ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
اَنْتَ اللهُ الَّذِي اسْتَجَبْتَ لِاٰدَمَ وَ حَوَّآءَ حِيْنَ‏ (قَالَا رَبَّنا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ‏)
خدایا تو وہ ہے جس نے آدمؑ و حواؑ کی دعا کو قبول کیا جب انھوں نے کہا کہ مالک ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا اگر تو معاف نہ کرے گا اور رحم نہ کرے گا تو ہم خسارے والوں میں ہوجائیں گے اور نوحؑ نے جب تجھے پکارا تو تو نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انھیں اور ان کے اہل کو عظیم رنج سے نجات دے دی۔ اور ابراہیمؑ کے لیے آتشِ نمرود کو خاموش کردیا اور اسے سرد اور سلامتی بنادیا۔ تو وہ ہے جس نے ایوبؑ کی دعا کو قبول کیا اور جب انھوں نے فریاد کی کہ میں مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے تو تو نے ان کی تکلیف کو دور کردیا اور انھیں ان کے اہل اور اس کے علاوہ بھی عطا کردیا اپنی رحمت کی بناپر اور اسے صاحبانِ عقل کے لیے وسیلۂ عبرت قرار دے دیا۔ تو وہ ہے جس نے یونسؑ کی دعا کو قبول کیا جب انھوں نے تاریکیوں میں تجھے پکارا کہ تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و پاکیزہ ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے تو تو نے انھیں غم سے نجات دے دی۔ اور تو ہی وہ ہے جس نے موسیٰؑ و ہارونؑ کی دعا کو قبول کیا اور یہ کہہ دیا کہ تمہاری دعا قبول ہوگئی لہٰذا اب ثابت قدم رہنا اور پھر فرعون اور اس کی قوم کو ڈبودیا اور تو نے داؤدؑ کی خطا کو معاف کردیا اور ان کی توبہ کو اپنی رحمت سے قبول کرلیا اور تو نے اسماعیلؑ کے بدلہ ذبح عظیم کو فدیہ بنادیا جب وہ تیری بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ابراہیمؑ نے انھیں پیشانی کے بھل لٹادیا اور تو نے پکار کر انھیں سکون اور راحت کی خبر سنادی اور تو وہ ہے جس کو زکریاؑ نے خاموشی سے آواز دی اور کہا کہ میری ہڈّیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر ضعیفی سے بھڑک اٹھا ہے مگر میں تیری دعا سے مایوس نہیں ہوں اور تو نے کہا ہے کہ میرے بندہ مجھ سے رغبت و خوف کے ساتھ دعا کرتے ہیں اور میری بارگاہ میں خاشع رہتے ہیں تو ہی وہ ہے جس نے ایمان عمل والوں کی دعا کو قبول کیا تاکہ انھیں اپنے فضل سے زیادہ عطا فرمائے لہٰذا خدایا مجھے تمام دعا کرنے والوں اور رغبت کرنے والوں میں حقیرترین نہ قرار دے دینا اور ہماری دعا کو ویسے ہی قبول کرنا جیسے سب کی دعا کو قبول کیا ہے اس حق کی بناپر جو تو نے ان کے اوپر اپنے لیے قرار دیا ہے۔ اپنی تطہیر سے مجھے پاک بنادے میری نماز اور دعا کو بہترین طریقہ سے قبول کرلے۔ میری بقیہ حیات کو پاکیزہ بنادے اور میری موت کو بھی پاکیزہ بنادے۔ میرے پسماندگان میں مجھے محفوظ رکھنا اور اے پروردگار میری دعا سے میری حفاظت فرما اور میری ذرّیت کو پاکیزہ ذرّیت قرار دے ان کا ہر اس حفاظت سے جس سے تو نے اپنے اولیاء اور اطاعت گذاروں میں کسی کی ذرّیت کا تحفظ کیا ہے اپنی رحمت کے ذریعہ اے بہترین رحم کرنے والے۔ اے وہ خدا جو ہر شئی کا نگراں ہے اور اپنی مخلوقات میں ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرنے والا ہے اور ہر سائل سے قریب تر ہے اے پروردگار جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو خدائے حی و قیوم یکتا اور بے نیاز ہے۔ جس کا نہ کوئی باپ ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی ہمسر میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اِس نام کے واسطے سے جس سے تو نے آسمان کو رفعت دی زمین کا فرش بچھایا۔ پہاڑوں کو مستحکم بنایا۔ دریاؤں کو جاری کیا۔ بادل، شمس و قمر ستارے اور لیل و نہار کو مسخر کیا اور ساری کائنات کو پیدا کیا میرا سوال تیری اس عظیم ذات کی عظمت کے سہارے سے ہے جس سے آسمان و زمین روشن ہوئے۔ تاریکیاں نورانیت میں تبدیل ہوئیں کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور میرے امور معاش و معاد کے لیے کافی ہوجا۔ میرے حالات کی اصلاح فرمادے اور مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی خود میرے حوالہ نہ کردینا۔ میرے اور میرے عیال کے امور کی اصلاح فرمانا۔ ہم و غم کے لیے کافی ہوجانا، مجھے اور ان کو اپنے خزانۂ خاص سے اور اپنے وسیع فضل سے جس کا سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ہے غنی بنادینا میرے دل میں حکمت کے چشموں کو ثابت کردے جن سے مجھے فائدہ پہنچے اور ان لوگوں کو فائدہ پہنچے جن بندوں کو تو نے پسند کیا ہے۔ میرے لیے آخری زمانہ میں متقین میں سے امام قرار دے دے جس طرح تو نے ابراہیمؑ خلیل کو امام بنایا ہے اس لیے کہ تیری توفیق ہی سے کامیاب لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور تائب توبہ کرتے ہیں عابد عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی اصلاح سے صالحین و محسنین و عابدین کے امور کی اصلاح ہوتی ہے تیرا خوف رکھتے ہیں۔ اور تیرے ارشاد ہی سے نجات پانے والے جہنم سے نجات پاتے ہیں اور مخلوقات میں سے ڈرنے والے ڈرتے ہیں اور تیرے چھوڑ دینے ہی سے اہل باطل کا خسارہ ہوتا ہے اور ظالم ہلاک ہوجاتے ہیں اور غافل غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خدایا میرے نفس کو تقویٰ عنایت فرما کہ اس کا ولی اور مولا ہے اور بہترین پاک کرنے والا ہے۔ خدایا میرے لیے ہدایت کو واضح کردے اور میرے نفس کو تقویٰ کا الہام فرما اور اسے وقت وفات اپنی رحمت کی بشارت عطا فرما اور جنّت میں بلندترین منزل میں منزل فرما۔ حیات و موت کو پاکیزہ قرار دے دے۔ اور اس کے انجام، مستقر اور ملجاء و ماویٰ کو محترم بنادے کہ تو ہی اس نفس کا ولی بھی ہے۔
وَ نَادَاكَ نُوْحٌ فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَ نَجَّيْتَهُ وَ اٰلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ وَ اَطْفَاْتَ نَارَ نُمْرُوْدَ عَنْ خَلِيْلِكَ اِبْرَاهِيْمَ فَجَعَلْتَهَا عَلَيْهِ‏ (بَرْدًا وَ سَلَامًا) وَ اَنْتَ الَّذِيْ اسْتَجَبْتَ لِاَيُّوْبَ حِيْنَ نَادَاكَ‏ (اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ)‏
فَكَشَفْتَ مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَيْتَهُ‏ اَهْلَهُ وَ مِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِكَ‏ وَ ذِكْرىٰ‏ لِاُوْلِي الْاَلْبَابِ
وَ اَنْتَ الَّذِي اسْتَجَبْتَ لِذِي النُّوْنِ حِيْنَ نَادَاكَ‏ (فِيْ الظُّلُماتِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ)‏
فَنَجَّيْتَهُ مِنَ الْغَمِّ وَ اَنْتَ الَّذِيْ اسْتَجَبْتَ لِمُوْسٰى وَ هَارُوْنَ دَعْوَتَهُمَا حِيْنَ قُلْتَ‏ (قَدْ اُجِيْبَتْ دَعْوَتُكُمَا)
وَ اَغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَ قَوْمَهُ وَ غَفَرْتَ لِدَاوُدَ ذَنْبَهُ وَ نَبَّهْتَ قَلْبَهُ وَ اَرْضَيْتَ خَصْمَهُ رَحْمَةً مِّنْكَ [وَ ذِكْرىٰ‏]
وَ اَنْتَ الَّذِيْ فَدَيْتَ الذَّبِيْحَ‏ (بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ)‏ حِيْنَ‏ (اَسْلَمَا وَ تَلَّهُ لِلْجَبِيْنِ)‏ فَنَادَيْتَهُ بِالْفَرَجِ وَ الرَّوْحِ
وَ اَنْتَ الَّذِيْ نَادَاكَ زَكَرِيَّا نِدَآءً خَفِيًّا قَالَ (رَبِّ اِنِّيْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًا
وَ لَمْ اَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا) وَ قُلْتَ‏ (وَ يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا وَّ كَانُوْا لَنَا خَاشِعِيْنَ‏)
وَ اَنْتَ الَّذِيْ اسْتَجَبْتَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ لِتَزِيْدَهُمْ مِنْ فَضْلِكَ
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ اَهْوَنَ الرَّاغِبِيْنَ اِلَيْكَ وَ اسْتَجِبْ لِيْ كَمَا اسْتَجَبْتَ لَهُمْ بِحَقِّهِمْ عَلَيْكَ وَ طَهِّرْنِيْ
وَ تَقَبَّلْ صَلَاتِيْ وَ حَسَنَاتِيْ وَ طَيِّبْ بَقِيَّةَ حَيَاتِيْ وَ طَيِّبْ وَفَاتِيْ وَ اخْلُفْنِيْ فِيْمَنْ اُخَلِّفُ وَ احْفَظْهُمْ رَبِّ بِدُعَائِيْ
وَ اجْعَلْ ذُرِّيَّتِيْ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً تَحُوْطُهَا بِحِيَاطَتِكَ مِنْ كُلِّ مَا حُطْتَ مِنْهُ ذُرِّيَّةَ اَوْلِيَائِكَ وَ اَهْلَ طَاعَتِكَ بِرَحْمَتِكَ يَا رَحِيْمُ [يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ‏]
يَا مَنْ‏ هُوَ عَلىٰ‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيْرٌ وَ [هُوَ] عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ رَقِيْبٌ وَ مِنْ كُلِّ سَآئِلٍ قَرِيْبٌ وَ مِنْ كُلِّ دَاعٍ مِنْ خَلْقِهِ مُجِيْبٌ
اَنْتَ اللهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِيْ‏ (لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ وَ لَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ)
تَمْلِكُ الْقُدْرَةَ الَّتِيْ عَلَوْتَ بِهَا فَوْقَ عَرْشِكَ وَ رَفَعْتَ بِهَا سَمَاوَاتِكَ وَ اَرْسَيْتَ بِهَا جِبَالَكَ وَ فَرَشْتَ بِهَا اَرْضَكَ
وَ اَجْرَيْتَ بِهَا الْاَنْهَارَ وَ سَخَّرْتَ بِهَا السَّحَابَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ اللَّيْلَ وَ النَّهَارَ وَ خَلَقْتَ بِهَا الْخَلَآئِقَ
اَسْاَلُكَ‏ بِعَظَمَةِ وَجْهِكَ الْكَرِيْمِ الَّذِيْ اَشْرَقَتْ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَ اَضَآءَتْ بِهِ الظُّلُمَاتُ اَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ اَنْ تَكْفِيَنِيْ اَمْرَ مَنْ يُّعَادِيْنِيْ وَ اَمْرَ مَعَادِيْ وَ مَعَاشِيْ وَ اَصْلِحْ يَا رَبِّ شَاْنِيْ وَ لَا تَكِلْنِيْ اِلَى نَفْسِيْ طَرْفَةَ عَيْنٍ
وَ اَصْلِحْ اَمْرَ وُلْدِيْ وَ عِيَالِيْ وَ اَغْنِنِيْ وَ اِيَّاهُمْ مِنْ خَزَآئِنِكَ وَ سَعَةِ رِزْقِكَ وَ فَضْلِكَ وَ ارْزُقْنِيْ الْفِقْهَ فِيْ دِيْنِكَ
وَ اَنْفِعْنِيْ بِمَا نَفَعْتَ بِهِ مَنِ ارْتَضَيْتَ مِنْ عِبَادِكَ وَ اجْعَلْنِيْ‏ (لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا) كَمَا جَعَلْتَ اِبْرَاهِيْمَ فَاِنَّ بِتَوْفِيْقِكَ يَفُوْزُ الْمُتَّقُوْنَ
وَ يَتُوْبُ التَّائِبُوْنَ وَ يَعْبُدُكَ الْعَابِدُوْنَ وَ بِتَسْدِيْدِكَ وَ اِرْشَادِكَ نَجَا الصَّالِحُوْنَ
اَللّٰهُمَّ اٰتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا وَ اَنْتَ وَلِيُّهَا وَ مَوْلَاهَا وَ اَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا
اَللّٰهُمَّ بَيِّنْ لَهَا رَشَادَهَا وَ تَقْوَاهَا وَ نَزِّلْهَا مِنَ الْجِنَانِ اَعْلَاهَا وَ طَيِّبْ وَفَاتَهَا
وَ مَحْيَاهَا وَ اَكْرِمْ مُنْقَلَبَهَا وَ مَثْوَاهَا وَ مُسْتَقَرَّهَا وَ مَاْوَاهَا اَنْتَ رَبُّهَا وَ مَوْلَاهَا
اَللّٰهُمَّ اسْمَعْ وَ اسْتَجِبْ بِرَحْمَتِكَ وَ مَنْزِلَةِ مُحَمَّدٍ وَّ عَلِيٍّ وَّ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ
وَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَّ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ مُوسىٰ بْنِ جَعْفَرٍ وَّ عَلِيِّ بْنِ مُوْسىٰ
وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَّ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَّ الْحُجَّةِ الْقَآئِمِ
صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ عِنْدَكَ وَ بِمَنْزِلَتِهِمْ لَدَيْكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْن‏۔