EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ العَظِيْمِ الْاَعْظَمِ
خدایا تجھ سے تیرے عظیم تر، باعزّت و جلال
الْاَعَزِّ الْاَجَلِّ الْاَكْرَمِ
و کرامت کے نام کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں
الَّذِيْ اِذَا دُعِيْتَ بِهِ عَلىٰ مَغَالِقِ اَبْوَابِ السَّماۤءِ لِلْفَتْحِ بِالرَّحْمَةِ انْفَتَحَتْ،
جس نام کے ذریعہ اگر آسمان کے بند دروازوں پر دعا کی گئی تو رحمت سے کھل گئے
وَ اِذَا دُعِيْتَ بِهِ عَلىٰ مَضَاۤئِقِ اَبْوَابِ الْاَرْضِ لِلْفَرَجِ انْفَرَجَتْ
اور زمین کے تنگ دروازوں پر دعا کی گئی تو وسعتیں پیدا ہوگئیں۔
وَاِذَا دُعِيْتَ بِهِ عَلىٰ العُسْرِ لِلْيُسْرِ تَيَسَّرَتْ
دشواریوں میں ان کے ذریعہ دعا کی گئی تو آسانیاں پیدا ہوگئیں۔
وَاِذَا دُعِيْتَ بِهِ عَلىٰ الْاَمْوَاتِ لِلنُّشُوْرِ انْتَشَرَتْ
مردوں پر دم کیے گئے تو زندگی پیدا ہوگئی۔
وَاِذَا دُعِيْتَ بِهِ عَلىٰ كَشْفِ الْبَأْساۤءِ وَالضَّرَّاۤءِ انْكَشَفَتْ
مصیبت اور آفت کو دور کرنے کے لیے دعا کی گئی تو رنج و غم دور ہوگئے۔
وَبِجَلَالِ وَجْهِكَ الْكَرِيْمِ
تیری ذات کے جلال کا واسطہ
اَكْرَمِ الْوُجُوْهِ وَاَعَزِّ الْوُجُوْهِ
جو سب سے زیادہ مکرّم اور سب سے زیادہ صاحبِ عزّت ہے۔
الَّذِيْ عَنَتْ لَهُ الْوُجُوْهُ
جس کے سامنے تمام چہرے ذلیل ہیں
وَخَضَعَتْ لَهُ الرِّقَابُ،
اور جس کے سامنے تمام گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔
وَخَشَعَتْ لَهُ الْاَصْوَاتُ
آوازیں اس کے سامنے دب گئی ہیں
وَ وَجِلَتْ لَهُ الْقُلُوْبُ مِنْ مَخَافَتِكَ،
اور دل اس کے خوف سے لرزرہے ہیں
وَبِقُوَّتِكَ الَّتِيْ بِہَا
تیری اس قوّت کا واسطہ
تُمْسِكُ السَّمَاۤءَ اَنْ تَقَعَ عَلىٰ الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِكَ،
جس کے ذریعہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روک دیا ہے
وَتُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا،
اور زمین وآسمان کو زائل نہیں ہونے دیا ہے۔
وَبِمَشِيَّتِكَ الَّتِيْ دَانَ لَهَا الْعَالَمُوْنَ،
تیری اس مشیّت کا واسطہ جس کے سامنے عالمین سر بسجود ہیں۔
وَبِكَلِمَتِكَ الَّتِيْ خَلَقْتَ بِهَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ
تیرے اس کلمہ کا واسطہ جس کے ذریعہ آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے
وَبِحِكْمَتِكَ الَّتِيْ صَنَعْتَ بِهَا الْعَجَاۤئِبَ،
اور اس حکمت کا واسطہ جس سے عجائبات کو ایجاد کیا ہے۔
وَخَلَقْتَ بِهَا الظُّلْمَةَ وَجَعَلْتَهَا لَيْلًا
ظلمت کو بناکر اُسے رات قرار دیا ہے
وَجَعَلْتَ اللَّيْلَ سَكَنًا،
اور رات کو سکون بنادیا ہے۔
وَخَلَقْتَ بِهَا النُّورَ وَجَعَلْتَهٗ نَهَارًا،
نور کو پیدا کرکے اُسے دن بنادیا ہے
وَجَعَلْتَ النَّهَارَ نُشُوْرًا مُبْصِرًا،
اور دن کو پھیل جانے کا ذریعہ بنادیا ہے۔
وَخَلَقْتَ بِهَا الشَّمْسَ وَجَعَلْتَ الشَّمْسَ ضِيَاۤءً،
آفتاب کو پیدا کرکے اُسے ضیاء بنادیا ہے
وَخَلَقْتَ بِهَا الْقَمَرَ وَجَعَلْتَ الْقَمَرَ نُورًا،
اور قمر کو خلق کرکے اُسے نور بنادیا ہے۔
وَخَلَقْتَ بِهَا الْكَوَاكِبَ
کواکب کو ایجاد کرکے
وَجَعَلْتَهَا نُجُوْمًا وَبُرُوْجًا وَمَصَابِيْحَ وَزِيْنَةً وَ رُجُوْمًا،
ستاروں، بروج، چراغوں اور زینتوں کا ذریعہ بنادیا ہے
وَجَعَلْتَ لَهَا مَشَارِقَ وَمَغَارِبَ،
ان کے لیے مشرق و مغرب بنائے ہیں۔
وَجَعَلْتَ لَهَا مَطَالِعَ وَمَجَارِيْ،
ان کے لیے طلوع کرنے کی جگہ آگے بڑھنے کی منزل بنائی ہے۔
وَجَعَلْتَ لَهَا فَلْكًا وَمَسَابِحَ،
ان کے لیے فلک اور گردش کے مقامات طے کیے ہیں
وَقَدَّرْتَهَا فِي السَّمَاۤءِ مَنَازِلَ فَاَحْسَنْتَ تَقْدِيْرَهَا،
آسمانوں میں منزلیں بنائیں تو بہترین بنائیں۔
وَصَوَّرْتَهَا فَاَحْسَنْتَ تَصْوِيْرَهَا
صورتیں بنائیں تو حسین ترین بنائیں
وَاَحْصَيْتَهَا بِاَسْمَاۤئِكَ اِحْصَاۤءً
اور سب کو اپنے شمار میں رکھا
وَ دَبَّرْتَهَا بِحِكْمَتِكَ تَدْبِيْرًا وَاَحْسَنْتَ تَدْبِيْرَهَا،
اور سب کی تدبیر اپنی حکمت سے کی اور بہترین تدبیر کی۔
وَسَخَّرْتَهَا بِسُلْطَانِ اللَّيْلِ وَسُلْطَانِ النَّهَارِ
سب کو مسخّر رکھا آسمان کی رات اور دن کے اقتدار
وَالسَّاعَاتِ وَعَدَدِ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ
اور ساعت کے ذریعہ سالوں کے حساب کے ذریعہ
وَجَعَلْتَ رُؤْيَتَهَا لِجَمِيْعِ النَّاسِ مَرْئً وَاحِدًا،
اور سب کی رویت کو تمام لوگوں کے واسطے ایک ہی رویت قرار دیا۔
وَاَسْاَلُكَ اللّٰهُمَّ بِمَجْدِكَ
خدایا میں تیری اس بزرگی کا واسطہ دیتا ہوں
الَّذِيْ كَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَكَ وَرَسُوْلَكَ مُوْسىٰ بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ اَلسَّلَامُ فِى الْمُقَدَّسِيْنَ
جس کے ذریعہ تو نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے باتیں کیں مقدّسین کی منزل میں
فَوْقَ اِحْسَاسِ الْكَرُوْبِيْنَ
فرشتوں کے احساس سے بالاتر
فَوْقَ غَمَاۤئِمِ النُّوْرِ
مقام پُرنور کے بادلوں کے اوپر
فَوْقَ تَابُوْتِ الشَّهَادَةِ
تابوتِ شہادت کے اوپر
فِيْ عَمُوْدِ النَّارِ وَ فِيْ طُوْرِ سَيْنَاۤءَ
ستون نار میں اور طور سینا میں
وَ فِيْ جَبَلِ حُوْرِيْثَ
اور حبل حوریث پر
فِيْ الْوَادِ الْمُقَدَّسِ
وادی مقدّس میں
فِيْ الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ
بقعۂ مبارک میں
مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ مِنَ الشَّجَرَةِ
طور کے داہنی طرف درخت کے ذریعہ سے
وَ فِيْ اَرْضِ مِصْرَ بِتِسْعِ اٰيَاتٍ بَيِّنَاتٍ
اور پھر مصر کی سرزمین پر نو روشن نشانیوں کے ساتھ
وَ يَوْمَ فَرَقْتَ لِبَنِىْ اِسْرَاۤئِيْلَ الْبَحْرَ
اور جس دن تو نے بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو شگافتہ کیا
وَ فِيْ الْمُنْبَجِسَاتِ الَّتِىْ صَنَعْتَ بِهَا الْعَجَاۤئِبَ فِيْ بَحْرِ سُوْفِ
اور ان اُبلنے والے چشموں میں کہ جن کے ذریعہ تو نے بحرِ سوف میں عجائب ایجاد کیے
وَ عَقَدْتَ مَاۤءَ الْبَحْرِ فِيْ قَلْبِ الْغَمْرِ كَالْحِجَارَةِ
اور دریاؤں کی گہرائیوں میں پانی کو پتھر کی طرح سخت کردیا
وَ جَاوَزْتَ بِبَنِىْ اِسْرَاۤئِيْلَ الْبَحْرَ
اور بنی اسرائیل کو دریا کے اس پار نکال دیا
وَ تَمَّتْ كَلِمَتُكَ الْحُسْنىٰ عَلَيْهِمْ بِمَا صَبَرُوْا
اور اس طرح ان کا وعدہ پورا کیا کہ انھوں نے صبر کیا تھا
وَ اَوْرَثْتَهُمْ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبِهَا الَّتِىْ بَارَكْتَ فِيْهَا لِلْعَالَمِيْنَ
اور تو نے انھیں شرق و غرب عالم کا وارث بنادیا جسے عالمین کے لیے بابرکت قرار دیا ہے
وَ اَغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَ جُنُوْدَهُ وَ مَرَاكِبَهُ فِيْ الْيَمِّ
اور فرعون اور اس کے لشکروں اور سواریوں کو غرق دریا کردیا
وَ بِاسْمِكَ الْعَظِيْمِ الْاَعْظَمِ
اور تیرے اس عظیم اور بزرگ تر،
الْاَعَزِّ الْاَجَلِّ الْاَكْرَمِ
عزیز، جلیل اور کریم نام کا واسطہ
وَ بِمَجْدِكَ الَّذِىْ تَجَلَّيْتَ بِهِ لِمُوْسىٰ كَلِيْمِكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيْ طُوْرِ سَيْنَاۤءِ
اور تیری اس بزرگی کا واسطہ جس کی تجلّی طور سینا پر موسیٰ علیہ السلام کے لیے ظاہر ہوئی
وَ لِاِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَلِيْلِكَ مِنْ قَبْلُ فِىْ مَسْجِدِ الْخَيْفِ
اور اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کے لیے مسجدِ خیف میں ظاہر ہوئی
وَ لِاِسْحَاقَ صَفِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِىْ بِئْرِ شِيَعِ
اور اسحاق علیہ السلام کے لیے چاہِ شیع میں ظاہر ہوئی
وَ لِيَعْقُوْبَ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِىْ بَيْتِ اِيْلٍ
اور تیرے نبی یعقوب علیہ السلام کے لیے بیت ایل میں ظاہر ہوئی
وَ اَوْفَيْتَ لِاِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِمِيْثَاقِكَ
اور جس کے ذریعہ تو نے ابراہیم علیہ السلام کے وعدہ کو پورا کیا
وَ لِاِسْحَاقَ بِحَلْفِكَ
اور اسحاقؑ کے لیے اپنی قسم کو
وَ لِيَعْقُوْبَ بِشَهَادَتِكَ
اور یعقوب کے لیے اپنی شہادت کو
وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ بِوَعْدِكَ
اور مومنین کے لیے اپنے وعدہ کو پورا کردیا
وَ لِلدَّاعِيْنَ بِاَسْمَاۤئِكَ فَاَجَبْتَ
اور دعا کرنے والوں کے لیے جن کی دعاؤں کو تو نے قبول کرلیا
وَ بِمَجْدِكَ الَّذِىْ ظَهَرَ لِمُوْسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلىٰ قُبَّةِ الرُّمَّانِ
اور تیری اس بزرگی کا واسطہ جو موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے لیے قبّۂ رمّان پر ظاہر ہوئی
وَ بِاٰيَاتِكَ الَّتِى وَقَعَتْ عَلىٰ اَرْضِ مِصْرَ
اور ان نشانیوں کا واسطہ جو زمین مصر پر نمایاں ہوئیں
بِمَجْدِ الْعِزَّةٍ وَ الْغَلَبَةِ
عزّت و غلبہ کے ساتھ۔
بِاٰيَاتِ عَزِيْزَةٌ
واضح نشانیوں کے ساتھ
وَ بِسُلْطَانِ الْقُوَّةِ
اور قوّت و سلطنت کے ساتھ
وَ بِعِزَّةِ الْقُدْرَةِ
عزّت و قدرت کے ساتھ
وَ بِشَأْنِ الْكَلِمَةِ التَّامَّةِ
اور کلمۂ تام کی شان کے ساتھ۔
وَ بِكَلِمَاتِكَ الَّتِى تَفَضَّلْتَ بِهَا عَلىٰ اَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
اور تیرے ان کلمات کا واسطہ جن کے ذریعہ تو نے اہلِ آسمان و زمین
وَ اَهْلِ الدُّنْيَا وَ اَهْلِ الْاٰخِرَةِ
اور اہلِ دنیا و آخرت پر فضل و کرم کیا ہے
وَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِىْ مَنَنْتَ بِهَا عَلىٰ جَمِيْعِ خَلْقِكَ
اور اس رحمت کا واسطہ جس کے ذریعہ تمام مخلوقات پر احسان کیا ہے
وَ بِاسْتِطَاعَتِكَ الَّتِىْ اَقَمْتَ بِهَا عَلىٰ الْعَالَمِيْنَ
اور اس قوّت کا واسطہ جس کے ذریعے عالمین پر حجّت کو قائم کیا ہے
وَ بِنُوْرِكَ الَّذِىْ قَدْ خَرَّ مِنْ فَزَعِهِ طُوْرُ سَيْنَاۤءَ
اور اس نور کا واسطہ جس کے خوف سے طور سینا لرز گیا
وَ بِعِلْمِكَ وَ جَلَالِكَ وَ كِبْرِيَاۤئِكَ وَ عِزَّتِكَ
اور تیرے علم و جلال کبریائی و عزّت
وَ جَبَرُوْتِكَ الَّتِىْ لَمْ تَسْتَقِلَّهَا الْاَرْضُ
اور جبروت کا واسطہ جس کا بوجھ زمین نہیں اُٹھا سکتی
وَ انْخَفَضَتْ لَهَا السَّمَاوَاتُ
اور جس کے سامنے آسمان بھی جھک گئے ہیں
وَ انْزَجَرَ لَهَا الْعُمْقُ الْاَكْبَرُ
اور جس کے لیے عمیق گہرائیاں بھی لرز گئی ہیں۔
وَ رَكَدَتْ لَهَا الْبِحَارُ وَ الْاَنْهارُ
بہتے ہوئے دریا اور نہریں،
وَ خَضَعَتْ لَهَا الْجِبَالُ
ٹھہرے ہوئے پہاڑ خاضع ہوگئے ہیں۔
وَ سَكَنَتْ لَهَا الْاَرْضُ بِمَنَاكِبِهَا
زمین اپنے شانوں سمیت خاضع ہوگئی ہے
وَ اسْتَسْلَمَتْ لَهَا الْخَلَاۤئِقُ كُلُّهَا
اور ساری مخلوقات تسلیم ہوگئی ہیں۔
وَ خَفَقَتْ لَهَا الرِّيَاحُ فِى جَرَيَانِهَا
ہوائیں اپنے چلنے میں مضطرب ہوگئیں۔
وَ خَمَدَتْ لَهَا النِّيْرَانُ فِىْ اَوْطَانِهَا
آگ اپنی منزل پر خاموش ہوگئی۔
وَ بِسُلْطَانِكَ الَّذِىْ عُرِفَتْ لَكَ بِهِ الْغَلَبَةُ دَهْرَ الدُّهُوْرِ
اور تیرے اس اقتدار کا واسطہ جس کے ذریعہ تیرے غلبہ کو پہچانا گیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
وَ حُمِدْتَ بِهِ فِى السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرَضِيْنَ
اور تیری حمد کی گئی آسمانوں میں اور زمینوں میں
وَ بِكَلِمَتِكَ كَلِمَةِ الصِّدْقِ الَّتِىْ سَبَقَتْ لِاَبِيْنَا اٰدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ ذُرِّيَّتِهِ بِالرَّحْمَةِ
اور تیرے اس کلمہ کا واسطہ جو کلمۂ صدق ہے جو سب سے پہلے جناب آدم علیہ السلام اور ان کی ذریّت کو عطا کیا گیا تھا
وَ اَسْئَلُكَ بِكَلِمَتِكَ الَّتِىْ غَلَبَتْ كُلَّ شَىْءٍ
اور تیرے اس کلمہ کا واسطہ جو ہر شئے پر غالب ہے تیرے نور ذات کا واسطہ
وَ بِنُوْرِ وَجْهِكَ الَّذِىْ تَجَلَّيْتَ بِهِ لِلْجَبَلِ
جس کی تجلّی پہاڑ پر ظاہر ہوئی
فَجَعَلْتَهُ دَكًّا وَ خَرَّ مُوْسىٰ صَعِقًا
تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰؑ بے ہوش ہوگئے
وَ بِمَجْدِكَ الَّذِىْ ظَهَرَ عَلىٰ طُوْرِ سَيْناۤءِ
اور تیری اس بزرگی کا واسطہ جو طورِ سینا پر ظاہر ہوئی
فَكَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَكَ وَ رَسُوْلَكَ مُوْسَى بْنَ عِمْرَانَ
جب تو نے اپنے بندہ و رسول موسیٰ بن عمران سے باتیں کیں
وَ بِطَلْعَتِكَ فِىْ سَاعِيْرَ
اور تیری اس طلعت کا واسطہ جو مقامِ ساعیر پر نمایاں ہوئی
وَ ظُهُوْرِكَ فِىْ جَبَلِ فَارَانَ بِرَبَوَاتِ الْمُقَدَّسِيْنَ
اور تیرے ظہور کا واسطہ جو فاران کی چوٹیوں پر ہوا بلند ترین مقامات پر
وَ جُنُوْدِ الْمَلَاۤئِكَةِ الصَّافِّيْنَ
اور صف بستہ ملائکہ کے لشکروں کے ساتھ
وَ خُشُوْعِ الْمَلَاۤئِكَةِ الْمُسَبِّحِيْنَ
اور تسبیح گذار فرشتوں کے خشوع کے ساتھ
وَ بِبَرَكَاتِكَ الَّتِىْ بَارَكْتَ فِيْهَا عَلىٰ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
اور تیری ان برکتوں کا واسطہ جن کے ذریعہ تو نے اپنے خلیل ابراہیمؑ کو
فِىْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
امّت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ میں برکت عطا فرمائی ہے
وَ بَارَكْتَ لِاِسْحَاقَ صَفِيِّكَ
اپنے خاص بندہ اسحاق کو
فِىْ اُمَّةِ عِيْسىٰ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
امّت عیسیٰ میں برکت دی ہے (علیہما السّلام)
وَ بَارَكْتَ لِيَعْقُوْبَ اِسْرَاۤئِيْلِكَ
اور یعقوب کو
فِىْ اُمَّةِ مُوْسىٰ عَلَيْهِمَاالسَّلَامُ
امّتِ موسیٰ میں برکت دی ہے(علیہما السّلام)
وَ بَارَكْتَ لِحَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
اور اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ کو
فِىْ عِتْرَتِهِ وَ ذُرِّيَّتِهِ وَ اُمَّتِهِ
ان کی آل اور ذریّت اور امّت میں برکت دی ہے۔
اَللّٰهُمَّ وَ كَمَا غِبْنَا عَنْ ذٰلِكَ وَ لَمْ نَشْهَدْهُ وَ اٰمَنَّا بِهِ وَ لَمْ نَرَهُ صِدْقًا وَ عَدْلًا
خدایا ہم جس طرح ان تجلّیات سے غائب رہے اور حاضر نہ رہ سکے مگر ان پر ایمان لے آئے اور ان کو بغیر دیکھے صدق و عدالت کے ساتھ مان لیا
اَنْ تُصَلِّىَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
تو اب تو محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اَنْ تُبَارِكَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
اور انھیں برکت عنایت فرما،
وَ تَرَحَّمَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
ان پر رحمتوں کا نزول فرما
كَاَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ وَ بَارَكْتَ وَ تَرَحَّمْتَ عَلىٰ اِبْرَاهِيْمَ وَ اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ
جس طرح بہترین صلوات اور رحمت ابراہیمؑ اور آل ابراہیمؑ کو عطا فرمائی ہے کہ
اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ
تو قابلِ حمد بھی ہے اور صاحبِ بزرگی بھی ہے۔
فَعَّالٌ لِمَا تُرِيْدُ
جو چاہے وہ کرسکتا ہے۔
وَ اَنْتَ عَلىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ۔
ہر شئے پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔
اَللّٰـهُمَّ بِحَقِّ هٰذَا الدُّعَآءِ،
خدایا اس دعا کے حق کا واسطہ
وَبِحَقِّ هٰذِهِ الْاَسْمَآءِ
اور ان اسماء کے حق کا واسطہ
الَّتِىْ لَا يَعْلَمُ تَفْسِيْرَها
جن کی تفسیر کو
وَلَا يَعْلَمُ بَاطِنَهَا غَيْرُكَ
اور جن کے باطن کو تیرے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَافْعَلْ بِىْ مَا اَنْتَ اَهْلُهُ،
اور ہمارے ساتھ وہ برتاؤ کرنا جس کا تو اہل ہے۔
وَلَا تَفْعَلْ بِىْ مَا اَنَا اَهْلُهُ،
وہ برتاؤ نہ کرنا جس کے ہم اہل ہیں۔
وَاغْفِرْ لِىْ مِنْ ذُنُوْبِىْ مَا تَقَدَّمَ مِنْهَا وَمَا تَأَخَّرَ،
ہمارے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو معاف فرمادے۔
وَوَسِّعْ عَلَىَّ مِنْ حَلَالِ رِزْقِكَ،
رزقِ حلال میں وسعت عطا فرما
وَاكْفِنِىْ مَؤُنَةَ اِنْسَانِ سَوْءٍ،
اور ہمیں بدترین انسان،
وَجَارِ سَوْءٍ،
بدترین ہمسایہ ،
وَقَرِيْنِ سَوْءٍ،
بدترین ساتھی
وَسُلْطَانِ سَوْءٍ،
اور بدترین سلطان کے شر سے محفوظ رکھنا
اِنَّكَ عَلٰى مَا تَشَآءُ قَدِيْرٌ
تو ہر شئے پر قادر ہے۔
وَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ
ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
آمِيْنَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ.
آمین یا رب العالمین۔
يَا اَللهُ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ
اے اللہ اے مہربان اے کرم کرنے والے
يَا بَدِيْعَ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
اے آسمان و زمین کے خالق
يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحبِ جلال و اکرام
يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ،
اے ارحم الرٰحمین
اَللّٰـهُمَّ بِحَقِّ هٰذَا الدُّعَآءِ،
خدایا اس دعا کے حق کا واسطہ
وَبِحَقِّ هٰذِهِ الْاَسْمَآءِ
اور ان اسماء کے حق کا واسطہ
الَّتِىْ لَا يَعْلَمُ تَفْسِيْرَها
جن کی تفسیر کو
وَلَا يَعْلَمُ بَاطِنَهَا غَيْرُكَ
اور جن کے باطن کو تیرے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَافْعَلْ بِىْ مَا اَنْتَ اَهْلُهُ،
اور ہمارے ساتھ وہ برتاؤ کرنا جس کا تو اہل ہے۔
وَلَا تَفْعَلْ بِىْ مَا اَنَا اَهْلُهُ،
وہ برتاؤ نہ کرنا جس کے ہم اہل ہیں۔
وَاغْفِرْ لِىْ مِنْ ذُنُوْبِىْ مَا تَقَدَّمَ مِنْهَا وَمَا تَأَخَّرَ،
ہمارے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو معاف فرمادے۔
وَوَسِّعْ عَلَىَّ مِنْ حَلَالِ رِزْقِكَ،
رزقِ حلال میں وسعت عطا فرما
وَاكْفِنِىْ مَؤُنَةَ اِنْسَانِ سَوْءٍ،
اور ہمیں بدترین انسان،
وَجَارِ سَوْءٍ،
بدترین ہمسایہ ،
وَقَرِيْنِ سَوْءٍ،
بدترین ساتھی
وَسُلْطَانِ سَوْءٍ،
اور بدترین سلطان کے شر سے محفوظ رکھنا
اِنَّكَ عَلٰى مَا تَشَآءُ قَدِيْرٌ
تو ہر شئے پر قادر ہے۔
وَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ
ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
آمِيْنَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ.
آمین یا رب العالمین۔
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هٰذَا الدُّعَاۤءِ
خدایا اس دعا کے حق کا واسطہ
وَ بِحَقِّ هٰذِهِ الْاَسْمَاۤءِ
اور ان اسماء کے حق کا واسطہ
الَّتِىْ لَا يَعْلَمُ تَفْسِيْرَهَا وَ لَا تَأْوِيْلَهَا
جن کی تفسیر و تاویل
وَ لَا بَاطِنَهَا وَ لَا ظَاهِرَهَا غَيْرُكَ
اور جن کے باطن و ظاہر کو تیرے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ
اَنْ تُصَلِّىَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اَنْ تَرْزُقَنِىْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ
اور مجھے خیرِ دنیا و آخرت عطا فرما دے۔
وَ افْعَلْ بِىْ مَا اَنْتَ اَهْلُهُ
میرے ساتھ وہ برتاؤ کرنا جس کا تو اہل ہے
وَ لَا تَفْعَلْ بِىْ مَا اَنَا اَهْلُهُ
اور وہ برتاؤ نہ کرنا جس کا میں اہل ہوں
وَ انْتَقِمْ لِىْ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانِ (اَعْدَاۤءِ اٰلِ مُحَمَّدٍ)
اور میرا انتقام فلاں شخص سے لے لینا۔
وَ اغْفِرْ لِىْ مِنْ ذُنُوْبِى مَا تَقَدَّمَ مِنْهَا وَ مَا تَاَخَّرَ
اور میرے تمام سابق و لاحق گناہوں کو معاف کردینا
وَ لِوَالِدَىَّ وَ لِجَمِيْعِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ
اور میرے والدین اور تمام مومنین و مومنات کے گناہوں کو بخش دینا۔
وَ وَسِّعْ عَلَىَّ مِنْ حَلَالِ رِزْقِكَ
میرے لیے رزقِ حلال میں وسعت عطا فرما
وَ اكْفِنِىْ مَؤُنَةَ اِنْسَانِ سَوْءٍ
اور مجھے بدترین انسان،
وَ جَارِ سَوْءٍ
بدترین ہمسایہ،
وَ سُلْطَانِ سَوْءٍ
بدترین سلطان،
وَ قَرِيْنِ سَوْءٍ
بدترین ساتھی،
وَ يَوْمِ سَوْءٍ
بدترین دن
وَ سَاعَةِ سَوْءٍ
اور بدترین ساعت کے شر سے محفوظ رکھنا
وَ انْتَقِمْ لِىْ مِمَّنْ يَكِيْدُنِىْ
جو میرے ساتھ مکر کرے
وَ مِمَّنْ يَبْغِىْ عَلَىَّ
یا مجھ پر ظلم کرے
وَ يُرِيْدُبِىْ وَ بِاَهْلِىْ
یا میرے ساتھ میرے اہل
وَ اَوْلَادِىْ وَ اِخْوَانِىْ
اور اولاد کے ساتھ
وَ جِيْرَانِىْ وَ قَرَابَاتِى
میرے بھائیوں اور ہمسایہ کے ساتھ
مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ ظُلْمًا
اور میرے قرابتدار مومنین و مومنات کے ساتھ برائی کرنا چاہے
اِنَّكَ عَلىٰ مَا تَشَاۤءُ قَدِيْرٌ
ان سے تو انتقام لینا کہ تو ہر شئے پر قادر ہے
وَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ
اور ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
اٰمِيْنَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ۔
آمین رب العالمین۔
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هٰذَا الدُّعَاۤءِ
خدایا اس دعا کے حق کا واسطہ
تَفَضَّلْ عَلىٰ فُقَرَاۤءِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ بِالْغِنىٰ وَ الثَّرْوَةِ
فقراء مومنین و مومنات کو مالداری و ثروت عطا فرما۔
وَ عَلىٰ مَرْضَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ بِالشِّفَاۤءِ وَ الصِّحَةِ
جو مومنین و مومنات بیمار ہیں انھیں شفا و صحت عطا فرما۔
وَ عَلىٰ اَحْيَاۤءِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ بِاللُّطْفِ وَ الْكَرَامَةِ
جو زندہ ہیں ان کے شامل حال لطف و کرم کردے
وَ عَلىٰ اَمْوَاتِ الْمُؤمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ بِالْمَغْفِرَةِ وَ الرَّحْمَةِ
اور جو مرگئے ہیں ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحمت نازل فرما۔
وَ عَلىٰ مُسَافِرِى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ بِالرَّدِّ اِلىٰ اَوْطَانِهِمْ سَالِمِيْنَ غَانِمِيْنَ
جو مومنین و مومنات مسافر ہیں انھیں ان کے وطن تک صحت و سلامتی اور کامیابی کے ساتھ پہنچا دے۔
بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
اپنی رحمت کے وسیلہ سے اے ارحم الراحمین
وَ صَلَّى اللهُ عَلىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ وَ عِتْرَتِهِ الطَّاهِرِيْنَ
اللہ ہمارے آقا حضرت محمد خاتم النبیینؐ ان کی عترت طاہرینؑ پر رحمت نازل کر
وَ سَلَّمَ تَسْلِيْمًا كَثِيْرًا۔
اور بے شمار سلام نازل کر۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْئَلُكَ بِحُرْمَةِ هٰذَا الدُّعَاۤءِ
خدایا میں تجھ سے اس دعا کی حرمت
وَ بِمَا فَاتَ مِنْهُ مِنَ الْاَسْمَاۤءِ
اور ان اسماء کی حرمت کے وسیلہ جن کا اس میں ذکر نہیں ہے
وَ بِمَا يَشْتَمِلُ عَلَيْهِ مِنَ التَّفْسِيْرِ وَ التَّدْبِيْرِ
اور ان مطالب کے واسطہ سے جن پر یہ دعا مشتمل ہے
الَّذِىْ لَا يُحِيْطُ بِهِ اِلَّا اَنْتَ ۔۔۔۔
اور جن کو تیرے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ سوال کرتا ہوں کہ میرے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا۔