ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے صَباح حضرتْ امیرؑ
(بعض مشہور دعاؤں کے ذکر میں جن میں سے امیر المومنین علیہ السلام کی یہ دعائے صباح بھی ہے۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بنام خدائے رحمان و رحیم
اَللّٰهُمَّ يَا مَنْ دَلَعَ لِسَانَ الصَّبَاحِ بِنُطْقِ تَبَلُّجِهِ
اے وہ خدا جس نے صبح کی زبان کو روشنی کی گویائی سے نورانی فرمایا ہے
وَ سَرَّحَ قِطَعَ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ بِغَيَاهِبِ تَلَجْلُجِهِ
اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کو ہول انگیز تاریکیوں کو ساتھ آزاد فرمایا ہے
وَ اَتْقَنَ صُنْعَ الْفَلَكِ الدَّوَّارِ فِيْ مَقَادِيْرِ تَبَرُّجِهِ
اور فلک دوّار کی صنعت کو برجوں کی مقدار سے مستحکم فرمایا ہے
وَ شَعْشَعَ ضِيَاۤءَ الشَّمْسِ بِنُوْرِ تَاَجُّجِهِ
اور آفتاب کی روشنی کو بھڑکتے ہوئے نور سے تابندہ قرار دیا ہے۔
يَا مَنْ دَلَّ عَلٰى ذَاتِهِ بِذَاتِهِ
اے وہ خدا جو اپنی ذات کے لئے خود ہی رہنما ہے
وَ تَنَزَّهَ عَنْ مُجَانَسَةِ مَخْلُوْقَاتِهِ
اور تمام مخلوقات کی مشابہت
وَ جَلَّ عَنْ مُلَاۤءَمَةِ كَيْفِيَّاتِهِ
یا ان کے کیفیات کی مناسبت سے بلند تر اور پاکیزہ ہے۔
يَا مَنْ قَرُبَ مِنْ خَطَرَاتِ الظُّنُوْنِ
اے وہ خدا جو خیالات سے قریب تر
وَ بَعُدَ عَنْ لَحَظَاتِ الْعُيُوْنِ
اور آنکھوں کے مشاہدے سے دور تر ہے
وَ عَلِمَ بِمَا كَانَ قَبْلَ اَنْ يَكُوْنَ
اور ہر چیز کو اس کے وجود کے پہلے سے جانتا ہے۔
يَا مَنْ اَرْقَدَنِيْ فِيْ مِهَادِ اَمْنِهِ وَ اَمَانِهِ
اے وہ خدا جس نے مجھے امن وامان کے گہوارہ میں سلایا
وَ اَيْقَظَنِيْ اِلٰى مَا مَنَحَنِيْ بِهِ مِنْ مِنَنِهِ وَ اِحْسَانِهِ
اور احسانات و انعامات کی دنیا میں بیدار کیا
وَ كَفَّ اَكُفَّ السُّوۤءِ عَنِّيْ بِيَدِهِ وَ سُلْطَانِهِ
اور برائی کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے اور اپنی طاقت سے رد کردیا۔
صَلِّ اللّٰهُمَّ عَلَى الدَّلِيْلِ اِلَيْكَ فِي اللَّيْلِ الْاَلْيَلِ،
رحمت نازل فرما اس انسان پر جو اندھیری رات میں تیری طرف رہنمائی کرنے والا
وَ الْمَاسِكِ مِنْ اَسْبَابِكَ بِحَبْلِ الشَّرَفِ الْاَطْوَلِ
اور عظیم ترین شرف کے ہر وسیلہ سے تمسک کرنے والا
وَ النَّاصِعِ الْحَسَبِ فِي ذِرْوَةِ الْكَاهِلِ الْاَعْبَلِ
اور بلندیوں کے عظیم درجہ پر ہے روشن ترین حسب و نسب رکھنے والا
وَ الثَّابِتِ الْقَدَمِ عَلٰى زَحَالِيْفِهَا فِي الزَّمَنِ الْاَوَّلِ
اور مشکلات میں روز اول سے ثابت قدم رہنے والا ہے
وَ عَلٰى اٰلِهِ الْاَخْيَارِ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَبْرَارِ
اور اس کی اس آل پر جو نیک کردار اور منتخب ہے۔
وَ افْتَحِ اللّٰهُمَّ لَنَا مَصَارِيْعَ الصَّبَاحِ
خدایا ہمارے لئے صبح کے دروازوں کو
بِمَفَاتِيْحِ الرَّحْمَةِ وَ الْفَلَاحِ
رحمت و فلاح کی کنجیوں سے کھول
وَ اَلْبِسْنِيْ اَللّٰهُمَّ مِنْ اَفْضَلِ خِلَعِ الْهِدَايَةِ وَ الصَّلَاحِ
اور ہمیں ہدایت و صلاح کا بہترین لباس عطا فرما۔
وَ اغْرِسِ اللّٰهُمَّ بِعَظَمَتِكَ فِي شِرْبِ جَنَانِيْ يَنَابِيْعَ الْخُشُوْعِ
اپنی عظمت سے ہمارے دلوں میں خشوع و خضوع کے چشمے راسخ فرما دے
وَ اَجْرِ اللّٰهُمَّ لِهَيْبَتِكَ مِنْ اٰمَاقِيْ زَفَرَاتِ الدُّمُوْعِ
اور اپنی ہیبت سے ہماری آنکھوں سے آنسوؤں کو جاری کردے۔
وَ اَدِّبِ اللّٰهُمَّ نَزَقَ الْخُرْقِ مِنِّيْ بِاَزِمَّةِ الْقُنُوْعِ۔
ہماری بے راہ روی کو قناعت اور خضوع کے اہتمام کو مودب بنا دے۔
اِلٰهِيْ اِنْ لَمْ تَبْتَدِئْنِيْ الرَّحْمَةُ مِنْكَ بِحُسْنِ التَّوْفِيْقِ
خدایا اگر تیری رحمت نے بہترین توفیق سے ہمارے کاموں کا آغاز نہ کیا
فَمَنِ السَّالِكُ بِيْ اِلَيْكَ فِيْ وَاضِحِ الطَّرِيْقِ
تو ہمیں روشن راستہ پر لے جانے والا کون ہوگا
وَ اِنْ اَسْلَمَتْنِيْ اَنَاتُكَ لِقَاۤئِدِ الْاَمَلِ وَ الْمُنٰى
اور اگر تیری مہلت نے ہمیں امیدوں اور خواہشات کے قائدین کے حوالے کردیا
فَمَنِ الْمُقِيْلُ عَثَرَاتِيْ مِنْ كَبَوَاتِ الْهَوٰى
تو ہماری لغزشوں کو خواہشات کی ٹھوکر سے بچانے والا کون ہو گا
وَ اِنْ خَذَلَنِيْ نَصْرُكَ عِنْدَ مُحَارَبَةِ النَّفْسِ وَ الشَّيْطَانِ
اور اگر نفس و شیطان کی جنگ میں تیری مدد کے ساتھ چھوڑ دیا
فَقَدْ وَكَلَنِيْ خِذْلَانُكَ اِلٰى حَيْثُ النَّصَبُ وَ الْحِرْمَانُ۔
تو گویا کہ تو نے ہم کو سختی اور نا امیدی کے حوالے کردیا۔
اِلٰهِيْ اَتَرَانِيْ مَا اَتَيْتُكَ اِلَّا مِنْ حَيْثُ الْاٰمَالُ
خدایا تجھے معلوم ہے کہ میں تیری بارگاہ میں صرف امیدوں کے سہارے آیا ہوں
اَمْ عَلِقْتُ بِاَطْرَافِ حِبَالِكَ اِلَّا حِيْنَ بَاعَدَتْنِيْ ذُنُوْبِيْ عَنْ دَارِ [صِرْبَةِ] الْوِصَالِ
اور میں نے تیرے ریسمان کرم کو اس وقت پکڑا ہے جب مجھے گناہوں نے تیرے دارالوصال سے دور پھینک دیا ہے۔
فَبِئْسَ الْمَطِيَّةُ الَّتِي امْتَطَتْ نَفْسِيْ مِنْ هَوَاهَا
وہ بد ترین سواری ہے جس پر میرا نفس خواہشات سمیت سوار ہو گیا ہے۔
فَوَاهَا لَهَا لِمَا سَوَّلَتْ لَهَا ظُنُوْنُهَا وَ مُنَاهَا
حیف ہے اس نفس کے لئے ان خیالات اور امیدوں کی بنا پر حیف ہے اس نفس کے لئے ان خیالات اور امیدوں کی بنا پر
وَ تَبَّا لَهَا لِجُرْاَتِهَا عَلٰى سَيِّدِهَا وَ مَوْلَاهَا
جو اس کے سامنے آراستہ ہو گئیں اور ہلاکت ہے اس کے لئے کہ اس نے اپنے سردار و مولا کے سامنے جرأت و جسارت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اِلٰهِيْ قَرَعْتُ بَابَ رَحْمَتِكَ بِيَدِ رَجَاۤئِي
خدایا میں نے امیدوں کے ہاتھوں تیرے باب رحمت کو کھٹکھٹایا ہے
وَ هَرَبْتُ اِلَيْكَ لَاجِئَا مِنْ فَرْطِ اَهْوَاۤئِي
اور خواہشات کے مظالم سے تیری پناہ میں بھاگ کر آیا ہوں
وَ عَلَّقْتُ بِاَطْرَافِ حِبَالِكَ اَنَامِلَ وَلَاۤئِي
میں نے اپنی محبت کی انگلیوں سے تیری ریسمان ہدایت کو پکڑ لیا ہے۔
فَاصْفَحِ اللّٰهُمَّ عَمَّا كُنْتُ [كَانَ‏] اَجْرَمْتُهُ مِنْ زَلَلِيْ وَ خَطَاۤئِيْ
اب میری تمام خطاؤں کو اور لغزشوں کو معاف کردے
وَ اَقِلْنِيْ مِنْ صَرْعَةِ رِدَاۤئِيْ
اور مجھے ہلاکت کی تباہی سے بچا لے۔
فَاِنَّكَ سَيِّدِيْ وَ مَوْلَايَ وَ مُعْتَمَدِيْ وَ رَجَاۤئِي،
تو میرا سردار، میرا مولا، میرا معتمد اور میری امیدوں کا مرکز ہے۔
وَ اَنْتَ غَايَةُ مَطْلُوْبِيْ وَ مُنَايَ فِيْ مُنْقَلَبِيْ وَ مَثْوَايَ
تو میرا آخری مطلوب اور دنیا و آخرت میں میری آخری آرزو ہے۔
اِلٰهِيْ كَيْفَ تَطْرُدُ مِسْكِيْنًا الْتَجَاَ اِلَيْكَ مِنَ الذُّنُوْبِ هَارِبًا
خدایا اس مسکین کو کس طرح ہٹا دے گا جو گناہوں سے بھاگ کر تیری پناہ میں آیا ہے
اَمْ كَيْفَ تُخَيِّبُ مُسْتَرْشِدًا قَصَدَ اِلٰى جَنَابِكَ سَاعِيًا [صَاقِبًا]
اور اس طالب ہدایت کو کیسے ناامید کر دے گا جو دوڑ کر تیری جناب میں آیا ہے
اَمْ كَيْفَ تَرُدُّ ظَمْاٰنَ وَرَدَ اِلٰى حِيَاضِكَ شَارِبًا
اس پیاسے کو کیسے پلٹا دے گا جو تیرے حوض پر سیراب ہونے کے لئے وارد ہوا ہے۔
كَلَا وَ حِيَاضُكَ مُتْرَعَةٌ فِيْ ضَنْكِ الْمُحُوْلِ
یقیناً یہ ناممکن ہے کہ تیرے دریائے رحمت خشک ترین زمینوں پر بھی چھلک رہے ہیں
وَ بَابُكَ مَفْتُوْحٌ لِلطَّلَبِ وَ الْوُغُوْلِ
اور باب کرم ہر طلبگار کے لئے کھلا ہو اہے۔
وَ اَنْتَ غَايَةُ الْمَسْئُوْلِ [السُّؤْلِ‏] وَ نِهَايَةُ الْمَأْمُوْلِ
تو آخری مسئول ہے اور آخری مرکز امید ہے۔
اِلٰهِيْ هٰذِهِ اَزِمَّةُ نَفْسِيْ عَقَلْتُهَا بِعِقَالِ مَشِيَّتِكَ
خدایا یہ میرے نفس کی زمام ہے جس کو میں نے تیری مشیت سے باندھ دیا ہے
وَ هٰذِهِ اَعْبَاۤءُ ذُنُوْبِي دَرَأْتُهَا بِعَفْوِكَ وَ رَحْمَتِكَ،
اور یہ میرے گناہوں کا بوجھ ہے جس کو میں تیرے عفو وکرم سے ہٹانا چاہتا ہوں۔
وَ هٰذِهِ اَهْوَاۤئِيَ الْمُضِلَّةُ وَكَلْتُهَا اِلٰى جَنَابِ لُطْفِكَ وَ رَأْفَتِكَ
یہ میرے گناہ گمراہ کن خواہشات ہیں جن کو میں نے تیرے لطف و کرم کی بارگاہ کے حوالے کر دیا ہے۔
فَاجْعَلِ اللّٰهُمَّ صَبَاحِيْ هٰذَا نَازِلًا عَلَيَّ بِضِيَاۤءِ الْهُدٰى
اب میری صبح کو ایسا بنا دے کہ ہدایت کی روشنی مجھ پر نازل ہو
وَ بِالسَّلَامَةِ [السَّلَامَةِ] فِي الدِّيْنِ وَ الدُّنْيَا
اور میرے دین و دنیا دونوں سلامت رہیں۔
وَ مَسَاۤئِيْ جُنَّةً مِنْ كَيْدِ الْعِدٰى [الْاَعْدَاۤءِ]
میری شام کو دشمنوں کے شر سے
وَ وِقَايَةً مِنْ مُرْدِيَاتِ الْهَوٰى
اور گمراہ کن خواہشات کی ہلاکتوں سے محفوظ بنا دے۔
اِنَّكَ قَادِرٌ عَلٰى مَا تَشَاۤءُ
تو ہر شئے پر قادر ہے۔
تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۤءُ
جس کو چاہے ملک دے سکتا ہے
وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۤءُ
اور جس سے چاہے ملک لے سکتا ہے۔
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاۤءُ
جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے
وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاۤءُ
اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔
بِيَدِكَ الْخَيْرُ
خیر تیرے ہی ہاتھوں میں ہے
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيْرٌ
اور تو ہر شئے پر قادر ہے۔
تُوْلِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ
تو رات کو دن میں
وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ
اوردن کو رات میں داخل کر دیتا ہے۔
وَ تُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ
زندہ کو مردہ سے
وَ تُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ
اور مردہ کو زندہ سے نکال لیتا ہے۔
وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَاۤءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
جو جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرما دیتا ہے۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ
تو پاک و پاکیزہ ہے اور قابل حمد و ستائش ہے۔
مَنْ ذَا يَعْرِفُ قَدْرَكَ فَلَا يَخَافُكَ،
کون ایسا ہے جو تیری قدر کو جانتا ہواور تجھ سے ڈرتا نہ ہو
وَ مَنْ ذَا يَعْلَمُ مَا اَنْتَ فَلَا يَهَابُكَ
اور کون ایسا ہے جو تجھے پہچانتا ہو اور خوفزدہ نہ ہو۔
اَلَّفْتَ بِقُدْرَتِكَ الْفِرَقَ
تو نے اپنی قدرت سے متفرقات کو جوڑ دیا ہے
وَ فَلَقْتَ بِلُطْفِكَ الْفَلَقَ
اور صبح کو روشن کر دیا ہے
وَ اَنَرْتَ بِكَرَمِكَ دَيَاجِيَ الْغَسَقِ
تو نے اپنے کرم سے اندھیری راتوں کو نورانی بنا دیا ہے
وَ اَنْهَرْتَ الْمِيَاهَ مِنَ الصُّمِّ الصَّيَاخِيْدِ عَذْبًا وَ اُجَاجًا
اور سخت ترین چٹانوں سے شیریں اور نمکین چشمے جاری کر دیئے ہیں۔
وَ اَنْزَلْتَ مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاۤءً ثَجَّاجًا
تو نے بادلوں سے پانی برسایا ہے
وَ جَعَلْتَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لِلْبَرِيَّةِ سِرَاجًا وَهَّاجًا
اور آفتاب و ماہتاب کو لوگوں کے لئے دھڑکتا ہوا روشن چراغ بنا دیا ہے
مِنْ غَيْرِ اَنْ تُمَارِسَ فِيْمَا ابْتَدَأْتَ بِهِ لُغُوْبًا وَ لَا عِلَاجًا
اور پھر ان تمام چیزوں کی ایجاد میں تجھے نہ کوئی زحمت ہوئی ہے اور نہ کوئی مشقت برداشت کرنا پڑی ہے۔
فَيَا مَنْ تَوَحَّدَ بِالْعِزِّ وَ الْبَقَاۤءِ
اے وہ خدا جو عزت و بقاء میں اکیلا ہے
وَ قَهَرَ عِبَادَهُ بِالْمَوْتِ وَ الْفَنَاۤءِ
اور جس نے سارے بندوں کو موت اور فنا کے ذریعے دبا دیا ہے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ الْاَتْقِيَاۤءِ
حضرت محمدؐ اور ان کی متقی آل پر رحمت نازل فرما۔
وَ اسْمَعْ نِدَاۤئِيْ، وَ اسْتَجِبْ دُعَاۤئِيْ
میری آواز کو سن لے۔ میری دعا کو قبول کر لے
وَ حَقِّقْ بِفَضْلِكَ اَمَلِيْ وَ رَجَاۤئِيْ
اور میری امیدوں کو پورا فرما دے۔
يَا خَيْرَ مَنْ دُعِيَ لِكَشْفِ الضُّرِّ
اے وہ خدا جس کو رنج و غم کو دور کرنے کے لئے پکارا گیا
وَ الْمَأْمُوْلِ لِكُلِّ [فِيْ كُلِ‏] عُسْرٍ وَ يُسْرٍ
اور جس سے ہر مشکل میں امید کی جاتی ہے۔
بِكَ اَنْزَلْتُ حَاجَتِيْ فَلَا تَرُدَّنِيْ مِنْ سَنِيِّ [بَابِ‏] مَوَاهِبِكَ خَاۤئِبًا
میں نے تیری بارگاہ میں اپنی حاجتوں کو پیش کر دیا ہے۔ اب مجھے اپنے بلند ترین عطایا سے مایوس واپس نہ کرنا
يَا كَرِيْمُ يَا كَرِيْمُ يَا كَرِيْمُ
اے کریم۔ اے کریم۔ اے کریم۔
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
تیری رحمت کا واسطہ کہ تو سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہے۔
وَ صَلَّى اللهُ عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهِ
پروردگار بہترین مخلوقات حضرت محمدؐ
مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ اَجْمَعِيْنَ۔
اور ان کی تمام آل پر صلوات نازل فرمائے۔
اِلٰهِيْ قَلْبِيْ مَحْجُوْبٌ
خدایا میرا دل شرمندہ ہے۔
وَ نَفْسِيْ مَعْيُوْبٌ
میرا نفس معیوب ہے۔
وَ عَقْلِيْ مَغْلُوْبٌ
میری عقل مغلوب ہے۔
وَ هَوَاۤئِيْ غَالِبٌ
میرے خواہشات غالب ہیں
وَ طَاعَتِيْ قَلِيْلٌ
میری اطاعت قلیل
وَ مَعْصِيَتِيْ كَثِيْرٌ
اور میری معصیت کثیر ہے
وَ لِسَانِيْ مُقِرٌّ بِالذُّنُوْبِ
اور میری زبان گناہوں کی اقراری ہے
فَكَيْفَ حِيْلَتِيْ
تو اس کے بعد کیا چارہ کار ہے۔
يَا سَتَّارَ الْعُيُوْبِ
اے عیوب کو چھپانے والے
وَ يَا عَلَّامَ الْغُيُوْبِ
اور غیب کے جاننے والے
وَ يَا كَاشِفَ الْكُرُوْبِ
اور رنج و غم کے دور کرنے والے۔
اغْفِرْ ذُنُوْبِيْ كُلَّهَا
میرے تمام گناہوں کو
بِحُرْمَةِ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
حضرت محمدؐ و آل محمدؐ کی حرمت کے واسطے سے معاف کردے۔
يَا غَفَّارُ يَا غَفَّارُ يَا غَفَّارُ
اے بخشنے والے۔ اے غفّار۔ اے معاف کرنے والے
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ مہربانی کرنے والے۔