بلاء، فقر و فاقہ، تنگی سینہ سے حفاظت کی دعا
کفعمیؒ نے مصباح میں یہ دعا نقل کی ہے اور فرمایا ہے کہ سید بن طاؤسؒ نے یہ دعا سلطان ظالم، بلاء، فقر و فاقہ، تنگی سینہ سے حفاظت کے لئے ذکر کی ہے۔ اور یہ صحیفۂ سجادیہ کی دعا ہے لہٰذا جب بھی کسی ضرر کا اندیشہ ہو اس دعا کی تلاوت کرنی چاہئے۔دعا یہ ہے۔)
اے وہ پروردگار جس کے ذریعے دشواریوں میں گرہیں کھل جاتی ہیں۔ اے وہ خدا جس سے شدائد کی تیزی کند ہو جاتی ہے۔ اے وہ خدا جس سے کشایش حال کی طرف جانے کی التماس کی جاتی ہے۔ تیری قدرت کے سامنے سختیاں نرم ہو گئی ہیں اور تیرے لطف سے اسباب فراہم ہو گئے ہیں۔ تیری قدرت سے قضا جاری ہوتی ہے اور تیرے ہی ارادہ سے تمام چیزیں چلتی ہیں۔ سب تیری مشیت کے سامنے بغیر کہے اطاعت گذار ہیں اور تیرے ارادہ کے سامنے بغیر روکے رکے ہیں۔ تو ہر مہم میں قابل دعا ہے اور ہر مشکل میں پناہ گاہ ہے۔ کوئی مشکل تیرے بغیر دفع نہیں ہو سکتی ہے اور کوئی مصیبت تیرے بغیر دور نہیں ہو سکتی ہے۔ اس وقت مجھ پر وہ مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے تھکا دیا ہے اور جس کے بوجھ نے مجھے خستہ حال بنا دیا ہے۔ تو نے ہی اپنی قدرت سے اس مصیبت کو نازل کیا ہے اور اپنی سلطنت سے اس کا رخ میری طرف موڑ دیا ہے۔ اب اسےکوئی دوسرا پلٹانے والا یا واپس کرنے والا نہیں ہے کہ جس دروازہ کو تو بند کر دے اسے کوئی کھول نہیں سکتا ہے اور جسے تو کھول دے اسے کوئی بند نہیں کر سکتا ہے۔ جسے تو مشکل بنا دے اسے کوئی آسان نہیں کر سکتا ہے اور جس کو تو چھوڑ دے اس کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما او رہمارے لئے اپنے کرم سے آسانی کے دروازے کھول دے اور ہم و غم کی طاقت کو توڑ دے۔ ہمیں اپنی بہترین نگاہ کرم عنایت فرما۔ اور جو ہم نے مانگا ہے اس میں اپنی مہربانی کی حلاوت کا ذائقہ چکھا دے۔ ہمیں اپنی طرف سے رحمت اور بہترین، خوشگوار کشایش حال عطا فرما اور ہمارے لئے مصیبت سے فی الفور نکلنے کا سامان فراہم کردے اور ہمیں کسی ایسے کام میںمشغول نہ ہونے دینا کہ ہم تیرے فرائض کی پابندی نہ کر سکے اور تیری سنت پر عمل نہ کر سکے۔ اس لئے کہ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے اس نے دل تنگ بنا دیا ہے اور جو کچھ حادثہ سامنے ہے اس کے تحمل نے ہمارے دل کو ہم و غم سے بھر دیا ہے۔ جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے ٹالنے پر قادر اور اس کو دفع کرنے کا صاحب اختیار تو ہی ہے۔ لہٰذا اس بلا کو ٹال دے چاہے میں اس کا حقدار نہ ہوں اے صا حب عرش اعظم۔ اے صاحب احسان کریم۔ تو ہر شے پر قادر ہے۔ اے ارحم الراحمین۔ آمین رب العالمین۔
يَا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَكَارِهِ
اے وہ پروردگار جس کے ذریعے دشواریوں میں گرہیں کُھل جاتی ہیں۔
وَ يَا مَنْ يُفْثَاُ بِهِ حَدُّ الشَّدَاۤئِدِ
اے وہ خدا جس سے شدائد کی تیزی کُند ہو جاتی ہے۔
وَ يَا مَنْ يُلْتَمَسُ مِنْهُ المَخْرَجُ اِلٰى رَوْحِ الْفَرَجِ
اے وہ خدا جس سے کشایشِ حال کی طرف جانے کی التماس کی جاتی ہے۔
ذَلَّتْ لِقُدْرَتِكَ الصِّعَابُ
تیری قدرت کے سامنے سختیاں نرم ہو گئی ہیں
وَ تَسَبَّبَتْ بِلُطْفِكَ الْاَسْبَابُ
اور تیرے لطف سے اسباب فراہم ہو گئے ہیں۔
وَ جَرٰى بِقُدْرَتِكَ الْقَضَاۤءُ
تیری قدرت سے قضا جاری ہوتی ہے
وَ مَضَتْ عَلٰۤى اِرَادَتِكَ الْاَشْيَاۤءُ
اور تیرے ہی ارادہ سے تمام چیزیں چلتی ہیں۔
فَهِيَ بِمَشِيَّتِكَ دُوْنَ قَوْلِكَ مُؤْتَمِرَةٌ
سب تیری مشیّت کے سامنے بغیر کہے اطاعت گذار ہیں
وَ بِاِرَادَتِكَ دُوْنَ نَهْيِكَ مُنْزَجِرَةٌ
اور تیرے ارادہ کے سامنے بغیر روکے رُکے ہیں۔
اَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ
تو ہر مہم میں قابل دعا ہے
وَ اَنْتَ الْمَفْزَعُ فِيْ الْمُلِمَّاتِ
اور ہر مشکل میں پناہ گاہ ہے۔
لَا يَنْدَفِعُ مِنْهَاۤ اِلَّا مَا دَفَعْتَ
کوئی مشکل تیرے بغیر دفع نہیں ہوسکتی ہے
وَ لَا يَنْكَشِفُ مِنْهَاۤ اِلَّا مَا كَشَفْتَ
اور کوئی مصیبت تیرے بغیر دور نہیں ہو سکتی ہے۔
وَ قَدْ نَزَلَ بِيْ يَا رَبِّ مَا قَدْ تَكَاَّدَنِيْ ثِقْلُهُ
اس وقت مجھ پر وہ مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے تھکا دیا ہے
وَ اَلَمَّ بِيْ مَا قَدْ بَهَظَنِيْ حَمْلُهُ
اور جس کے بوجھ نے مجھے خستہ حال بنا دیا ہے۔
وَ بِقُدْرَتِكَ اَوْرَدْتَهُ عَلَيَّ
تو نے ہی اپنی قدرت سے اس مصیبت کو نازل کیا ہے
وَ بِسُلْطَانِكَ وَجَّهْتَهُ اِلَيَّ
اور اپنی سلطنت سے اس کا رُخ میری طرف موڑ دیا ہے۔
فَلَا مُصْدِرَ لِمَاۤ اَوْرَدْتَ
اب اِسے کوئی دوسرا پلٹانے والا
وَ لَا صَارِفَ لِمَا وَجَّهْتَ
یا واپس کرنے والا نہیں ہے کہ
وَ لَا فَاتِحَ لِمَاۤ اَغْلَقْتَ
جس دروازہ کو تو بند کر دے اُسے کوئی کھول نہیں سکتا ہے
وَ لَا مُغْلِقَ لِمَا فَتَحْتَ
اور جسے تو کھول دے اُسے کوئی بند نہیں کرسکتا ہے۔
وَ لَا مُيَسِّرَ لِمَا عَسَّرْتَ
جسے تو مشکل بنا دے اُسے کوئی آسان نہیں کر سکتا ہے
وَ لَا نَاصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ
اور جس کو تو چھوڑ دے اس کا کوئی مددگار نہیں ہے۔
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ افْتَحْ لِيْ يَا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْلِكَ،
اور ہمارے لیے اپنے کرم سے آسانی کے دروازے کھول دے
وَ اكْسِرْ عَنِّيْ سُلْطَانَ الْهَمِّ بِحَوْلِكَ
اور ہمّ و غم کی طاقت کو توڑ دے۔
وَ اَنِلْنِيْ حُسْنَ النَّظَرِ فِيْمَا شَكَوْتُ
ہمیں اپنی بہترین نگاہِ کرم عنایت فرما۔
وَ اَذِقْنِيْ حَلَاوَةَ الصُّنْعِ فِيْمَا سَاَلْتُ
اور جو ہم نے مانگا ہے اس میں اپنی مہربانی کی حلاوت کا ذائقہ چکھا دے۔
وَ هَبْ لِيْ مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَ فَرَجًا هَنِيْۤئًا
ہمیں اپنی طرف سے رحمت اور بہترین، خوشگوار کشایشِ حال عطا فرما
وَ اجْعَلْ لِيْ مِنْ عِنْدِكَ مَخْرَجًا وَحِيًّا
اور ہمارے لیے مصیبت سے فی الفور نکلنے کا سامان فراہم کردے
وَ لَا تَشْغَلْنِيْ بِالْاِهْتِمَامِ عَنْ تَعَاهُدِ فُرُوْضِكَ
اور ہمیں کسی ایسے کام میں مشغول نہ ہونے دینا کہ ہم تیرے فرائض کی پابندی نہ کرسکے
وَ اسْتِعْمَالِ سُنَنِكَ [سُنَّتِكَ]
اور تیری سنّت پر عمل نہ کر سکے۔
فَقَدْ ضِقْتُ لِمَا نَزَلَ بِيْ يَا رَبِّ ذَرْعًا
اس لیے کہ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے اس نے دل تنگ بنا دیا ہے
وَ امْتَلَأْتُ بِحَمْلِ مَا حَدَثَ عَلَيَّ هَمًّا
اور جو کچھ حادثہ سامنے ہے اس کے تحمل نے ہمارے دل کو ہمّ و غم سے بھر دیا ہے۔
وَ اَنْتَ الْقَادِرُ عَلٰى كَشْفِ مَا مُنِيْتُ بِهِ
جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے ٹالنے پر قادر
وَ دَفْعِ مَا وَقَعْتُ فِيْهِ
اور اس کو دفع کرنے کا صاحبِ اختیار تو ہی ہے۔
فَافْعَلْ بِيْ ذٰلِكَ
لہٰذا اس بلا کو ٹال دے
وَ اِنْ لَمْ اَسْتَوْجِبْهُ مِنْكَ
چاہے میں اس کا حق دار نہ ہوں
يَا ذَا الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ
اے صاحبِ عرش اعظم۔
وَ ذَا الْمَنِّ الْكَرِيْمِ
اے صاحبِ احسان کریم۔
فَاَنْتَ قَادِرٌ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
تو ہر شئے پر قادر ہے۔ اے ارحم الراحمین۔
اٰمِيْنَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ۔
آمین رب العالمین۔