اَحْدَثُوْھَا وَ خِیَانَۃٍ اَوْرَدُوْھَا وَ عَقَبَۃٍ اِرْتَقُوْھَا وَ دِبَابٍ دَحْرَجُوْھَا وَ اَزْیَافٍ لَزَمُوْھَا اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمَا فِیْ مَكْنُوْنِ السِّرِّ وَ ظَاھِرِ الْعَلَانِیَۃِ لَعْنًا كَثِیْرًا اَبَدًا دَاۤئِمًا دَاۤئِبًا سَرْمَدًا لَا انْقِطَاعَ لِاَمَدِہٖ وَ لَا نَفَادَ لِعَدَدِہٖ لَعْنًا یَّعُوْدُ اَوَّلُہٗ وَ لَا یَنْقَطِعُ اٰخِرُہٗ لَھُمْ وَ لِاَعْوَانِھِمْ وَ اَنْصَارِھِمْ وَ مُحِبِّیْھِمْ وَ مُوَالِیْھِمْ وَ الْمُسْلِمِیْنَ لَھُمْ وَ الْمَاۤئِلِیْنَ اِلَیْھِمْ وَ النَّاھِقِیْنَ بِاِحْتِجَاجِھِمْ وَ النَّاھِضِیْنَ بِاَجْنِحَتِھِمْ وَ الْمُقْتَدِیْنَ بِكَلَامِھِمْ وَ الْمُصَدِّقِیْنَ بِاَحْكَامِھِمْ۔
اے اللہ رحمت نازل فرما محمد ؐ اور آلِ محمد ؐ پر اور لعنت کر قریش کے دونوں بتوں پر اور دونوں جادوگروں پر اور دونوں باغی شیطانوں پر اور الزام تراشنے والوں پر اور دونوں کے بیٹوں اور بیٹیوں پر جنھوں نے تیرے امر کی مخالفت کی اور تیری وحی کا انکار کیا اور تیرے انعام سے مُنہ پھیرا اور تیرے رسول ؐ کی نافرمانی کی اور تیرے دین کو برباد (تبدیل)کیا اور تیری کتاب میں تحریف کی اور تیرے دشمنوں سے محبت کی اور تیری نعمتوں کو ٹھکرایا اور تیرے احکام کو معطل کیا اور تیرے فرائض کو باطل قرار دیا اور تیری آیات(نشانیوں) میں الحاد(جھٹلایا) کیا اور تیرے دوستوں سے عداوت کی اور تیرے دشمنوں کو دوست رکھا اور تیرے شہروں کو خراب کیا اور تیرے بندوں میں فساد پھیلایا۔ اے اللہ تو ان دونوں پر لعنت کر اور ان دونوں کا اتباع کرنے والوں پر اور انکے دوستوں پر اور انکے مددگاروں پر اور ان سے محبت کرنے والوں پر کیونکہ انھوں نے خانہ نبوت کو برباد کیا اور اس (گھر)کا دروازہ اکھاڑ ڈالا اور اس کی چھت کو توڑ ڈالا اور اس (خانہ نبوت)کے آسمان کو اس کی زمین سے ، اسکی بلندی کو اسکی پستی سے اور اسکے ظاہر کو اسکے باطن سے ملا ڈالا اور اسکے مکینوں کو اُجاڑ ڈالا (استیصال کیا)اور اسکے مددگاروں کو ہلاک کیا اور اسکے بچوں کو قتل کیا اور اسکے منبر کو خالی کر ڈالا اس کے وصی اور اسکے علم کے وارث سے اور اس کی امامت کا انکار کیا اور ان دونوں نے اپنے رب کے ساتھ شرک کیا پس تو انکے گناہ (اور عذاب)کو اور بڑھا دے اور ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے سقر(دوزخ)میں رکھ اور تو خوب جانتا ہے کہ سقر کیا ہے یہ (سقر) نہ تو کسی کو باقی رکھتا ہے اور نہ چھوڑتا ہے۔ اے اللہ ان پر لعنت کر ہر اس منکر کے عوض جسکی انھوں نے بنیاد رکھی اور ہر وہ حق جسے انھوں نے چھپایا اور ہر اس منبر کے عوض جس پر یہ چڑھ دوڑے اور ہر مومن کے عوض جسے انھوں نے تکلیف دی اور ہر منافق کے عوض جسے انھوں نے دوست رکھا اور (خدا کے)دوست کے عوض جسے ایذاء دی اور (رسول ؐکے )دھتکارے ہوئے کے عوض جسے واپس لائے اور سچے بندہ کو جلا وطن کرنے کے عوض اور کافر کی مدد کرنے کے عوض اور امام بر حق سے سختی برتنے کے عوض اور واجب میں تغیر کرنے کے عوض اور واجب میں تغیر کرنے کے عوض اور آثار کے انکارکے عوض اور شر کو اختیار کرنے کے عوض اور اس خون کے عوض جسے بہایا گیا اور اس خیر کے عوض جسے بدل دیا اور اس کفر کے عوض جسے قائم کیا اور اس میراث کے عوض جسے غصب کیا اور مال فئے(خراج)کے عوض جسے منقطع کیا اور اس مال حرام کے عوض جسے انھوں نے استعمال کیا اور خمس کے عوض جسے انھوں نے (اپنے لیے )حلال قرار دیا اور باطل کے عوض جسکی بنیاد رکھی اور ظلم و جور کے عوض جسے رائج کیا اور منافقت کے عوض جو دلوں میں چھپائے رکھی اور مکر وفریب کے عوض جسے پوشیدہ رکھا اور ظلم کے عوض جسے عام کیا اور وعدوں کے عوض جن کی خلاف ورزی کی اور امانتوں کے عوض جن میں خیانت کی اور اپنے عہد کو توڑنے کے عوض اور حلال کو حرام کرنے کے عوض اور حرام کو حلال کرنے کے عوض اور معصومہ ؑ عالم کو شہید کرنے کے عوض اور حضرت محسن ؑ کو شہید کرنے کے عوض اور معصومہ ؑ عالم کے پہلو کو زخمی کرنے کے عوض اور نبی ؐ کی تحریر کو پارہ پارہ کرنے کے عوض اور حق پسندوں کے اجتماع کو منتشر کرنے کے عوض اور عزت دار کو ذلیل کرنے کے عوض اور ذلیل و رسواء کو نوازنے کے عوض اور حق دار کو حق سے محروم رکھنے کے عوض اور جھوٹ کو فریب کے ساتھ عمل میں لانے کے عوض اور حکم کو تبدیل کرنے کے عوض۔ اے اللہ ان پر لعنت کر ان تمام آیات کے عوض جن میں تحریف کی گئی اور فرائض جنھیں ترک کر دیا گیا اور تمام سنتیں جنھیں متغیر کیا اور وہ تمام رسوم جن کو منع کردیا گیا اور وہ تمام احکام جنھیں معطل کر دیا اور وہ بیعت جسے بھلا ڈالااور وہ دعویٰ حق جسے باطل قرار دیا اور وہ واضح ثبوت جن کا انکار کیا اور وہ حیلے بہانے جو تراشے گئے اور وہ خیانت جو برتی گئی اور وہ پہاڑی جس پر یہ جان بچانے کے لیے چڑھ گئے اور وہ معین راہیں جنھیں چھوڑ دیا گیا اور وہ کجی جسے اختیار کیا اور وہ شہادات جنھیں چھپایا گیا اور وہ وصیت جسے ضائع کر دیا گیا۔ اے اللہ ان دونوں پر لعنت کر پوشیدہ و در پردہ اور ظاہر و اعلانیہ طور پر ، ایسی لعنت جو کثیر (بیشمار)ہو ابدی (مستقل) ہو دائمی (ہمیشہ رہنے والی) ہو لگاتار ہو نہ رکنے والی ہو، (ایسی لعنت جسکی مدت ختم نہ ہو) اور جسکا عدد گننے میں نہ آئے، ایسی لعنت جو اول کو گھیرے اور آخر تک ختم نہ ہو اور لعنت ہو انکے حامیوں پر اور مددگاروں پر اور انکے چاہنے والوں پر اور انکے دوستوں پر اور انکے فرمانبرداروں پر اور انکی طرف رغبت رکھنے والوں پر اور انکے احتجاج پر ہم آواز ہونے والوں پر اور انکے کلام کی اقتداء کرنے والوں پر اور انکے باطل احکام کی تصدیق کرنیوالوں پر۔
پھر چار مرتبہ کہیں :
اَللّٰھُمَّ عَذِّبْھُمْ عَذَابًا یَّسْتَغِیْثُ مِنْہُ اَھْلُ النَّارِ اٰمِیْنَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔
اے اللہ ان پر ایسا عذاب نازل فرما جس سے اہل دوزخ بھی فریاد کرنے لگیں، اے عالمین کے پروردگار میری دعا کو قبول فرما۔
اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ جَمِیْعًا
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فَاَغْنِنِیْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ اَعِذْنِیْ مِنَ الْفَقْرِ رَبِّ اِنِّیْۤ اَسَأْتُ وَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اعْتَرَفْتُ بِذُنُوْبِیْ وَھَاۤ اَنَا ذَا بَیْنَ یَدَیْكَ فَخُذْ لِنَفْسِكَ رِضَاھَا مِنْ نَّفْسِیْ لَكَ الْعُتْبٰی لَاۤ اَعُوْدُ فَاِنْ عُدْتُّ فَعُدْ عَلَیَّ بِالْمَغْفِرَۃِ وَ الْعَفْوِ لَكَ بِفَضْلِكَ وَ جُوْدِكَ وَ مَغْفِرَتِكَ وَ كَرَمِكَ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَ صَلَّی اﷲُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَ اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاھِرِیْنَ بِرَحْمَتِكَ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔