ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
مناجات العارفين
جاننے والوں کی مناجات
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اِلٰهِىْ قَصُرَتِ الْاَلْسُنُ عَنْ بُلُوغِ ثَنَاۤئَكَ كَمَا يَلِيْقُ بِجَلَالِكَ،
میرے معبود تیری جلالت شان کے مناسب تیری تعریف کرنے میں زبانیںگنگ ہیں اور تیرے جمال کی حقیقت کو سمجھنے سے
وَ عَجَزَتِ الْعُقُوْلُ عَنْ اِدْرَاكِ كُنْهِ جَمَالِكَ،
لوگوں کی عقلیں عاجز ہیں تیری ذات کے جلووں کی طرف نظر کرنے سے آنکھیں درماندہ ہو کر رہ جاتی ہیں لوگوں کے لیے تیری
وَ انْحَسَرَتِ الْاَبْصَارُدُوْنَ النَّظَرِ اِلٰى سُبْحَاتِ وَجْهِكَ،
معرفت کا حصول بس یہی ہے کہ وہ تیری معرفت سے قاصر ہیں میرے معبود مجھے ان لوگوں میں سے قرار دے
وَلَمْ تَجْعَلَ لِلْخَلْقِ طَرِيْقًا اِلٰى مَعْرِفَتِكَ، اِلَّا بِالْعَجْزِ عَنْ مَعْرِفَتِكَ،
جن کے سینوں کے باغیچوں میں تیرے شوق کے درخت جڑیں پکڑ چکے ہیں اور تیرے سوز محبت نے ان کے دلوں کو
اِلٰهِىْ فَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِيْنَ تَرَسَّخَتْ اَشْجَارُ الشَّوْقِ اِلَيْكَ، فِىْ حَدَاۤئِقِ صُدُوْرِهِمْ،
گھیرا ہؤا ہے اب وہ یادوں کے آشیانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیرے قرب اور جلوے کے باغوں میں
وَ اَخَذَتْ لَوْعَةُ مُحَبَّتِكَ بِمَجَامِعِ قُلُوْبِهِمْ، فَهُمْ اِلٰى اَوْ كَارِ الْاَفْكَارِ يَأوُوْنَ،
سیر کر رہے ہیں وہ تیری محبت کے چشموں سے جام الفت کے گھونٹ پی رہے ہیں اور صاف ستھرے گھاٹوں پر
وَ فِىْ رِيَاضِ الْقُرْبِ وَ الْمُكَـاشَفَةِ يَرْتَعُوْنَ،
وارد ہیں ان کی آنکھوں سے پردہ اٹھ چکا ہے اور شک کی کالک ان کے عقیدوں اور ضمیروںسے دور ہوگئی ہے ان کے
وَ مِنْ حِيَاضِ الْمَحَبَّةِ بِكَاسِ الْمُلَاطَفَةِ يَكْرَعُوْنَ،
دلوں اور باطنوں سے شبہ کے اثرات ختم ہوگئے ہیں صحیح معرفت حاصل ہونے سے ان کے سینے
وَ شَرَايِعَ الْمُصَافَاتِ يَرِدُوْنَ، قَدْ كُشِفَ الْغِطَاۤءُ عَنْ اَبْصَارِهِمْ،
کھل چکے ہیں حصول سعادت کے لیے زہد میں ان کی ہمتیںبلند ہوگئی ہیں کردار کے چشمہ میں ان کا پینا شیریںہے
وَانْجَلَتْ ظُلْمَةُ الرَّيْبِ عَنْ عَقَاۤئِدِهِمْ وَ ضَمَاۤئِرِهِمْ،
انس و محبت کی محفل میں ان کا باطن صاف ہے خوفناک جگہوں پر ان کا گروہ امن میں ہے اور پالنے والوں
وَانْقَنَتْ مُخَالِجَةُ الشَّكِّ عَنْ قُلُوْبِهِمْ وَ َرَاۤئِرِهِمْ،
کے پالنے والے کی طرف بازگشت سے ان کے نفس مطمئن ہیں ان کی روحوں کو بخشش و کامیابی
وَانْشَرَحَتْ بِتَحْقِيْقِ الْمَعْرِفَةِ صُدُوْرُهُمْ،
کا یقین ہے ان کی آنکھیں دیدار محبوب سے خنک ہیں ان کو حاجتیں پوری ہونے اور مرادیں
وَ عَلَتْ لِسَبْقِ السَّعَأدَةِ فِىْ الزِّهَادَةِ هِمَمُهُمْ،
بر آنے سے قرار حاصل ہے آخرت کے بدلے دنیا بیچنے سے ان کا سودا نفع بخش ہے میرے معبود کیا ہی مزہ ہے ان خیالوںمیں
وَ عَذُبَ فِىْ مَعِيْنِ الْمُعَامَلَةِ شِرْبُهُمْ، وَ طَابَ فِىْ مَجْلِسِ الْاُنْسِ سِرُّهُمْ،
جو تیرے ذکر سے دلوں میںآتے ہیںاور کتنا شرین ہے تیری طرف وہ سفر جو بخیال خود غیب کے راستوں پر جاری ہے کتنا اچھا ہے
وَ اَمِنَ فِىْ مَوْطِنِ الْمَخَافَةَ سِرْبُهُمْ، وَاطْمَاَنَّتْ بِالرُّجُوْعِ اِلٰى رَبِّ الْاَرْبَابِ اَنْفُسُهُمْ،
تیری محبت کا ذائقہ اور کتنا میٹھا ہے تیرے قرب کا شربت پس بچا ہمیں کہ تیرے ہاںسے ہانکے جائیں اور تجھ سے دور رہیں ہمیں
وَ تَيَقَّنَتْ بِالْفَوْزِ وَالْفَلَاحِ اَرْوَاحُهُمْ، وَ قَرَّتْ بِالنَّظَرِ اِلٰى مَحْبُوْبِهِمْ اَعْيُنُهُمْ،
اپنے خصوصی عارفوں اور صالح ترین بندوں میںقرار دے اور اپنے سچے فرمانبرداروں اور کھرے عبادت گزاروں میں رکھ اے عظمت
وَاسْتَقَرَّ بِاِدْرَاكِ السُّؤْلِ وَ نَيْلِ الْمَأمُوْلِ قَرَارُهُمْ،
والے اے جلال والے اے مہربان اے عطا کرنے والے تجھے تیری رحمت و احسان کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
وَ رَبِحَتْ فِىْ بَيْعِ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ تِجَارَتُهُمْ،
اِلٰهِىْ مَا اَلَذَّ خَوَاطِرَ الْاِلْهَامِ بِذِكْرِكَ عَلَى الْقُلُوْبِ،
وَمَا اَحْلَى الْمَسِيْرَ اِلَيْكَ بِالْاَوْهَامِ فِى مَسَالِكِ الْغُيُوْبِ،
وَ مَا اَطْيَبَ طَعْمُ حُبِّكَ، وَمَا اَعْذَبَ شِرْبَ قُرْبِكَ، فَاَعِذْنَا مِنْ طَرْدِكَ وَ اِبْعَادِكَ،
وَ جْعَلْنَا مِنْ اَخَصِّ عَارِفِيْكَ، وَ اَصْلَحِ عِبَادِكَ،
وَ اَصْدَقِ طَاۤئِعِيْكَ، وَ اَخْلَصِ عُبَّادِكَ، يَا عَظِيْمُ يَا جَلِيْلُ،
يَا كَرِيْمُ يَا مُنِيْلُ، بِرَحْمَتِكَ وَ مَنِّكَ، يَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.