EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
سورة القيامة
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ‏(1)
(1) میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں
وَلَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ‏(2)
(2) اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں
اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ‏(3)
(3) کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے
بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓى اَنْ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٗ‏(4)
(4) یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ‌ۚ‏(5)
(5) بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے
يَسْئَلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِؕ‏(6)
(6) وہ یہ پوچھتا ہے کہ یہ قیامت کب آنے والی ہے
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ‏(7)
(7) تو جب آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی
وَخَسَفَ الْقَمَرُۙ‏(8)
(8) اور چاند کو گہن لگ جائے گا
وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُۙ‏(9)
(9) اور یہ چاند سورج اکٹھا کردیئے جائیں گے
يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ‌ ۚ‏(10)
(10) اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کا راستہ کدھر ہے
كَلَّا لَا وَزَرَؕ‏(11)
(11) ہرگز نہیں اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے
اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذِ ۟الْمُسْتَقَرُّ ؕ‏(12)
(12) اب سب کا مرکز تمہارے پروردگار کی طرف ہے
يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَؕ‏(13)
(13) اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ ۙ‏(14)
(14) بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے
وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗؕ‏(15)
(15) چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے
لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ‏(16)
(16) دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں
اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَهٗۚ  ۖ‏(17)
(17) یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں
فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ‌ۚ‏(18)
(18) پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں
ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗؕ‏(19)
(19) پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ۙ‏(20)
(20) نہیں بلکہ تم لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہو
وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ ؕ‏(21)
(21) اور آخرت کو نظر انداز کئے ہوئے ہو
وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ۙ‏(22)
(22) اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے
اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‌ ۚ‏(23)
(23) اپنے پروردگار کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے
وَوُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍۢ بَاسِرَةٌ ۙ‏(24)
(24) اور بعض چہرے افسردہ ہوں گے
تَظُنُّ اَنْ يُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ؕ‏(25)
(25) جنہیں یہ خیال ہوگا کہ کب کمر توڑ مصیبت وارد ہوجائے
كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِىَۙ‏(26)
(26) ہوشیار جب جان گردن تک پہنچ جائے گی
وَقِيْلَ مَنْ رَاقٍۙ‏(27)
(27) اور کہا جائے گا کہ اب کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے
وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ‏(28)
(28) اور مرنے والے کو خیال ہوگا کہ اب سب سے جدائی ہے
وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ‏(29)
(29) اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی
اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذِ ۟الْمَسَاقُؕ‏(30)
(30) آج سب کو پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰىۙ‏(31)
(31) اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی
وَلٰڪِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىۙ‏(32)
(32) بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا
ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ‏(33)
(33) پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ‏(34)
(34) افسوس ہے تیرے حال پر بہت افسوس ہے
ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ‏(35)
(35) حیف ہے اور صد حیف ہے
اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ‏(36)
(36) کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ اسے اسی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا
اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِىٍّ يُّمْنٰىۙ‏(37)
(37) کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتا ہے
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ‏(38)
(38) پھر علقہ بنا پھر اسے خلق کرکے برابر کیا
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰىؕ‏(39)
(39) پھر اس سے عورت اور مرد کا جوڑا تیار کیا
اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓى اَنْ يُّحْىِۦَ الْمَوْتٰى‏(40)
(40) کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرسکے