(زیارت شب و روز مبعث: ۲۷؍ رجب کی رات اور دن کی تین زیارتیں ہیں:)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ اَشْهَدَنَا مَشْهَدَ اَوْلِيَاۤئِهِ
جو ماہ رجب کے اعمال میں گذر چکی ہے اور وہ زیارت وہ ہے جو ماہ رجب میں جملہ مشاہد مشرفہ میں پڑھی جاتی ہےلیکن صاحب مزار قدیم اور شیخ محمد بن مشہدی نے اس زیارت مخصوصہ مبعث قرار دیا ہے اور جب اس زیار ت کو پڑھے تو فرمایا ہے کہ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت بجا لائے اور جو چاہے دعا کرے۔)
ہے۔ کو علامہ مجلسیؒ نے تحفہ کی ساتویں زیارت قرار دیا ہے اور صاحبِ مزار ِ قدیم نے کہا ہے کہ وہ مخصوص ہے ۲۷؍ رجب کی شب جیسا کہ ہم نے ہدیۃ الزائرین میں ذکر کیا ہے۔</font>
(۳)وہ زیارت جسے شیخ مفیدؒ و سیدؒ اور شہیدؒ نے نقل کیا ہے کہ جب شب مبعث یا روز مبعث امیرالمومنینؑ کی زیارت کرنا چاہے تو قبر کے سامنے درِ روضۂ شریف پر کھڑا ہو کر یوں کہے۔)
اَلسَّلَامُ عَلٰى اَبِیْ الْاَئِمَّۃِ وَ مَعْدَنِ النُّبُوَّۃِ
<font color="#480607">میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہےاور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندہ اور رسولؐ ہیں اور علیؑ بن ابی طالبؑ اللہ کے بندہ اور اس کے رسولؐ کے بھائی ہیں اور ان کی اولاد میں ائمہ طاہرینؑ اللہ کی حجت ہیں اس کی مخلوق پر۔ </font>
(اندر داخل ہو کر قبر امام کے پاس کھڑے ہو کر قبر کی طرف رخ کر کے اور پشت بقبلہ ہو کر سو مرتبہ
اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
<font color="#480607">سلام ہوآپ پر اے اللہ کے خلیفہ آدمؑ کے وارث۔ سلام ہو آپ پر اے نوحؑ صفی اللہ کے وارث۔سلام ہو آپ پر اے خلیل خدا ابراہیمؑ کے وارث۔ سلام ہو آپ پر اے کلیم خدا موسیٰؑ کے وارث۔ سلام ہو آپ پر اے روح ِ خدا عیسیٰؑ کے وارث۔ سلام ہو آپ پراے اللہ کے رسولوں کے سردار محمدؐ کے وارث۔سلام ہو آپ پر اے امیرالمومنینؑ۔ سلام ہو آپ پر اے متقیوں کے امام۔سلام ہو آپ پر اے وصیوں کے سردار۔ سلام ہو آپ پر اے عالمین کے پروردگار۔ سلام ہو آپ پر اے اولین و آخرین کے علم کے وارث۔ سلام ہو آپ پراے خبر عظیم۔ سلام ہو آپ پر اے صراطِ مستقیم۔ سلام ہو آپ پر اے پاکیزہ سیرت پسندیدہ خدا۔ سلام ہو آپ پر اے روشن چاند۔ سلام ہو آپ پر اے صدیق اکبر۔ سلام ہو آپ اے فاروق اعظم۔ سلام ہو آپ پراے روشن چراغ سلام ہو آپ پر اے ہدایت کے امام۔ سلام ہو آپ پر اے تقویٰ کی نشانی۔ سلام ہو آپ پر اے اللہ کی بزرگ حجت۔ سلام ہو آپ پر اے اللہ کے خاص و خاص بندے اور اللہ کے امین و برگزیدہ اور اللہ کے دروازہ اور حجت اور حکم خدا اور اس کے راز کا معدن اور علمِ خدا کے مخزن اور اللہ کے سفیر اس کی مخلوق کی طرف۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا۔ اور رسول کا اتباع کیا اور قرآن کی تلاوت کی جو حق تلاوت تھا اور اللہ کی طرف کے پیغام کو پہنچایا اور عہد الٰہی کو پورا کیا اور آپ کے ذریعہ کلمات الٰہی مکمل ہوئے اور آپ نے نفس کو صبرو تحمل کے ساتھ دین خداکے لئے جہاد کرتے ہوئے پیش کر دیا رسولؐ اللہ کو بچانے کے لئے اللہ سے جزا طلب کرتے ہوئے جس کا وعدہ خدا نے کیاہے اس کی طرف راغب ہوتے ہوئے اور جس دین پرتھے اسی پر زندگی گذاری شاہد اور مشہود ہونے کی حالت میں۔ اب خدا آپ کوجزا دے اپنے رسول کی طرف سے اور اسلام کی طرف سے اور اہلِ اسلام کی طرف سے صدیقین کی بہترین جزا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اسلام کے لحاظ سے سب سے مخلص اور یقین میں سب سے مضبوط اور اور اللہ کا سب سے زیادہ خوف رکھنے والے اور سب سے افضل اور شرافت میں سب سے عظیم اور درجہ میں سب سے بلند تر اور منزلت میں سب سے زیادہ شرف والے۔ او ر سب سے زیادہ عزّت والے تھے۔ آپ اس وقت قوی رہے جب سب کمزور تھے اور آپ رسولؐ اللہ کے طریقہ سے وابستہ رہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ رسولؐ کے خلیفہ برحق ہیں جس میں کوئی نزاع نہیں ہو سکتی۔ منافقین کی ناپسندیدگی، کافروں کے غیظ اور فاسقوں کے کینہ کے باوجود اور آپ نے امر دین کے ساتھ قیام کیا جب لوگ سست پڑ گئے اور اس وقت بولے جب لوگ گونگے ہو گئے اور نور خدا کے ساتھ چلتے رہے جب لوگ رک گئے جس نے آپ کا اتباع کیا اس نے ہدایت پائی۔ آپ کلام میں سب سے پہلے اور معرکوں میں سب سے سخت گفتگو میں سب سے صحیح اوررائے میں سب سے مضبوط اور دل کے سب سے بہادر، یقین میں سب سے زیادہ اور عمل میں سب سے اچھے اور امور کے سب سے زیادہ اور عمل میں سب سے اچھے اورامور کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ آپ مومنوں کے لئے رحم دل باپ تھے جب وہ آپ کے عیال میں شامل ہو گئے تو آپ نے ان بوجھوں کو اٹھالیا جس کو اٹھانے کی ان میں توانائی نہ تھی اور آپ نے اس کو محفوظ کیا جس کو انھوں نے ضائع کیا اور آپ نے اس کی رعایت کی جس کو انھوں نے چھوڑ دیا۔ آپ ڈٹے رہے جب لوگ ڈرتے رہے اور آپ نے بلند ہمت دکھائی جب لوگ جزع و فزع کر رہے تھے اور آپ نے صبر کیا جب لوگوں نے فریاد کی۔ آپ کافروں کے لئے سخت عذاب اور دردناک سزا تھے اور مومنوں کے لئے بارش، ہریالی اور علم تھے۔ آپ کی حجت کند نہیں ہوئی اور آپ کا دل کج نہیں ہوا۔ آپ کی بصیرت کمزور نہیں ہوئی۔ آپ کا نفس ڈرا نہیں۔ آپ اس پہاڑ کی طرح تھے جس کو تیز ہوا ہلا نہیں سکتی اور آندھیاں اس کو زائل نہیں کیر سکتیں۔ آپ ویسے قوی بدن تھے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ نے فرمایا تھا اور اپنے نفس میں متواضع تھےاور خدا کے نزدیک عظیم تھے۔ زمین میں کبیر تھے اور آسمان میں جلیل تھے۔ آپ کے بارے میں کسی کے لئے نکتہ چینی کا مقام نہیں ہے۔ اور نہ کسی کہنے والے کے لئے اشارہ ہے اور نہ کسی مخلوق کو غلط طمع ہے اور نہ کسی کےلئے کوئی بیجا امید ہے۔ آپ کےنزدیک ہر ضعیف و کمزور و ذلیل، قوی اور عزیز رہتا ہے یہاں تک کہ آپ اس کے لئے اس کا حق لے لیں اور قوی عزت اور آپ کے نزدیک سب برابر ہیں۔ آپ کی شان حق، صدق اور نرمی ہے اور آپ کا قول حکم اور حتمی ہے اور آپ کی رائے علم اور عزم ہے۔ آپ کے ذریعہ دین استوار ہوا۔ آپ کے ذریعہ امر سخت آسان ہوا۔ آپ کے ذریعہ آگ بجھائی گئی اور آپ کے ذریعہ ایمان قوی ہوا۔ آپ کے ذریعہ اسلام مضبوط ہوا۔ اور آپ کی مصیبت نے مخلوق کو بے جان کر دیا۔ پس ہم اللہ کے لئے ہیں اور اس ی کی طرف لوٹیں گے۔ اللہ کی لعنت ہواس پر جس نے آپ کو قتل کیا اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے آپ کی مخالفت کی اور اللہ کی لعنت ہو آپ پر افترا کرنے والے پر اور اللہ کی لعنت ہو آپ پر ظلم کرنے والے، آپ کے حق کے غصب کرنے والے پر۔ اللہ کی لعنت ہو اس امت پر جس نے آپ کی مخالفت کی اور انکار کیاآپ کی ولایت کا اور آپ پر حملہ کیا اور آپ کو قتل کیا اور آپ سے انحراف کیا اور آپ کو چھوڑ دیا۔ ساری حمد اللہ کے لئے ہے جس نے جہنم کو ان کا ٹھکانہ بنایا اور بدترین ورود کی جگہ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں آپ کے لئے اے ولی خدا اور ولی رسولؐ خدا تبلیغ دین کرنے اور امانت دین کے ادا کرنے کی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے دوست اور اور اس کا دروازہ ہیں اور آپ اللہ کے بندہ اور رسول اللہ کے بھائی ہیں۔ میں آپ کے پاس آیا ہوں زیارت کے لئے آپ کی عظیم حالت اور منزلت کی وجہ سے خدا اور رسول خداکے نزدیک۔ اللہ سے قربت چاہتے ہوئے آپ کی زیارت کے ذریعہ آپ کی شفاعت کی رغبت لئے ہوئے۔ میں آپ کی شفاعت کے ذریعہ اپنی گلو خلاصی چاہتا ہوں اور آپ کے ذریعہ جہنم سے پناہ چاہتے ہوئے، اپنے گناہوں سے بھاگتے ہوئے جس نے میری پیٹھ کو سنگین کر دیا ہے آپ کی طرف فریاد کرتے ہوئے اپنے رب کی رحمت کی امید لگائے آپ کے پاس آیا ہوں کہ اے میرے مولا آپ کے ذریعہ شفاعت طلب کروں اللہ کی طرف اور آپ کے ذریعہ اس سے تقرب حاصل کروں تا کہ وہ آپ کے واسطہ سے میری حاجت کو پورا کر دے تو اب اے امیرالمومنینؑ میرے لئے اللہ کی طرف شفیع ہو جائیں۔ میں اللہ کا بندہ آپ کا دوست اور زائر ہوں اور اللہ کے نزدیک آپ کے لئے مشہور مقام اور عظیم مرتبہ اور بڑی شان اور مقبول شفاعت ہے۔ خدایا درود نازل کر محمدؐ و آل محمدؐ پر اور درود نازل کر اپنے بندہ اپنے کامل امین اور اپنے رشتہ محکم اور بلند ہاتھ اور کلمہ حسنیٰ اور تمام مخلوقات کے لئے اپنی حجت، صدیق اکبر پر اور وصیوں کے سردار پر ولیوں کے رکن اور برگزیدہ لوگوں کے ستون، مومنوں کے امیر اور متقیوں کے سردار اور صدیقین کے رہنما اور صالحین کے امام پر۔ جو لغزشوں سے معصوم اور خلل سے دور اور عیب سے پاکیزہ اور شک سے منزہ ہیں۔ جو تیرے نبی کے بھائی اور تیرے رسول کے وصی ہیں۔ جو ان کے بستر پر سونے والے اور اپنے نفس سے ان کا دفاع کرنے والے اور ان سے پریشانی اور غم کو دور کرنے والے ہیں جن کو تو نے ان کی نبوت کی تلوار اور ان کی رسالت کا معجزہ اور ان کی محبت کے لئے واضح دلیل اور ان کے علم کا اٹھانے والا اور جان کا محافظ اور امت کا ہادی اور قوت بازو اور تاج سر اور باب نصرت اور کامیابی کی کلید قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے شرک کے لشکر کو شکست دے دی تیری مدد سے اور کفر کے سپاہیوں کو نابود کر دیا تیرے حکم سے اور تیری اور تیرے رسولؐ کی مرضی کے لئے نفس کو قربان کر دیااور نفس کو وقف کر دیا اس کی اطاعت کے لئے اور مصیبتوں کے لئے سیر بنا دیا یہاں تک کہ رسولؐ اللہ نے ان کے ہاتھوں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی۔ اور انھوں نے ان کے سرد شدہ جسم کی خنکی کو لے کر اپنے چہرہ پر مل لیا اور ان کی مدد تیرے فرشتوں نے کی۔ رسولؐ کے غسل اور تجہیز میں اور انھوں نے نمازِ میت پڑھا اور ان کو سپرد خاک کیا اور ان کے قرض کو ادا کیا اور ان کے وعدہ کو پورا کیا اور ان کے عہد کو لازم رکھا اور انھیں کے نقش قدم پر چلتے رہے اور ان کی وصیت کو محفوظ کیا اور جب مددگار پا لئے تو اٹھ کھڑے ہوئے خلافت کے وزن کو اٹھائے ہوئے اور امت کے بار کو سنبھالے ہوئے۔ انھوں نے ہدایت کا علم تیرے بندوں میں نصب کیا اور لباس امن کو تیرے شہروں میں پھیلا دیا اور تیری مخلوق میں عدل کو رائج کر دیا اور تیری مخلوق میں تیری کتاب کے ذریعہ فیصلہ و حکم نافذ کیا، حدوں کو قائم کیا اور کفر کا قلع قمع کیا اور کینہ کی اصلاح کی اور فتنہ کو ساکن کر دیا اور کمزوری کو ختم کیا۔ رخنوں کو بند کیا اور ناکثین و قاسطین سے جنگ کی اور رسولؐ اللہ کے طریقہ پر قائم رہے اور لطف صورت اور جمال سیرت پیغمبر پر قائم رہے۔ ان کی سنت کی اقتدا کرتے رہے۔ ان کے عزم سے وابستہ رہے۔ ان طریقہ پرباقی رہے اور رسولؐ کے کردار کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ تیرے بندوں کو ان پر آمادہ کرتے رہےاور ان کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی ان کے سر کے خون سے خضاب کر دی گئی۔ خدایا جس طرح انھوں نے یقین کے مقابلہ میں تیری اطاعت میں شک کو راہ نہ دی اور چشم زدن کے لئے بھی شرک نہیں کیا تو تو بھی ان پر درود نازل کر پاکیزہ وافزودہ درود جس کی وجہ سے وہ تیری جنت میں نبوت کی منزل سے ملحق ہو جائیں اور ہمارا سلام و تحیت بھی ن تک پہنچا دے اور ہم کو اپنے فضل و احسان و مغفرت و رضوان کو ان کی محبت کے طفیل میں اپنے پاس سے عطا کر کہ تو بڑے فضل والا ہے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔</font>
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
وَ اَنَّ عَلِيَّ بْنَ اَبِيْ طَالِبٍ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَبْدُ اللّٰهِ وَ اَخُوْ رَسُوْلِهِ
وَ اَنَّ الْاَئِمَّةَ الطَّاهِرِيْنَ مِنْ وُلْدِهِ حُجَجُ اللّٰهِ عَلٰى خَلْقِهِ۔
(پھر ضریح کا بوسہ لے اور پہلے داہنے رخسارہ کو رکھے پھر بائیں رخسارہ کو رکھے اور پھر سمت قبلہ متوجہ ہو اور نماز زیارت بجا لائے اور نماز کے بعد جو چاہے دعا کرے اور تسبیح زہرا کےبعد کہے۔)
اَلله اَكْبَرُ
<font color="#480607">خدایا تو نے مجھے اپنے نبی و رسولؐ محمد کی زبان سے بشارت دی ہے (تیرا درود ہو ان پر اور ان کی آل پر)کہ<font color="#480607">بشارت دے دو ایمانداروں کو کہ ان کے لئے قدمصدق جنت میں ہے۔</font> خدایا میں تیرے تمام نبیوں اور سولوں پر ایمان لایا ہوں۔(تیرا درود ہو ان سب پر)تو مجھ کوان کی معرفت کے بعد کسی موقف میں نہ ٹھہرانا جہاں تو مجھ کو رسوا کر دے سب لوگوں کے سامنے بلکہ ان کے ساتھ ٹھہرانا اور مجھ کو ان کی تصدیق پر موت دینا۔ خدایا تو نے ان کو اپنی عزت سے مخصوص کیا ہے اور ہم کو ان کے اتباع کا حکم دیا ہے۔ خدایا میں تیرا بندہ اور تیرا زائر ہوں اور تیرے رسولؐ کے بھائی کی زیارت کے ذریعہ تیری قربت چاہتا ہوں اور ہر اس شخص پر جس کے پاس آیا جائے اور جس کی زیارت کی جائے حق ہوتا ہے اس کا جو آئے اور زیارت کرے اور تو بہترین وہ ہے جس کے پاس آیا جائے اور ان سب سے زیادہ کریم ہے جن کی زیارت کی جائے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے خدائے رحمان اے رحیم، اے جواد، اے ماجد، اے یکتا، اے بے نیاز، اے وہ جس کاکوئی فرزند نہیں اور جو کسی کا فرزند نہیں ہے اور جس کاکوئی ہمسر نہیں ہے اور کوئی شریک زندگی نہیں ہے اور نہ اولاد ہے کہ تو رحمت ناز ل کر محمدؐ و آل محمدؐ پر اور آج اپنے رسولؐ کے بھائی کی زیارت کے عوض یہ تحفہ قرار دے کہ مجھ کو جہنم سے نجات عطا کر دے اور مجھ کو ان لوگوں میں قرار دے دے جو نیکیوں کی طرف جلدی کرنے والے ہیں اور جو تجھے شوق و خوف کے عالم میں پکارتے ہیں اور مجھ کو خضوع و خشوع کرنے والوں میں قرار دے دے۔ خدایا تو نے مجھ پر احسان کیا ہے میرے مولا علیؑ بن ابی طالبؑ کی زیارت اور ولایت و معرفت کے ذریعہ، تو مجھ کو ان میں سے قرار دے دے جو ان کی مدد کرتے ہوں اور ان سےمدد طلب کرتے ہوں اور مجھ پر احسان کر اپنے دین کی نصرت کے لئے خدایا مجھ کو ان کے شیعوں میں قرار دے دے اور مجھے ان کے دین پر موت دینا۔ خدایا میرے لئے رحمت، رضوان، مغفرت، احسان اور وسعت رزق حلال و پاکیزہ کو لازم کر دے جس کا تو سب سے زیادہ اہل ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد تو بس خدائے رب العالمین کے لئے ہے۔</font>
(روایت معتبر میں منقول ہے کہ حضرت خضر روز شہادت امیرالمومنینؑ گریہ کرتے ہوئے اور انا للہ پڑھتے ہوئے تیزی سے آئے اور دروزۂ امیرالمومنینؑ پر کھڑے ہو کر کہنے لگے۔)
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ اٰدَمَ خَلِيْفَةِ اللّٰهِ
<font color="#480607">خدا آپ پر رحمت نازل کرے اے ابو الحسن آپ اسلام میں سب سے سابق اور ایمان میں خالص اور یقین میں سب سے مضبوط اور سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والے تھے۔</font>
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ نُوْحٍ صَفْوَةِ اللّٰهِ
(اور پھر بہت سے فضائل امیرالمومنینؑ کو گنا یا جو ان لفظوں سے قریب تر تھے جو اس زیارت میں مذکور ہیں تو اگر اس روز یہ زیارت بھی پڑھی جائے تو مناسب ہے اور ان کلمات کی اصل جو بمنزلہ زیارت روز شہادت ہے اس کو میں نے ہدیہ میں ذکر کر دیا ہے۔ جو شخص چاہے اس کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ ہم نے اس سے قبل اعمال شب مبعث کے ضمن میں سفر نامہ ابن بطوطہ کا اقتباس بھی نقل کیا ہے جو اس روضہ سے متعلق تھا، اس کی طرف بھی رجوع کرنا مناسب ہے۔)
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ مُوْسٰى كَلِيْمِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عِيْسٰى رُوْحِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ رُسُلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَاۤ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَاۤ اِمَامَ الْمُتَّقِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الْوَصِيِّيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَصِيَّ رَسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عِلْمِ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبَاُ الْعَظِيْمُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيْمُ،
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْمُهَذَّبُ الْكَرِيْمُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْوَصِيُّ التَّقِيُّ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْبَدْرُ الْمُضِيۤءُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ الْاَكْبَرُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْفَارُوْقُ الْاَعْظَمُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا السِّرَاجُ الْمُنِيْرُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اِمَامَ الْهُدٰى
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عَلَمَ التُّقٰى
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ الْكُبْرٰى
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَآصَّةَ اللّٰهِ وَ خَالِصَتَهُ
وَ اَمِيْنَ اللّٰهِ وَ صَفْوَتَهُ
وَ بَابَ اللّٰهِ وَ حُجَّتَهُ
وَ مَعْدِنَ حُكْمِ اللّٰهِ وَ سِرِّهِ
وَ عَيْبَةَ عِلْمِ اللّٰهِ وَ خَازِنَهُ
وَ سَفِيْرَ اللّٰهِ فِيْ خَلْقِهِ
اَشْهَدُ اَنَّكَ اَقَمْتَ الصَّلَاةَ
وَ اَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ،
وَ اتَّبَعْتَ الرَّسُوْلَ
وَ تَلَوْتَ الْكِتَابَ حَقَّ تِلَاوَتِهِ
وَ بَلَّغْتَ عَنِ اللّٰهِ
وَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللّٰهِ
وَ تَمَّتْ بِكَ كَلِمَاتُ اللّٰهِ
وَ جَاهَدْتَ فِيْ اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهِ
وَ نَصَحْتَ لِلّٰهِ وَ لِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
وَ جُدْتَ بِنَفْسِكَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا
مُجَاهِدًا عَنْ دِيًنِ اللّٰهِ
مُوَقِّيًا لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
طَالِبًا مَا عِنْدَ اللّٰهِ
رَاغِبًا فِيْمَا وَعَدَ اللّٰهُ
وَ مَضَيْتَ لِلَّذِيْ كُنْتَ عَلَيْهِ شَهِيْدًا
وَ شَاهِدًا وَ مَشْهُوْدًا
فَجَزَاكَ اللّٰهُ عَنْ رَسُوْلِهِ
وَ عَنِ الْاِسْلَامِ وَ اَهْلِهِ
مِنْ صِدِّيْقٍ اَفْضَلَ الْجَزَاۤءِ
اَشْهَدُ اَنَّكَ كُنْتَ اَوَّلَ الْقَوْمِ اِسْلَامًا
وَ اَخْلَصَهُمْ اِيْمَانًا
وَ اَحْوَطَهُمْ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
وَ اَفْضَلَهُمْ مَنَاقِبَ
وَ اَكْثَرَهُمْ سَوَابِقَ
وَ اَرْفَعَهُمْ دَرَجَةً،
وَ اَشْرَفَهُمْ مَنْزِلَةً
فَقَوِيْتَ [قَوِيْتَ] حِيْنَ وَهَنُوْا
وَ لَزِمْتَ مِنْهَاجَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ كُنْتَ خَلِيْفَتَهُ حَقًّا
لَمْ تُنَازَعْ بِرَغْمِ الْمُنَافِقِيْنَ
وَ قُمْتَ بِالْاَمْرِ حِيْنَ فَشِلُوْا
وَ نَطَقْتَ حِيْنَ تَتَعْتَعُوْا
وَ مَضَيْتَ بِنُوْرِ اللّٰهِ اِذْ وَقَفُوْا
فَمَنِ اتَّبَعَكَ فَقَدِ اهْتَدٰى [هُدِيَ]
كُنْتَ اَوَّلَهُمْ كَلَامًا
وَ اَصْوَبَهُمْ مَنْطِقًا
وَ اَكْثَرَهُمْ يَقِيْنًا
وَ اَعْرَفَهُمْ بِالْاُمُوْرِ
كُنْتَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَبًا رَحِيْمًا
اِذْ صَارُوْا عَلَيْكَ عِيَالًا
فَحَمَلْتَ اَثْقَالَ مَا عَنْهُ ضَعُفُوْا
وَ حَفِظْتَ مَاۤ اَضَاعُوْا
وَ رَعَيْتَ مَاۤ اَهْمَلُوْا
وَ شَمَّرْتَ اِذْ جَبَنُوْا
وَ عَلَوْتَ اِذْ هَلِعُوْا
وَ صَبَرْتَ اِذْ جَزِعُوْا
كُنْتَ عَلَى الْكَافِرِيْنَ عَذَابًا صَبًّا
وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ غَيْثًا وَ خِصْبًا وَ عِلْمًا
وَ لَمْ تَضْعُفْ بَصِيْرَتُكَ
وَ لَمْ تَجْبُنْ نَفْسُكَ
كُنْتَ كَالْجَبَلِ لَا تُحَرِّكُهُ الْعَوَاصِفُ
وَ لَا تُزِيْلُهُ الْقَوَاصِفُ
كُنْتَ كَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
مُتَوَاضِعًا فِيْ نَفْسِكَ
جَلِيْلًا فِيْ السَّمَاۤءِ،
لَمْ يَكُنْ لِاَحَدٍ فِيْكَ مَهْمَزٌ
وَ لَا لِقَاۤئِلٍ فِيْكَ مَغْمَزٌ
وَ لَا لِخَلْقٍ فِيْكَ مَطْمَعٌ
وَ لَا لِاَحَدٍ عِنْدَكَ هَوَادَةٌ
يُوْجَدُ الضَّعِيْفُ الذَّلِيْلُ عِنْدَكَ قَوِيًّا عَزِيْزًا حَتّٰى تَأْخُذَ لَهُ بِحَقِّهِ
وَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ عِنْدَكَ ضَعِيْفًا [ذَلِيْلًا] حَتّٰى تَأْخُذَ مِنْهُ الْحَقَّ
الْقَرِيْبُ وَ الْبَعِيْدُ عِنْدَكَ فِيْ ذٰلِكَ سَوَاۤءٌ
شَأْنُكَ الْحَقُّ وَ الصِّدْقُ وَ الرِّفْقُ
وَ قَوْلُكَ حُكْمٌ وَ حَتْمٌ
وَ رَأْيُكَ عِلْمٌ وَ حَزْمٌ [وَ جَزْمٌ]
اِعْتَدَلَ بِكَ الدِّيْنُ
وَ سَهُلَ بِكَ الْعَسِيْرُ
وَ اُطْفِئَتْ بِكَ النِّيْرَانُ
وَ قَوِيَ بِكَ الْاِيْمَانُ
وَ ثَبَتَ بِكَ الْاِسْلَامُ
وَ هَدَّتْ مُصِيْبَتُكَ الْاَنَامَ
فَاِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ قَتَلَكَ،
وَ لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ خَالَفَكَ
وَ لَعَنَ اللّٰهُ مَنِ افْتَرٰى عَلَيْكَ
وَ لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ ظَلَمَكَ وَ غَصَبَكَ حَقَّكَ
وَ لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ بَلَغَهُ ذٰلِكَ فَرَضِيَ بِهِ
اِنَّا اِلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ بُرَاۤءُ
لَعَنَ اللّٰهُ اُمَّةً خَالَفَتْكَ
وَ تَظَاهَرَتْ عَلَيْكَ وَ قَتَلَتْكَ
وَ حَادَتْ عَنْكَ وَ خَذَلَتْكَ
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ النَّارَ مَثْوَاهُمْ
وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ
اَشْهَدُ لَكَ يَا وَلِيَّ اللّٰهِ وَ وَلِيَّ رَسُوْلِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ بِالْبَلَاغِ وَ الْاَدَاۤءِ [وَ النَّصِيْحَةِ]
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ حَبِيْبُ [جَنْبُ] اللّٰهِ وَ بَابُهُ
وَ اَنَّكَ جَنْبُ [حَبِيْبُ] اللّٰهِ وَ وَجْهُهُ الَّذِيْ مِنْهُ يُؤْتٰى
وَ اَنَّكَ سَبِيْلُ اللّٰهِ
وَ اَنَّكَ عَبْدُ اللّٰهِ
وَ اَخُوْ رَسُوْلِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
اَتَيْتُكَ زَاۤئِرًا لِعَظِيْمِ حَالِكَ وَ مَنْزِلَتِكَ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهِ
مُتَقَرِّبًا اِلَى اللّٰهِ بِزِيَارَتِكَ
رَاغِبًا اِلَيْكَ فِي الشَّفَاعَةِ،
اَبْتَغِيْ بِشَفَاعَتِكَ خَلَاصَ نَفْسِيْ
مُتَعَوِّذًا بِكَ مِنَ النَّارِ
هَارِبًا مِنْ ذُنُوْبِيَ الَّتِي احْتَطَبْتُهَا عَلٰى ظَهْرِيْ
فَزِعًا اِلَيْكَ رَجَاۤءَ رَحْمَةِ رَبِّي
اَتَيْتُكَ اَسْتَشْفِعُ بِكَ يَا مَوْلَايَ اِلَى اللّٰهِ
وَ اَتَقَرَّبُ بِكَ اِلَيْهِ لِيَقْضِيَ بِكَ حَوَاۤئِجِيْ
فَاشْفَعْ لِيْ يَاۤ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ
اِلَى اللّٰهِ فَاِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ وَ مَوْلَاكَ وَ زَاۤئِرُكَ
وَ لَكَ عِنْدَ اللّٰهِ الْمَقَامُ الْمَعْلُوْمُ
وَ الشَّفَاعَةُ الْمَقْبُوْلَةُ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ صَلِّ عَلٰى عَبْدِكَ وَ اَمِيْنِكَ الْاَوْفٰى
وَ حُجَّتِكَ عَلَى الْوَرٰى
وَ صِدِّيْقِكَ الْاَكْبَرِ
وَ رُكْنِ الْاَوْلِيَاۤءِ
وَ عِمَادِ الْاَصْفِيَاۤءِ
وَ يَعْسُوْبِ الْمُتَّقِيْنَ
وَ قُدْوَةِ الصِّدِّيْقِيْنَ
وَ اِمَامِ الصَّالِحِيْنَ،
الْمَعْصُوْمِ مِنَ الزَّلَلِ
وَ الْمَفْطُوْمِ مِنَ الْخَلَلِ
وَ الْمُهَذَّبِ مِنَ الْعَيْبِ
وَ الْمُطَهَّرِ مِنَ الرَّيْبِ
وَ الْبَاۤئِتِ عَلٰى فِرَاشِهِ
وَ الْمُوَاسِيْ لَهُ بِنَفْسِهِ
وَ كَاشِفِ الْكَرْبِ عَنْ وَجْهِهِ
الَّذِيْ جَعَلْتَهُ سَيْفًا لِنُبُوَّتِهِ
وَ مُعْجِزًا لِرِسَالَتِهِ
وَ دِلَالَةً وَاضِحَةً لِحُجَّتِهِ
وَ وِقَايَةً لِمُهْجَتِهِ
حَتّٰى هَزَمَ جُنُوْدَ الشِّرْكِ بِاَيْدِكَ
وَ اَبَادَ عَسَاكِرَ الْكُفْرِ بِاَمْرِكَ
وَ بَذَلَ نَفْسَهُ فِيْ مَرْضَاتِكَ وَ مَرْضَاةِ رَسُوْلِكَ
وَ جَعَلَهَا وَقْفًا عَلٰى طَاعَتِهِ
وَ مَجِنًّا دُوْنَ نَكْبَتِهِ
حَتّٰى فَاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ فِيْ كَفِّهِ
وَ مَسَحَهُ عَلٰى وَجْهِهِ
وَ اَعَانَتْهُ مَلَاۤئِكَتُكَ عَلٰى غُسْلِهِ وَ تَجْهِيْزِهِ
وَ صَلَّى عَلَيْهِ وَ وَارٰى شَخْصَهُ
وَ حِيْنَ وَجَدَ اَنْصَارًا نَهَضَ مُسْتَقِلًا بِاَعْبَاۤءِ الْخِلَافَةِ
مُضْطَلِعًا بِاَثْقَالِ الْاِمَامَةِ
فَنَصَبَ رَايَةَ الْهُدٰى فِيْ عِبَادِكَ
وَ نَشَرَ ثَوْبَ الْاَمْنِ فِيْ بِلَادِكَ
وَ بَسَطَ الْعَدْلَ فِيْ بَرِيَّتِكَ
وَ حَكَمَ بِكِتَابِكَ فِيْ خَلِيْقَتِكَ
وَ قَتَلَ النَّاكِثَةَ وَ الْقَاسِطَةَ وَ الْمَارِقَةَ
وَ لَمْ يَزَلْ عَلٰى مِنْهَاجِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ وَ وَتِيْرَتِهِ
مُبَاشِرًا لِطَرِيْقَتِهِ
وَ اَمْثِلَتُهُ نَصْبُ عَيْنَيْهِ
يَحْمِلُ عِبَادَكَ عَلَيْهَا
وَ يَدْعُوْهُمْ اِلَيْهَا
اِلٰى اَنْ خُضِبَتْ شَيْبَتُهُ مِنْ دَمِ رَأْسِهِ
اَللّٰهُمَّ فَكَمَا لَمْ يُؤْثِرْ فِيْ طَاعَتِكَ شَكًّا عَلٰى يَقِيْنٍ
وَ لَمْ يُشْرِكْ بِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ
صَلِّ عَلَيْهِ صَلَاةً زَاكِيَةً نَامِيَةً
يَلْحَقُ بِهَا دَرَجَةَ النُّبُوَّةِ فِيْ جَنَّتِكَ
وَ بَلِّغْهُ مِنَّا تَحِيَّةً وَ سَلَامًا
وَ اٰتِنَا مِنْ لَدُنْكَ فِيْ مُوَالَاتِهِ فَضْلًا وَ اِحْسَانًا
وَ مَغْفِرَةً وَ رِضْوَانًا
اِنَّكَ ذُوْ الْفَضْلِ الْجَسِيْمِ
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ بَشَّرْتَنِيْ
عَلٰى لِسَانِ نَبِيِّكَ وَ رَسُوْلِكَ
مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
فَقُلْتَ: "وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ"
اَللّٰهُمَّ وَ اِنِّيْ مُؤْمِنٌ بِجَمِيْعِ اَنْبِيَاۤئِكَ وَ رُسُلِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِمْ
فَلَا تَقِفْنِيْ بَعْدَ مَعْرِفَتِهِمْ مَوْقِفًا
تَفْضَحُنِيْ فِيْهِ عَلٰى رُءُوْسِ الْاَشْهَادِ
بَلْ قِفْنِيْ مَعَهُمْ وَ تَوَفَّنِيْ عَلَى التَّصْدِيْقِ بِهِمْ
اَللّٰهُمَّ وَ اَنْتَ خَصَصْتَهُمْ بِكَرَامَتِكَ
وَ اَمَرْتَنِيْ بِاتِّبَاعِهِمْ
اَللّٰهُمَّ وَ اِنِّيْ عَبْدُكَ وَ زَاۤئِرُكَ
مُتَقَرِّبًا اِلَيْكَ بِزِيَارَةِ اَخِيْ رَسُوْلِكَ
وَ عَلٰى كُلِّ مَأْتِيٍّ وَ مَزُوْرٍ حَقٌّ لِمَنْ اَتَاهُ وَ زَارَهُ
وَ اَنْتَ خَيْرُ مَأْتِيٍّ
فَاَسْاَلُكَ يَاۤ اَللّٰهُ يَا رَحْمَانُ يَا رَحِيْمُ
يَا مَنْ لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ
وَ لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَ لَا وَلَدًا
اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ،
وَ اَنْ تَجْعَلَ تُحْفَتَكَ اِيَّايَ مِنْ زِيَارَتِيْ اَخَا رَسُوْلِكَ
فَكَاكَ رَقَبَتِيْ مِنَ النَّارِ
وَ اَنْ تَجْعَلَنِيْ مِمَّنْ يُسَارِعُ فِي الْخَيْرَاتِ
وَ يَدْعُوْكَ رَغَبًا وَ رَهَبًا
وَ تَجْعَلَنِيْ لَكَ مِنَ الْخَاشِعِيْنَ
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ مَنَنْتَ عَلَيَّ بِزِيَارَةِ مَوْلَايَ عَلِيِّ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ
وَ وِلَايَتِهِ وَ مَعْرِفَتِهِ
فَاجْعَلْنِيْ مِمَّنْ يَنْصُرُهُ وَ يَنْتَصِرُ بِهِ
وَ مُنَّ عَلَيَّ بِنَصْرِكَ لِدِيْنِكَ
اَللّٰهُمَّ وَ اجْعَلْنِيْ مِنْ شِيْعَتِهِ وَ تَوَفَّنِيْ عَلٰى دِيْنِهِ
اَللّٰهُمَّ اَوْجِبْ لِيْ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ الرِّضْوَانِ
وَ الْمَغْفِرَةِ وَ الْاِحْسَانِ
وَ الرِّزْقِ الْوَاسِعِ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ
مَا اَنْتَ اَهْلُهُ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
رَحِمَكَ اللّٰهُ يَاۤ اَبَا الْحَسَنِ
كُنْتَ اَوَّلَ الْقَوْمِ اِسْلَامًا وَ اَخْلَصَهُمْ اِيْمَانًا
وَ اَخْوَفَهُمْ لِلّٰهِ...