EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
تعقیبات، مشترکہ
مشترکہ تعقیبات کے بارے میں
(مصباح شیخ طوسی میں نقل کیا گیا ہے کہ جب نماز کا سلام تمام ہو جائے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور ہر مرتبہ اپنے ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے):۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے،
اِلٰهًا وَاحِدًا
وہ اکیلا خدا ہے
وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ
اور ہم اسی کے اطاعت گذار ہیں۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
وَ لَا نَعْبُدُ اِلَّا اِيَّاهُ
اور ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے ہیں۔
مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ
دین میں اسی کے مخلص ہیں
وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ
چاہے یہ بات مشرکین کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
رَبُّنَا وَ رَبُّ اٰباۤئِنَا الْاَوَّلِيْنَ
وہی ہمارا اور ہمارے تمام گذشتہ آباء و اجداد کا پروردگار ہے۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
وَحْدَهُ وَحْدَهُ وَحْدَهُ
وہ اکیلا ہے، یکتا ہے، تنہا ہے۔
اَنْجَزَ وَعْدَهُ
اس نے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے
وَ نَصَرَ عَبْدَهُ
اور اپنے بندے کی مدد کی ہے،
وَ اَعَزَّ جُنْدَهُ
اپنے لشکر کی نصرت کی ہے
وَ هَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ
اور تمام دشمنوں کے لشکروں کو شکست دی۔
فَلَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ
سارا ملک اسی کے لئے ہے اور ساری حمد اسی کے لئے ہے۔
يُحْيِىْ وَ يُمِيْتُ
وہ زندگی کے بعد موت
وَ يُمِيْتُ وَ يُحْيِىْ
اور موت کے بعد زندگی کا دینے والا ہے۔
وَ هُوَ حَىُّ لَايَمُوْتُ
ایسا زندہ ہے جس کے لئے موت نہیں ہے
بِيَدِهِ الْخَيْرُ
اور سارا خیر اسی کے ہاتھوں میں ہے
وَ هُوَ عَلٰى كُلِّشَىْءٍ قَدِيْرٌ۔
اور وہ ہر شئی پر قادر ہے۔
اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِىْ لَا ۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
میں اسی سے استغفار کر رہا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِ
وہ زندہ و پائندہ ہے اور میں اسی کی بارگاہ کی طرف متوجہ ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِىْ مِنْ عِنْدِكَ
خدایا مجھے اپنی بارگاہ سے ہدایت فرما۔
وَ اَفِضْ عَلَىَّ مِنْ فَضْلِكَ
اپنا فضل و کرم میرے شامل حال کردے
وَ انْشُرْ عَلَىَّ مِنْ رَحْمَتِكَ
اور اپنے دامن رحمت کو میرے اوپر پھیلا دے
وَ اَنْزِلْ عَلَىَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ
اور اپنی برکتیں میرے اوپر نازل کر دے
سُبْحَانَكَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
تو بے نیاز ہے۔ تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
اِغْفِرْ لِىْ ذُنُوْبِىْ كُلَّهَا جَمِيْعًا
تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے کہ
فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ كُلَّهَا جَمِيْعًا اِلَّا اَنْتَ
تیرے علاوہ کوئی ان تمام گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْئَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ اَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ
خدایا میں تجھ سے ہر اس خیر کا طلبگار ہوں جو تیرے علم میں ہے
وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ اَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ۔
اور ہر اس شئے سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْئَلُكَ عَافِيَتَكَ فِىْ اُمُوْرِىْ كُلِّهَا
خدایا میں اپنے جملہ امور میں تجھ سے عافیت چاہتا ہوں۔
وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ خِزْىِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَةِ
دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں
وَاَعُوْذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ
تیری کریم ذات
وَ عِزَّتِكَ الَّتِىْ لَا تُرَامُ
اور تیری اس عزت کے واسطے سے جس تک کسی کی رسائی نہیں ہے
وَ قُدْرَتِكَ الَّتِىْ لَا يَمْتَنِعُ مِنْهَا شَىْءٌ
اور اس قدرت کے واسطے سے جس سے کوئی چیز بچ کر جا نہیں سکتی ہے۔
مِنْ شَرِّ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ
دنیا اور آخرت کے شر سے
وَ مِنْ شَرِّ الْاَوْجَاعِ كُلِّهَا
اور تمام درد وآلام
وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دَآبَّةٍ اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا
کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اِنَّ رَبِّىْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ
بے شک میرا رب صراط مستقیم پر ہے۔
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ
خدائے علی و عظیم کے علاوہ نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی قوت ہے۔
تَوَّكَلْتُ عَلَى الْحَىِّ الَّذِىْ لَا يَمُوْتُ
میرا اعتماد اسی مالکِ حیات پر ہے جس کے لئے موت نہیں ہے۔
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا
ساری حمد اس اللہ کے لئے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا۔
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيْكٌ فِى الْمُلْكِ
نہ اسکی سلطنت میں کوئی اس کا شریک ہے
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِىٌّ مِّنَ الذُّلِّ
اور نہ کوئی کمزور ہی اس کا مددگار ہے۔
وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا۔
بزرگی اسی کے لئے ہے اور بزرگی سے اسی کو یاد کرنا چاہیے۔
اَشْهَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے،
وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے،
اِلٰهًا وَاحِدًا
وہ یکتا و یگانہ
اَحَدًا فَرْدًا صَمَدًا
تنہا و بے نیاز ہے۔
لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَ لَا وَلَدًا۔
اس نے کسی کو نہ اپنا شریک حیات بنایا ہے اور نہ فرزند۔
سُبْحَانَ اللهِ كُلَّمَا سَبَّحَ اللهَ شَىْءٌ
اللہ پاک و پاکیزہ ہے۔ جب بھی کوئی اس کی تسبیح کرے
وَ كَمَا يُحِبُّ اللهُ اَنْ يُّسَبَّحَ
اور جس طرح وہ چاہتا ہے کہ اس کی تسبیح کی جائے
وَ كَمَا هُوَ اَهْلُهُ
اور جس تسبیح کا وہ اہل ہے
وَ كَمَا يَنْبَغِىْ لِكَرَمِ وَجْهِهِ وَ عِزِّ جَلَالِهِ
اور جو تسبیح اس کی ذات کریم اور اس کے عزت و جلال کے شایانِ شان ہے۔
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ كُلَّمَا حَمِدَ اللهَ شَىْءٌ
ساری حمد اللہ کے لئے ہے جب بھی کوئی اس کی حمد کرے
وَ كَمَا يُحِبُّ اللهُ اَنْ يُحْمَدَ
اور جس طرح بھی وہ حمد کو پسند کرتا ہے
وَ كَمَا هُوَ اَهْلُهُ
اور جس کا وہ اہل ہے
وَ كَمَا يَنْبَغِىْ لِكَرَمِ وَجْهِهِ وَ عِزِّ جَلَالِهِ
اور جو حمد اس کی ذات کریم اور اس کے عزت و جلال کے لئے مناسب ہے۔
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ كُلَّمَا هَلَّلَ اللهَ شَىْءٌ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے جس چیز
وَ كَمَا يُحِبُّ اللهُ اَنْ يُّهَلَّلَ
سے بھی کوئی اس کی تہلیل کی جائے
وَ كَمَا هُوَ اَهْلُهُ
اور جس طرح بھی وہ تہلیل کو پسند کرتا ہے
وَ كَمَا يَنْبَغِىْ لِكَرَمِ وَجْهِهِ وَ عِزِّ جَلَالِهِ۔
اور جس کا وہ اہل ہے،اور جو تہلیل اس کی ذاتِ کریم اور عزت و جلال کے شایان شان ہے
وَ اللهُ اَكْبَرُ كُلَّمَا كَبَّرَ اللهَ شَىْءٌ
اللہ بزرگ ہے۔ جب بھی کوئی اس کی بزرگی کا اقرار کرے
وَ كَمَا يُحِبُّ اللهُ اَنْ يُّكَبَّرَ
اور جس طرح بھی وہ تکبیر کو پسند کرتا ہے
وَ كَمَا هُوَ اَهْلُهُ
اور جس کا وہ اہل ہے
وَ كَمَا يَنْبَغِىْ لِكَرَمِ وَجْهِهِ وَ عِزِّ جَلَالِهِ
اور جو تکبیراس کی ذات کریم اور اس کی عزت و جلال کے شایان شان ہے۔
سُبْحَانَ اللهِ
اللہ بے نیاز ہے
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
اور حمد اس کے لئے ہے۔
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
وَ اللهُ اَكْبَرُ
وہ سب سے بزرگ ہے۔
عَلٰى كُلِّ نِعْمَةٍ اَنْعَمَ بِهَا عَلَىَّ
ہم سب ہر اس نعمت پر جو
وَ عَلٰى كُلِّ اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِهِ
اس نے مجھے یا اپنی کسی بھی مخلوق کو عطا کی ہے
مِمَّنْ كَانَ اَوْ يَكُوْنُ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
جو گذر چکی یا قیامت تک میں ہونے والی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْئَلُكَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدوآل محمد پر رحمت نازل فرما۔
وَ اَسْئَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا اَرْجُوْ
میں خیر بھی چاہتا ہوں جس کی امید رکھتا ہوں
وَ خَيْرِ مَا لَا اَرْجُوْ
اور وہ خیر بھی جس کا امیدوار نہیں ہوں۔
وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اَحْذَرُ
اس شر سے بھی پناہ چاہتا ہوں جس سے ڈر رہا ہوں
وَ مِنْ شَرِّ مَا لَا اَحْذَرُ۔
اور اس شر سے بھی جس سے بچتا بھی نہیں ہوں۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ(1)
(1) عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(2)
(2) ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِۙ‏(3)
(3) وہ عظیم اوردائمی رحمتوں والا ہے
مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِؕ‏(4)
(4) روزِقیامت کا مالک و مختار ہے
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُؕ‏(5)
(5) پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ا ور تجھی سے مدد چاہتے ہیں
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ‏(6)
(6) ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ
صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۙ‏ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ‏(7)
(7) جو اُن لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں ان کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُۚ  لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ‌ؕ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ‌ؕ مَنْ ذَا الَّذِىْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ‌ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ‌ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ‌‌ۚ وَلَا يَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ‌ۚ وَ هُوَ الْعَلِىُّ الْعَظِيْمُ‏(255)
(255) اللہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے زندہ بھی ہے اوراسی سے کل کائنات قائم ہے اسے نہ نیند آتی ہے نہ اُونگھ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے. کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے. وہ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو پبُ پشت ہے سب کوجانتا ہے اور یہ اس کے علم کے ایک حّصہ کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر وہ جس قدر چاہے. اس کی کرس علم و اقتدار زمین و آسمان سے وسیع تر ہے اور اسے ا ن کے تحفظ میں کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی وہ عالی مرتبہ بھی ہے اور صاحبِ عظمت بھی
لَاۤ اِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ‌ۙ  قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَىِّ‌ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا‌‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ‏(256)
(256) دین میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے. ہدایت گمراہی سے الگ اور واضح ہوچکی ہے. اب جو شخص بھی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کی مضبوط رسّی سے متمسک ہوگیا ہے جس کے ٹوٹنے کا امکان نہیں ہے اور خدا سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے
اَللّٰهُ وَلِىُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ‌ؕ  وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ‏(257)
(257) اللہ صاحبانِ ایمان کا ولی ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے اور کفارکے ولی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہی لوگ جہّنمی ہیں اور وہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ وَالْمَلٰٓئِكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًا ۢ بِالْقِسْطِ‌ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؕ‏(18)
(18) اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ملائکہ اور صاحبانِ علم گواہ ہیں کہ وہ عدل کے ساتھ قائم ہے- اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ صاحبِ عزّت و حکمت ہے
اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا ۢ بَيْنَهُمْ‌ؕ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ‏(19)
(19) دین,اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے اور اہل کتاب نے علم آنے کے بعد ہی جھگڑا شروع کیا ہے صرف آپس کی شرارتوں کی بناﺀپر اور جو بھی آیات الٰہی کا انکار کرے گا تو خدا بہت جلد حساب کرنے والا ہے
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ‌ ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ‌ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(26)
(26) پیغمبر آپ کہئے کہ خدایا تو صاحب اقتدار ہے جس کو چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلب کرلیتا ہے- جس کو چاہتا ہے عزّت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے- سارا خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہی ہر شے پر قادر ہے
تُوْلِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ‌ وَتُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ‌ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ‏(27)
(27) تو رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِىْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ‌ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ‏(54)
(54) بیشک تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیا ہے وہ رات کو دن پر ڈھانپ دیتاہے اور رات تیزی سے اس کے پیچھے دوڑا کرتی ہے اور آفتاب و ماہتاب اور ستارے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں اسی کے لئے خلق بھی ہے اور امر بھی وہ نہایت ہی صاحب برکت اللہ ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ‌ ۚ‏(55)
(55) تم اپنے رب کو گڑگڑا کراور خاموشی کے ساتھ پکارو کہ وہ زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے
وَلَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا‌ ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ‏(56)
(56) اور خبردار زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پیدا کرنا اور خدا سے ڈرتے ڈرتے اور امیدوار بن کر دعا کرو کہ اس کی رحمت صاحبان حسن و عمل سے قریب تر ہے
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ‌ۚ‏(180)
(180) آپ کا پروردگار جو مالک عزت بھی ہے ان کے بیانات سے پاک و پاکیزہ ہے
وَسَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ‌ۚ‏(181)
(181) اور ہمارا سلام تمام مرسلین پر ہے
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‌‏(182)
(182) اور ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمد ؐ و آل محمد ؐ پر رحمت نازل فرما،
وَ اجْعَلْ لِىْ مِنْ اَمْرِىْ فَرَجًا وَ مَخْرَجًا
ہمارے امور میں کشائش اور وسعت عطا فرما
وَ ارْزُقْنِىْ مِنْ حَيْثُ اَحْتَسِبُ وَ مِنْ حَيْثُ لَاۤ اَحْتَسِبُ۔
اور ہمیں ہر اس جگہ سے رزق عطا فرما جو ہمارے خیال میں ہے یا نہیں بھی ہے۔
يَا رَبَّ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
اے محمدؐ و آل محمدؐ کے پروردگار
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ عَجِّلْ فَرَجَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
اور ان کے سکون و آرام میں اضافہ فرما۔
يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحب جلال و اکرام
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما،
وَ ارْحَمْنِىْ وَ اَجِرْنِىْ مِنَ النَّارِ۔
اور ہم پر مہربانی کر کے ہمیں جہنم سے پناہ دے دے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَكْنُوْنِ الْمَخْزُوْنِ
خدایا میں تیرے پوشیدہ، خزانہ شدہ،
الطَّاهِرِ الطُّهْرِ الْمُبَارَكِ
پاک و پاکیزہ اور با برکت نام کے
وَ اَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الْعَظِيْمِ
وسیلہ سے سوال کر رہا ہوں، تجھے تیرے عظیم نام
وَ سُلْطَانِكَ الْقَدِيْمِ
اور تیری ازلی سلطنت کا واسطہ،
يَا وَاهِبَ الْعَطَايَا
اے عطیہ دینے والے
وَ يَا مُطْلِقَ الْاُسَارٰى
اور قیدیوں کو آزادی دلانے والے
وَ يَا فَكَّاكَ الرِّقَابِ مِنَ النَّارِ
اور گردنوں کو جہنم سے آزاد کرنے والے
اَسْئَلُكَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
میرا سوال یہ ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اَنْ تُعْتِقَ رَقَبَتِىْ مِنَ النَّارِ
اور میری گردن کو جہنم سے آزاد کردے
وَ اَنْ تُخْرِجَنِىْ مِنَ الدُّنْيَا سَالِمًا
مجھے دنیا سے سلامتی کے ساتھ اٹھانا
وَ [اَنْ] تُدْخِلَنِى الْجَنَّةَ اٰمِنًا
اور جنت میں امن و آمان کے ساتھ داخل کر دینا،
وَ اَنْ تَجْعَلَ دُعَاۤئِىْ اَوَّلَهُ فَلَاحًا
ہماری دعا کے جائے آغاز کو نجات،
وَ اَوْسَطَهُ نَجَاحًا
وسط کو کامیابی
وَ اٰخِرَهُ صَلَاحًا
اور آخر کو صلاح قرار دے دے۔
اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ
تو ہر غیب کا جاننے والا ہے۔
يَا مَنْ لَا يَشْغَلُهُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ
اے وہ پروردگار جس کو ایک دعا کا سننا دوسری سے روکتا نہیں ہے
وَ يَا مَنْ لَا يُغَلِّطُهُ السَّاۤئِلُوْنَ
اور جس پر طلبگاروں کی طلب مشتبہ نہیں ہوتی ہے
وَ يَا مَنْ لَايُبْرِمُهُ اِلْحَاحُ الْمُلِحِّيْنَ
اور جو محتاجوں کے اسرار سے خستہ حال نہیں ہوتا ہے
اَذِقْنِىْ بَرْدَ عَفْوِكَ
مجھ کو اپنی معافی کی خنکی
وَ حَلَاوَةَ رَحْمَتِكَ وَ مَغْفِرَتِكَ۔
اور مغفرت کی حلاوت کا ذائقہ چکھا دے۔
اِلٰهِىْ هٰذِهِ صَلٰوتِىْ صَلَّيْتُهَا
خدایا یہ میری نماز ہے جو میں نے پڑھ دی ہے۔
لَا لِحَاجَةٍ مِنْكَ اِلَيْهَا
نہ تو اس کا محتاج ہے
وَ لَا رَغْبَةٍ مِنْكَ فِيْهَا
اور نہ تیری اس میں کوئی رغبت ہے۔
اِلَّا تَعْظِيْمًا وَ طَاعَةً
یہ صرف تیری تعظیم، اطاعت
وَاِجَابَةً لَكَ اِلٰى مَا اَمَرْتَنِىْ بِهِ
اور تیرے حکم کی تعمیل میں پڑھی گئی ہے۔
اِلٰهِىْ اِنْ كَانَ فِيْهَا خَلَلٌ اَوْ نَقْصٌ
خدایا اگر اس میں کوئی خلل ہے، یا اس کے رکوع و
مِنْ رُكُوْعِهَا اَوْ سُجُوْدِهَا
سجود میں کوئی نقص ہے
فَلَا تُؤَ اخِذْنِىْ
تو مجھ سے اس کا کچھ مواخذہ نہ کرنا
وَ تَفَضَّلْ عَلَىَّ بِالْقَبُوْلِ وَ الْغُفْرَانِ ۔
اور اپنے فضل و کرم سے اسے قبول کر لینا اور میری خطاؤں کو بخش دینا۔
سُبْحَانَ مَنْ لَايَعْتَدِىْ عَلٰى اَهْلِ مَمْلَكَتِهِ
پاک و پاکیزہ ہے وہ جو اپنے اہلِ مملکت پر ظلم نہیں کرتا ہے
سُبْحَانَ مَنْ لَا يَاْخُذُ اَهْلَ الْاَرْضِ بِاَلْوَانِ الْعَذَابِ
اور اہلِ زمین کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا نہیں کرتا ہے۔
سُبْحَانَ الرَّؤُفِ الرَّحِيْمِ
تو بے نیاز ہے اے خدائے رؤف و رحیم۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِىْ فِىْ قَلْبِىْ نُوْرًا وَ بَصَرًا
میرے دل میں نور، بصیرت،
وَ فَهْمًا وَ عِلْمًا
فہم اور علم کو قرار دےدے
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّشَىْ ءٍ قَدِيْرٌ ۔
کہ تو ہر شئے پر قادر ہے۔
اُعِيْذُ نَفْسِىْ وَ دِيْنِىْ
میں اپنے نفس، اپنے دین،
وَ اَهْلِىْ وَ مَالِىْ
اپنے اہل و عیال، اپنے مال،
وَ وَلَدِىْ وَ اِخْوَانِىْ فِىْ دِيْنِىْ
اپنے دینی برادران،
وَ مَا رَزَقَنِىْ رَبِّىْ وَ خَوَاتِيْمَ عَمَلِىْ
اپنے تمام رزق، اپنے اعمال کے خاتمے
وَ مَنْ يَعْنِيْنِىْ اَمْرُهُ
اور تمام متعلقین کو
بِاللهِ الْوَاحِدِ
اس خدائے واحد و
الْاَحَدِ الصَّمَدِ
احد و بے نیاز کی پناہ میں دیتا ہوں
الَّذِىْ لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ
جس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ باپ
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ
اور نہ اس کو کوئی ہمسر ہے۔
وَ بِرَبِّ الْفَلَقِ
وہ خدا ہر شے کا خلق کرنے والاہے اور صبح کے اجالے کا مالک ہے
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
کہ وہ اپنے مخلوق کے شر سے،
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ
ہر تاریکی کے شر سے
وَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِى الْعُقَدِ
اور گرہوں پر پھونکنے والے تمام جادوں گروں سے
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ
اور ہر حاسد کے حسد سے نجات دے دے۔
وَ بِرَبِّ النَّاسِ
میں پناہ چاہتا ہوں اس خدا کی جو انسان کا پروردگار،
مَلِكِ النَّاسِ
بادشاہ اور
اِلٰهِ النَّاسِ
مالک ہے
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ
اس شیطان کے وسواس سے
الَّذِىْ يُوَسْوِسُ فِىْ صُدُوْرِ النَّاسِ
جو لوگوں کے دلوں میں شبہہ پیدا کرتا ہے
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۔
چاہے وہ انسان میں ہو یا جنات میں سے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّ مَغْفِرَتَكَ اَرْجٰى مِنْ عَمَلِىْ
خدایا میں اپنے اعمال سے زیادہ تیری مغفرت کی امید رکھتا ہوں۔
وَ اِنَّ رَحْمَتَكَ اَوْسَعُ مِنْ ذَنْبِىْ
تیری رحمت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ ذَنْبِىْ عِنْدَكَ عَظِيْمًا
خدایا اگر میرے گناہ عظیم ہیں تو
فَعَفْوُكَ اَعْظَمُ مِنْ ذَنْبِىْ
تیری معافی میرے گناہوں سے بھی عظیم تر ہے،
اَللّٰهُمَّ اِنْ لَمْ اَكُنْ اَهْلًا اَنْ اَبْلُغَ رَحْمَتَكَ
پروردگار اگر میں اس بات کا اہل نہیں ہوں کہ تیری رحمت تک پہنچ سکوں
فَرَحْمَتُكَ اَهْلٌ اَنْ تَبْلُغَنِىْ وَ تَسَعَنِىْ
تو تیری رحمت خود اس بات کی اہل ہے کہ مجھ تک پہنچ جائے اور میرے شاملِ حال ہو جائے
لِاَنَّهَا وَسِعَتْ كُلَّشَىْءٍ
اس لئے کہ وہ ہر شئے کے شامل حال ہے۔
بِرَحْمَتِكَ يَاۤاَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اے ارحم الراحمین میں تیری رحمت کے واسطے سے یہ سوال کر رہا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ
خدایا تیرا نام سلام ہے
وَ مِنْكَ السَّلَامُ
اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے۔
وَ لَكَ السَّلَامُ
سلامتی تیرے ہی لئے ہے
وَ اِلَيْكَ يَعُوْدُ السَّلَامُ
اور اس کی بازگشت بھی تیری ہی طرف ہے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ
آپ کو پروردگار وہ ربّ العزت ہے جو لوگوں کے بیان کردہ اوصاف سے پاک و پاکیزہ ہے
وَ سَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ
اور میرا سلام ہے تمام مرسلین پر
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
اور ساری حمد ہے خدائے ربّ العالمین کے لئے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِىُّ
سلام ہو آپ پر اے پیغمبرؐ
وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اور خدا کی رحمت و برکت آپ کے لئے ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَئِمَّةِ الْهَادِيْنَ الْمَهْدِيِّيْنَ
سلام ہو ان ائمہ پر جو ہادی بھی ہیں اور مہدی بھی ہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلٰى جَمِيْعِ اَنْبِيَاۤءِ اللهِ وَ رُسُلِهِ وَ مَلَاۤئِكَتِهِ
سلام ہو اللہ کے تمام انبیاء و مرسلین اور ملائکہ پر
اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ
سلام ہو ہم پر اور تمام اللہ کے نیک بندوں پر،
اَلسَّلَامُ عَلٰى عَلِىٍّ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ،
سلام ہو امیر المومنین حضرت علیؑ پر،
اَلسَّلَامُ عَلَى الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ
سلام ہو حسنؑ و حسینؑ پر
سَيِّدَىْ شَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ اَجْمَعِيْنَ
جو تمام جوانان جنت کے سردار ہیں،
اَلسَّلَامُ عَلٰى عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ زَيْنِ الْعَابِدِيْنَ
سلام ہو زین العابدینؑ بن الحسینؑ پر،
اَلسَّلَامُ عَلٰى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِىٍّ بَاقِرِ عِلْمِ النَّبِيِّيْنَ
سلام ہو باقرؑ علوم انبیاء محمدؑ بن علی ؑ پر،
اَلسَّلَامُ عَلٰى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ۟اِلصَّادِقِ
سلام ہوحضرت جعفرؑ بن محمدؑ صادق پر،
اَلسَّلَامُ عَلٰى مُوْسَى بْنِ جَعْفَرٍ ۟اِلْكَاظِمِ
سلام ہو حضرت موسیٰ بن جعفر کاظمؑ پر،
اَلسَّلامُ عَلٰى عَلِىِّ بْنِ مُوْسَى الرِّضَا
سلام ہو علیؑ بن موسیٰؑ الرضا پر،
اَلسَّلَامُ عَلٰى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِىٍّ ۟اِلْجَوَادِ
سلام ہو محمدؑ بن علیؑ جواد پر،
اَلسَّلَامُ عَلٰى عَلِىٍّ بْنِ مُحَمَّدٍ ۟اِلْهَادِىْ
سلام علیؑ بن ہادیؑ پر،
اَلسَّلَامُ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِي ۟اِلزَّكِىِّ الْعَسْكَرِىِّ
سلام ہو حسنؑ بن علیؑ زکی عسکریؑ پر،
اَلسَّلَامُ عَلَى الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَاۤئِمِ الْمَهْدِىِّ
سلام ہو حضرت حجتہ بن الحسنؑ قائم مہدی ؑپر
صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ اَجْمَعِيْنَ۔
اللہ کی رحمتیں ان تمام بزرگواروں کے لئے۔
رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا
میں اللہ کی ربوبیت سے،
وَبِالْاِسْلَامِ دِيْنًا
اسلام جیسے دین سے،
وَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ نَبِيًّا
حضرت محمدؐ جیسے پیغمبر
وَ بِعَلِىٍّ اِمَامًا
حضرت علیؑ جیسے امام،
وَ بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ
حسنؑ و حسینؑ،
وَ عَلِىٍّ وَ مُحَمَّدٍ
علیؑ و محمدؑ،
وَ جَعْفَرٍ وَ مُوْسٰى
جعفر ؑ و موسیٰؑ،
وَ عَلِىٍّ وَ مُحَمَّدٍ
علیؑ ومحمدؑ،
وَ عَلِىٍّ وَ الْحَسَنِ
علیؑ و حسنؑ
وَ الْخَلَفِ الصَّالِحِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
اور حضرت خلف صالحؑ جیسے
اَئِمَّةً وَ سَادَةً وَ قَادَةً
ائمہ کی امامت و سیادت و قیادت سے راضی ہوں
بِهِمْ اَتَوَلّىٰ وَ مِنْ اَعْدَاۤئِهِمْ اَتَبَرَّءُ۔
ان سے محبت کرتا ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری رکھتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ
خدایا میں تجھ سے معافی، عافیت
وَ الْمُعَافَاةَ فِى الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ ۔
اور دنیاو آخرت میں ہر طرح کی آسائش کا سوال کر رہا ہوں۔